51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے اڑانے والی ہواؤں کی

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر بوجھ اٹھانے والے بادلوں کی

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر نرمی سے چلنے والی کشتیوں کی

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرنے والے فرشتوں کی ،

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل برحق ہے ،

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور جزا ضرور ہی ہونے والی ہے،1۔

1۔ (اس لیے تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری پوری محسوس کرے) قرآن مجید کے پیش نظر ایک ایسی امت تیار کرنا ہے، جس کا ہر ہر فرد اپنے ایک ایک عمل میں زندگی کے ایک ایک جزئیہ میں، اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس رکھتا ہو، اور کسی حال میں اس کے قدم کو لغزش نہ ہو۔ انسان کو ہمہ وقت صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے حشر کا اعتقاد ہی نہیں، بلکہ اس کا استحضار بھی لازمی ہے۔ (آیت) ” الذریت ذروا “۔ مرا دوہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اڑاتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” فالحملت وقرا “۔ مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادی وغیر مادی ہر طرح کی تقسیمات بامر الہی کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” انما تو عدون لصادق “۔ یعنی جس روز حشر کی آمد کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ برحق ہے۔ کائنات کے یہ سارے انتظامات جو ہواؤں، بادلوں، کشتیوں اور فرشتوں کے ساتھ اس انضباط واہتمام کے ساتھ ہر وقت ہوتے رہتے ہیں۔ اس پر برہان قاطع ہیں کہ یہ ناسوتی زندگی بےمقصد نہیں ضرور اس کے ہر تصرف، ہر تغیر میں کوئی نہ کوئی رکھا ہے۔ حشر نام ہے اہم ترین مقصد کا۔ حشرنہ ہو تو یہ سارا نتظام واہتمام ہی بالکل بےمقصد اور اکارت ہوا جاتا ہے۔ اور یہی مقصود قرآنی قسموں کا ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو پ 14، سورة الحجر کا ضمیہ ” اقسام قرانی “۔ بعض اہل اشارات نے لکھا ہے کہ آگے چونکہ ذکر حشر ہی کا آرہا تھا۔ اس لیے یہاں قسم کے ذریعہ سے شہادت میں بھی ایسی ہی چار چیزیں پیش کی گئیں جن سے اشارہ فناء انتشار اجزاء اعادہ اور ترکیب کے مدارج چہار گانہ کی طرف نکلتا ہے۔
Ayahs 51:7–8

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں ،

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ تم مختلف گفتگوؤں میں (پڑے) ہو،2۔

2۔ (عقیدہ حشر سے متعلق کہ کوئی تو اس عقیدہ کی تکذیب ہی کررہا ہے، اور کوئی اس کے متعلق تذبذب اور گومگو میں پڑا ہوا ہے، اور کسی نے اس سے دنیا میں نیا جنم مراد لے کر چلنے پھرنے کے علاوہ ستاروں کی گردش کے بھی مدار یاراستے لیے گئے ہیں۔ ھی ذات الطرائق فمن الناس من تصور ھھنا الطرئق المحسوسۃ بالنجوم ومنھم من اعتبر ذلک بما فیہ من الطرائق المعقولۃ المدرکۃ بالبصیرۃ (راغب) (آیت) ” لفی قول مختلف “ ایک مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تم لوگ قرآن اور رسول کے متعلق مختلف اقوال اور مضطرب آراء کے چکر میں پڑے ہوئے۔ اے فی القران وفی محمد ﷺ (معالم) فی الرسول ﷺ او فی القران (بیضاوی)
Ayah 51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے پھرتا وہی ہے جسے پھرنا ہی ہوتا ہے،3۔

3۔ (راہ خیروسعادت سے) (آیت) ” عنہ “۔ ضمیر عقیدۂ وقوع قیامت کی جانب ہے۔
Ayahs 51:10–11

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

غارت ہوں اٹکل پچو باتیں بنانے والے ،

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو کہ غفلت (جہالت) میں بھولے پڑے ہیں،4۔

4۔ (اور یہ غفلت چونکہ اختیار ہی سے پیدا ہوئی ہے اس لیے اس پر مواخذہ بھی ہے) (آیت) ” الخرصون “۔ خراص “۔ حقیقۃ وہ شخص ہے جو بغیر کسی دلیل قطعی کے، یوں ہی ظن وتخمین سے کام لیتا رہے خواہ اتفاق سے کبھی اس کا گمان صحیح بھی ثابت ہوجائے۔ کل قول مقول عن ظن وتخمین یقال خرص سواء کان مطابقا للشیء او مخالفا لہ (راغب) کثرت سے ” قدیم معقولی “ اور ” جدید فلسفی “ بلاعلم وتحقیق الہیات پر رائے زنی کرنے والے۔ خراصون ہی کے تحت میں آتے ہیں۔
Ayahs 51:12–14

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

یہ دن (وہ ہوگا) جب وہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے ،

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اپنی سزا کا مزہ چکھو یہی ہے جس کی جلدی مچایا کرتے تھے،5۔

5۔ مفسر تھانوی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ یہ جواب اس طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوجائے مگر وہ احمق محض اس بناء پر کہ تاریخ اور وقت نہیں بیان کیا گیا ہے۔ طنزا یہ کہتا ہے کہ اچھا تو وہ دن آخر کب آئے گا ؟ (آیت) ” یسئلون “۔ یہ سوال بطور طنز و استہزاء کے ہوتا ہے۔
Ayahs 51:15–16

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے ،

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

لے رہے ہوں گے جو ان کے پروردگار نے انہیں عطا کیا ہوگا، بیشک یہ لوگ اس کے قبل نیکوکار تھے،6۔

6۔ (توایسوں کو جنت بھلا کیوں نہ ملتی ؟ ) (آیت) ” قبل ذلک “۔ یعنی اپنی دنیوی زندگی میں۔
Ayah 51:17

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کو بہت کم سوتے تھے،7۔

7۔ (اور رات کا معقول حصہ ذکر وفکر، تسبیح وتلاوت ہی میں صرف کیا کرتے تھے) یہ مراد (نعوذ باللہ) تو نہیں ہوسکتی کہ راتوں کو سینما اور تھیڑ، ناچ ورنگ اور طرح طرح کی رنگ رلیوں اور فحش کاریوں میں جاگ جاگ کر برباد کرتے تھے۔ جو لوگ شب میں نوافل تک کیلئے یہ اہتمام رکھتے ہوں، ظاہر ہے کہ فرائض وواجبات کی ادائی کا وہ شب وروز کیا الترام رکھتے ہوں گے۔
Ayah 51:18

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے،8۔

8۔ یعنی کمال پر کمال یہ تھا کہ باوجود اس اہتمام عبادت کے نظر اپنی عبادت پر نہ تھی، بلکہ اپنے کو عبادت میں کوتاہی کرنے والا ہی سمجھتے تھے۔ کیا ٹھکانہ ہے خشیت قلب کا ! رات کا بیشتر حصہ جاگ جاگ کر عبادت میں کاٹ دیتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار اس طرح کرتے ہیں کہ گویا رات عبادت میں نہیں، جرم ومعصیت میں گزاری ہے۔
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں حق رہتا تھا سوالی اور غیر سوالی (سب) کا،9۔

9۔ یعنی ایسے التزام واہتمام سے ان کو دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ تھا۔ (آیت) ” السآئل “۔ وہ جو منہ سے سوال کرے۔ (آیت) ” المحروم “۔ وہ جو منہ سے سوال نہ کرے مگر ہوحاجتمند۔ ان نفل طاعتوں اور عبادتوں کے ذکر سے مقصود ان کے ثمرات عالیہ کا اظہار کردینا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ جنات، عیون کے انعامات بغیر انکے ملیں ہی نہیں۔
Ayahs 51:20–21

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے،

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہاری ذات میں بھی کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟ ،10۔

10۔ یعنی انسان اگر خود اپنے حالات ظاہری وباطنی کا جائزہ لیتا ہے، اگر آیات آفاقی وانفسی پر غور کرتا رہے تو وقوع حشر کی ضرورت کا وہ ضرور قائل ہوجائے گا۔ (آیت) ” للموقنین “۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں یقین کی طلب اور حق کی جستجو ہے۔ (آیت) ” وفی الارض ایت “۔ یعنی وقوع قیامت وجزاء کے آفاقی دلائل و شواہد۔ دنیا میں جتنے بھی علوم وفنون نظر آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہیں ؟ موجودات عالم اور ان کے مختلف اصناف کے متعلق قاعدے اور کلیے ہی تو ہیں۔ آفتاب وماہتاب سے لے کر ریگستان کے ذروں اور دریا کے قطروں اور گھاس کی پتیوں اور ننھے سے ننھے کیڑوں تک بڑی چھوٹی چیزیں جو کچھ بھی کائنات میں ہیں۔ سب کیسی قاعدوں میں بندھی ہوئی اور ضابطہ کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ تو یہ سارا عقلوں کو حیران کرنے والا، عظیم الشان نظام اور دماغوں کو حیرت میں ڈال دینے والا بےانتہاء وسیع انتظام جس کے اندر بخت واستفاق کی کوئی ہلکی سی بھی گنجائش نہیں، یہ سب ایک کردگار حکیم ومختار کے وجود کے دلائل و شواہد نہیں تو اور کیا ہیں ؟ (آیت) ” وفی انفسکم “۔ یعنی وقوع قیامت وجزاء کے نفسی دلائل و شواہد۔ انسان اگر خود اپنے ہی جسم اور اعضاء جسم کی حکیمانہ ترکیب وتناسب پر اور اپنے ہی ذہن وعقل کی انتہائی حکیمانہ ترتیب وساخت پر غور کرنا شروع کرے تو اس کا دل اور دماغ دونوں گواہی دے اٹھیں گے کہ یہ ساری صنعت گری بجز ایک حکیم مطلق کے اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” فی انفسکم “۔ کا جو عطف (آیت) ” فی الارض “۔ پر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جاہل صوفیہ کا (آیت) ” فی انفسکم “۔ سے تجلی حق پر استدلال کرنا باطل محض ہے۔
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ۔11۔

11۔ یعنی قیامت کا۔ (آیت) ” وفی السمآء “۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رزق مقدر کا اور قیامت کا سب کا علم لوح محفوظ میں مندرج ہے۔ لیکن عام طور پر مفسرین نے معنی یہ لیے ہیں کہ اسباب رزق (مثلا بارش) وغیرہ کا اصل نزول آسمان ہی سے ہوتا ہے۔
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

سو قسم ہے آسمانوں اور زمین کے پروردگار کی کہ وہ برحق ہے (اسی طرح) جیسے کہ تم بات چیت کررہے ہو،12۔

12۔ یعنی جس طرح تم اپنی بات چیت میں کبھی شک وشبہ نہیں کرتے، وقوع قیامت کو بھی یقینی اور قطعی سمجھو، (آیت) ” انہ “۔ یعنی یہی وقوع قیامت وجزاء وسزا۔ اے ان ماوعدتم بہ من امر القیامۃ، البعث والجزاء کائن لامحالۃ وھو حق لامریۃ فیہ (ابن کثیر) یا یہ کہ اوپر جو کچھ مذکور ہوچکا ہے۔ سب کی طرف یہ ضمیر اشارہ کررہی ہے اور تابعی ابن جریج سے یہی منقول ہے۔ عن ابن جریج ان جمیع ماذکرناہ من اول السورۃ الی ھنا الحق (روح)
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت پہنچی ہے ؟ ،13۔

13۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ مع حواشی متعلقہ کے پیشتر بھی گزر چکا ہے۔ (آیت) ” المکرمین “۔ فرشتے عنداللہ تو مکرم ومعزز ہیں ہی، بحیثیت مہمان کے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظر میں بھی معزز تھے۔ اے مکرمین عند اللہ اوعند اللہ او عند ابراہیم (بیضاوی) اے عند اللہ عزوجل کما قال الحسن اوعند ابراھیم کمافی بعض الاثار (روح) وانما وصفھم بالمکرمین اما لکونھم عبادا مکرمین واما لاکرام ابراہیم (علیہ السلام) ایاھم (کبیر) (آیت) ’ حدیث ضیف ابرہیم “۔ امام احمد بن حنبل (رح) اور بعض فقہاء نے آیت سے مہمانداری کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ وقد ذھب الامام احمدوطائفۃ من العلماء الی وجوب الضیافۃ للنزیل وقدوردت السنۃ بذالک کما ھو ظاہر التنزیل (ابن کثیر)
Ayah 51:25

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جبکہ وہ ان کے پاس آئے، پھر (ان کو) سلام کیا (انہوں نے بھی) کہا سلام (یہ) انجان لوگ (تھے) ،4 1۔

14۔ (ابراہیم (علیہ السلام) کی نظر میں) یعنی آپ (علیہ السلام) نے انہیں پہچانا نہیں، محض اجنبی مہمان سمجھ کر ان سے صاحب سلامت کی، یہ فرشتے انسانی لباس میں تھے۔ ملاحظہ ہوں سورة ہود (پ 12) کے حاشیے۔
Ayahs 51:26–27

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا لے آئے ،

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر اسے ان کے پاس لاکر رکھا (اور) کہا کہ آپ کھاتے کیوں نہیں ؟ ،15۔

15۔ فرشتے جو انسانی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان تھے۔ انہوں نے آپ کے اصرار کے بعد بھی آپ کے پیش کیے ہوئے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، (آیت) ” فجآء بعجل سمین “۔ آپ (علیہ السلام) نے ان تازہ وارد مہمانوں کو دیکھتے ہی ایک خوب تیار تلے ہوئے یا پکے ہوئے بچھڑے سے ان کی میزبانی کی۔
Ayah 51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر آپ ان سے دل میں خائف ہوئے وہ بولے آپ ڈرئیے نہیں، اور ان کو ایک بڑے عالم لڑکے کی بشارت دی،16۔

16۔ یعنی اسحاق نبی کی۔ فرشتوں نے پہلے تو آپ کو تشفی دی کہ آپ ہم سے بدگمان وخائف نہ ہوں، ہم انسان نہیں، فرشتے انسانی قالب میں ہیں، پھر اس کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی۔ (آیت) ” بغلم علیم “۔ مخلوق میں سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو ہوتا ہے، عجب نہیں، جو یہاں صفت علم کا انتساب نبی کی جانب اسی لحاظ سے کیا ہو۔ (آیت) ” فاوجس منھم خیفۃ “۔ آپ (علیہ السلام) کو یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ لوگ قزاق ورہزن تو نہیں۔ اس دور تمدن میں ایک دستور یہ تھا کہ قزاق یارہزن جس کی پر غارتگری کرنا چاہتے تھے، اس کا نمک کھانے سے احتراز رکھتے تھے۔
Ayah 51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

اتنے میں ان کی بیوی بولتی پکارتی ہوئی آئیں، پھر ماتھے ہاتھ مار کر بولیں کہ بڑھیا بانجھ (کے اولاد) ،7 1۔

17۔ یہ آپ نے کمال تعجب سے فرمایا کہ ایک تو میں بوڑھی اور پھر عقیم، میرے اولاد ہونے کی کیا صورت ہے ؟ (آیت) ” فاقبلت ...... صرۃ۔ حضرت سارہ جواب تک پردہ کی آڑ میں تھیں۔ یہ سن کر یک بیک سامنے آگئی تھیں۔
Ayah 51:30

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے کہ آپ کے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے، اور کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا حکمت والا ہے، بڑا علم والا ہے،18۔

18۔ فرشتوں نے جب دیکھا کہ حضرت سارہ پر عالم اسباب ہی کی رعایت غالب ہے، تو جھٹ یہ یاد دلا دیا کہ یہ فرعون تو حضرت حق کے ہاں سے جاری ہوچکا ہے۔ وہی حضرت حق، جن کی حکمت اور جن کا علم ہر مخلوق کی حکمت اور علم پر غالب ہے۔ خاندان نبوت کے ایک رکن کے لیے یہ استحضار کافی سے زائد اور ہر دلیل سے قوی تر تھا۔ الحمد للہ کہ اس چھبیسویں پارہ کے ترجمہ و تفسیر کی نظر ثانی سے یوم شنبہ 26 محرم الحرام 1367 ؁ھ مطابق 9 دسمبر 1947 ء ؁ کو قبل عصر فراغت پائی اور نظر ثالث سے آج یکشنبہ 24 شعبان المعظم 1329 ؁ ھ مطابق 11 جون 1950 ؁ء کو بعد نماز چاشت۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا (اچھا) تمہیں کیا بڑی مہم درپیش ہے (اے آسمانی) قاصدو۔19۔

19۔ آپ (علیہ السلام) نے فراست نبوت سے سمجھ لیا تھا کہ یقیناً کسی اور اہم مقصد کیلئے یہ ملائکہ کی سفارت روانہ ہوئی ہے۔ سورة ہود میں فرشتوں کا یہ قول مکالمۂ حضرت سارہ کے قبل مذکور ہے۔ ؛ اور یہاں بعد مکالمہ کے مذکور ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ قول مکالمہ سارہ سے قبل ہی ادا ہوا ہے۔ اور چونکہ یہاں کوئی حرف ترتیب کا نہیں۔ اس لئے ترتیب ذکری سے ترتیب وقوعی پر استدلال نہ کیا جائے گا۔ اور دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہ رہا۔ (تھانوی (رح)) خطب۔ اس اہم مقصد کو کہتے ہیں جس میں تخاطب کی ضروت کثرت سے ہوتی ہے۔ الخطب الامر العظیم الذی یکثر فیہ التخاطب (راغب) اور یہاں تو فرشتے ہی اس مشن کے حامل خصوصی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اس لئے قدرۃ ابراہیم خلیل پیغمبر کو اس سفارت کی عظمت کا خیال پیدا ہوا۔ واما الخطب فھو الامر العظیم عظم الشان یدل علی عظم من علی یدہ ینقضی (کبیر)
Ayahs 51:32–36

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں،

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں ،

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر آپ کے پروردگار کے پاس نشان خاص بھی پڑے ہوئے ہیں، حد سے نکل جانے والوں کے لئے،

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو ہم نے جتنے اہل ایمان تھے ان کو وہاں سے الگ کردیا،

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

سو ہم نے وہاں بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے (کوئی گھر مسلمانوں کا) نہ پایا،20۔

20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال یہ کیا ہے کہ اسلام (باصطلاح شرعی) اور ایمان باہم مرادف ہیں۔ فیہ دلیل علی ان الایمان والاسلام واحد (مدارک) واستدل بالایۃ علی اتحاد الایمان والاسلام للاستثناء المعنوی (روح) لیکن امام رازی (رح) کا فرمانا یہ ہے کہ لفظ مسلم مومن سے عام تر ہے اور لفظ عام کا خاص پر برابر اطلاق ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس سے دونوں کا اتحاد مفہوم الازم نہیں آتا، اور اس کی تائید مفسرین محققین اہل سنت نے بھی کی ہے۔ والدلالۃ علی ان المسلم بمعنی ال مومن ظاھرۃ والحق ان المسلم اعم من ال مومن واطلاق العام علی الخاص لامانع منہ فاذا سمی ال مومن مسلما لایدل علی اتحاد مفھومھا (کبیر) فالاستدلال بھا علی اتحاد ھمافیہ ضعیف (روح) وقال الرمانی الایۃ تدل علی ان الایمان ھو الاسلام وکذا قال الزمخشری وھما معتزلیان (بحر) واستدل بہ علی اتحاد الایمان والاسلام وھو ضعیف الان ذلک لایقتضی الاصدق ال مومن والمسلم علی من اتبعہ وذلک لا یقتضی اتحاد مفھومھما لجواز صدق المفھومات المختلفۃ علی ذات واحدۃ (بیضاوی) وھذا الاستدلال ضعیف ولا ینعکس فاتفق الایمان ھھنا لخصوصیۃ الحال ولا یلزم ذلک فی کل حال (ابن کثیر)
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس (واقعہ) میں ایک نشانی ان لوگوں کے لئے رہنے دی جو عذاب دردناک سے ڈرتے رہتے ہیں،21۔

21۔ (چنانچہ عذاب الہی سے خوف سے خوف کھانے والے آج تک اس قوم کی داستان ہلاکت سے عبرت ونصیحت حاصل کرتے رہتے ہیں) بحر مردہ یا بحر لوط، اور آس پاس شہر یعنی سدوم کے کھنڈر آج تک ہر صاحب دل کو داستان عبرت سنا رہے ہیں۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) (کے قصہ) میں بھی (نشانی ہے) جب کہ ہم نے انہیں فرعون کے پاس بھیجا، ایک کھلی ہوئی دلیل دے کر،22۔

22۔ یعنی معجزات صریح وواضح دے کر، سلطان کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر آتا ہے۔ ھو ما ظھر علی یدیہ من المعجزات الباھرۃ والسلطان یطلق علی ذلک مع شمولہ للواحد والمتعدد لانہ فی الاصل مصدر (روح)
Ayahs 51:39–40

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

لیکن اس نے اپنی قوت (کے زعم) میں سرتابی کی اور کہنے لگا یہ ساحر یا مجنون ہیں۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت،23۔

23۔ (اور مستحق عذاب) (آیت) ” برکنہ “۔ اپنی قوت یا اپنے سازوسامان زعم وپندار میں۔ رکن کے معنی قوت یا سازوسامان کے بھی آتے ہیں۔ اور اس ترکیب کو مان کر ب، باء تعدیہ ہوگی۔ یستعار للقوۃ (راغب) قیل بقوتہ و سلطانہ (بحر) والرکن مایرکن الیہ الانسان من مال وجند (مدارک) ” اپنے زور پر “ (شاہ عبدالقادر (رح) دہلوی) ۔ والباء للتعدیۃ حینئذ بمعنی فقوی بجندہ (کبیر) رکن کے معنی قوم کے بھی لیے گئے ہیں۔ اس صورت میں ب باء مصاحبۃ ہوگی، اور ترجمہ ہوگا، ” مع اپنی قوم کے “۔ الباء للمصابحۃ والرکن اشارۃ للقوم (کبیر) (آیت) ” وھو ملیم “۔ یعنی یہ سزائے غرقابی اس کے حق میں ظلم ذرا سی بھی نہ تھی۔ (آیت) ” ملیم “۔ اسم فاعل یہاں اسم مفعول یعنی ملوم مستحق ملامت کے معنی میں ہے۔ الام اے استحق اللوم (راغب) ھو ملیم اے ھوملوم (ابن کثیر) امام رازی (رح) نے یہاں قرآن مجید کی دوسری آیت نقل کرکے جس میں یہی لفظ (آیت) ” وھو ملیم “۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے متعلق بطن حوت سے نجات کے سلسلہ میں آیا ہے۔ استنباط یہ کیا ہے کہ مومن کا گناہ تو ظہور یہ اس کے وقت مغفور رہتا ہے۔ لیکن کافر کا ایمان غیر مقبول۔ فذنب ال مومن وقت ظھور الیاس مغفور و ایمان الکافر غیر مقبول (کبیر) ، او۔ کلمہ او ہمیشہ شک واشتباہی کے موقع پر نہیں آتا۔ ابہام کے لیے بھی لایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اسی مفہوم میں آیا ہے۔ ابو عبید لغوی ونحوی کا قول نقل ہوا ہے کہ یہاں او واؤ کا مرادف ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دونوں باتیں کہی تھیں۔