Ayah 51:1[ 1] غبار اڑاتی ہواؤں کی قسم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار کو بکھراتی ہیں اڑاکر۔ ان چار صفتوں کے موصوفوں کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ اور ہم نے اپنے ترجمے میں جس قول کو اختیار کیا ہے وہ اسلاف کرام کی ایک اہم اور بڑی جماعت کے نزدیک مختار و معتبر ہے، جیسے حضرت ابن عمر، ابن عباس، سعید بن جبیر اور حضرت علی۔ رضی اللّٰہ عنھم وارضاھم۔ اور حافظ ابوبکر رازی (رح) نے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی نقل کی ہے، جس کے بارے میں اگرچہ علامہ ابن کثیر کا کہنا ہے کہ اس کا رفع صحیح نہیں، بلکہ یہ موقوف ہے تاہم وہ اس بارے میں ترجیح کی بنیاد بن سکتی ہے، شاید اسی لئے ثقہ مفسرین کرام کی ایک بڑی جماعت نے اسی قول کو اختیار کیا [ ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ البیان، رضوء البیان، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، محاسن التاویل، مرادک، خازن، معارف، اور بیان القرآن وغیرہ ] جب کہ دوسرا اہم قول اس میں حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ ان تمام صفات کی موصوف ریاح ہیں۔ یعنی ہوائیں اور یہ قول اسلئے دل کو لگتا ہے کہ ایک تو یہ اس لئے کہ سیاق وسباق کے بھی زیادہ مناسب ہے اور دوسرے اس لئے کہ یہ صفتیں ہواؤں پر بھی اسی طرح ٹھیک منطبق ہوتی ہیں جس طرح فرشتوں وغیرہ پر منطبق ہوتی ہیں۔ اور تیسرے اس لئے کہ جب کئی صفات ایک ہی سیاق میں اور ایک ساتھ وارد ہوں جیسا کہ یہاں پر ہے تو اس کا متبادر مفہوم و مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ سب ایک ہی موصوف کی صفات ہیں۔ ان کے الگ الگ اور مختلف ماننا ظاہر اور تبادر کے خلاف ہوتا ہے والعلم عند اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ جل شانہٗ وعم نوالہٗ ، وھو اعلم بمراد کلامہٖ جل وعلا، وھو العزیز الوھاب،
Ayahs 51:2–3[ 2] پانی کا بوجھ اٹھانے والے بادلوں کی قسم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو اٹھاتے ہیں بھاری بھرکم بوجھ۔ " وقر حمل " کی طرح ہے وزن کے اعتبار سے بھی اور معنی کے اعتبار سے بھی، اور یہ تینوں کلمات [ ذروا، قورایسرا ] ترکیب میں یہاں پر مفعول واقع ہو رہے ہیں، جب کہ امراً مفعول یہ ہے [ جامع البیان وغیرہ ] وقر کا لفظ اگرچہ عام ہے اور ہر طرح کے بوجھ کو شامل ہے، لیکن عام اور دوسرے نظائر کی بنا پر اس سے مراد بارش اور پانی کا وہ بوجھ ہے جو بادلوں کے دوش پر رواں دواں ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وھوالذی یرسل الریح بشراً م بین یدی رحمتہٖ ط حتی اذا اقلت سحاباً ثقالاً سقنہ لبلدٍ میتٍ فانزلنا بہ المآء فاخرجنا بہٖ من کل الثمرٰت ط کذلک تخرج الموتی لعلکم تذکرون } [ سورة الاعراف : 57 پ 8] سو اگر اس میں ذرہ غور و غوض سے کام لیا جائے، تو اس سے حضرت خالق جل و مجدہ کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ کس طرح سمندروں سے لاکھوں کروڑوں گیلن پانی بخارات کی شکل میں اٹھتا ہے، اور وہ بادلوں کی شکل میں فضاؤں میں اڑتا ہوا ہزاروں میل دور جاکر برستا ہے اور ایک دنیا جہاں کو سیراب کرتا ہے۔ سو یہ حکمتوں بھر نظام اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ نہ یہ کارخانہ ہست و بود بیکار و بےمقصد ہوسکتا ہے، اور نہ اس کائنات کا مخدوم ومطاع یہ انسان جو ان گوناگوں نعمتوں سے دن رات مستفید و فیض یاب ہو رہا ہے، اور طرح طرح سے ہو رہا ہے، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا یوم حساب آئے جس میں ان نعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہو کہ انسان نے ان کا کیا حق ادا کیا، اور اس کے مطابق ہر کسی کو اس کے زندگی پھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ ملے، خیر کا خیر اور شرکا شر اس طرح عدول و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہء تمام و کمال پورے ہوں پس حکمتوں بھری یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز اپنی زبان حال سے پکار پکار کہہ رہی ہے کہ نہ یہ کارخانہء قدرت عبث و بیکار ہوسکتا ہے، اور نہ اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان۔ پس لازماً ایک دن ایسا آئے گا جب اس سے اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب ہوگا، اور اس یوم عظیم نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ اس یوم حساب کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے سامنے نظر رکھا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وھو الھادی الی سواء السبیل،
Ayah 51:4[ 3] تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو تقسیم کرتے ہیں حکم کے مطابق، یعنی جو اللہ پاک کے حکم کے مطابق کہ اس کا مشاہدہ ہمیشہ ہوتا رہتا ہے، سو ان کو جو امطار، ارزاق، اور افراح، واحزان، وغیرہ کو تقسیم کرتے ہیں، کہیں کچھ اور کہیں کچھ، جیسا اور جس قدر حکم ہوتا ہے، وہ وہی اور ویسا ہی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کے مطابق اور اس کی مخلوق کے نصیب کی چیزیں ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ سے اس کا یہی مطلب مروی و منقول ہے، اور آپ ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں نے اللہ کے رسول سے ایسا نہ سنا ہوتا تو کبھی نہ کہتا، اسی لئے علامہ آلوسی رحمۃ اللہ وغیرہ جیسے حضرات کہتے ہیں کہ اسکا اس کے سوا کوئی اور مطلب لینا درست نہیں، لیکن علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور ظاہر ہے کہ اگر یہ روایت ضعیف نہ ہوتی تو حضرات صحابہء کرام کے درمیان اس بارے میں اختلاف نہ ہوتا۔ نیز یہاں پر چونکہ ان صفات کا عطف حرف فاء سے ہوا ہے، اور عبرت کے قاعدے کی رو سے جب صفات کا ذکر حرف فاء کے ساتھ آتا ہے تو وہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف کی ہیں، اور دوسرے اس بات پر کہ ان صفات کے اندر ترتیب پائی جاتی ہے۔ سو عربیت کے اس قاعدے کی رو سے یہ چاروں صفتیں ہواؤں ہی کی ہوں جیسا کہ سورة عادیات وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ پس جن لوگوں نے ان کو الگ الگ موصوفوں کی صفات قرار دیا ہے ان کی رائے عربت کے اس قاعدے کے خلاف ہوگی اور دوسرے نظائر کے بھی
Ayah 51:5[ 4] بعث بعد الموت کی حقانیت پر استدلال کا ذکر وبیان :
سو ان چاروں قسموں کے بعد اور ان کے جواب قسم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس چیز کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا ہے وہ قطعی طور پر سچ ہے۔ یعنی یہ کہ تم لوگوں نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہے، اور اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ { توعدون } وعد سے نہیں وعید سے مشتق ہو، جس کے معنی ڈرانے دھمکانے اور خوف دلانے کے آتے ہیں، سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس سے تمہیں ڈرایا اور خوف دلایا جا رہا ہے، اے لوگو ! وہ بہرحال اور قطعی طور پر سچی ہے۔ اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، اور اس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور اپنے رسول کے ذریعے فرمایا۔ اور اس حقیقت کو طرح طرح سے واضح اور اجاگر فرمایا ہے، تاکہ لوگ غفلت سے چونکیں، اور اپنے انجام کی فکر کریں۔ بہرکیف اس سے ان چاروں قسموں کے جواب قسم کو ذکر فرما دیا گیا۔ سو ہواؤں کی یہ صفات اور قدرت کا حکمتوں بھرا یہ محکم نظام اس بات کا شاہد اور اس پر گواہ ہے کہ نہ یہ کارخانہ قدرت عبث و بیکار ہوسکتا ہے، اور نہ اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان بلکہ یہ سب کچھ اس انسان کے لئے سامان ابتلاء و آزمائش ہے جس کا لازمی اور طبعی تقاضا ہے کہ ایک ایسا یوم حساب آئے جس میں سب لوگوں کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب کتاب ہو، اور ان کو اس کا بدلہ ملے۔ خیر کا خیر اور شرکاشر تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے۔ جس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واضح ہو کر رہنا ہے، سو بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس دن کے منکر، اور اس کے تقاضوں سے غافل ہیں، کہ یہ ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا اور جزا و سزا کی قطعیت کے ذکر وبیان کے طور پر سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جس چیز کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قطعی طور پر سچی ہے۔ تاکید و در تاکید ملاحظہ ہو کہ " انَّ " حرف تاکید، پھر جملہ اسمیہ پھر لام تاکید، اور موصولہ ہے یا موصوفہ، پس اس قطعی حقیقت سے انکار بہت خسارے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور عظیم الشان حقیقت سے آگہی دی گئی ہے کہ قیامت اور بعث بعد الموت سے متعلق قدرت کا وعدہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے، اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے اور ہواؤں کا یہ ہیرپھیر اور قدرت کا حکمتوں بھرا یہ نظام ربوبیت اس کی واضح دلیل ہے۔ ورنہ یہ سارا پُر حکمت نظام عبث قرار پاتا ہے جو کہ اس خالق حکیم کی حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اور وحدہٗ لاشریک پر قسم کے شائبہ نقص سے پاک اور اس سے اعلیٰ وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے اس نے بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہنا ہے، اس سے عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال اپنے پیش نظر رکھا جائے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 51:6[ 5] جزا وسزا کا قیام ووجود قطعی طور پر حق ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ جزاوسزا نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ تاکہ ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ اور جب دنیا میں ایک فانی اور مجازی مالک بھی اپنے نوکروں اور ماتحتوں کو ایک برابر نہیں رکھتا بلکہ وہ ان کی دیانت و امانت اور کارکردگی کے مطابق ان سے معاملہ کرتا ہے، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ مالک الملک جو کہ حقیقی مالک بھی ہے اور احکم الحاکمین بھی، وہ اپنے بندوں کے درمیان عدل و انصاف نہ فرمائے ؟ اور نیک و بد سب ایک ہی طرح رہیں ؟ پس حقیقی انصاف کے اس دن نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے اور عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو مان کر اس کیلئے تیاری کی جائے، وباللّٰہ التوفیق، سو وقوع قیامت ایک ایسی قطعی حقیقت ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال ہو کر رہنا ہے اور اس حکمتوں بھری کائنات کی ایک ایک چیز اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی صداقت و حقانیت کی گواہی دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ جب اس کائنات کی ایک ایک چیز بامقصد ہے، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ انسان جو اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع اور اس کا گل سرسبد ہے۔ اس کا وجود اور اس کی زندگی بےمقصد اور بےکار ؟ قدرت کی پیدا کردہ اور عطا فرمودہ ان عظیم الشان اور گوناگوں نعمتوں سے یہ دن رات لگاتار مستفید ہو، اور طرح طرح کے فائدے اٹھائے، اور اس سے کبھی باز پرس نہ ہو، اور یہ کائنات کی ایک ایک چیز تو با مقصد ہو، لیکن ان سب سے فائدہ اٹھانے والے اس انسان کا کوئی مقصد نہ ہو ؟ ، اور یہ برساتی منیڈکوں اور موسمی کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنی طبعی زندگی پوری کرکے یوں ہی ختم ہوجائے ؟ سو نہیں، اور ہرگز نہیں ایسے کبھی اور کسی صورت میں نہیں ہوسکتا، بلکہ قیامت قائم ہوگی اور ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اعلیٰ وجہ الکمال پورے ہوں۔ اس لئے قیامت کے اس یوم جزا کا وقوع لازمی اور عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، جل وعلا،
Ayah 51:7[ 6] راستوں والے آسمان کی قسم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے راستوں والے آسمان کی " حُبُک " جمع ہے " حِبَاک " کی جیسے کتب جمع ہے کتاب کی اور مثل جمع ہے مثال کی۔ یا یہ جمع ہے جیسا کہ طرق جمع ہے طریقہ کی اور مدن جمع ہے مدینہ کی، وغیرہ وغیرہ اور حباک و، جیسا کہ دراصل ریت کے ان راستوں اور پانی کی ان لہروں کو کہا جاتا ہے جو ہوا کے چلنے سے پیدا ہوجاتی ہیں، اور آسمان کے راستوں سے مراد وہ راستے بھی ہوسکتے ہیں جو فرشتوں کی آمدورفت کے لئے مقرر ہیں، اور وہ بھی جو سیاروں اور ستاروں کے لئے مقرر ہیں، اور یہ چیزیں چونکہ آسمان میں ایک خاص قسم کا حسن بھی پیدا کرتی ہیں، اس لئے " ذات الحبک " خوبصورت اور مزین چیز کیلئے بھی کنایہ استعمال ہوتا ہے، اور لفظ کو دھاری دار کپڑے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اسی لئے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ ما نے یہاں اس کے معنی " ذات الحسن والبھائ " ّ [ خوبصورت آسماں ] کے کئے ہیں، نیز یہ مضبوط اور محکم چیز کے لئے بھی بولا جاتا ہے، پس معنی یہ ہوں گے کہ قسم ہے آسمان کی، جو کہ مختلف راستوں والا، بڑا مزین و خوبصورت اور نہایت مضبوط و مستحکم ہے، پس جس طرح آسمان کے راستے مختلف ہیں، اور جس طرح وہ مختلف ستاروں سیاروں سے مزین ہے، اسی طرح تم لوگ بھی مختلف باتوں میں پڑے ہو، اور تم نے بھی زندگی اور معاشرت کے لئے طرح طرح کے اور مختلف طور طریقے اپنا رکھے ہیں۔ پس لازم و ضروری ہے کہ فیصلے کا وہ دن آئے کہ جب کھرے کھوٹے کا فیصلہ اور حق و باطل کے درمیان تمیز ہوسکے، اور راہ حق و صواب کو اپنانے والوں کو ان کے اس اجر وثواب اور صلہ وبدلہ سے نوازا جائے، جس کے وہ اپنی زندگی بھر کی محنت و مشقت اور صبر و استقامت کے نتیجے میں مستحق ہوں گے، اور وہ لوگ بھی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بھگتیں، جنہوں نے راہ حق و صواب کو چھوڑ کر اپنی اہواء واغراض اور ادھام و ظنون کے مطابق طرح طرح کے باطل راستوں کا اپنایا تھا، تاکہ اس طرح حق و باطل کا امتیاز اپنی آخری اور کامل شکل میں اور عملی طور پر واضح ہو سکے، اور ھق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا سب کے سامنے اور پوری طرح آشکار ہوجائے۔ تاکہ اس کے بعد کسی کے لئے کسی حیل و حجت اور عذر و معذوری کی گنجائش باقی نہ رہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { لیحق الحق ویبطل الباطل ولوکرہ المجرمون } [ انفال : 8 پ 9] یعنی تاکہ اللہ حق کو حق کرکے دکھائے اور باطل کو باطل کرکے، اگرچہ یہ بات بری لگے مجرموں کا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، من کل نوعٍ من انواع الخسران، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 51:8[ 7] منکرین کے تضاد فکر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تم لوگ سخت اختلاف والی بات میں پڑے ہو۔ یعنی اس قرآن اور صاحب قرآن کے بارے میں، کہ کبھی تم لوگ اسے جادو قرار دیتے ہو، اور کبھی شعر اور کہانیت، اور پیغمبر کو کبھی تم شاعر کہتے ہو، کبھی ساحر و جادوگر اور کبھی دیوانہ، جو کہ حقیقت میں خود تمہاری اپنی ہی دیوانگی اور خردباختگی کا ثبوت ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز اپنے اسی جرم انکار کی بناء پر تم لوگ قیامت کی اس حقیقت سمری کے بارے میں بھی سخت اختلاف میں پڑے ہو، جس کی خبر تم کو یہ قرآن اور یہ پیغمبر دے رہے ہیں، کبھی تم کہتے ہو کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اسی میں ہمارا مرنا اور جینا ہے، اور کبھی کہتے ہو کہ ہمیں قیامت کے بارے میں بس ایک ظن اور گمان سا ہے اور بس، ہمیں اس بارے کوئی یقین بہرحال نہیں، اور کبھی تم کہتے ہو کہ قیامت میں ہمارے مزعومہ شرکاء اور سفارشی ہمارا کام بنادیں گے، ہماری ان کے آگے، اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ، سو نور حق و ہدایت سے محرومی کے بعد انسان اسی طرح بدبختی کے دھکے کھاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز تمہاری اس تضاد فکری کا ایک اور نمونہ و مظہر یہ ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کیلئے وہ تمام صفات تسلیم کرتے ہو جو قیامت و آخرت اور وہاں کی جزا و سزا کو لازم کرتی ہیں مگر تم لوگ اس کا انکار کرتے اور اس بارے میں شک میں مبتلا ہو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل نوع من انواع الخسران۔
Ayah 51:9[ 8] منکرین قانون مکافات کی رد میں۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے وہی روگردانی کرتا ہے جس کی عقل الٹ دی گئی ہے۔ یعنی اس قرآن اور صاحب قرآن پر ایمان لانے سے اعراض و روگردانی ایسے ہی لوگ کرتے ہیں جن کی عقلیں الٹی اور اوندھی ہوگئیں ہیں اور ان کی مت ماری گئی ہے جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] یا یہ مطلب ہے کہ ایسے شخص کو راہ حق سے اس کے اس قول مختلف کی بناء پر پھیرا جاتا ہے جس سے وہ ایمان لانے سے محروم ہوجاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس قول حق و صدق سے اغراض اور روگردانی وہی لوگ کرتے ہیں جن کی مت ماری گئی، اور اس وجہ سے ان کو سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے، اور اس کے نتیجہ میں وہ سیدھے چلنے کی بجائے الٹے اور اوندھے چلنے لگتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ ورنہ ایسے لوگ اگر اپنے دماغ کو ایسے تناقضات سے پاک کرکے سوچیں تو ان کو بات کی پوری طرح سمجھ آسکتی ہے، کیونکہ سزاوجزا کا معاملہ بالکل ایک طبعی اور بدیہی حقیقت ہے، مگر جن لوگوں کی عقلیں الٹی اور اوندھی ہوجاتی ہیں ان کو قدرت کے قانون مکافات کی بناء پر اس سے برگشتہ کردیا جاتا ہے۔ سو ایسے لوگ مکافات کی زد میں ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا { فلما زاغوا ازاغ اللّٰہ قلوبھم } یعنی جب یہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا یعنی یہ تقاضا اور نتیجہ ہے اس کے قانون مکافات اور عدل وانصاف کا والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جس کی مت ماری گئی ہو۔ اس کی اپنی اس بدنیتی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جو اللہ پاک کے علم میں ازل سے موجود تھی اور ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور ایک مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قول مختلف کی وجہ سے وہی پھیرا جاتا ہے جو کہ ازل سے اور علم الٰہی ہی میں پھیرا گیا ہو، بہرکیف یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و فساد کا مدارو انحصار اصل اور بنیادی طور پر اس کے اپنے ہی ارادہ نیت اور اس کے قلب و باطن پر ہے، سو جس کے اندر ہدایت کی صحیح معنوں میں طلب و تلاش ہوگی، اور اس کا باطن درست ہوگا تو اس کو اللہ پاک نور حق و ہدایت سے نوازے گا، کہ اس کا تو کام ہی نوازنا اور لگاتار و مسلسل نوازنا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اور اس کے برعکس جس کی نیت خراب اور اس کا باطن سیاہ ہوگا، والعیاذ باللّٰہ تو وہ محروم ومطرود ہوگا، اور وہ " نولہ ما تولی ونصلہٖ جھنم " کا مصداق بن جائے گا والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگ دراصل قانون الٰہی اور دستور خداوندی کی زد میں آئے ہوئے ہیں کیونکہ خداوند قدوس کا قانون و دستور اور اس کی سنت یہی ہے کہ ہدایت و ضلالت کے سلسلے میں کوئی جبر اکراہ نہیں بلکہ معاملہ اصل میں انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے۔ جو جدھر چلنا چاہتا ہے اس کو ادھر چلتا کردیا جاتا ہے اور جب وہ ٹیڑھے پن کو اختیار کرتا ہے تو اللہ ان کے دلوں کر ٹیڑھا کردیتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { واذ قال موسیٰ لقومہٖ لم توذوننی وقد تعلمون انی رسول اللّٰہ الیکم ط فلما زاغوآ ازاغ اللّٰہ قلوبھم واللّٰہ لا یھدی القوم الفٰسقین } [ سورة الصَّف : 5 پ 28] یعنی جب یہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین۔
Ayah 51:10[ 9] اٹکل پچو باتوں کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہلاک ہوگئے وہ لوگ جو اٹکل پچو باتیں بناتے اور غفلت میں پڑے بھولے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کو پھٹکار پڑگئی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے کیونکہ جو اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا اور اس پر پھٹکار پڑگئی وہ یقینا ہلاک ہوگیا [ المراغی، الصلوۃ وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ سو ایسے لوگوں نے جب عقل و خرد سے کام لینا چھوڑ دیا، اور یہ اھوا و اغراض کے پیچھے لگ کر حیوان محض بن گئے، اور بطن و فرج کے تقاضوں کی تکمیل میں منہمک ہوگئے اور یہ محروم اور ہلاک ہوگئے، سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے کے بعد یہ لوگ اندھے اور اوندھے بن گئے، اور اٹکل کے تیر چلانے لگے اور انہوں نے اپنے انہی تیرتکوں پر اعتماد کرتے ہوئے عقل و فکر سے کام لینا بھی چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں اس کو آفاق وانفس میں پھیلی بکھری نشانیاں نظر نہیں آتیں۔ اور اس طرح ان کا وہ نور فطرت بھی بجھ گیا جو قدرت نے ان کی فطرت اور جبلت کے کی اندرودیعت فرمایا تھا۔ اور اس طرح ایسے لوگ اندھیر در اندھیر کے اندر مبتلا ہوگئے اور خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق بن گئے جو کہ بہرکیف خساروں کا خسارہ اور خسران مبین ہے۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے کا، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 51:11–13[ 10] غفلت و لاپرواہی کی جڑ بنیادی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، سو وہ بغیر کسی سند اور دلیل کے محض اٹکل پچو اور ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت اور اہل ھویٰ کا حال ہے کہ یہ لوگ اپنی نئی ایجاد کردہ بدعات اور خود ساختہ خرافات کو دین کے نام پر رواج دینے کیلئے خود تراشیدہ فلسفوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے، اور نصوص قرآن و سنت میں اپنی اہواء و اعراض کے مطابق طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اور آفاق وانفس کے دلائل و آیات سے منہ موڑ کر محض اٹکل پچو کے تیر چلاتے ہیں، اور ظن و گمان اور قیاس و اوہام پر چلتے ہیں وہ ہلاک ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے انہی خود ساختہ اور من گھڑت سہاروں کے بل بوتے پر عقل سے کام لینا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ان کو آفاق وانفس اور ارض و سماء کی ول دلیلیں سمجھ نہیں آرہیں جو ہر طرف پھیلی بکھری پڑی ہیں اور جو اپنی زبان حال سے دعوت غور وفکر دے رہی ہیں، اور جن میں گور و فکر کیلئے قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، مگر بصیرت سے محروم ہوجانے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد ظن و گمان ہی پر رہ گیا ہے اور طاہر ہے کہ ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آسکتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا { وان الظن لایغنی من الحق شیًا } سو اٹکل کے تیر تکے چلانے کا نتیجہ و انجام نور حق و ہدایت سے محرومی ہے، جو کہ محرومیوں کی محرومی اور خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضاہ، وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین، رب انت ربی وانا عبدک وابن عبدک وابن امتک، وھذہ ناصیتی بین یدیک فخذنی بھا الی ما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ولک الحمد حتی ترضی، ولک الحمد بعد الرضاء انت الحنان والمنان، وانت اکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 51:14–15[ 11] منکرین کے استہزاء و مذاق کے جواب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا منکرین کے استہزاو مذاق کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے جس ہولناک دن کے بارے میں کہ لوگ استہزائے و مذاق کی طور پر کہتے ہیں کہ آخر کب آئے گا بدلے کا وہ دن ؟ تو ان کے لئے یہ حقیقت واضح رہنی چاہئے کہ وہ اس دن آئے گا جس دن کہ ان کو دوزخ کی اس ہولناک آگ پر جلایا اور تپایا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو تم لوگ مزہ اپنے فتنے کا۔ یہ ہے وہ چیز جس کیلئے تم لوگ جلدی مچایا کرتے تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو اس طرح دوزخیوں کو ظاہری آگ کے اس ہولناک عذاب کے ساتھ ساتھ باطن کو جلا دینے والی ان باتوں سے بھی سابقہ و واسطہ پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ان سے کہا جائے گا کہ اب مزہ چکھو تم لوگ اس چیز کا جس کیلئے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں سو اس طرح دوزخیوں کو ظاہری آگ کے اس ہولناک عذاب کے ساتھ ساتھ باطن کو جلا دینے والی اس معنوی عذاب، اور طنزو توبیخ کی ان باتوں سے بھی سابقہ و واسطہ پڑے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف ان سے کہا جائے گا کہ اب مزہ چکھو تم لوگ ان چیزوں کا جنہوں نے تم کو دنیاوی زندگی میں فتنے میں ڈال رکھا تھا، اور جن کے عشق میں مبتلا ہو کر تم لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہو رہے تھے اور تم لوگ اپنی دنیا اور اس کی فانی لذتوں پر لٹو ہو رہے تھے، اب وہ اپنی اصل شکل میں تمہارے سامنے آگئی ہیں سو اب تم لوگ ان کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو۔ سو اس طرح ان بدبختوں کو وہاں پر تذلیل پر تذلیل اور توبیخ پر توبیخ سے سابقہ پیش آئے گا جو کہ عذاب پر عذاب کا ایک نمونہ و مظہر ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
Ayahs 51:16–18[ 12] صفت احسان باعث سرفرازیء دوجہان :
سو اہل جنت کے نعیم جنت سے سرفرازی کی علت اور اس کے سبب کو بیان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ اس سے پہلے نیک و کار تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، کہ ان کی نیتیں بھی ٹیک تھیں۔ عقائد بھی صحیح تھے، اور ان کے عمل بھی درست تھے۔ اللہ سب کو توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ نہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس عظیم الشان صلہ اور بدلہ سے اس لئے نوازا گیا کہ یہ محسن اور نیکوکار تھے، اور یہ ہر کام اس طرح کرنے کی کوشش کرتے تھے جس طرح کہ اس کے کرنے کا حق تھا۔ اور یہ صفت انہی لوگوں کے اندر پائی جاسکتی ہے جن کے اندر سزاوجزا کا عقیدہ راسخ ہو۔ کیونکہ یہ عقیدہ جن لوگوں کے اندر راسخ ہوتا ہے وہی لوگ دوہرا کام اس طرح کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ اس ایمان و یقین سے سرشار ہوتے ہیں کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھ رہے تو خدا تو یقینا اور بہرحال ان کو دیکھ رہا ہے۔ یہاں پر متقین کیلئے محسنین کی صفت کا ذکر فرما کر ان متقی لوگوں کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ لوگ چونکہ سزاو جزا پر ایمان و یقین رکھنے والے تھے اس لئے ان کا تقویٰ صرف ظاہر دارانہ تقویٰ نہیں تھا بلکہ اس کے اندر احسان کی روح بھی موجود تھی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayah 51:19[ 14] محسنین کی صفت انفاق کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے ان کی عطاء و بخشش کی شان کا ذکر فرمایا گیا کہ ان کے مالوں میں سائل کا بھی حق ہوتا ہے، اور محروم کا بھی۔ یعنی ان کی عطاء و بخشش صرف مانگنے والوں پر موقوف نہ تھی، بلکہ جو لوگ محتاج ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی بناء پر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے ان کے لئے بھی ان کے مالوں میں حصہ ہوتا تھا، سو محسنین جس طرح اپنے خالق ومالک کے حقوق پہچانتے اور ان کو ادا کرتے ہیں، اسی طرح وہ اس کے بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں، اور وہ اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے کہ ان کے مالوں میں صرف انہی کا حق ہے، بلکہ وہ دوسروں کے حقوق بھی اپنے حقوق کی طرح ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس حقیقت کا احساس و ادراک رکھتے ہیں کہ خداوند قدوس نے اگر ان کو ان کی ضروریات سے زیادہ دیا ہے تو وہ دراصل دوسروں کا حق ہے جو ان کی امانت اور تحویل میں دیا گیا ہے اور اس امانت کو انہوں نے ادا کرنا ہے ورنہ یہ خیانت ہوگی اور ہر خیانت کی اللہ تعالیٰ کی یہاں پوچھ ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 51:20[ 15] دلائل ارضی میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین کے اندر بھاری نشانیاں ہیں یقین والوں کے لئے یعنی ایسی عظیم الشان نشانیاں جو حضرت خالق۔ جل وعلا مجدہٗ ۔ وجود باجود اس کی عظمت شان، اور اس کی وحدانیت مطلقہ پر دلالت کرتی ہیں، مگر ان سے فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے جو نگاہ عبرت و بصیرت سے کام لینا اور ایمان و یقین کی دولت سے سرشار ہونا چاہتے ہوں۔ کیونکہ ان ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے کوئی بھی نشانی موثر اور کارگر نہیں ہوسکتی جو ایمان لانا چاہتے ہی نہ ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { قل انظروا ما ذا فی السمٰوٰات والارض وما تغنی الاٰیات والنذر عن قومٍ لا یؤمنون } [ یونس : 101] یعنی ان لوگوں سے کہو کہ تم لوگ دیکھو کہ کیا کچھ سامان عبرت و بصیرت ہے آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات میں، لیکن ایسی نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آسکتیں جو ایمان لانا چاہتے ہی نہ ہوں۔ سو نشانیوں کی کمی نہیں لوگوں کے پاؤں تلے بچھی ہوئی یہ زمین بھی نشانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان سے مستفید و فیض یاب ہونے کے لئے دیکھنے والی آنکھوں، غور کرنے والی عقلوں، اور نتائج اخذ کرنے والے دلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 51:21[ 16] دلائل انفسی میں دعوت غور و فکر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور خود تمہاری جانوں میں بھی اے لوگو ! سو تم دیکھو اور غور کرو کہ ان کے ظاہر میں اور باطن میں بھی کہ عجائب ہیں جو قدرت نے ان میں رکھے ہیں، سو تم ذرہ اپنے اس ظاہر و باطن اور اپنے آغاز آفرینش پر گور تو کرو، کہ کس طرح خدائے قدیر و حکیم نے ایک حقیقی بوند سے تمہاری تخلیق و پیدائش کا آغاز فرمایا، اور پھر تمہیں مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر کہاں پہنچایا، اور تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنا کھڑا کیا، اور تمہیں گونا گوں ظاہری اور باطنی نعمتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ و پیراستہ کیا، تو پھر اس کیلئے تمہیں دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اپنی ذات کے اس عظیم الشان مدرسہ علم و حکمت اور کارگہء فکر و بصیرت میں جھانک کر دیکھنا اور اس سے درس عبرت و بصیرت لینا تو تمہارے لئے مشکل نہیں اور نہ ہی اس کیلئے تم لوگوں کو کوئی سفر کرتا یا مشقت اٹھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ سو اگر تم لوگ خود اپنے نفسوں میں اور اپنے باطن کی دنیا میں جھانک کر دیکھو گے تو تم کو ہر روز اپنے اندر زندگی موت برزخ اور بعث بعد موت کے نمونے نظر آئیں گے مگر ضرورت صحیح طور پر غور و فکر کی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 17] انسانوں کے دل و دماغ پر ایک دستک کا ذکر وبیان :
سو اس سے دعوت فکر کے لئے انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک دی گئی۔ چناچہ دلائل نفسی میں غور وفکر سے کام لینے اور درس عبرت حاصل کرنے کے لئے انسان کے دل و دماغ پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں کو کچھ دکھتا نہیں ؟ کہ تم ہر سو پھیلے ہوئے ان دلائل کے علاوہ خود اپنی جانوں میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے، اور اس دلہپ مطلق۔ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ۔ کی یاد دلشاد سے غافل رہتے ہو ؟ اور اس کی اطاعت و بندگی کی پرواہ نہیں کرتے، والعیاذ باللّٰہ، تو کیا تم لوگ کائنات کی اس حکمتوں بھری کھلی کتاب کے علاوہ خود اپنی جانوں میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے کہ تمہاری آنکھیں کھل سکیں، اور تم غفلت کی نیند سے چونک کر راہ حق و صواب کو اپنا سکو، اور اس ہلاکت و تباہی کی راہ سے بچ کر خود اپنی بھلائی کا سامان کرسکو، انسان کا نفس چونکہ انسان کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا { افلا تبصرون } کیا تم لوگوں کو اتنا بھی نہیں سوجھتا ؟ اور کیا اتنی قریب کی نشانیاں بھی تم کو نظر نہیں آتیں ؟ یعنی زمین کے اطراف و اکناف اگر تم لوگوں کے حیطہ علم و ادراک سے باہر ہیں، آسمان کی بلندیاں اگر تمہاری دسترس سے باہر ہیں، تو کیا تمہارے نفس بھی تمہارے دائرہ غور و فکر سے باہر ہیں ؟ اور کیا تم ان کے اندر بھی جھانک کر ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے ؟ جو تمہارے خالق ومالک نے ان کے اندر ودیعت فرمائی ہیں ؟ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ۔
Ayah 51:22[ 18] آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان ہی میں ہے تمہاری روزی اور وہ سب کچھ جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی بارش جس سے مردہ زمین کو زندگی ملتی ہے، اور اس میں طرح طرح کی فصلیں اور دوسری بےحد وحساب چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ نیز چناد اور سورج کے وہ عظیم الشان کرے اور دوسرے کواکب وغیرہ، جو اس ضمن میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز ان ظاہری اسباب کے پردے میں جو اصل حقیقت کار فرما ہے یعنی امر ربی وہ بھی عالم بالا ہی سے آتا ہے، اور اسی کے مطابق اسباب و مسباب کا یہ سارا نظام چلتا ہے، فحلت قدرتہٗ وعز شانہٗ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تم لوگ غور و فکر سے کام لو تمہیں نظر آئے گا کہ یہ آسمان جو آئے دن تمہارے سامنے زندگی و موت، بعث بعد الموت اور جزا و سزا کی شہادت دیتا رہتا ہے، اسی آسمان کے اندر سے تمہاری روزی آتی ہے، اسی کے اندر سے تمہارے طرح طرح کے سامان ہائے زیست پیدا ہوتے ہیں۔ اور اسی کے اندر سے جب وہ چاہے، نافرمانی اور سرکشی کرنے والوں پر عذاب برسا دیتا ہے، نہ رحمت کے لئے اسے کوئی الگ اہتمام کرنا پڑتا ہے اور نہ نقمت کیلئے کوئی الگ، بلکہ رحمت کے سمان بھی یہیں سے کئے جاتے ہیں، اور وقت پہنچنے پر عذاب کے کوڑے بھی اس سے برسادئے جاتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ تو جس کے جمال اور جلال کی یہ شانیں تم لوگ خود دیکھتے ہو اور ہمیشہ دیکھتے ہو تو پھر اس کی قدرت سے تم لوگ آخر اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور زندہ کرے گا ؟ سبحانہ وتعالیٰ ، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔
[ 19] تمہارے وعدوں کا سامان بھی آسمان میں :
سو ارشاد فرمایا گیا اور وہ سب کچھ بھی جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی جنت بھی اور ثواب و عقاب بھی کہ یہ سب کچھ عالم بالاہی میں مقدر ہے، پس تم لوگ دنیاء دوں کے ظاہری اسباب میں ہی الجھ کر نہ رہ جایا کرو، بلکہ اصل نظر اس مسبوب الاسباب پر رکھا کرو جس کے قبضہء قدرت میں سب کچھ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی وحدہٗ لاشریک کے امر اور حکم و ارشاد سے ہوتا ہے، سو جس خدائے پاک کی رحمت اور نعمت کی دونوں شانیں تم لوگ اس آسمان میں دیکھتے ہو کہ اس سے تمہارے لئے رزق کا سامان بھی ہوتا ہے اور اسی سے طرح طرح کے عذاب بھی آتے ہیں، تو پھر تم لوگ آخر یہ یقین کیوں نہیں کرتے کہ وہ خیر اور شر کے معاملے میں بےتعلق یا غیر جانبدار نہیں، بلکہ وقت آنے پر وہ بروں کو لازماً سزا دے گا اور نیکوں کو جزا اور اسی کا فیصلہ قیامت کے روز ہوگا لہٰذا قیامت کا آنا لازمی ہے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہو سکیں اور اس طرح آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کی ایجادو تخلیق اور اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہو سکے، ورنہ سار اکارخانہ قدرت عبث اور بےمقصد قرار پاتا ہے۔ جو اس کی صفت عدل و حکمت کے خلاف ہے۔
Ayahs 51:23–24[ 20] خلاصہء بحث کا ذکر وبیان :
سو اوپر کے جملہ دلائل اور طویل بحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قطعی طور پر حق ہے جس طرح کہ تم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہو۔ پس جس طرح تمہیں اپنی باتوں کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوتا، اسی طرح تمہیں قرآن حکیم کے بیان کردہ ان حقائق میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ نیز جس طرح انسان کا نطق اور اس کی قوت گویائی اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے، کبھی اس سے الگ نہیں ہوتی، اسی طرح اس کا رزق مقسوم بھی بہرحال اسے پہنچ کر رہے گا، کبھی اس سے جدا نہ ہو، جس طرح کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ تمہارا رزق ایسے ہی تمہارا پیچھا کرتا ہے جس طرح تمہاری موت، پس جس طرح کوئی انسان بھاگ کر بھی موت سے نہیں بچ سکتا اسی طرح اس کا رزق بھی بہرحال اسے کھینچ کر رہے گا [ ابن کثیر، قرطبی، بیضاوی، مراغی، محاسن اور صفوۃ وغیرہ ] ۔ سبحان اللّٰہ۔ کیسی عظیم الشان جلیل القدر اور پاکیزہ تعلیم ہے، جو یہ کتاب حکیم دنیا کو دے رہی ہے۔ اور یہ ایمان و یقین جب کسی کو نصیب ہوجائے تو پھر اس کے لئے کسی پریشانی کا کیا سوال ؟ اللہ ایسا ہی ایمان کامل اور یقین محکم نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت انسان کو کس قدر امن و سکون اور عظمت شان سے سرفرازی کرنے والی دولت ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے خلاصہء بحث پیش کرتے ہوئے آسمان اور زمین کے رب کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز جزاء و سزا کی تم لوگوں کو خبر دی جا رہی ہے اور تکذیب حق کے جس نتیجے سے تم لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے یہ سب کو کچھ ایسے ہی حق اور سچ ہے جس طرح کہ تم لوگ بدلتے ہو۔ سو جس طرح زبان سے کوئی لفظ بول دینا تمہارے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ اسی طرح خداوند قدوس کے لئے ان میں سے کوئی بھی کام مشکل نہیں کہ اس کے یہاں تو سارے کام اس کے کلمہء کن سے ہوتے ہیں، اور اس کیلئے کسی چیز کے مشکل ہونے کا کیا سوال ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فایاہ ندعو و بہ نستعین سبحانہ وتعالیٰ ، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayah 51:25[ 22] پیغمبر (علیہ السلام) عالم غیب نہیں ہوتے :
سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کچھ کچھ اوپر سے لوگ ہیں۔ ممکن ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں کہی ہو یا اپنے گھر والوں سے کہی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتوں ہی سے کہی ہو، کہ صاحب ہم نے پہچانا نہیں نہیں، کچھ اوپر سے حضرات لگتے ہیں، کیا آپ ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے ؟ جیسا کہ آج کل بھی تعارف کی غرض سے اس طرح کے الفاظ کہہ دینے کا رواج موجود ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے، ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انہیں پہچاننے میں کوئی دقت و دشواری پیش نہ آتی، اور جب پیغمبر علم غیب نہیں ہوتا اور پیغمبر بھی حضرت ابراہیم خلیل علی نبینا وعلیہ لصلوۃ والسلام جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کو جو کہ ابو الانبیاء اور جد الانبیاء ہونے کی عظیم امتیازی صفت اور شان رکھتے ہیں، تو پھر اور کسی کے عالم غیب ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس اہل بدعت کا یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء و اولیاء عالم غیب ہوتے ہیں، سراسر غلط، بےبنیاد اور شرکیہ عقیدہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، علم غیب خاصہ خداوندی ہے وہی اپنی مشیئت اور مرضٰ کے مطابق جس کو اور جو اور جتنا چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، عالم غیب بہرحال اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے اس کی اس صفت میں کوئی بھی دوسری ہستی نہ شریک ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ والحمدللّٰہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق الرشاد۔
[ 23] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آداب مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر :
کہ آپ (علیہ السلام) اپنے مہمانوں کے لئے کھانا تیار کرنے کے لئے چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور اس طور پر کہ اپنے مہمانوں کو خبر بھی نہ ہونے دی تاکہ وہ کہیں انکار نہ کرلیں۔ بہرکیف اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) چپکے سے گھر کے اندر تشریف لے گئے، کیونکہ آیت کریمہ میں " زاغ " کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی آتے ہیں اس طرح آہستہ اور چپکے سے جانا کہ کسی کو خبر نہ ہونے پائے، چناچہ عربی محاورہ میں کہا جاتا ہے زاع الثغلب روغا و رو غانا یعنی لومڑی آہستہ اور چپکے سے اس طرح نکل گئی کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلنے دیا۔ [ الفتوحات الالہیہ، وغیرہ ] ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسا اس لیے کیا کہ کہیں مہمانوں کو پتہ نہ چل جائے کہ یہ ہمارے لئے کسی کھانے وغیرہ کا انتظام کرنے جا رہے ہیں، اور اس طرح وہ انکار کرنے نہ لگیں، جیسا کہ عام طور پر ایسے موقع پر ہوتا ہے، سو اس سے آنجناب کی شان مہمان نوازی کا پتہ بھی چلتا ہے، اور آداب مہمان نوازی کا بھی کہ اول تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام و کلام سے ان کی آؤ بھگت کی، اور پھر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) فوراً ہی اور چپکے سے ان سے نظر بچا کر اندون خانہ کی طرف تشریف لے گئے تاکہ ان کیلئے ضیافت کا سامان کریں اور نظر بچا کر اسلئے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) کا یہ اہتمام ضیافت ان معزز مہمانوں کی طبیعت پر بار ہو، کیونکہ کریم النفس اور شریف و فیاض میزبان کی میزبانی اور اس کی مہمان نوازی کا طریقہ اور اس کی شان یہی ہوتی ہے کہ ضیافت کا اہتمام اس طور پر کیا جائے کہ مہمان کو اس کے تکلف کا احساس نہ ہو، کہ یہ چیز بھی اس کیلئے بار خاطر ہوسکتی ہے۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ما تمّر اللیالی والایام، وارزقنا اتباعھم علی سبیل التابید والدوام۔
Ayahs 51:26–28[ 24] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر :
سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور بےمثال مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے جو کہ ایک منفرد اور امتیازی نمونہ و مظہر ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں سے کھانے کے بارے میں کچھ پوچھا نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگ اس طرح کے موقع پر مہمان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے کھانا کھایا ہوا ہے ؟ یا آپ کھانا کھائیں گے ؟ یا آپ کیلئے کھانا تیار تیار کیا جائے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح کا کوئی سوال کئے بغیر ان کیلئے کھانا تیار کرنے میں لگ گئے، اور کھانا بھی عمدہ اور اعلیٰ درجے کا کہ ایک موٹا تازہ و عمدہ بچھڑا بھون کرلے آئے، اور مہمان ایسے کہ بالکل اجنبی اوپرے چوپرے، جن سے نہ کوئی جان نہ پہچان، تو کیا اس طرح کی مہمان نوازی کا کوئی نمونہ کہیں پیش کیا جاسکتا ہے ؟ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کی عظمت شان ملاحظہ ہو کہ اول تو آپ (علیہ السلام) گھر گئے ایسے چپکے سے کہ مہمانوں کو اس کی خبر بھی نہ ہونے پائے، کہ آپ (علیہ السلام) ہمارے لئے کچھ لانے اور تیار کرنے کیلئے جا رہے ہیں، پھر لائے بھی آپ (علیہ السلام) کوئی معمولی اور چھوٹی موٹی چیز نہیں، بلکہ پورا بچھڑا بھنا ہوا، اور وہ بھی کوئی مریل اور کمزور قسم کا نہیں بلکہ موٹا تازہ، اور عمدہ قسم کا [ معین ] پھر بچھڑا لائے بھی فوری ہی کچھ زیادہ دیر نہ لگائی، نیز اس کی لاکر ان کی خدمت میں پیش کردیا یعنی ایسا نہیں کیا کہ اس کو کہیں دور رکھ کر مہمانوں سے کہیں کہ آپ اس کے پاس اس کے تناول کیلئے چلیے، بلکہ اس کو ان کے قریب اور ان کے سامنے، عرض والتجاء کے انداز میں تحریض و ترغیب کے طور پر ان حضرات کی خدمت میں عرض کیا " الاتاکلون " کیا آپ حضرات کھاتے نہیں ؟ یعنی آپ کو کھانا کھانا چاہیے کہ یہ مہمانی آپ ہی حضرات کے لئے تیار کی گئی ہے۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ماتمر اللیالی والایام، وارزقنا اتباعھم علی سبیل التابید والدوام، یا ذالجلال والاکرام، سبحان و تعالیٰ ، جل وعلا۔
Ayah 51:29[ 27] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کے اظہار حیرت و مسرت کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کا اس خوشخبری پر اظہار حیرت و مسرت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا کیا میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو واقعی بڑی ہی عجیب بات ہے۔ یعنی حضرت سارہ سلام اللہ علیہا جو کہ قریب ہی ایک کونے میں کھڑی تھیں، سو انہوں نے خوشی اور تعجب کے ملے جلے جذبات کے اظہار کے طور پر کہا کہ کیا میں بچہ جنوں گی ؟ جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں ؟ اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہوچکے ہیں ؟ یہ تو ایک بڑی ہی عجیب بات ہے { قالت یویلتیء الد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا ط ان ھذا لشئی عجیب } [ ھود : 73 پ 12] یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا کہ میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں اور میرے شوہر بھی اس قدر بوڑھے ہیں۔ یہ تو یقینی ایک بڑی اور عجیب بات ہے۔ یعنی ظاہری حالات تو اولاد کے بالکل برعکس ہیں کہ شوہر انتہائی بڑھاپے کو پہنچ چکے ہیں، اور بیوی بوڑھی ہونے کے علاوہ بانجھ بھی ہیں، تو پھر ان کے یہاں کسی اولاد کا کیا سوال ؟ سو اس بناء پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا، سبحانہ وتعالیٰ وجل وعلا۔
[ 28] حضرت سارہ سلام اللہ علیہا کے تعجب سے ایک استدلال باطل کی تردید کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ حیران ہو کر آگے بڑھیں اور اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ یعنی اظہار تعجب و خوشی کے طور پر۔ جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اور خاص کر خواتین میں ایسے عموماً پایا جاتا ہے، وافض نے اس سے اپنے ماتم و سینہ کو بی کی رسم بد پر دلیل کشید کرنے کی سعی مذموم کی۔ لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ آخر یہاں پر ماتم اور افسوس کا کون سا مقام تھا ؟ یہاں تو ایک عظیم الشان خوشی اور خوشخبری کا موقع تھا۔ لیکن جب انسان خوف خدا سے عاری اور نور ایمان و یقین سے محروم اور خالی ہوجاتا ہے، تو اس کی مت اسی طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کو سیدھی بات بھی الٹی لگتی ہے، جس کو قرآن حکیم میں جابجا۔ " یؤفکون "۔ اور " تؤفکون "۔ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ الذی لا الہٗ الا ھو۔ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ جو اس موقع پر قریب ہی کہیں کھڑی سن رہی تھیں یہ خوشخبری سنتے ہی اظہار تعجب و مسرت کے طور پر اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولیں کہ یہ کیسے ہوگا ؟ سو حضرت سارہ سلام اللہ علیہا کے اس فقرے کے اندر حیرت، مسرت اور اس بشارت کی تصدیق مزید کی خواہش سب کچھ جھلکتا ہے، جیسا کہ اصحاب ذوق سلیم سے مخفی نہیں، واضح رہے کہ " فی صرۃ " اس عربی محاورے سے ماخوذ ہے جس میں کہا جاتا ہے۔ " صر الفرس ذنبہ " یعنی گھوڑے نے اپنے کنویتاں کھڑی کیں۔ سو اسی بنا پر " فی صرۃ " کا یہ محاورۃ تعجب اور حیرانی کی حالت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔
[ 29] حضرت سارہ سلام اللہ علیہا کے تعجب کے سبب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت سارہ سلام اللہ علیہا نے کہا کہ میں تو ایک بڑھیا اور بانجھ ہوں۔ یعنی ایک نہیں دو عذر اور موانع موجود ہیں کہ ایک تو یہ کہ میں بوڑھی ہوں، بچے جننے کی عمر کبھی کی گزر چکی ہے، چناچہ روایا ات کے مطابق اس وقت ان کی عمر بنانوے [ 99] برس تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک سو بیس [ 120] برس۔ اور دوسرے یہ کہ میں بانجھ ہوں۔ بچے جننے کی صلاحیت سے پہلے ہی سے عاری اور محروم ہوں، تو پھر ایسے میں اس عمر کو پہنچ کر میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ؟ اور یہ ایک طبعی بات تھی جس کو انہوں نے اس موقع پر پیش کیا، کیونکہ عام طبعی قوانین کے مطابق ایسے حالات میں کسی کے یہاں بچے پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ اس لئے حضرت سارہ سلام اللہ علیہا نے فرشتوں کی طرف سے ملنے والی خوشخبری کے جواب میں اپنی اس کیفیت اور معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بچہ کیسے جنوں گی جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں ؟ اور اس طرح انہوں نے شاید اس بات کو بھی پیش نظر رکھا ہوگا کیا اس ولادت کیلئے میری حالت اور کیفیت کو تبدیل کیا جائے گا، یا میرے یہاں بچہ اسی حالت میں جنم لے گا۔ سو اس موقع پر ان کا یہ اظہار تعجب ایک فطری امر تھا۔
Ayahs 51:30–33[ 30] خرق عادت نوازش کے ظہور کا ذکر وبیان :
سوا اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرق عادت نوازش کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا اور کہا کہ تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے اور وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس آپ کی حالت اس سے کوئی مخفی اور پوشیدہ نہیں، مگر اس کے باوجود اس نے یوں ہی فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے اس لئے یہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا اور اس کی حکمتیں اسی کے علم اور احاطہ میں ہیں، جل جلالہ، لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ جب اس زبّ حکیم وعلیم نے ایسے فرمایا ہے تو یہ اسی طرح ہو کر رہے گا، نہ آپ کا بڑھیا اور بانجھ ہونا اس میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور نہ آپ کے شوہر کا بڑھاپا اس میں حارج ہوسکتا ہے۔ اس کا کوئی حکم و ارشاد اسباب کے تابع اور ان کا محتاج نہیں ہوتا، وہ چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس واقعہ کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی خرق عادت عنایت و نوازش کے ایک عظیم الشان اور بےمثال مراتب و درجات سے بہرہ ور و سرفراز فرمانے سے پہلء اس دنیا میں بھی خرق عادت کے طور پر اپنی منایات سے نوازتا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم کو بڑھاپے کی اس عمر میں جب کہ بظاہرر اولاد سے نوازنے کی کوئی مثال بھی کہیں نہیں مل سکتی آپ کو اولاد سے نوازا گیا، اور، آپ (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف علیہم الصلوٰۃ والسلام۔ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر انبیائے کرام پیدا ہوئے اور حضرت ابراہیم الصلوٰۃ والسلام پوری دنیائے انسانیت میں وہ واحد ہستی ہیں جن کی لگاتار تین پشتوں میں نبوت رہی۔ سو حضرت ابراہیم نے اپنی بےمثال قربانیوں اور صدق شعاریوں سے جب کمال وفا کا ثبوت پیش کردیا اور آپ (علیہ السلام) کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے " وابراہیم الذی وفی " کی عظیم الشان اور بےمثال سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا یعنی یہ کہ " اور اس ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی یاد کرو جس نے وفا کا حق ادا کردیا " آنجناب کو ایسی عظیم الشان عنایات سے نوازا جو آپ ہی کا حصہ تھیں۔ ان سے نہ آپ سے پہلے کسی کو نوازا گیا اور نہ آئندہ قیامت تک اور کسی کے لئے اسکا کوئی امکان ہے، سبحان اللّٰہ !۔ کیا شان ہے اس عظمت وفا کی، اور کیا کہنے اس شان بخشش و عطا کے ؟ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ ہمیں بھی اس کا کوئی کرشمہ نصیب فرما دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، اللہم فھذہ نواصینا بین یدیک، فخذنا بھا الیک، وکن لنا ولا تکن علینا، وخذنا بھا الیٰ ما فیہ حبک والرضا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 51:34–35[ 32] قوم لوط کے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان :
سو اس قوم لوط کے عذاب کے لئے خاص پتھروں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے اور جن کو اس بدبخت قوم کے لئے بطور خاص تیار کیا گیا تھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ ہمیں ایک مجرم قوم ہی کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس پر بارش برسائیں نشان زرہ خاص پتھروں کی۔ مسومہ سَوُم سے ماخوذ و مشتق ہے، جس کے معنی علامت اور نشانی کے آتے ہیں، روایات کے مطابق ان میں سے ہر پتھر پر قدرت کی طرف سے اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس نے اس سے ہلاک ہونا تھا [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مظہری، اور مدارک وغیرہ ] سو قدرت کی طرف سے اس بدبخت قوم کے اشرار کیلئے مخصوص کردہ پتھروں پر خاص نشان لگا دیئے گئے تھے جس کی ان پر بارش برسائی گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، حجارۃٍ من طین یعنی مٹی کے پتھر سے مراد وہ خاص قسم کے پتھر ہیں جو مٹی سے پتھر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جن کو کھنگر وغیرہ کے الفاظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور دوسرے مقام پر اس کو " سجیل " کے الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ { فلما جآء امرنا جعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیہا حجارۃ من سجیل منضودٍ ۔ [ ھود : 82 پ 12] اور " سجیل " دراصل فارسی کے لفظ " سنگ گل " کا معرب ہے۔ سو " حجارۃ من طین " کے ان کلمات کریمہ سے اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،