Ayah 51:1آیت 1{ وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ } ”قسم ہے ان ہوائوں کی جو بکھیرنے والی ہیں جیسے کہ بکھیرا جاتا ہے۔“
ہوائیـں بہت سی چیزوں کو بکھیرتی ہیں۔ مثلاً پودوں کے پھولوں کے زردانے pollens ہوائوں کی مدد سے ایک پودے سے دوسرے تک پہنچ کر اسے بارور کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے درختوں کے بیج ہوائوں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں ہوائیں پودوں کے پھلنے پھولنے اور جنگلات کے بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
Ayah 51:2آیت 2{ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ } ”پھر بوجھ اٹھا کر لانے والی ہیں۔“
ہوائیں اربوں کھربوں ٹن پانی سمندر سے اٹھا کر بادلوں کی شکل میں ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں اور پھر مختلف علاقوں میں بارش برساتی ہیں۔
Ayah 51:3آیت 3{ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا۔ } ”پھر نرمی سے چلنے والی ہیں۔“
کبھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس طرح چلتی ہے کہ اس کے ہلکے ہلکے جھونکے نباتات و حیوانات سب کے لیے بہت فرحت بخش ہوتے ہیں۔
Ayah 51:4آیت 4{ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ } ”پھر اللہ کے امر کو تقسیم کرنے والی ہیں۔“
اس سے مراد بارش کے پانی کی تقسیم ہے۔ بادل کی شکل میں سمندر کے پانی کو ہوائیں مختلف علاقوں میں اڑائے پھرتی ہیں ‘ مگر کس جگہ بارش ہوگی اور کس جگہ نہیں ہوگی اور جہاں ہوگی وہاں کس قدر ہوگی ‘ یہ سب کچھ تو اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اس امر حکم کی تقسیم ہوائوں کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔ اس تقسیم کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے ہیں۔ چناچہ بعض علاقوں میں بارش سے جل تھل ہوجاتا ہے اور کچھ علاقے پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے رہ جاتے ہیں اور کالی گھٹائیں ان کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔
ان آیات میں ہوائوں کی قسمیں کھا کر اور پھر ان کے ذریعے طے پانے والے بعض امور کا ذکر کر کے دراصل کائنات کے محکم نظام پر غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر انسان اس بارے میں غور کرے گا تو وہ ضرور اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بنائی ہے : اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَـکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْاٰخِرَۃِ 1 ”یہ دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔“
Ayahs 51:5–6آیت 5 ‘ 6{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔“
یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقیناسچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔
Ayah 51:7آیت 7{ وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْحُبُکِ۔ } ”اور قسم ہے جالی دار آسمان کی۔“
یہ اس منظر کی طرف اشارہ ہے جو رات کے وقت تاروں بھرا آسمان پیش کرتا ہے۔
Ayah 51:8آیت 8{ اِنَّـکُمْ لَـفِیْ قَـوْلٍ مُّخْتَلِفٍ۔ } ”یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑگئے ہو۔“
یعنی آخرت کے بارے میں تم ایک اختلاف میں پڑگئے ہو اور تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
Ayah 51:9آیت 9{ یُّـؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ۔ } ”اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہے۔“
تم میں سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو وحی کے اس پیغام کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور جزا و سزا کے متعلق مختلف باتیں بناتے رہتے ہیں۔ حالانکہ جزاو سزا کا معاملہ ایک بدیہی حقیقت ہے اور اس کو تسلیم کرنے سے وہی شخص باز رہے گا جو راندئہ درگاہ ہے اور خیر وسعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے۔
Ayah 51:10آیت 10{ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ۔ } ”ہلاک ہوجائیں یہ اٹکلیں دوڑانے والے۔“
Ayah 51:11آیت 1 1{ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاہُوْنَ۔ } ”جو اپنی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“
انہیں نہ تو اپنے مقصد تخلیق کی خبر ہے اور نہ اپنے انجام کی فکر۔ حتیٰ کہ وہ اپنے اس عہد کو بھی بھولے ہوئے ہیں جو عالم ارواح میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ سورة الاعراف کی آیت 172 میں اس عہد کا ذکر اس طرح ہوا ہے :
{ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰیج شَہِدْنَاج }
”اور یاد کرو جب نکالا آپ ﷺ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر ‘ اور سوال کیا کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ہم اس پر گواہ ہیں۔“
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس عہد کا ”عرفان“ اس کی روح کے اندر موجود ہوتا ہے۔ لیکن دنیوی زندگی کے دوران بعض لوگوں کی ارواح غفلت میں اس قدر ڈوب جاتی ہیں کہ انہیں اپنے رب سے کیا ہوا یہ عہد یاد ہی نہیں رہتا۔ زیر مطالعہ آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے۔
Ayah 51:12آیت 12{ یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن !“
مشرکین یہ سوال طنزیہ انداز میں کرتے تھے کہ آپ ﷺ کہتے رہتے ہیں کہ جزائے اعمال کا دن آکر رہے گا ‘ تو آخر کب تک آئے گا وہ روز جزا ؟ چناچہ ان کے اس سوال کا جواب بھی انہیں اسی انداز میں دیا جا رہا ہے :
Ayah 51:13آیت 13{ یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے۔“
چونکہ مشرکین یہ سوال غیر سنجیدہ انداز میں کرتے تھے اس لیے جواب میں ان کے لیے ڈانٹ کا انداز پایاجاتا ہے۔
Ayah 51:14آیت 14{ ذُوْقُوْا فِتْنَـتَـکُمْ ط ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ } ”اُس دن ان سے کہا جائے گا اب چکھو مزا اپنی شرارت کا۔ یہ ہے وہ عذاب جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔“
تم لوگ ہمارے رسول ﷺ کو چیلنج کیا کرتے تھے ناکہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لاسکتے ہو۔ چناچہ یہ ہے آج تمہارے اس مطالبے کا جواب۔ اب چکھو اس عذاب کا مزا !
Ayah 51:15آیت 15{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ } ”یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔“
Ayah 51:16آیت 16{ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ۔ } ”وہ شکریے کے ساتھ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔“
یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔
Ayah 51:17آیت 17{ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّـیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ۔ } ”رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔“
ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورة الفرقان میں ”عباد الرحمن“ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے : { وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا۔ } ”اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔“
Ayah 51:18آیت 18{ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔ } ”اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔“
Ayah 51:19آیت 19{ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔ } ”اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔“
انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔
Ayah 51:20آیت 20{ وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ } ”اور زمین میں ہر چہارطرف نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔“
سورة البقرۃ ‘ آیت 164 آیت الآیات میں اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔
Ayah 51:21آیت 21{ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی نشانیاں ہیں۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“
یعنی انسان کے جسم اور جسم کے ایک ایک نظام کے اندر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرے۔ مرزا بیدل ؔ نے اس خوبصورت شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے : ؎
ستم است گر ہوست کشد کہ بہ سیر ِسرو وسمن درآ
تو زغنچہ کم نہ دمیدئہ درِ دل کشا بہ چمن درآ !
اے انسان ! بڑے ستم کی بات ہے اگر تجھے تیری خواہش نفس کسی باغ کی سیر کے لیے کھینچ کرلے جاتی ہے ‘ جبکہ خود تیری اپنی چمک دمک کسی پھول سے کم نہیں ہے۔ کبھی اپنے دل کا دروازہ کھول کر اس چمن کی سیر کے لیے بھی آئو جو تمہاری روح کے اندر اللہ تعالیٰ نے مہکا رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی تخلیق اور اپنے وجود پر غور کرے اور اس اعتبار سے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانے۔ بقول مرزا بیدلؔ : ؎
ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش ِآدمی
اے بہارِ نیستی از قدر خود ہوشیار باش !
اس شعر کی تشریح سورة النحل کی آیت 40 کے تحت بیان ہوئی ہے۔
Ayah 51:22آیت 22{ وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔ } ”اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارا رزق بھی طے شدہ ہے اور تمہارے جنت یا دوزخ میں جانے کا فیصلہ بھی اسی کی مشیت سے ہونا ہے۔
Ayah 51:23آیت 23{ فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ۔ } ”تو آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم ‘ یقینایہ حق ہے ‘ بالکل ایسے جیسے اِس وقت تم بات چیت کر رہے ہو۔“
یعنی بعث بعد الموت شدنی ہے ‘ برحق ہے ‘ قیامت آکر رہے گی۔
Ayah 51:24آیت 24{ ہَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰہِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَ۔ } ”کیا آپ ﷺ کے پاس ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبرپہنچی ہے !“
یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب فرشتے انسانی شکلوں میں مہمان بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تھے۔
Ayah 51:25آیت 25{ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًاط } ”جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کہا۔“
{ قَالَ سَلٰـمٌ ج قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ۔ } ”اس نے بھی جواب میں سلام کہا اور دل میں کہا کہ یہ تو کوئی اجنبی لوگ ہیں۔“
Ayah 51:26آیت 26{ فَرَاغَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ۔ } ”پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔“
سورة ہود آیت 69 میں ”عِجْلٍ حَنِیْذٍ“ بھنا ہوا بچھڑا کے الفاظ آئے ہیں۔ پرانے زمانے کی دعوتیں اسی انداز سے ہوا کرتی تھیں کہ جانور ذبح کیا اور گھی میں تل کر یا بھون کر پورے کا پورا مہمانوں کے سامنے حاضر کردیا۔
Ayah 51:27آیت 27{ فَقَرَّبَہٗٓ اِلَیْہِمْ قَالَ اَلَا تَاْکُلُوْنَ۔ } ”پھر اسے ان کی طرف بڑھایا اور کہا کہ آپ لوگ کھاتے نہیں ؟“
Ayah 51:28آیت 28{ فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃًط } ”تو اس نے ان کی طرف سے دل میں اندیشہ محسوس کیا۔“
مہمانوں کے کھانا تناول نہ کرنے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ لاحق ہوا کہ شاید یہ لوگ میرے دشمن ہیں ‘ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے میرا نمک کھانے سے احتراز کر رہے ہیں۔ پرانے زمانے کے لوگ دشمنی میں بھی شرافت دکھاتے تھے۔ اگر کسی کا نمک کھالیا جاتا تو اس کے بعد اسے نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا جاتا تھا۔
{ قَالُوْا لَا تَخَفْ ط } ”انہوں نے کہا : آپ ڈریں نہیں۔“
{ وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ۔ } ”اور انہوں نے اسے بشارت دی ایک صاحب علم بیٹے کی۔“
صاحب علم بیٹے سے مراد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں جن کی پیدائش کی بشارت فرشتوں نے دی۔
Ayah 51:29آیت 29{ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ۔ } ”اس پر اس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی : بڑھیا بانجھ بچہ جنے گی کیا ؟“
کہ میں تو ساری عمر بانجھ رہی ہوں اور اب تو میری عمر بھی ماں بننے کی نہیں رہی ‘ تو کیا اب میرے ہاں بیٹا پیداہو گا ؟
Ayah 51:30آیت 30{ قَالُوْا کَذٰلِکِ لا قَالَ رَبُّکِ ط } ”انہوں نے کہا : ایسا ہی فرمایا ہے آپ کے رب نے۔“
فرشتے جو انسانی شکل میں تھے انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی ہوگا۔ ہم اپنی طرف سے یہ خبر نہیں دے رہے ‘ بلکہ یہ آپ کے رب کا فیصلہ ہے۔
{ اِنَّہٗ ہُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ۔ } ’ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور بہت حکمت والا بھی۔“
Ayah 51:31آیت 31{ قَالَ فَمَا خَطْبُـکُمْ اَیُّـہَا الْمُرْسَلُوْنَ۔ } ”ابراہیم نے پوچھا کہ اے ایلچیو ! پھر آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے ؟“
آپ کا قصد اور ارادہ کیا ہے ؟ کیا خصوصی مہم آپ کو درپیش ہے ؟
Ayah 51:32آیت 32{ قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ۔ } ”انہوں نے کہا : ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔“
Ayah 51:33آیت 33{ لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ۔ } ”تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔“
Ayah 51:34آیت 34{ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ۔ } ”جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے۔“
اللہ تعالیٰ نے ہر کنکری کو ان کے ایک خاص فرد کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے لیے گولی bullet کا کام کرے گی۔
Ayah 51:35آیت 35{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”پھر ہم نے نکال لیا جو بھی اس بستی میں تھے اہل ایمان۔“
Ayah 51:36آیت 36{ فَمَا وَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ } ”تو نہیں پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے کسی کو مسلمانوں میں سے۔“
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے ایک گھر کے سوا اس پوری قوم میں اور کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔
Ayah 51:37آیت 37{ وَتَرَکْنَا فِیْہَآ اٰیَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ۔ } ”اور ہم نے اس میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہوں دردناک عذاب سے۔“
قومِ لوط کی بستیاں سدوم اور عامورہ سمندر کے کنارے پر آباد تھیں ‘ جو اب بحیرئہ مردار Dead Sea کہلاتا ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں یہی اندازہ تھا کہ جب زلزلے سے یہ علاقہ تلپٹ ہوا ہوگا تو یہ بستیاں سمندر میں غرق ہوگئی ہوں گی۔ اب اس کی تصدیق بھی ہوگئی ہے اور بحیرئہ مردار کی تہہ میں ان شہروں کے کھنڈرات کو دریافت بھی کرلیا گیا ہے۔ یہاں نشانی سے مراد یہی کھنڈرات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک لوگوں کی عبرت کے لیے ظاہر فرما دیا ہے۔
Ayah 51:38آیت 38{ وَفِیْ مُوْسٰٓی اِذْ اَرْسَلْنٰــہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”اور موسیٰ کے معاملے میں بھی نشانی ہے جب ہم نے اسے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند دے کر۔“
Ayah 51:39آیت 39{ فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ } ”تو اس نے منہ موڑ لیا اپنی شان و شوکت کے گھمنڈ میں“
{ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اور کہا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“
یعنی فرعون نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہی القابات دیے تھے جو اہل مکہ حضور ﷺ کو دے رہے تھے۔
Ayah 51:40آیت 40{ فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْْیَمِّ وَہُوَ مُلِیْمٌ۔ } ”سو ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو اور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔“