51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsسراج البیان

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے اڑا کر بکھیرنے والیوں کی

Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر بوجھ اٹھانے والیوں کی

Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر نرمی سے چلنے والیوں کی

Ayah 51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر بانٹنے والیوں کی ایک چیز کو

Ayahs 51:5–8

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک جو وعدہ تمہیں ملا ہے سو سچ (ف 1) ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک انصاف ہونے والا ہے

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

آسمان جالی دار کی قسم

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ تم جھگڑے کی بات میں پڑے رہے ہو

ف 1: قرآن حکیم نے کئی سورتوں کو قسمیہ الفاظ سے شروع کیا ہے ۔ جس کے متعلق عام طور پر یہ وہ خیال ہیں :۔ ایک تو یہ کہ اس وقت کے اس وقت کے مخالفین جب حضور ﷺ کی قوت استدلال سے متاثر ہوئے تھے ۔ تو کہتے تھے ۔ کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ آپ نے زور خطابت سے ہم کو قائل کرلیا ہے ۔ مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہ آپ کے پاس فی الواقع صداقت بھی موجود ہے ۔ ان کو نسلی اور اطمینان خاطر کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ وہ حلفاً حرف بہ حرف درست ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ وہ منشعت کے اعتبار سے اس قابل ہیں ۔ کہ ان کے متعلق غوروفکر کیا جائے ۔ اور ان سے اللہ تعالیٰ کے احسانات پر استدلال کیا جائے ۔ پہلی توجیہہ بالکل غلط ہے ۔ اس لئے کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے ۔ اس کو قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں ہے ۔ کہ وہ ایسے انداز بیان کو اختیار کرے ۔ جس کو بحالت مجبوری انسان اس وقت اختیار کرتا ہے ۔ جب کوئی اور چارہ کار باقی نہیں رہتا ۔ اللہ تعالیٰ کے پاس سمجھانے کے بیشمار ذرائع اور وسائل موجود ہیں ۔ وہ اس سے کام لے سکتا ہے ۔ نیز اس توجیہہ کے ماننے میں سب سے بڑی دشواری یہحائل ہے کہ جن چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں ۔ وہ اپنے اندر کوئی جلالت قدر نہیں رکھتیں ۔ اور بااعتبار مرتبہ کے وہ بہرآئینہ اللہ سے فروتر ہیں ۔ حالانکہ قسم کھانے کے لئے مقسم بہ کا معزز ومحترم ہونا ضروری ہے ۔ دوسری توجیہہ کچھ ایسی غلط نہیں ہے ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ کسی چیز کی منفعت کو بیان کرنے کے لئے عرب اس اسلوب بیان کو اختیار نہیں کرتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک نوع کے دلائل ہیں ۔ جن کو دعویٰ کے اثبات اور موثق بنانے کے لئے پیش کیا گیا ہے ۔ مثلاً دعویٰ یہ ہے کہ قیامت بالکل حق اور یقینی ہے ۔ اور قرین عقل و دانش ہے ۔ اس کو یوں ثابت فرمایا ہے ۔ کہ تمہیں اس ضمن میں سب سے بڑی قابل اعتراض چیز یہی نظر آتی ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کس طرح عناصر حیات کو جمع کرے گا ۔ جو کائنات میں منتشر ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے ۔ کہ جس طرح مختلف ہواؤں کو اس لائق بنادیتا ہے ۔ کہ وہ قطرات آب کو دوش پر لادے لادے پھریں ۔ اور پھر ان کو بارش کی شکل میں مختلف مقامات پر تقسیم کردیں ۔ جس طرح یہ ممکن ہے ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے حل لغات :۔ بجبار ۔ زبردستی کرنے والا والذاریات ۔ وہ ہوائیں جو بخارات اڑاتی ہیں فانحملت ۔ وہ حالت جو بخارانہ کو اپنے کندھوں پر اٹھالیں ۔
Ayahs 51:9–14

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

جو پھیرا گیا وہی اس سے باز رہتا ہے

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے مارے گئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

وہ جو غفلت میں بھول رہے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ انصاف کا دن کب ہوگا

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن وہ آگ پر فتنہ میں پڑیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اپنی شرارت کا مزہ چکھو ، یہ وہ ہے جس تم جلد مانگتے تھے

ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔ حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں الخراصون ۔ اٹکل سے کام لینے والے ۔ دوزخ کو غمرۃ ۔ غفلت ۔ جہالت ۔ متمنی ۔
Ayahs 51:15–27

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ باغوں (ف 1) اور چشموں میں ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

جو کچھ انہیں ان کے رب نے دیا ہے اسے لے رہے ہونگے کیونکہ یہ لوگ اس سے پہلے نیکوکار تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کو کم سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صیح کے وقتوں میں معافی مانگتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں مانگتے اور ہارے کا حق تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے اندر بھی پھر کیا تم کو سوجھ نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

سو آسمان اور زمین کے رب کی قسم کہ یہ کلام حق ہے جیسا کہ تم بولتے ہو

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تیرے پاس ابراہیم کے عزت دار مہمانوں کی حکایت بھی پہنچی ہے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے کہ سلام ۔ وہ بولا سلام یہ اجنبی لوگ ہیں

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر اپنے گھر کی طرف دوڑا اور ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا لے آیا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر ان کے پاس رکھ دیا ۔ کہا تم کیوں نہیں کھاتے ؟

مساوات اور مقام احسان 1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔ دولت ومال کو حاصل کریں گے ۔ مگر اس کو صحیح طور پر خرچ کردینے میں ان کو قطعاً تامل نہ ہوگا ۔ وہ یہ سمجھیں گے ۔ کہ اس مال و دولت میں ہر حاجت مند کا حصہ ہے ۔ ہم کو یہ بالکل استحقاق حاصل نہیں ۔ کہ ہم تو اپنے تمول سے آسائش اور آسودگی کی تمام صورتوں کا احاطہ کرلیں ۔ اور ہیئت اجتماعیہ کا بڑا حصہ ادنیٰ حاجات زندگی کا محتاج ہو ۔ غور فرمائیے ۔ اس مقام اتقاء میں اور اس مساوات میں جو سو شلزم پیدا کرتا ہے ۔ کتنا بڑا فرق ہے ۔ آپ جس کو مساوات کہتے ہیں ۔ قرآن اس ہمدردی کے جذبہ کو احسان کے ساتھ تعبیر کرتا ہے ۔ جو معناً مساوات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ احسان کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اپنے ابنائے جنس کے ساتھ واجبات سے کچھ زیادہ سلوک روا رکھا جائے ۔ اور یہ محض پیٹ کے لئے نہ ہو ۔ اور اوزل ترین خواہشات کی بناء پر نہ ہو ۔ بلکہ اس لئے ہو کہ اس آقا سے تعلقات عقیدت وابستہ ہیں ۔ جو ساری کائنات کا یکساں پروردگار ہے ۔ اور اس ارادت کا یہ تقاضا ہے ۔ کہ ہر سائل حاجت مند کی اس طرح اعانت کی جائے ۔ گویا وہ پہلے سے ہمارے اموال میں استفادہ کا حق رکھتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کی وسعتیں اور پاکیزگی ملاحصہ ہو ۔ اور اس زایوہ نگاہ کی مادیت اور سطحیت دیکھئے ۔ جس کا تعلق محض خواہشات نفس سے ہے ۔ حل لغات :۔ یھجعون ۔ شب بسر کرنا ۔ سونا ۔ حل لغات :۔ بعجل ۔ بچھڑا معمین ۔ فربہ ۔
Ayahs 51:28–35

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

وہ بولے اندیشہ نہ کر اور انہوں نے اس کو ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت (ف 1) دی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر اس کی عورت چلاتی سامنے آئی ۔ پھر اپنا ماتھا پیٹ لیا اور بولی (کیا) بڑھیا بانجھ (بنے گی ؟ )

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے ، وہ جو ہے وہی حکمت والا اور خبردار ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا پھر اسے رسولو تمہارا مطلب کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

کہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر تیرے رب کے ہاں حد سے باہر نکلنے والوں کے لئے نشان پڑے ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر وہ اس بستی میں جتنے ایماندار تھے ان کو ہم نے وہاں سے نکال دیا

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو ہر طرح کی کامیابی اور کامرانی سے نوازا ۔ اور مخالفین ہمیشہ ان کے مقابلہ میں غائب و خاسر رہے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ حضرت ابراہیم کے پاس اس وقت جب کہ وہ قوم کی طرف سے بہت زیادہ طول اور دل برداشتہ تھے ۔ فرشتے آئے اور انہوں نے آکر حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری سنائی ۔ حل لغات :۔ فصلت وجھہا ۔ یعنی فرط حیرت اور حیاء میں انہوں نے عورتوں کی عادت کے موافق اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ کیا یہ بھی ممکن ہے ۔