51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsسراج البیان

Ayahs 51:36–43

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور ہمنے وہاں سوائے ایک گھر کے (کہ حضرت لوط کا تھا) مسلمانوں (ف 1) کا اور کوئی گھر نہ پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے وہاں ان کے لئے جو دکھ دینے والے عذاب سے ڈرتے ہیں ایک نشان چھوڑ رکھا

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ کے حال میں نشانیاں ہیں جب ہم نے اسے کھلی سند دے کر فرعون کی طرف بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے اپنے زور کے بل بوتے پر منہ موڑا اور کہا یہ جادوگر یا دیوانہ ہے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکریوں کو پکڑا اور انہیں دریا میں پھینک دیا اور وہ قابل ملامت تھا

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور قوم عاد میں بھی نشانیاں ہیں جب ہم نے ان پر خیر سے خالی (تیز) ہوا بھیجی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جس چیز پر وہ گزرتی تھی اس کو گلی ہوئی ہڈی کی طرح (چور) کئے بغیر نہ چھوڑتی تھی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود میں نشانیاں ہیں جب انہیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو

سدومیوں کی بداخلاقی 1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان لوگوں کی اخلاقی اور ذہنی حالت بالکل پست ہوچکی تھی ۔ دن رات ان کا مشغلہ یہی تھا ۔ کہ غیر فطری طور پر جذبات جنسی کی تسکین کے لئے مارے مارے پھریں ۔ چھوٹ سے لے کر بڑوں تک اور جاہلوں سے پڑھے لکھوں تک سب اسی دھن میں تھے ۔ ہر مجلس اور ہر جگہ انہیں باتوں کا چرچا تھا ۔ انہیں خیالات کی اشاعت تھی اور اس حد تک یہ برائی ان کی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ۔ کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ٹوکا اور متنبہ کیا ۔ تو ان کو اس پاکبازی پر تعجب ہوا ۔ اور صاف کہنے لگے کہ تمہیں اس قدر پرہیزگاری کا خایل ہے تو اس ملک کو چھوڑ دو ۔ ہم تو باز نہیں آئیں گے ۔ بدبختی کی انتہا دیکھئے ۔ کہ جب فرشتے ان کے پاس آئے تاکہ ان کی بستیوں کو لٹ دیں ۔ تو انہوں نے ان کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں دیکھ کر اپنی ناپاک خواہشات کی تکمیل کے لئے منتخب کرنا چاہا ۔ یہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس آئے تھے ۔ تاکہ ان کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری سنائیں ۔ چناچہ جب وہ یہ خوشخبری سنا چکے تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ۔ کہاں کے ارادے ہیں ۔ تو انہوں نے بتلایا ۔ کہ سدومیوں کی ناقاک اور مجرم قوم کے ہاں جارہے ہیں ۔ تاکہ ان پر عذاب کے پتھر برسائیں ۔ اور موت کے گھاٹ اتار دیں ۔ کیونکہ انہوں نے زندگی کا نہایت ناجائز استعمال کیا ہے ۔ اور خطرہ ہے ۔ کہ ان کی بداعمالی آئندہ نسلوں تک متجاوز نہ ہوجائے ۔ واضح رہے کہ یہ جرم اتنا ذلیل ، اس قدر خطرناک اور برا ہے ۔ کہ اس کے انسداء کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) ایسے پاکباز انسان کو خصوصیت کے ساتھ بھیجا ۔ تاکہ وہ بلا خوف قوم کو ان بدخیالات اور فواحش سے روکیں ۔ کیونکہ اس فعل شنیع سے قومیں صرف بداخلاق ہی نہیں ہوجاتی ہیں ۔ بلکہ ذہنی اور دماغی لحاظ سے پست اور ذلیل بھی ہوجاتی ہیں ۔ ان میں قوت و استعداد باقی نہیں رہتی ۔ کہ وہ دنیا میں تنومند اور ہشاش بشاش انسانوں کی طرح زندہ رہیں ۔ اور تمدن انسانی میں کیف ونشاط کا اضافہ کریں ۔ بلکہ اس زہر سے سارا جسم ماؤف ہوجاتا ہے ۔ دل و دماغ کی صلاحتیں چھن جاتی ہیں ۔ اور جرات وحوصلہ مفقودہوجاتا ہے ۔ بالآخر انجام یہ ہوتا ہے ۔ کہ اس نوع کی قوم حوادث کا مقابلہ نہ کرسکنے کی وجہ سے بالکل مٹ جاتی ہے ۔ یا حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتی ہے اس لئے آج بھی ہمارے علماء اور قائدین کو اس بیماری کے استیعا کے لئے کمر بستہ ہوجانا چاہیے ۔ اور اپنی قوم کے نوجوانوں کو اس نوع کے خیالات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ اور ان کے ذہن نشین کرانا چاہیے ۔ کہ قومیں صرف اپنے اخلاق حمیدہ ہی سے زندہ رہی ہیں حل لغات :۔ خطبکم ۔ حالت کیفیت ۔ کار ۔ حال ۔ مسومۃ ۔ نشاندار ۔ عینی متعین برکبہ ۔ اپنے ارکان حکومت کے ساتھ ۔
Ayahs 51:44–50

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پھر وہ اپنے رب کے حکم سے سرکشی (ف 1) کرنے لگے تو انہیں کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

سو وہ نہ اٹھ سکے ۔ اور نہ ہی بدلہ لے سکے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور اس نے پہلے نوح کی قوم کو ہلاک بیشک وہ بدکار لوگ تھے

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمانوں کو ہم نے اپنے ہاتھوں کی قوت سے بنایا اور ہم مقدور والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے بچھایا سو ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر شئے کے جوڑے بنائے شاید کہ تم دھیان کرو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس تم اللہ کی طرف بھاگو میں تمہیں اس کی طرف سے صریح ڈرانے والا ہوں

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ اتاردیاجائے ۔ کیونکہ مذہب بڑا گرم ہوتا ہے زندگی کا ۔ بقاء کا اور دنیا میں ارتقاء وتقدم کا اور انبیاء کی بعثت سے یہ غرض ہوتی ہے ۔ کہ وہ مردود قوموں میں حیات اور بالیدگی کی روح پھونک دیں ۔ پھر بھی اگر کچھ بدبخت لوگ اس زندگی کو موت سمجھیں ۔ اور شہد کو زقوم سمجھ کر منہ نہ لگائیں تو ان کا علاج سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ بےشنیع ان کو زندگی کی نعمتوں سے محروم کردیاجائے ۔ کیونکہ کفران نعمت ناقابل برداشت ہے کہ خدا تو ان کو زندہ رکھنا ، پستیوں سے نکالنا ، ترقی کے بام بلند تک پہنچانا چاہیے یہ متقل کی جانب گریں ۔ اور گمراہی وضلالت کے تاریک گڑھوں کی طرف بڑھیں ۔ حل لغات :۔ اریح العیم ۔ نامسعود ہو ۔ نا مبارک آندھی لعتوباعتو سے ہے ۔ بمعنے سرکشی الصعقۃ ۔ عذاب مہلک ۔ مرگ ۔ ابر سے زمین پر گرنے والی بجلی
Ayahs 51:51–54

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھول کر ڈرانے (ف 1) والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان سے پہلوں کے پاس بھی جب کبھی کوئی رسول آیا ۔ اسی کی نسبت انہوں نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ایک دوسرے کو بھی وصیت کرتے چلے آئے ہیں کوئی نہیں بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

سو تو ان سے منہ موڑ لے اب تجھ پر ملامت نہیں ہے

مظاہر قدرت سے استدلال 1: فرمایا آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھو ۔ نجوم وکواکب کے فوائد اور ان کی مصلحتوں پر غور کرو ۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین کو ہم نے کس طرح تمہارے پاؤں تلے بچھا رکھا ہے ۔ اور کیونکر ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔ کہ یہ سب چیزیں اس کی توحید اور قدرت کا ملہ پر صریح دال ہیں ۔ اس لئے اگر تمہارا مطالعہ صحیح اور کامل ہے ۔ تو پھر تمہارا فرض یہ ہے کہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ خدا کے حضور میں آؤ۔ اور دوڑ کر رشتہ توحید کو تھام لو ۔ کیونکو وہ ذات ہر نوع کے ساجھے سے پاک اور بالا ہے
Ayah 51:55

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور نصیحت کرتا رہ کہ نصیحت کرنا مومنین (ف 2) کو مفید ہے

ف 2: حضور ﷺ جب اللہ کا پیغام مکہ والوں تک پہنچاتے ، تو یہ لوگ ازراہ کبروغرور کہتے ۔ کہ ہم تمہیں بھی ساحر اور کاہن سمجھتے ہیں ۔ یا ہمارا خیال ہے کہ تمہارے دماغ میں خلل ہے ۔ اس سے زیادہ وقعت ہمارے دل میں تمہاری نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ آپ ان توہین کے کلمات کو نخندہ پیشانی برداشت کیجئے ۔ کیونکہ ہمیشہ سے جب انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائے ہیں ان کے مخالفین نے ان کو انہیں القائر سے ملقب کیا ہے ۔ یہ بہت پرانا الزام ہے ۔ آپ بہرحال سمجھاتے رہیے ۔ مومنین کی ایک جماعت ، عقیدتمندوں کا ایک جم غفیر یہ خود بتلائے گا ۔ کہ ساحر اور مجنون کون ہے ؟ اور وہ کون ہے جس کے ساتھ بےانتہا نفوس قلبی تعلق رکھتے ہیں ۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور آدمیوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت (ف 3) کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے کچھ روزینہ نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے (کھانا) کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

اللہ جو ہے بیشک وہی روزی دینے والا صاحب قوت زبردست ہے

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

سو ان ظالموں نے بھی ڈول بھرا ہے ۔ جیسے ان کے ہم مشربوں کے لئے ایک ڈول بھرا تھا پس مجھ سے جلدی نہ کریں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

سو کافروں کے لئے ان کے اس دن سے جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے ۔ خرابی ہے

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں تک قرآنی محاورات کا تعلق ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عبادت کے لفظ کو صرف مخصوص اور متعین نوح کی حرکات کے لئے استعمال نہیں کیا ۔ بلکہ عبادت کا لفظ اس کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے ۔ چناچہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ہم اس معاملہ کو زبور میں لکھ لئے ہیں ۔ کہ زمین کی وراثت ہمارے نیک بندوں کے مکلف رہے گی ۔ اللہ نے فرمایا : ان لی ھذا املاثئقوم عبدین ۔ نہ اس اظہار واقعہ میں خدائے پرستاروں کے لئے خوشخبری کا اعلان ہے ۔ جس نے صاف معنی یہ ہیں کہ طہارت کی حلاوت صرف دلوں تک محدود نہیں ہے بلکہ حکمرانی کا بھی ذریعہ ہے ۔ اور اس کے توسل سے زمین کے خزائن اور اقتدار بھی حاصل ہوتے ہیں ۔ کہ خدا کے تمہارے وہ ہی نہیں ہیں ۔ جو صرف دہلیز مسجد سے وابستہ ہوں ۔ بلکہ وہ ہیں جس نے دیرپا تخت سلطنت بھی ہوں ۔ اور جہاں سلطان ان کی پاکبازی سے ڈرے ۔ وہاں طاغوتی قومیں بھی اس کے سامنے دبی جھکی رہیں ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے عبادت تعبیر زندگانی اور روحانی نشاط سے اخلاق کی تعمیر سے اور ظاہروباطن کی بالیدگی سے کیونکہ اس کے دو پہلو ہیں ایک کا تعلق خالق مطلق سے ہے ۔ اور دوسرے کا مخلوق بدوہ ہے ۔ جو ایک طرف تو اللہ کی مخلوق کے حق میں نہایت شفیق ومہروں اور ہمدرد ہو ۔ اور دوسری طرف اللہ کے مقابلہ میں نہایت عاجز اور منکسر اور پھر کیب انوار میں یہ چیز اس کے پیش نظر ہو ۔ کہ اس کو تخلق غلان اللہ پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ اور یہی عبادت کی غرض اور رعایت ہے ۔ اور جب وہ اس پیکر حسن اجمال اور کثرت قدرت و کمال کو انپا مدنظر ٹھہرائے گا ۔ اور کوشش کریگا کہ اپنے میں اس کی نقوبرات اور تجلیات کی بقدرطرف منعکس کرے اور پھر وہ واقعی اس مقصد کو پورا کریگا ۔ جس کی وجہ سے اس کو پیدا کیا گیا ۔ حل لغات :۔ یملوم ۔ لائق ملامت المنین ۔ جو باعتبار اپنی ذات کے صاحب قوت ہو ۔