51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 51:1–14

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے1 ان ہواؤں کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں ہیں۔

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتی ہیں۔

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان کشتیوں کی جو آہستہ چلتی ہیں۔

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ان (فرشتوں) کی جو حکم کے موافق پانی و رزق (وغیرہ) تقسیم کرتے ہیں۔

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

(اے لوگو) بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے ۔

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک اعمال کی جزا ضرور ہونی ہے ۔

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

آرائش والے آسمان کی قسم

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

بیشک تم قول (یعنی پیغمبر اور قرآن کے بارے ) میں باہم اختلاف رکھنے والے ہو۔

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس قرآن سے وہی باز رکھا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھا یا جانا ہے۔

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

بےسند باتیں کرنے والی لعنت کئے گئے ۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو غفلت میں (آخرت کو) بھولے ہوئے ہیں۔

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا انصاف کا دن (یعنی قیامت)

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

کہہ دو اس دن ہوگا جس دن ان کو آگ میں عذاب کیا جائے گا۔

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اور ان سے ہم کہیں گے : اس اپنی سزا کو چکھو، یہ ہے وہ (عذاب) جس کی تم جلدی (دنیا میں) کرتے تھے۔

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل عزرائیل (علیہ السلام) کہ یہ خلق پر موکل ہیں، اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزوسزا کا عدہ جو اللہ کے رسول نے لوگوں سے کیا ہے وہ ایسا ایک سچا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں ہے اور روز قیامت جس میں سب باتوں کا فیصلہ ہوگا اچھی طرح باتوں کی پاداش ملے گی قصاص ہوگا، پھر آسمان کی قسم کھاکر فرمایا کہ یہ کفار قرآن کے جھٹلانے میں کوئی ٹھکانے کی بات نہیں کہتے، بےٹھکانے کی باتیں بناتے ہیں کبھی حضور کو ساحر کہتے ہیں کبھی شاعر کبھی کاہن کبھی مجنون ، اسی طرح قرآن کریم کو کبھی سحر بتاتے کبھی کہانت کبھی اگلوں کی داستانیں۔ سمجھدار کے لیے توقران کریم میں وہ نصیحتیں ہیں کہ سوائے بدبخت ازلی کے اور سب پر ان نصیحتوں کا اثر پڑتا ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ دنیا کی پیدائش میں غور نہیں کرتے جب سزا وجزا نہیں تو پھر آخر دنیا کا اتنابڑا کارخانہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے بلکہ بجائے اس کام کی بات پر غور کرنے کے دنیا کے مال ومتاع کی غفلت اور بھول میں پھنس کر حشر کے باب میں یہ لوگ طرح طرح کی اٹکلیں دوڑاتے ہیں کہ وہ سزا وجزا کا دن کب ہے ، ایسے لوگوں پر خدا کی پھٹکار ہے اور وہ اللہ کے علم ازلی میں دوزخی قرار پاچکے ہیں اے محبوب ایسے لوگوں کو اتنا ہی جواب دیدیاجائے کہ یہ سزا کا دن جب ہوگا کہ ایسے لوگ آگ میں جلیں گے اور اللہ کے فرشتے انکو ذلیل کرنے کے لیے یہ کہیں گے کہ مسخرا پن سے جس عذاب کی دنیا میں تم لوگ جلدی کیا کرتے تھے سو آج اس عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayahs 51:15–23

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک (آج) پرہیزگار لوگ باغوں میں اور چشموں میں ہیں۔

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

ان کے پروردگار نے ان کو جو (اجر) عطا کیا ہے وہ اس کو (خوشی خوشی) لے رہے ہیں، بیشک وہ لوگ اس سے پہلے (یعنی دنیا میں) نیکو کار تھے۔

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ لوگ رات کو (بسبب تہجد گزاری اور ذکر الہی کے) بہت کم سوتے تھے ۔

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور وہ سحر کے وقت (ہم سے) بخشش مانگا کرتے تھے۔

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور بےمانگنے والے کا حصہ مقرر تھا۔

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تم میں بھی موجود ہیں، پس کیا تم نہیں دیکھتے۔

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تم سب کا رزق ہے اور جس کا تم سے (آخرت کے ثواب و عذاب وغیرہ کا) وعدہ دیا جاتا ہے ۔

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمان اور زمین کے پروردگار کی، بیشک یہ خبر سچی ہے اس کی مانند جو تم بولتے ہو۔

اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔ (ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا حصہ استغفار میں گزارتے تھے اور اتنے سوجانے کو بھی تقصیر سمجھتے تھے اور ان کے مال بند نہ رہتے تھے بلکہ ان میں فقیروں محتاجوں مسکینوں کو حق بھی ہوتا تھا یعنی زکوۃ صدقہ خیرات دیتے تھے اپنے مالوں میں فقیروں کا حق سمجھتے تھے۔ سائل تو وہ ہے جو اپنی حاجت کے لیے لوگوں سے سوال کرے ، اور محروم وہ ہے جو باوجود تنگ دست ہونے کے لحاظ کے مارے کسی سے سوال نہ کرے۔ اوپر سے حشر کا ذکر جو تھا اب آگے اس سلسلہ کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ جو صاحب قدرت آسمان سے مینہ برساکرزمین سے مثلا اناج کے دانے سے ہزاروں دانے، اور ایک میوے کی گھٹلی سے ہزاروں میوے کی چیزیں پیدا کرتا ہے اور جس نے خلاف عقل ایک بوند پانی سے انسان کو پیدا کرکے بچہ سے بڑھاپے تک اس میں طرح طرح کے نمونے رکھے جو خود تم میں اللہ کی قدرت و حکمت کی ہزاروں علامات بینات موجود ہیں تم اپنے آپ میں کیوں غور نہیں کرتے اور اپنے آپ کو کیوں نہیں دیکھتے خدا پر دلیل چاہتے ہو تو خود وہ دلیل ہو، جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں ، یہ سب باتیں ایسے لوگوں کے لیے پوری حشر کی نشانیاں ہیں پس اے لوگو قسم ہے اللہ کی جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے کہ یہ بات حق ہے ایسی یقینی ہے جس سے تمہارا بولنا یقین یعنی قیامت میں اور صدق مذہب اسلام میں کوئی شک وشبہ نہیں یا مسلمانوں سے خطاب ہے کہ اے مسلمانوں جیسے وہ بات یقینی ہے جس کو تم وردرکھتے ہو یعنی کلمہ طیبہ، یوں ہی یہ بات بھی یقینی ہے کہ رزق آسمان میں ہر ایک شخص کا مقدر ہے جو قسمت میں لکھا گیا اس سے زائد نہ ملے نہ کم ملے۔
Ayahs 51:24–30

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

(اے محبوب)1 کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ہے ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ (مہمان) اس کے پاس آئے پھر ابراہیم کو سلام کیا، ابراہیم نے بھی (جواب میں) کہا : سلام (ابراہیم نے دل میں کہا کہ یہ ) اجنبی لوگ ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

ابراہیم پھر اپنے گھر کی طرف چلے تو ایک فربہ بچھڑا بھنا ہوا لائے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر اس کو ان کے پاس رکھ کر کہنے لگے : تم کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

جب نہ کھایا پس اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگے، انہوں نے کہا : ڈرو نہیں، اور انہوں نے ابراہیم کو ایک علم والے فرزند پیدا ہونے کی) بشارت دی ۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پس ابراہیم کی بیوی ( سارہ) تیز آواز سے آئیں پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں (تعجب سے) کیا بڑھیا بانجھ (جنے گی)

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

فرشتے کہنے لگے : تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرما دیا ہے ، بیشک وہ حکمت والا جاننے والا ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔ (ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔
Ayahs 51:31–37

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے1 فرمایا اے فرشتو ! تم (یہاں ) کس کام سے آئے ہو۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا بیشک ہم ایک مجرم قوم (یعنی قوم لوط) کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

ہم ان کے سر پر مٹی کے پتھر (یعنی کنکر) برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو تمہارے پروردگار کے پاس حد سے بڑھنے والے لوگوں کے لیے نشان کیے ہوئے رکھے ہیں۔

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پس ہم نے اس بستی میں جو مسلمان تھے انکو نکال دیا۔

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پس ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان (یعنی لوگ) کا پایا۔

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی میں (کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد) نشانی باقی رکھی ان لوگوں کے لیے جو درد دینے والے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے سورة ہود میں گزرچکا ہے کہ پہلے ان لوگوں کے رہنے کی بستیاں الٹی گئیں اور پھر یہ پتھروں کامینہ برسا۔ قوم لوط کے چار لاکھ آدمی تھے جو اس عذاب الٰہی سے ایک دم میں ہلاک ہوگئے ۔ آگے مفسرین نے اس وجہ سے فرمایا کہ انہوں نے اپنے عمل میں قناعت نہ کی کہ جو ان پر مباح تھا یعنی مرد اور عورت کی مباشرت کی حد سے برھ کر یہ لوگ لڑکوں سے بدفعلی کرتے تھے اور جب حضرت ابراہیم نے یہ ماجراسنا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت لوط کا خیال آیا ان کاس ہنگامہ میں کیا حال ہوگا فرشتوں نے کہا، اے حضرت ابراہیم ہم جب عذاب لائیں گے تو ان گاؤں شہروں کے جتنے آدمی مسلمان ہوں گے ان سب کو نکال دیں گے اس قصہ کو مختصر طور پر فرمایا ہے سورة حجر میں گزرچکا ہے کہ حضرت لوط اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بلا سے بچادیا۔ ہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کے رشتہ داروں میں سے ان کی بیوی جو نافرمان لوگوں کی طرف دار تھی وہ عذاب میں پکڑی گئی اور وہاں جو عذاب اتارا تو تختہ تباہ کردیا۔ ایسا حال کردیا کہ آئندہ کو مدت تک عقل والوں ، عبرت پکڑنے والوں، نصیحت سمجھنے والوں کو جو خدا کے عذاب الیم سے دنیا واخرت میں ڈرتے ہیں عبرت ہوجائے پھر کوئی ایسا کام نہ کرے اور لوگ خدا کی طرف متوجہ ہوجائیں۔