51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا

تفسیر سورة الذریت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں، جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لامحالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل وبراہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کرسکتے ہیں۔ (الذاریات) یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں (ذروا) اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہیں۔ (فالحملت وقرا) اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لئے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ (فالجریت یسرا) وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحرو وبر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدہ اٹھائے جاتے ہیں۔ (فالمقسمت امرا) اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامرو تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لئے جو حدود مقرر کردی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کرسکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کرسکتا ہے۔
Ayahs 51:7–9

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم ! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیم سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔ (انکم) محمد کریم ﷺ کو جھٹلانے والو ! بیشک تم (لفی قول مختلف) ” مختلف قول میں ہو۔ “ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت، شک اور اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔ ) یوفک عنہ من افک) پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل وبراہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفیٰ محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا) (النساء : 5/82) ” اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ “
Ayahs 51:10–14

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو بیخبر ی میں بھولے ہوئے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اب اپنی شرارت کا مزا چکھو یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (قتل الخرصون) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ (الذین ھم فی غمرۃ) ” جو بیخبر ی میں ہیں۔ “ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ (ساھون ) ” اور بھولے ہوئے ہیں۔ “ (یسئلون) وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں : ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انہوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ (یوم ھم علی النار یفتنون) ” ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے “ یعنی جس دن انہیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا : (ذوقوا فتنتکم) آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انہیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ (ھذا) یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو (الذی کنتم بہ تستعجلون) وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ “ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayahs 51:15–19

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

(اور) جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ (ان المتقین) یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (فی جنت) ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میوں پر مشتمل ہوں گے، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہوگا۔ (وعیون) وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔ (اخذین ما انتھم ربھم) ” ان کا رب انہیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔ “ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متفین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامرونواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انہیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کر روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ نے اوامر ونواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیا کے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ (انھم کانو قبل ذلک) یعنی اس وقت سے پہلے، جب انہیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی (محسنین) ” وہ نیکوکار تھے۔ “ یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ” احسان “ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کرسکتے تو یہ کیفیت لئے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انہیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں، نرم کلام، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔ خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب ولسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے فرمایا : (کانو) یعنی نیکوکار (قلیلا من الیل ما یھجعون) ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراءت، دعا، اور آہ وزاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔ (وبالاسحار) طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے (ھم یستغرون) وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے تھے۔ پھر قیام اللیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے تھے۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا : (والمستغفرین بالاسحار) (ال عمران : 3/17) ” اور اوقات سحر میں استغفار کرنے والے۔ “ (وفی اموالھم حق) ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے (للسائل والمحروم) یعنی ان محتاجوں کے لئے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لئے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
Ayahs 51:20–23

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت) سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : (و فی الارض ایت للموقنین) ” اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں۔ “ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے مثلاً پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات، جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح خود بندے کی ذات میں بیشمار عبرتیں، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بےنیاز ہے، اس نے مخلوق کو بےکار اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔ (وفی السماء رزقکم) ” اور آسمانوں میں تمہارا رزق ہے۔ “ یعنی تمہارے رزو کا مادہ مثلاً بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار (وما توعدون) یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت الٰہی کو بیان کرکے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے۔ چناچہ فرمایا : (فورب السماء والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون) ” پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم ! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تم باتیں کرتے ہو “ جس طرح تمہیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمہیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 51:24–30

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہونچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

(اور کھانے کے لئے) انکے آگے رکھ دیا کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو ابراہیم کی بیوی چلاتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے وہ بیشک صاحب حکمت (اور) خبردار ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ، آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا اسی لئے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں (فجاء بعجل سمین۔ فقربہ الیھم) اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے کھانے کے لئے پیش کیا (قال الا تاکلون۔ فاوجس منھم خیفۃ) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا : تم کیوں نہیں کھاتے ؟ اور جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ (قالو الا تخف) ” انہوں نے کہا : خوف نہ کیجئے۔ “ وہ جس مقصد کے لئے آئے تھے انہوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس سے آگاہ کیا (وبشروہ بغلم علیھم) ” اور انہیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔ “ اس سے مراد اسحاق ( علیہ السلام) ہیں۔ پس حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی (فاقبلت) تو وہ فرحان و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں (فی صرۃ) چیخ مار کر (فصکت وجھھا) ” اور انہوں نے (تعجب سے) اپنے چہرے پر ہاتھ مارا۔ “ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہوجایا کرتی ہے جو طبعیت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں (وقالت عجوز عقیم) اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہوسکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت دے مانع ہیں۔ سورة ہود میں حضرت سارہ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وھذا بعلی شیخا ان ھذا لشئی عجیب) (ھود : 11/82) ” میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ “ (قالو اکذلک قال ربک ( ” فرشتوں نے کہا : (ہاں) تیرے پروردگار نے اسی طرح کہا ہے۔ “ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کرکے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ (انہ ھو الحکیم العلیم) ” بیشک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے “ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لئے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکرا دا کرو۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟

(قال) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا (فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ ) اے رسولو۔ تمہارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو ؟ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے کے لیے بھیجا ہے۔
Ayah 51:32

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں

(قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ ) انہوں نے کہا ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اور اس سے مراد قوم لوط ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
Ayahs 51:33–34

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ ) تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں نشان زدہ ہیں۔ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود پھلانگ گئے تھے چناچہ حضرت ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگھڑنے لگے۔ شاید اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے چناچہ ان سے کہا گیا (یا ابراہیم اعرض عن ھذا انہ قد جاء امر ربک وانھم اٰتیھم عذاب غیرمردود۔ ھود 76) ۔ اے ابراہیم اس بات کو جانے دو ، تیرے رب کا حکم آگیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔
Ayahs 51:35–36

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

(فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ ) پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انہیں نکال لیا اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ یہ حضرت لوط کے گھرانے کے لوگ تھے سوائے ان کی بیوی کے وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی

وَتَرَكْنَا فِيْهَآ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) اور ہم نے ان کے بارے میں لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد۔ 1۔ اللہ تبارک وتعالی کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے احوال نے انہیں کہاں پہنچا دیا۔ 2۔ اس قصے میں ابراہیم کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ 3۔ یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیم کی عادت تھی اللہ نے محمد اور آپ کی امت کو حکم دیا کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ نے اس قصے کی مدح وثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔ 4۔ اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول وفعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم تھے یعنی حضڑت ابراہیم ان کی عزت و تکریم کی اللہ تعالیٰ نے بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے قول فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہمہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔ 5۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم کا گھر رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیم نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ اثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ 6۔ یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ 7۔ یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم کے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے آپ نے (اپنے مہمانوں سے) فرمایا تھا (قوم منکرون۔ الذاریات 25) تم اجنبی لوگ ہو۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ انکرتکم میں تمہیں پہچانتا ہوں اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔ 8۔ یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے اس لیے ابراہیم نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔ 9۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ کھانا جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کیا تھا اور اللہ تبارک وتعالی نے خبر دی ہے کہ وہ حضڑت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔ 10۔ اللہ تبارک وتعالی نے حضرت ابراہیم کو بکثرت رزق سے نوازرکھا تھا اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت موجود رہتا تھا انہیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔ 11۔ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی، حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔ 12۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انہیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اس کی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔ 13۔ اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھاناپیش کیا تھا (الا تاکلون۔ الذاریت 27) ۔ آپ تناول کیوں نہیں کرتے ؟ اور یہ نہیں کہا تھا کلو۔ کھانا کھالو۔ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں درخواست اور التماس کا مفہوم پایا جاتا ہے چناچہ فرمایا (الا تاکلون) ۔ الذاریات 27۔ آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے۔ چناچہ حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں مثلا آپ کا مہمانوں سے کہنا کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے ؟ ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجئے اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔ 14۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہوجائے تو خوف زدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہوجائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم سے کہا تھا جب وہ ان سے خوفزدہ ہوگئے تھے۔ (لاتخف۔ الذاریات۔ 28) ۔ ڈرئیے مت۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم کو وہ خوش کن خبر سنائی۔ 15۔ یہ قصہ حضرت ابراہیم کی زوجہ محترمہ کی بےانتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتی کہ انہوں نے خوشی میں چلا کر بےساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔ 16۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضڑت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
Ayahs 51:38–39

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب نے ہم اس کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے اپنی قوت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

(وَفِيْ مُوْسٰٓى) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ چناچہ جب حضڑت موسیٰ واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا۔ (برکنہ) اپنے لشکر کے ساتھ۔ یعنی انہوں نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰ کی طف التفات نہ کیا بلکہ انہوں نے حضرت موسیٰ میں جرح وقدح کی اور کہنے لگے (سٰحر او مجنون) ۔ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے جو چیز موسیٰ پیش کررہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اسے اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے اخذ نہ کیا جائے، حالانکہ انہیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ سچے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وجحدو بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا۔ النمل 14) اور انہوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کردیا، حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کرچکے تھے، اور حضڑرت موسیٰ نے فرعون سے فرمایا (لقد علمت ماانزل ھولاء الا رب السموات والارض بصائر۔ بنی اسرائیل 102) ۔ تجھے علم ہوچکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

(فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيْمٌ) ۔ پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ لشکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ قابل ملامت (کام کرنے والا) تھا۔ یعنی وہ گناہ گار حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔