Ayah 51:41آیت 41{ وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ۔ } ”اور قوم عاد میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر ایک ایسی ہوا چھوڑ دی تھی جوہر خیر سے خالی تھی۔“
عَقِیْم کے معنی بانجھ کے ہیں ‘ یعنی ایسا مرد یا ایسی عورت جس کے اولاد پیدا نہ ہوتی ہو۔ قبل ازیں آیت 29 میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ اس مفہوم میں اَلرِّیْحَ الْعَقِیْمَ سے مراد ایسی ہوا ہے جو ہر قسم کی خیر سے خالی تھی۔
Ayah 51:42آیت 42{ مَا تَذَرُ مِنْ شَیْئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلَّا جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ۔ } ”وہ نہیں چھوڑتی تھی کسی شے کو جس پر وہ آجاتی تھی مگر اس کو چوراچورا کر کے رکھ دیتی تھی۔“
Ayah 51:43آیت 43{ وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ۔ } ”اور اسی طرح ثمود کے معاملے میں بھی نشانی ہے جب ان سے کہا گیا کہ ایک خاص وقت تک کے لیے تم فائدہ اٹھا لو دنیا کی نعمتوں سے۔“
Ayah 51:44آیت 44{ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ } ”تو انہوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے“
{ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ۔ } ”تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چنگھاڑ نے انہیں آپکڑا۔“
Ayah 51:45آیت 45{ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ۔ } ”تو نہ ان میں کھڑے ہونے کی سکت رہی اور نہ ہی اس قابل رہے کہ بدلہ لیتے۔“
یعنی نہ تو وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو ہی کرسکے۔
Ayah 51:46آیت 46{ وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَـبْلُ ط } ”اور قوم نوح کو بھی اس سے پہلے ہم نے پکڑا۔“
{ اِنَّـہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۔ } ”یقینا وہ بھی بڑے ہی نافرمان لوگ تھے۔“
نوٹ کیجیے یہاں حضرت شعیب علیہ السلام کے سوا ان سب پیغمبروں کا ذکر آگیا ہے جن کے حالات طویل مکی سورتوں میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یعنی سورة الاعراف اور سورة ہود میں ایک ایک پیغمبر کا واقعہ عموماً ایک ایک رکوع میں بیان ہوا ہے لیکن یہاں ان کا ذکر ایک ایک دو دو آیات میں آیا ہے۔ گویا بعد میں نازل ہونے والی طویل مکی سورتوں میں انباء الرسل کی تفصیل بیان ہوئی ہے جبکہ زیر مطالعہ مکی سورتوں میں ان پیغمبروں کا ذکر انتہائی مختصر انداز میں آیا ہے۔
Ayah 51:47آیت 47{ وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ } ”اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم اس کو توسیع دینے والے ہیں۔“
اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ عام طور پر ”ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں“ یا ”ہم بڑی قدرت والے ہیں“ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن لغوی اعتبار سے اس کا یہ ترجمہ زیادہ مناسب اور زیادہ جامع ہے جو اوپر متن میں اختیار کیا گیا ہے۔ اَوْسَع یُوسِعُ باب افعال ہے ‘ جس کا مطلب ہے کشادہ کرنا ‘ وسعت دینا۔ وَسِعَ ثلاثی مجرد ہے ‘ جس سے اسم الفاعل وَاسِعٌ آتا ہے۔ چناچہ { وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} کا مطلب ہے : اللہ بڑی وسعت سمائی والا ہے ‘ اس کے خزانے لامحدود ہیں۔ جبکہ مَوْسِع باب افعال سے اسم الفاعل ہے اور اس کے معنی ہوں گے : وسعت دینے والا۔ اس لحاظ سے یہاں { اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ } کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس کائنات کو مسلسل وسعت بخش رہے ہیں ‘ اسے وسیع سے وسیع تر کیے جا رہے ہیں۔ اور یہ وہی بات ہے جو آج ہمیں سائنس کی مدد سے معلوم ہوئی ہے۔ آج سے نصف صدی پہلے تک انسان کو یہ سب کچھ معلوم نہیں تھا مگر آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں ہر گھڑی نئے نئے ستارے پیدا ہو رہے ہیں ‘ ہر آن نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں اور یہ کائنات مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ”Expanding Universe“ کے اس تصور کو اقبالؔ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَـیَکُوْن
تو اللہ تعالیٰ کی شان کُنْ فَیَکُوْنکا ظہور مسلسل جاری ہے۔ اسی مفہوم کو سورة فاطر کی پہلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآئُط } ”وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے“۔ چناچہ وہ آسمانوں کو یعنی کائنات کو مسلسل وسعت دیے جا رہا ہے۔
Ayah 51:48آیت 48{ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ۔ } ”اور زمین کو ہم نے فرش کی مانند بچھا دیا ‘ پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں !“
Ayah 51:49آیت 49{ وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ } ”اور ہم نے ہر شے کے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم نصیحت اخذ کرو۔“
”جوڑوں“ کی تخلیق میں ہمارے لیے کس کس پہلو سے نصیحت کا سامان ہے ؟ یہ جاننے کے لیے تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے۔ یہاں پر اس حوالے سے صرف یہ نکتہ سمجھ لیجیے کہ اس مفہوم کی آیات آخرت سے متعلق عقلی دلیل فراہم کرتی ہیں۔ یعنی جب ہر شے کا جوڑا ہے تو دنیا کا بھی تو جوڑا ہونا چاہیے اور ظاہر ہے دنیاکا جوڑا آخرت ہے۔
Ayah 51:50آیت 50{ فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ ط اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”تو دوڑو اللہ کی طرف ‘ یقینا میں تم لوگوں کے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔“
اگر اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچ گیا ہے اور میری باتیں تمہاری سمجھ میں آگئی ہیں تو پھر اللہ کی طرف رجوع کرنے میں دیر نہ کرو۔ ممکن ہے فرشتے کو تمہاری جان قبض کرنے کا حکم بھی مل چکا ہو اور تمہاری مہلت عمل ختم ہونے کا وقت بالکل قریب آ لگا ہو۔
Ayah 51:51آیت 51{ وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰــہًا اٰخَرَط } ”اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرائو۔“
{ اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْـرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”یقینا میں اس کی جانب سے تمہارے لیے واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔“
Ayah 51:52آیت 52{ کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اسی طرح ہوتا آیا ہے کہ نہیں آیا تھا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“
Ayah 51:53آیت 53{ اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج } ”کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے اس کی ؟“
یعنی جو باتیں آج سے صدیوں پہلے کے لوگ اپنے پیغمبروں سے کہتے تھے ‘ عین وہی باتیں قریش مکہ آج ہمارے آخری رسول ﷺ سے کہہ رہے ہیں۔ کیا ان کی ہر نسل دوسری نسل کو یہ باتیں وصیت میں بتا کر جاتی رہی ہے ؟
{ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ !“
ان کے رویے کی یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی مسلسل تکرار کی وجہ یہ ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چناچہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف ان کے اعتراضات بھی ایک جیسے ہیں۔
Ayah 51:54آیت 54{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ۔ } ”پس اے نبی ﷺ ! آپ ان سے رُخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔“
یعنی اگر وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں یہاں تک آگئے ہیں کہ آپ ﷺ کو شاعر ‘ ساحر ‘ مجنون اور معُلَّم سکھایا ہوا تک کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ کی دعوت سے مسلسل اعراض کر رہے ہیں تو اب آپ بھی اپنی توجہ ان کی طرف سے ہٹالیجیے۔ آپ محکم دلائل کے ساتھ ان پر اتمامِ حجت کرچکے ہیں۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے تو اس کی جواب دہی آپ سے نہیں ہوگی۔ لہٰذا آپ انہیں چھوڑ کر ان لوگوں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں جو آپ ﷺ کی بات کو سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔
Ayah 51:55آیت 55{ وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔“
آپ تعلیم و تبلیغ کی صورت میں تذکیر و یاد دہانی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ یہ سرکش لوگ اگر اس تذکیر کو نظرانداز کر رہے ہیں تو کچھ مضائقہ نہیں ‘ اہل ایمان کے لیے تو یہ بہت مفید ہے۔ آپ سے قرآن سن سن کر اہل ِ ایمان کے ایمان میں برابر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
Ayah 51:56آیت 56{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ } ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔“
شیخ سعدی رح نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بےبندگی شرمندگی !
یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں۔ البتہ اپنی تخلیق کی غرض وغایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہوگا تو گویا اس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چناچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طور پر بتادی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ”بندگی“ کے لیے پیدا کیا ہے۔
بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں : اوّلاً ہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاً اطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ ۔ جبکہ تیسری چیز مراسم ِعبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت قنوت میں کھڑے ہونا قیام ‘ رکوع ‘ سجدہ ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا ‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہوگی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے خواہش مند حضرات اس موضوع پر میری کتب اور تقاریر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ مادی وعلمی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کرلے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب ِتاریک سحر کر نہ سکا !
Ayah 51:57آیت 57{ مَــآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ } ”میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا“
{ وَّمَــآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ۔ } ”اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں ‘ پلائیں۔“
Ayah 51:58آیت 58{ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔ } ”یقینا اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ‘ قوت والا ‘ زبردست ہے۔“
Ayah 51:59آیت 59{ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ۔ } ”پس ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ‘ سو یہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔“
”ذَنُوب“ ایسے ڈول کو کہتے ہیں جو پانی وغیرہ سے لبالب بھرا ہوا ہو۔ مراد یہ کہ زمانہ ماضی میں عذاب کا شکار ہونے والی اقوام کی طرح ان کفار و مشرکین کی بداعمالیوں کا ڈول بھی لبریزہو چکا ہے اور یہ ڈول اب کسی وقت بھی کھینچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر فوری طور پر ان کی پکڑ نہیں بھی ہو رہی تو اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔
Ayah 51:60آیت 60{ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“