51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 51:1–4

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بکھیرتی ہیں اڑا کر

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر چلنے والیاں نرمی سے

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر بانٹنے والیاں حکم سے8

8 اول زور کی ہوائیں اور آندھیاں چلتی ہیں جن سے غبار وغیرہ اڑتا ہے اور بادل بنتے ہیں، پھر ان میں پانی بنتا ہے۔ اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہیں۔ پھر برسنے کے قریب نرم ہوا چلی ہے پھر اللہ کے حکم کے موافق بارش میں جس جگہ کہ جتنا حصہ ہوتا ہے وہ تقسیم کرتی ہیں۔ ان ہواؤں کی اللہ قسم کھاتا ہے۔ بعض علماء نے " ذاریات، سے ہوائیں۔ " حاملات " سے بادل، " جاریات " سے ستارے اور " مقسمات " سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ گویا مقسم بہ کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہوئی اور حضرت علی ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ " ذاریات " ہوائیں۔ " حاملات "۔ بادل، " جاریات " کشتیاں، اور " مقسمات " فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے رزق وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔
Ayahs 51:5–6

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک جو وعدہ کیا ہے تم سے سو سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک انصاف ہونا ضرور ہے9

9 یعنی یہ ہواؤں اور بارش وغیرہ کا نظام شاہد ہے کہ آخرت کا وعدہ سچا، اور انصاف ہونا ضروری ہے۔ جب اس دنیا میں ہوا تک بےنتیجہ نہیں چلتی تو کیا اتنا بڑا کارخانہ یوں ہی بےنتیجہ چل رہا ہے ؟ یقینا اس کا کوئی عظیم الشان انجام ہوگا۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے آسمان جال دار کی10

10 یعنی صاف و شفاف، خوبصورت، مضبوط اور پررونق آسمان کی قسم جس پر ستاروں کا جال بچھا ہوا معلوم ہوتا ہے اور جس پر ستاروں کی اور فرشتوں کی راہیں پڑی ہوئی ہیں۔
Ayahs 51:8–9

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

تم پڑ رہے ہو ایک جھگڑے کی بات میں

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے باز رہے وہی جو پھیرا گیا11

11 یعنی قیامت اور آخرت کی بات میں خواہ مخواہ جھگڑے ڈال رکھے ہیں۔ اس کو وہ ہی تسلیم کرے گا جسے بارگاہ ربوبیت سے کچھ تعلق ہو۔ جو شخص راندہ درگا ہے اور خیر وسعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے وہ اس چیز کے تسلیم اور قبول کرنے سے ہمیشہ باز رہے گا۔ حالانکہ اگر صرف آسمان کے نظم و نسق میں غور کرے تو یقین ہوجائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔
Ayah 51:10

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

مارے پڑے اٹکل دوڑانے والے12

12 یعنی دین کی باتوں میں اٹکلیں دوڑاتے ہیں اور محض اپنے ظن وتخمین سے قطعیات کو رد کرتے ہیں۔
Ayah 51:11

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

وہ جو غفلت میں ہیں بھول رہے13

13 یعنی دنیا کے مزوں نے آخر سے اور خدا سے غافل کر رکھا ہے۔
Ayah 51:12

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کب ہے دن انصاف کا14

14 یعنی انکار اور ہنسی کے طور پر پوچھتے ہیں کہ ہاں صاحب ! وہ انصاف کا دن کب آئے گا ؟ آخر اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے ؟
Ayahs 51:13–14

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن وہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

چکھو مزا اپنی شرارت کا یہ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے1

1 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دیا گیا۔ یعنی ذرا صبر کرو۔ وہ دن آیا چاہتا ہے۔ جب تم آگ میں الٹے سیدھے کیے جاؤ گے۔ اور خوب جلا تپا کر کہا جائے گا کہ لو اب اپنی شرارت اور استہزاء کا مزہ چکھو۔ جس دن کی جلدی مچا رہے تھے وہ آگیا۔
Ayahs 51:15–16

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

البتہ ڈرنے والے باغوں میں ہیں اور چشموں میں ہیں

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

اور چشموں میں لیتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے2 وہ تھے اس سے پہلے نیکی والے3

2 یعنی خوشی خوشی ان نعمتوں کو قبول کرتے ہیں جو ان کے پروردگار نے ارزانی فرمائی ہیں 2 یعنی دنیا سے نیکیاں سمیٹ کر لائے تھے۔ آج ان کا نیک پھل مل رہا ہے۔ آگے ان نیکیوں کی قدرے تفصیل ہے۔
Ayahs 51:17–18

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ تھے رات کو تھوڑا سوتے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صبح کے وقتوں میں معافی مانگتے4

4 یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت الٰہی میں گزارتے اور سحر کے وقت جب رات ختم ہونے کو آتی اللہ سے اپنی تقصیرات کی معافی مانگتے کہ الٰہی حق عبودیت ادا نہ ہوسکا۔ جو کوتاہی رہی اپنی رحمت سے معاف فرما دیجیے۔ کثرت عبادت ان کو مغرور نہ کرتی تھی۔ بلکہ جس قدر بندگی میں ترقی کرتے جاتے خشیت و خوف بڑھتا جاتا تھا۔
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں حصہ تھا مانگنے والوں کا اور ہارے ہوئے کا5

5 " ہارا ہوا " وہ جو محتاج ہے اور مانگتا نہیں پھرتا۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ( زکوٰۃ کے علاوہ) اپنے مال میں اپنی خوشی سے سائلوں اور محتاجوں کا حصہ مقرر کر رکھا تھا جو التزام کی وجہ سے گویا ایک حق لازم سمجھا گیا۔
Ayahs 51:20–21

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے واسطے

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے اندر سو کیا تم کو سوجھتا نہیں6

6 یعنی یہ شب بیداری، استغفار اور محتاجوں پر خرچ کرنا اس یقین کی بناء پر ہونا چاہیے کہ خدا موجود ہے اور اس کے ہاں کسی کی نیکی ضائع نہیں جاتی۔ اور یہ یقین وہ ہے جو آفاقی و انفسی آیات میں غور کرنے سے بسہولت حاصل ہوسکتا ہے۔ انسان اگر خود اپنے اندر یا روئے زمین کے حالات میں غور وفکر کرے تو بہت جلد اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ہر نیک و بد کی جزاء کسی نہ کسی رنگ میں ضرور مل کر رہے گی۔ جلد یا بدیر۔
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں ہے روزی تمہاری اور جو تم سے وعدہ کیا گیا7

7 یعنی سائلوں اور محتاجوں پر خرچ کرنے سے اس لیے نہیں ڈرنا چاہیے کہ خرچ کر کے ہم کہاں سے کھائیں گے اور نہ خرچ کر کے ان مساکین پر احسان جتلائے کیونکہ تمہاری سب کی روزی اور اجر وثواب کے جو وعدے کیے گئے ہیں آسمان والے کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر ایک کی روزی پہنچ کر رہے گی کسی کے روکے نہیں رک سکتی۔ اور خرچ کرنے والوں کو ثواب بھی مل کر رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔ "
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

سو قسم ہے رب آسمان اور زمین کی کہ یہ بات تحقیق ہے جیسے کہ تم بولتے ہو8

8 یعنی جیسے اپنے بولنے میں شبہ نہیں، ویسا ہی اس کلام میں شبہ نہیں۔ یقینا روزی پہنچ کر رہے گی، قیامت قائم ہوگی، آخرت آکر رہے گی، اور خدا کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔ آگے (وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ) 51 ۔ الذاریات :19) کی مناسبت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کا قصہ سناتے ہیں جو تمہید ہے لوط (علیہ السلام) کے قصہ کی۔ دونوں قصوں سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ دنیا میں محسنین کے ساتھ کیا ہے اور مکذبین کے ساتھ اس نے کیسا برتاؤ کیا۔
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا پہنچی ہے تجھ کو بات ابراہیم کے مہمانوں کی جو عزت والے تھے9

9 یعنی فرشتے تھے جن کو ابراہیم (علیہ السلام) اول انسان سمجھے ان کی بڑی عزت کی اور اللہ کے ہاں تو فرشتے معزز و مکرم ہیں ہی۔ کما قال (بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :26)
Ayah 51:25

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب اندر پہنچے اس کے پاس تو بولے سلام وہ بولا سلام ہے یہ لوگ ہیں اوپرے10

9 یعنی سلام کا جواب سلام سے دیا اور دل میں یا آپس میں کہا کہ یہ لوگ کچھ اوپرے سے معلوم ہوتے ہیں۔
Ayahs 51:26–27

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر دوڑا اپنے گھر کو تو لے آیا ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر ان کے سامنے رکھا کہا کیوں تم کھاتے نہیں11

11 یعنی نہایت اہتمام سے مہمانی شروع کردی اور نہایت مہذب و شائستہ پیرایہ میں کہا کہ کیوں حضرات ! تم کھانا نہیں کھاتے ؟ وہ فرشتے تھے، کھاتے کس طرح۔ آخر ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ یہ آدمی نہیں ہیں۔
Ayah 51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر جی میں گھبرایا ان کے ڈر سے بولے تو مت ڈر اور خوشخبری دی اس کو ایک لڑکے ہشیار کی12

12 یہ قصہ سورة " ہود " اور " حجر " میں گزر چکا ہے۔ وہاں تفصیل ملاحظہ کرلی جائے۔
Ayah 51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر سامنے سے آئی اس کی عورت بولتی ہوئی پھر پیٹا اپنا ماتھا اور کہنے لگی کہیں بڑھیا بانجھ13

13 حضرت سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ایک طرف گوشہ میں کھڑی سن رہی تھیں۔ لڑکے کی بشارت سن کر چلاتی ہوئی دوسری طرف متوجہ ہوئیں اور تعجب سے پیشانی پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں کہ (کیا خوب) ایک بڑھیا بانجھ جس کی جوانی میں اولاد نہ ہوئی۔ اب بڑھاپے میں بچہ جنے گی ؟
Ayah 51:30

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے یوں ہی کہا تیرے رب نے وہ جو ہے وہی ہے حکمت والا خبردار14

14 یعنی ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ وہ ہی جانتا ہے کہ کس کو کس وقت کیا چیز دینا چاہیے۔ (پھر تم بیت نبوت سے ہو کر اس بشارت پر تعجب کیا کرتی ہو) (تنبیہ) مجموعہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں جن کی بشارت ماں اور باپ دونوں کو دی گئی۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

بولا پھر کیا مطلب ہے تمہارا اے بھیجے ہوؤ1

1 یعنی ابراہیم نے فرشتوں سے پوچھا کہ آخر تم کس مہم کے لیے آئے ہو۔ انداز سے سمجھے ہوں گے کہ ضرور کسی اور اہم مقصد کے لیے ان کا نزول ہوا ہے۔
Ayahs 51:32–33

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو بھیجا ہے ایک گناہ گار قوم پر

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

کہ چھوڑیں ہم ان پر پتھرمٹی کے2

2 یعنی قوم لوط کی سزا دہی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تاکہ کنکر کے پتھر برسا کر ان کو ہلاک کریں۔ " من طینٍ " کی قید سے معلوم ہوگیا کہ یہ اولوں کی بارش نہ تھی جس کو تو سعاً پتھر کہہ دیا جاتا ہے۔
Ayah 51:34

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

نشان پڑے ہوئے تیرے رب کے یہاں سے حد سے نکل چلنے والوں کے لیے3

3 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پتھروں پر نشان کردیئے گئے ہیں۔ یہ عذاب کے پتھر خاص ان ہی کو لگیں گے جو عقل، دین اور فطرت کی حد سے نکل چکے ہیں۔
Ayahs 51:35–36

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر بچا نکالا ہم نے جو تھا وہاں ایمان والا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پھر نہ پایا ہم نے اس جگہ سوائے ایک گھر کے مسلمانوں سے4

4 یعنی اس بستی میں صرف ایک حضرت لوط کا گھرانا مسلمانی کا گھرانا تھا۔ اس کو ہم نے عذاب سے محفوظ رکھا اور صاف بچا نکالا۔ باقی سب تباہ کردیئے گئے۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور باقی رکھا ہم نے اس میں نشان ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں عذاب دردناک سے5

5 یعنی اب تک وہاں تباہی کے نشان موجود ہیں اور ان کی غیر معمولی ہلاکت کے قصہ میں ڈرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے،
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور نشانی ہے موسیٰ کے حال میں جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کے پاس دے کر کھلی سند6

6 یعنی معجزات وبراہین۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے منہ موڑ لیا اپنے زور پر اور بولا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ7

7 یعنی زور و قوت پر مغرور ہو کر حق کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ اور اپنی قوم اور ارکان سلطنت کو بھی ساتھ لے ڈوبا۔ کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو چالاک جادوگر ہے اور یا دیوانہ ہے۔ دو حال سے خالی نہیں۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پھر پھینک دیا ان کو دریا میں اس پر لگا الزام8

8 یعنی ہم نے زیادتی نہیں کی۔ الزام اسی پر ہے کہ اس نے کفر اور سرکشی اختیار کی، سمجھانے پر بھی باز نہ آیا۔ آخر جو بویا تھا وہ ہی کاٹا۔