Ayah 51:1(51:1) والذریت ذروا۔ وائو قسمیہ ہے جملہ قسمیہ ہے۔ ذرو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ ذرو بمعنی اڑنا۔ اڑانا۔ پراگندہ کرنا۔ جدا کرنا۔ بکھیرنا۔ الذریت ای الریاح التی تذور التراب۔۔ ہوئیں جو مٹی یا بادلوں وغیرہ کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں۔ ذرو ۔ ہوا کی صفات میں سے مشہور صفت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاصبح ہشیما تذروہ الریاح ۔ (18:45) پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اٹھاتی پھرتی ہیں۔ ذروا مفعول مطلق۔
بعض کے نزدیک الذاریت سے مراد عورتیں یا ملائکہ اور دوسرے (سماوی یا ارضی) اسباب ہیں جو روئے زمین پر مخلوق کو پھیلاتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا : قسم ہے بکھیرنے والیوں کی جو اڑا کر بکھیرتی ہیں۔ یعنی قسم ہے ان ہوائوں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں۔
Ayah 51:2(51:2) فالحملت وقرا :عاطفہ ہے الحملت اٹھانے والیاں۔ الحاملۃ کی جمع ہے۔ حمل (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے معطوف ہے اس کا عطف الذریت پر ہے۔ اس سے قبل وائو قسمیہ مقدرہ ہے وقرا قائم مقام مصدر کے ہے۔ جیسے کہتے ہیں ضرب سوطا۔ یا مفعول بہ ہے۔ وقرا بمعنی بوجھ۔ اضواء البیان میں ہے :۔
وقرا۔ ای ثقلا من الماء یعنی پانی کا بوجھ : اس معنی کے لحاظ سے الحملت وقرا (پانی کا بوجھ اٹھانے والیاں) سے مراد سحاب یعنی بادل ہے۔ قرآن مجید میں بادلوں کی صفت الثقال ۔ (بوجھل۔ ثقیل کی جمع) بیان فرمائی گئی ہے جیسے و ینشیء السحاب الثقال (13:12) اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ ترجمہ :۔ پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو بارش کے پانی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
بعض نے الحملت سے مراد السفن کشتیاں لیا ہے جو لوگوں کا اور ان کے مال ومتاع کا بوجھ اٹھائے پانی پر تیرتی پھرتی ہیں۔
بعض نے الحملت وقرا سے ہوائیں ہی مرادلیا ہے وجہ ظاہر ہی ہے (پانی کا بوجھ بادلوں کی صورت میں اٹھائے پھرتی ہیں۔
Ayah 51:3(51:3) فالجریت یسرا۔ اس کا عطف بھی الذریت پر ہے الجریت چلنے والیاں جزی باب ضرب مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ چلنے والیاں۔ پانی کی طرح آرام سے چلنے والیاں۔ اکثر اہل علم نے اس سے مراد کشتیاں ہی لیا ہے ۔ یسرا منصوب بوجہ مصدر محذوف کی صفت کے ہے تقدیر یوں ہے جزیا ذا یسر۔ آرام سے سہل سہل چلتا ۔ الجریت یسرا ای السفن تجری فی الماء جریا سھلا۔ کشتیاں جو پانی میں سہل سہل چلتی ہیں۔ الجریت یسرا ۔ اور قسم ہے کشتیوں کی جو ۔۔
Ayah 51:4(51:4) فالمقسمت امرا۔ اس کا عطف بھی الذریت پر ہے۔ المقسمت۔ تقسیم (تفعیل ) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ تقسیم کرنے والیاں۔ امرا منصوب بوجہ مفعول بہ ہونے کے۔ کہا جاتا ہے قسم الرزق اس نے رزق تقسیم کیا۔ امر واحد آیا ہے۔ لیکن مراد اس سے امور (جمع) ہے۔
المقسمت امرا۔ تقسیم کرنے والیاں مختلف چیزوں کو ، یا کاموں کو، مراد یہاں فرشتے ہیں۔ جو رزق بارش وغیرہ لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔
فائدہ : مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ چار چیزیں کیا ہیں ؟ بعض کہتے کہ یہ چاروں مختلف چیزیں ہیں۔ ذریت سے مراد ہوائیں۔ حملت سے مراد بادل۔ جریت سے مراد کشتیاں اور مقسمت سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض کے نزدیک چاروں سے مراد ایک ہی چیز کی صفات مختلفہ کے لحاظہ سے مراد ہے۔ پھر اس میں بھی دو قول ہیں :۔
بعض کہتے ہیں کہ ان سب سے مراد ہوائیں ہیں۔ ذریت وہ ہوائیں جو غبار اڑاتی ہیں جن سے اخیر میں بادل پیدا ہوتے ہیں۔ حملت سے مراد وہ ہوائیں جو پانی سے بھرے بادل لئے پھرتی ہیں۔ اور جریت یسرا : وہ ہوائیں جو پانی برسنے کے وقت نرم نرم چلا کرتی ہیں ۔ اور مقسمت امرا سے مراد وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلا کر بارش کو تقسیم کرتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ سب سے مراد ملائکہ ہیں جو ان خدمات پر مامور ہیں۔
Ayah 51:5(51:5) انما توعدون لصادق : ان حرف مشبہ بالفعل حرف تحقیق ہے۔ بمعنی تحقیق بےشک، یقینا۔ ما موصولہ۔ توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ وعد (باب ضرب) مصدر سے صلہ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے موصول وصلہ مل کر اسم ان ۔ لصادق لام تاکید صادق سچا۔ صدق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہ ان کی خبر ہے بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔ یہ آیت جواب قسم ہے۔
Ayah 51:6(51:6) وان الدین لواقع۔ ان حرف مشبہ بالفعل الدین اسم ان ۔ لواقع ان کی خبر، الدین منصوب بوجہ اسم ان ۔ دان یدین (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی جزاء وسزا شریعت ۔ حکم ماننا۔ اطاعت کرنا۔ مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور بیشک اعمال کی جزاء سزا واقع ہو کر رہے گی۔
Ayah 51:7(51:7) والسماء زات الحبک۔ وائو قسم کی ہے السماء منصوب بوجہ عمل وائو قسمیہ ہے۔ موصوف ذات الحبک مضاف مضاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں : حبک جمع ہے حباک کی جیسے مثال کی جمع مثل ہے بمعنی ریت کے ٹیلے کا راستہ، یا حبیکۃ کی جیسے طریقۃ کی جمع طرق ہے بمعنی ستاروں کے درمیان کا راستہ ۔ بیضاوی نے اس کا مطلب لیا ہے۔
ذات الطرائق والمراد اما الطرائق المحسوسۃ التی بھی مسیر الکواکب او المعقولۃ التی یسلکھا النظار وتتوصل بھا الی المعارف۔ راہوں والا۔ راہوں سے مراد ہیں محسوس راستے، یعنی ستاروں کی گذر گاہ یا عقلی راستے جس پر اہل بصیرت چل کر معرفت کے مقام پر پہنچتے ہیں۔
Ayah 51:8(51:8) انکم کفار مکہ کو خطاب ہے۔
لفی قول مختلف : لام تحقیق کے لئے۔ فی حرف جار قول مختلف موصوف وصفت مل کر مجرور ۔ تحقیق تم قیامت کے بارے میں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یا قرآن کے بارے میں مختلف اقوال رکھتے ہو۔ کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس کو محال خیال کرتا ہے کوئی اسے بالکل انکار کرتا ہے ، کوئی رسول اللہ ﷺ کو شاعر کہتا ہے کوئی جادو گر کہتا ہے اور کوئی دیوانہ خیال کرتا ہے۔ اور کوئی قرآن مجید کو داستان پارنیہ بتاتا ہے کوئی اسے خود ساختہ بتاتا ہے۔
Ayah 51:9(51:9) یؤفک عنہ من افک۔ یؤفک مضارع مجہول واحد مذکر غائب افک (باب ضرب) مصدر ۔ وہ پھیرا جاتا ہے وہ بھٹکایا جاتا ہے۔ عنہ میں ضمیر واحد مذکر غائب یا تو رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے یا قرآن مجید کی طرف، من موصولہ افک ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پھیرا گیا۔
صاحب قاموس لکھتے ہیں :۔ رجل مأفوک مصروف عن الحق الی الباطل : یعنی جو شخص حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف متوجہ ہوجائے ۔ اسے مافوک کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔
جو شخص حق قبول کرنے سے منہ موڑ لیتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق اس کی دستگیری نہیں کرتی اور اسے گمراہی کی ڈگر پر دوڑنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
Ayah 51:10(51:10) قتل الخراصون۔ خراصون : اٹکل دوڑانے والے۔ جھوٹ بکنے والے، خرص (باب نصر) مصدر سے : مبالغہ کا صیغہ جمع مذکر ہے خواص واحد۔ الخرص۔ پھلوں کا اندازہ لگانا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہتے ہیں جو بمعنی مخروص ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ خرص بمعنی کذب بھی آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ ان ہم الا یخرصون (43؛2) (یہ تو صرف اٹکلیں دوڑاتے ہیں) میں بعض نے کہا ہے کہ یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے معنی۔ اٹکل کرنے والے ہلاک ہوں “ اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہو، یا جھوٹے ہلاک ہوجائیں “ آئے ہیں۔ (کفار کے لئے بددعا ہے) ۔
Ayah 51:11(51:11) الذین ہم فی غمرۃ ساھون۔ الذین اسم موصول۔ اگلا جملہ اس کا صلہ۔ غمرۃ غمر کا اصل معنی کسی چیز کے اثرو نشان کو مٹا دینا ہے۔ کثیر پانی کو بھی غمر کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی اپنی بہنے کی جگہ کو چھپا دیتا ہے۔ چونکہ جہالت بھی جاہل کو بالکل ڈھانپ دیتی ہے اور لوگوں کی آنکھوں سے اسے اوجھل کردیتی ہے اس لئے اسے بھی غمرہ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے فذرہم فی غمرتہم (33: 54) تو ان کو ان کی غفلت میں ہی رہنے دے۔
غمرات کے معنی شدائد اور سختیاں بھی ہے کیونکہ وہ بھی انسان پر ہجوم کر کے اسے بدحواس کردیتی ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے فی غمرات الموت (6:93) (جب) موت کی سختیوں میں ۔
ساھون : اسم فاعل جمع مذکر۔ سھو (باب نصر) مصدر بمعنی غافل ہونا۔ ساھون بیخبر ، غافل، بھولنے والے۔ ساھون اصل میں ساھیون تھا۔ (بروزن فاعلون) ی مضموم ما قبل مکسور، ضمہ ی پر ثقیل ہوا۔ نقل کر کے ما قبل کو دیا۔ اب وائو اور ی دو ساکن جمع ہوئے ی کو حذف کردیا۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ غفلت سے جو خطا ہو اسے سہو کہتے ہیں اس کی دو قسمیں ہیں :۔ ایک یہ کہ انسان سے ایسی چیزیں سرزد ہوں جو اس خطا کو کھینچتی اور پیدا کرتی ہیں جیسے دیوانہ کسی انسان کو گالی دے۔ دوسرے یہ کہ اس سے ایسی چیزیں سرزد ہوئیں جو اس خطا کو پیدا کرتی ہیں جیسے وہ شخص کہ جس نے شراب پی اور پھر اس سے کوئی برائی بغیر اس برائی کے ارادہ کئے ظہور میں آئی۔ تو پہلی خطا تو اس کو معاف ہے اور دوسری پر ماخوذ ہوگا۔ اور دوسری طرح کی خطا پر حق تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے۔ جیسے آیت ہذا۔ فی غمرۃ ساھون : یا ۔ الذین ہم فی صلاتہم ساھون ۔ (107:5) ۔ پہلی آیت کا ترجمہ :۔ غفلت میں بھول رہے ہیں دوسری آیت کا ترجمہ :۔ جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔
Ayah 51:12(51:12) یسئلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب سؤال (باب فتح) مصدر۔ وہ پوچھتے ہیں۔ (طلب علم کے لئے نہیں بلکہ بطور استہزائ)
ایان : کب، (متی کے معنی قریب) کسی شے کا وقت دریافت کرنے کے لئے آتا ہے بعض لوگ اس کی اصل ای اوان بمعنی کون سے وقت بتاتے ہیں الف کو حذف کر کے وائو کو یاء کیا گیا پھر ی کو ی میں ادغام کردیا۔ ایان ہوگیا۔
یوم الدین ۔ مضاف مضاف الیہ، جزا وسزا کا دن، قیامت کا دن۔
Ayah 51:13(51:13) یوم ہم علی النار یفتنون۔ ای قیل لہم جوابا یقع یوم الدین یوم ہم علی النار یفتنون : جواباً ان سے کہا جائے گا۔ یوم الدین (روز جزا) اس دن واقع ہوگا (یا وہ دن ہوگا) جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ یوم بوجہ مفعول فیہ منصوب ہے۔
یفتنون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب فتن (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی عذاب دینا دکھ دینا۔ آزمائش میں ڈالنا۔
عرب کہتے ہیں فتنت الذھب ای احرقتہ لتختبرہ یعنی جب تو سونے کو پرکھنے کے لئے آگ میں جلائے تو کہا جاتا ہے فتنت الذھب ۔ آیت میں یفتنون اسی معنی میں مستعمل ہے یعنی جس روز انہیں آگ میں تپایا جائے گا۔
Ayah 51:14(51:14) ذوقوا فتنتکم : ذوقوا امر جمع مذکر حاضر۔ ذوق (باب نصر) مصدر۔ تم چکھو فتنتکم مضاف مضاف الیہ۔ فتن مصدر۔ اگرچہ بمعنی سونے کو آگ میں اس کا کھوٹا کھرا معلوم کرنے کے لئے گھلانا ہے۔ لیکن اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 13 متذکرۃ الصدر) اور اس کا اطلاق نفس عذاب پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں فتنتکم : تمہاری شرارت کا مزہ، یعنی عذاب کا مزہ۔ اپنے عذاب کا مزہ چکھو ۔ ھذا الذی میں ھذا کا اشارہ عذاب (فتنۃ) کی طرف اشارہ ہے۔
کنتم تستعجلون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر استعجال (استعفعال) مصدر ۔ کسی چیز کا جلدی ہونے کی چاہت کرنا۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اس چیز کے لئے ہے جس کا جلدی ہونا وہ چاہا کرتے تھے ، یعنی عذاب۔
ترجمہ ہوگا :۔ یہی ہے وہ جزا وسزا جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔
Ayah 51:15(51:15) اوپر منکرین کا مال بیان ہوا اب مومنین کے انعام و اکرام کا ذکر ہے۔
عیون : جمع ہے عین کی، بمعنی چشم یا چشمہ۔ قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال انہی دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ گو وہ بہت سے مختلف معانی میں مستعمل ہے۔
امام راغب (رح) کے نزدیک اس کے اصل معنی آنکھ کے ہیں۔ اور دیگر معانی میں اس کا استعمال بطور استعارہ ہے چناچہ ان کے خیال میں چشمہ کو جو عین کہتے ہیں وہ اسی تشبیہ کی بناء پر کہتے ہیں کہ جس طرح آنکھ سے قطرات اشک ابلتے ہیں اسی طرح چشمہ سے پانی ابلتا ہے۔
Ayah 51:16(51:16) اخذین ما اتہم ربہم : جملہ حالیہ ہے درآن حالیکہ وہ لے رہے ہوں گے۔ جو ان کا پروردگار ان کو عطا کرے گا۔ اخذین اسم فاعل صیغہ جمع مذکر منصوب اخذ (باب نصر) مصدر سے۔ لینے والے۔ ما موصولہ ۔ اتہم ربہم۔ اس کا صلہ۔ موصول اور صلہ مل کر اخذین کا مفعول۔ قبل ذلک ۔ ای فی الدنیا۔
محسنین : اسم فاعل جمع مذکر، احسان (افعال) مصدر۔ فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والے ہر قسم کی خوبی پیدا کرنے والے۔
اعمال میں احسان دو طرح کا ہوتا ہے۔
(1) کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا۔ اور اپنے حق سے کم لینا۔
(2) اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو اور اس میں کچھ نہ کچھ شرعی خوبی ہو اس کو بھی ادا کرنا۔
احسان بمعنی (1) کے مفعول پر الی یا باء آتا ہے جیسے احسن الی زید زید سے بھلائی کر اور بالوالدین احسانا (6:151) ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔
اور احسان بمعنی (2) متعدی بنفسہ ہے مفعول پر کوئی حرف جر نہیں آتا۔ جیسے احسن الوضوء ۔ اچھی طرح سے وضو کر۔ (یہ آیت متقین کی صفت میں ہے) ۔
Ayah 51:17(51:17) کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون : قلیلا ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے۔ بمعنی تھوڑا حصہ۔ ما زائدہ تاکید کے لئے ہے ای کانوا یھجعون قلیلا من الیل وہ رات کا تھوڑا حصہ سویا کرتے تھے۔ (یعنی رات کا اکثر حصہ جاگ کر خدا کی عبادت کیا کرتے تھے) ۔ کانوا یھجعون ۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اور یھجعون مضارع جمع مذکر غائب ھجوع (باب فتح) مصدر بمعنی رات کو سونا۔ ھاجع رات کو سونے والا۔ یہ جملہ تعریف ہے المتقین کی۔
Ayah 51:18(51:18) اسحار۔ سحر کی جمع ہے صبح کا وقت ۔ صبح کے اوقات ۔ ہم ضمیر محسنین کے لئے ہے یستغفرون مضارع جمع مذکر غائب، استغفار (استفعال) مصدر وہ معافی مانگا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی المقتین کی صفت ہے۔
Ayah 51:19(51:19) فی اموالہم حق للسائل والمحروم : یہ چوتھی صفت ہے المتقین کی ۔ وائو عاطفہ ہے۔ اموالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے مال میں ، سائل اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر سؤال (باب فتح) مصدر۔ مانگنے والا۔ سوال کرنے والا۔
المحروم : اسم مفعول واحد مذکر، وہ مسلمان رشتہ دار ، جس کا میراث سے حصہ نہ نکلتا ہو۔ بدنصیبی کی وجہ سے نادار۔ تنگ دست جس کی کمائی نہ ہو۔ سوال نہ کرنے والا۔ حیا سے نہ مانگنے والا۔ جس کو حیا نے سوال سے روک دیا ہو۔
مادہ حرم کے لئے روک، منع، بازداشت کا مفہوم لازم ہے۔ تمام مشتقات میں یہ مفہوم مشترک ہے کرم سے لازم اور ضرب سے متعدی۔ اور سمع سے کبھی لازم اور کبھی متعدی آتا ہے۔
زید بن اسلم نے کہا کہ محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کے (باغوں کے) پھلوں پر یا کھیتی پر یا مویشیوں کے بچوں پر کوئی (آسمانی یا زمینی) آفت آگئی ہو۔ (اور باغ کھیت یا جانور تباہ ہوگئے ہوں ) ۔ محمد بن کعب قرضی نے بھی یہی کہا اور اس معنی کے ثبوت میں آیت انا لمغرمون بل نحن محرومون۔ (56:66 ۔ 67) پڑھی۔
Ayah 51:20(51:20) الموقنین ۔ اسم فاعل جمع مذکر معرفہ مجرور ایقان (افعال) مصدر۔ اہل ایمان اہل توحید۔ اہل یقین، یقین کرنے والے۔ ی ق ن حروف مادہ۔
Ayahs 51:21–22(51:21) وفی انفسکم وائو عاطفہ ، جملہ کا عطف فی الارض ایت پر ہے۔ اور (خود) تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔
افلا تبصرون : أ استفہامیہ ہےعاطفہ کا عطف محذوف پر ہے ای الا تنظرون فلا تبصرون (لبعین البصیرۃ) کیا تم نہیں دیکھتے ہو اور پھر کیا تم چشم بصیرت سے نہیں دیکھتے ہو۔
Ayah 51:23(51:23) فو رب السماء والارض ۔عطف اور ترتیب کے لئے ہے وائو قسمیہ رب السماء مضاف مضاف الیہ وائو عاطفہ، الارض معطوف جس کا عطف السماء پر ہے۔ پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی۔
انہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کے مرجع کی بابت مختلف اقوال ہیں۔
یہ جو کچھ اوپر بیان ہوا۔ یعنی قیامت ، عذاب و ثواب، رزق وعدہ وعید ، وغیرہ ہوسکتا ہے۔ یا اس کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے یا محمد رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید۔ یا دین۔ یا جو کچھ ابتداء سورت سے یہاں تک مذکور ہوا۔
لحق : لام تاکید کا۔ حق سچ ( ای ما ذکرناہ من اول السورۃ الی ھنا الحق۔ جو کچھ ہم نے ابتدا سورة سے یہاں تک بیان کیا ہے سچ ہے۔
مثل : طرح۔ ما موصولہ۔ انکم تنطقون ۔ جملہ ما موصولہ کا صلہ۔ تنطقون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر، نطق (باب ضرب) مصدر۔ تم بولتے ہو۔ بعینہ اسی طرح جس طرح تم باتیں کر رہے ہو۔ پس پروردگار آسمان و زمین کی قسم یہ بات ایسے ہی حق ہے جس طرح کہ تمہارا بولنا۔
Ayah 51:24(51:24) ھل اتک۔ ھل استفہامیہ اتی ماضی واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر، کیا تیرے پاس آئی۔ کیا تیرے پاس پہنچی۔
حدیث ضیف ابراہیم۔ حدیث بات، خبر، قصہ، مضاف ضیف ابراہیم مضاف مضاف الیہ مل کر، مضاف الیہ حدیث کا۔ (حضرت) ابراہیم کے مہمانوں کی خبر۔ ضیف اصل میں مصدر ہے لہٰذا واحد جمو دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ گیارہ اور کم سے کم تین بتائی گئی ہے۔
المکرمین : اسم مفعول جمع مذکر۔ کرم (باب کرم) مصدر۔ بمعنی باعزت ہونا۔ شریف ہونا۔ المکرمین۔ معززین۔
Ayah 51:25(51:25) اذ۔ اسم ظرف زمان ۔ جب۔ فقالوا : میںتعقیب کا ہے بمعنی تو۔
سلما : مفعول مطلق ہے ای فقالوا نسلم علیک سلما۔ ہم آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔
قال سلم : ای قال ابراہیم : وعلیکم سلام ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا اور آپ پر بھی سلام ہو۔
قوم منکرون ، موصوف وصفت منکرون اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ نکر (باب سمع) مصدر۔ نا آشنا۔ غیر معروف، انجان ، شناخت میں نہ آئے ہوئے۔ اس جملہ کی دو صورتیں ہیں۔
ایک یہ کہ یہ جملہ حضرت ابراہیم نے کہا دل میں کہ یہ لوگ اجنبی معلوم دیتے ہیں۔ (انہ (علیہ السلام) قالہ فی نفسہ) دوم یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمانوں سے دریافت کرنے کے لئے ان سے کہا ہو (قال لہم فی للتعرف انتم قوم منکرون : انہوں نے تعارفاً کہا۔ آپ اجنبی معلوم دیتے ہیں جیسے ہم انجان ملاقاتی سے کہہ لیتے کہ معاف کرنا میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔
Ayah 51:26(51:26) فراغ الی اھلہ :عطف اور ترتیب کے لئے ہے۔ راغ ماضی واحد مذکر غائب۔ روغ (باب نصر) مصدر بمعنی چپکے سے کسی چیز کی طرف ہونا۔ خفیہ دائو گھات لگانا۔ یعنی وہ چپکے سے اپنے اہل خانہ کی طرف گیا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے فراغ الی الہتہم (37:91) وہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ) چپکے سے گھات لگا کر ان کے بتوں کی طرف گئے۔
فجاء بعجل سمین :ترتیب کی ہے۔ عجل بچھڑا۔ گائے کا بچہ، موصوف سمین : فربہ، موٹا تازہ، سمین (باب سمع ) مصدر سے بروزن فعلین صفت مشبہ ہے اس کی جمع سمان ہے۔ صفت اپنے موصوف کی، موٹا تازہ بچھڑا لایا (بھنا ہوا) ۔
Ayah 51:27(51:27) فقربہ الیہم :عاطفہ ترتیب کا ہے قرب ماضی واحد مذکر غائب۔ تقریب، تفعیل، مصدر۔ پھر ان کے نزدیک کردیا۔ یعنی ان کے قریب رکھ دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب عجل سمینکے لئے ہے، الیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مہمانوں کے لئے ہے
الا تاکلون ۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لا تاکلون مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر، آپ کھاتے کیوں نہیں ۔
Ayah 51:28(51:28) فاوجس :عاطفہ ۔ سببیہ ہے اوجس ماضی واحد مذکر غائب، ایجاس (افعال) مصدر بمعنی دل میں محسوس کرنا۔ قلب میں پوشیدہ آواز پانا۔ اس نے محسوس کیا۔
خیفۃ : خوف، ڈر، خاف یخاف کا مصدر ہے ۔ (باب فتح) بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے ۔ قالوا ۔ یعنی مہمانوں نے کہا۔
لا تخف فعل نہی واحد مذکر حاضر خوف باب فتح مصدر۔ تو نہ ڈر۔ خوف مت کہا۔
بشروہ۔ ماضی جمع مذکر غائب تبشیر (تفعیل) مصدر۔ خوش خبری دینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب، جس کا مرجع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دی۔
بغلام علیم : غلام علیم : موصوف وصفت۔ صاحب علم بیٹے کی۔
فائدہ : قبائلی زندگی میں ایک دستور تھا۔ کہ اگر مہمان ضیافت قبول کرلیتا۔ تو سمجھا جاتا کہ اس کا آنا خیر سے ہوا ہے لیکن اگر وہ کھانا کھانے سے انکار کر دے تو سمجھ لیا جاتا کہ کسی بری نیت سے یہاں آیا ہے۔ جب فرشتوں نے کھانا کھانے کے لئے ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک گونہ خوف، خدشہ محسوس ہونے لگا۔
مہمانوں نے صورت حال بھانپ لی اور میزبان کی تسلی کے لئے کہا کہ خوف مت کھائیے ہم اللہ کے فرستادہ ہیں اور حضرت لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حضرت ابراہیم کو ایک بیٹے کی خوشخبری دی خداوند کریم کی طرف سے۔ یہ فرزند ارجمند جو خدا نے عنایت فرمایا حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے۔
Ayah 51:29(51:29) اقبلت ۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اقبال (افعال) مصدر۔ وہ سامنے آئی وہ متوجہ ہوئی۔ اس کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں :
اول یہ کہ حضرت سارہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ) قریب کسی جگہ ایسے زادیہ میں بیٹھی تھیں جہاں سے وہ مہمانوں کی نظر سے تو اوجھل تھیں لیکن ان کی گفتگو سن رہی تھیں بیٹے کی بشارت پر وہ سامنے آئیں یا ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔ دوم یہ کہ وہ وہیں پاس ہی تھیں بیٹے کی بشارت پر مہمانوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سورة ہود (11:69 تا 76) میں یہ واقعہ تفصیل سے آیا ہے آیت (11:71) میں ہے وامراتہ قائمۃ فضحکت۔۔ اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی۔ اس صورت میں اقبلت فی صرۃ کے معنی ہوں گے وہ لگی چلانے جیسا کہا جاتا ہے اقبل فی صرۃ کے معنی ہوں گے وہ لگی چلانے جیسا کہا جاتا ہے اقبل یشتمنی وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔
امراتہ : اس کی عورت، اس کی زوجہ، اس کی بیوی۔ مراد اس سے حضرت سارہ زوجہ حضرت ابراہیم ہیں :
فی صرۃ ۔ ص (مادہ۔ ہر دو باب نصر، مصدر صر ، باب ضرب صر وصریر سے ہے۔ پہلی صورت میں اس کے معنی انسانوں کی جماعت جو باہم ملی جلی ہوئی ہو گویا وہ کسی تھیلی میں باندھ دینے گئے ہوں۔ لیکن یہ معنی یہاں مراد نہیں ہیں۔ دوسری صورت میں اس کے معنی ہیں چیخ۔ شدت الصوت، اور یہی معنی یہاں مراد ہیں۔
سورة ہود (11 ۔ 71) میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ وامر اتہ قائمۃ فضحکت اور اس کی بی بی (جو پاس) کھڑی تھیں ہنس پڑی۔ یہاں فی صرۃ آیا ہے چیختی ہوئی آئی۔
مطلب چیخنے سے شدت الصوت ہے۔ یہ دونوں صورتیں متضاد نہیں ہیں۔ حضرت سائر کو اپنی ضعیف العمری اور بانجھ پن کا شدت سے احساس تھا۔ (ان کی عمر اس وقت 90 سال کی بیان ہوئی ہے) جب انہوں نے بیٹے کی خوشخبری سنی۔ تو فرحت و انبساط کا احساس بھی اتنا ہی شدید تھا ۔ ان دونوں احساسات کی موجودگی میں مافی الضمیر کا اظہار کچھ ایسی ہی صورت میں ہوسکتا ہے جس میں ہنسی خوشی اور شدت الصوت کا آمیزہ ہو۔ لہٰذا یہاں فی صرۃ کا معنی بولتی، پکارتی جو مولانا اشرف علی تھانوی نے اختیار کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔ صرۃ کے معنی ہیں آواز اور چیخنے کے، مگر مراد کھل کھلا کر ہنسنا ہے۔ فی صرۃ الجارو والمجرور موضع حال میں ہے۔
فصکت :عاطفہ و ترتیب کے لئے ہے۔ صلت ماضی واحد مؤنث غائب صک (باب نصر) مصدر بمعنی کوٹنا۔ زور زور سے پیٹنا۔ اس نے پیٹ لیا۔
وجھھا ۔ مضاف مضاف الیہ۔ وجہ چہرہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اپنا چہرہ، اور اپنا چہرہ پیٹ لیا۔
وقالت عجوز عقیم : وائو عاطفہ قالت واحد مؤنث غائب ماضی معروف۔ عجوز عقیم۔ معطوف علیہ معطوف تقدیر کلام ہے وقالت انا عجوز وعقیم ۔
عجوز : بڑھیا۔ عجز الانسان : انسان کا پچھلا حصہ، تشبیہ کے طور پر ہر چیز کے پچھلے حصے کو عجز کہہ دیا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے۔ کانہم اعجاز نخل خاویہ (54:20) جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔
عجز کے اصل معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جبکہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ کسی کام کے کرنے سے عاجز رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب (5:31) مجھ سے ایسا بھی، اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا۔
بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے عجوز کی جمع ع جائز اور عجز ہے۔
عقیم (ع ق م، مادہ) العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ چناچہ محاورہ ہے عقمت م فاصلہ اس کے جوڑ خشک ہوگئے۔
العقیم : (بانجھ) وہ عورت جو مرد کا مادہ قبول نہ کرے چناچہ کہا جاتا ہے عقمت المرأۃ او الرحم عورت بانجھ ہوگئی یا رحم خشک ہوگیا۔ وقالت عجوز عقیم : اور کہنے لگی (میں بچہ کیسے جنوں گی) ایک بڑھیا۔ دوسرے بانجھ (ہوں) قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے اذ ارسلنا علیہم الریح العقیم (51:41) جب بھیجی ہم نے ہوا ان پر جو خیر سے خالی تھی۔
Ayah 51:30(51:30) قالوا ۔ یعنی مہمانوں نے کہا۔
کذلک ۔ ک تشبیہ کا ذلک اسم اشارہ، مشاہ الیہ : کہ تیرے ایک بیٹا ہوگا۔ کذلک قال ربک۔ تیرے پروردگار نے ایسے ہی فرمایا تھا۔ ہم اللہ کی جانب سے تجھے خبر دے رہے ہیں ۔
الحکیم العلیم : یعنی صفت میں حکیم ہے (اس کی صنعت پر حکمت ہے )
العلیم : یعنی وہ ماضی کو بھی جانتا ہے اور مستقبل سے بھی واقف ہے۔ اس لئے اس کا قول سچا اور فعل محکم (ناقابل شکست ) ہے اس کے خلاف نہیں ہوسکتا) ۔
Ayah 51:31(51:31) قال۔ ای قال ابراہیم لما ذھب عنہ الروع وجاء رہ البشری ولما علم انھم ملئ کہ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کا ڈر جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی اور ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ مہمان فرشتے ہیں تو کہنے لگے (نیز ملاحظہ کو 11:74)
فما خطبکم۔ ما استفہامیہ ہے خبکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ خطب مصدر۔ خطب یخطب (باب نصر) کا اسی باب سے خطبۃ وخطابۃ بھی مصدر آئے ہیں۔ بمعنی وعظ کہنا۔ تقریر کرنا۔ حاضرین کے روبرو خطبہ پڑھنا۔ کہتے ہیں خطب القوم اس نے قوم سے خطاب کیا۔ الخطب۔ مصدر۔ حالت کو کہتے ہیں۔ ما خطبک تمہاری کیا حالت ہے ، تمہارا کیا حال ہے۔ تمہارا کیا مدعا ہے۔ تم کو اس پر کس نے اکسایا۔ ویسے تو الخطب ہر کام کو کہتے ہیں بڑا ہو یا چھوٹا۔ لیکن عام طور پر کسی بڑے ناپسندیدہ معاملہ کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ ما خطبکم۔ تمہارا کیا مدعا ہے۔ تمہارا کیا مقصد ہے آنے کا۔
المرسلون۔ اسم مفعول جمع مذکر ، بھیجے ہوئے، فرستادگان، (اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو تمہارا مدعا کیا ہے) ۔
Ayah 51:32(51:32) ارسلنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ارسال (افعال) مصدر۔ ہم بھیجے گئے ہیں ۔
قوم مجرمین۔ موصوف وصفت۔ مجرمین اسم فاعل جمع مذکر، مجرم ، گنہگار، جرائم پیشہ لوگ، مراد حضرت لوط کی قوم ہے، جو ایسے گندے افعال میں مبتلا تھے کہ اس سے پہلے کسی نے بھی ایسے گندے عمل نہیں کئے تھے۔ یہ لوگ لواطت کے بانی تھے۔ راہزن اور لٹیرے تھے اور مجمع عام کے روبرو بےحیائی کے کام کرتے تھے۔
Ayah 51:33(51:33) لنرسل۔ لام تعلیل کا ہے نرسل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع متکلم ۔ ارسال (افعال) مصڈر تاکہ ہم برسائیں۔ تاکہ ہم بھیجیں۔ علیہم ان پر، قوم مجرمین پر۔
حجارۃ من طین۔ مٹی سے بنے ہوئے پتھر، کنکر، وہ مٹی جو پتھر بن گئی ہو۔ مٹی کی قید اس وجہ سے لائی گئی کہ یہ تو ہم دور ہوجائے کیونکہ بعض لوگ اولے کو بھی پتھر کہتے ہیں۔
Ayah 51:34(51:34) مسومۃ : اسم مفعول واحد مؤنث تسویم (تفعیل) مصدر۔ مسومۃ صفت ہے حجارۃ کی۔ سوم کا معنی ہے کسی چیز کی طلب میں جانا۔ اور طلب۔ کبھی صرف دوسرا جزء ملحوظ ہوتا ہے۔ جیسے یسومونکم سوء العذاب (2:49) تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، دینی چاہتے تھے۔ یا وہ تمہارے لئے سخت تکلیفیں تلاش کرتے تھے، کبھی جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے سخت الابل فی المرعی۔ میں نے چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹوں کو بھیج دیا۔ یا جیسے قرآن مجید میں ہے ومنہ شجر فیہ تسیمون (16:10) اور اس سے درخت بھی شاداب ہوتے ہیں جن میں تم جانوروں کو چراتے ہو۔ یا چرنے کے لئے بھیجتے ہو۔
اس مادہ سے سومۃ ، سیمۃ، سیما علامت یا نشان ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ سیما ہم فی وجوھھم من اثر السجود (48:29) کثرت سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔
مسومۃ (بمعنی نشان زدہ کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں) ۔ ایک یہ کہ جو پتھر مسرفین کی ہلاکت کے لئے مخصوص کئے گئے تھے وہ دوسرے پتھروں سے بعض نشانوں اور علامات سے ممیز کئے گئے تھے۔
دوم :۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام تھا جو اس سے ہلاک ہونا مقدر ہوچکا تھا۔
سوم :۔ یہ پتھر دنیاوی پتھروں سے مختلف النوع تھے۔
عند ربک۔ عند ظرف مکان ہے۔ گوظرف زمان بھی مستعمل ہے جیسے عند طلوع الشمس : یہ بمعنی قرب۔ رائے، فیصلہ، مہربانی بھی آتا ہے۔ یہاں بمعنی نزدیک، مضاف ہے اور ربک مضاف مضاف الیہ مل کر عند کا مضاف الیہ ۔ تیرے رب کے نزدیک۔
مسرفین : اسم فاعل جمع مذکر اسراف (افعال) مصدر ۔ حد اعتال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ یعنی بیہودہ صرف کرنے والے۔ لواطت کرنے والے۔ حد حلال سے حد حرام کی طرف بڑھنے والے، بدکاری میں حد سے بڑھنے والے۔
آیت 32 تا 34 کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ بولے ہم کو گنہگار لوگوں کی طرف (قوم لوط کی طرف) بھیجا گیا ہے کہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو آپ کے رب کی طرف سے تجاوز کرنے والوں کے لئے نامزد ہوچکے ہیں۔
Ayah 51:35(51:35) فاخرجنا۔ پھر ہم نے نکال دیا۔فصیحۃ کا ہے ۔ اخرجنا ماضی جمع متکلم اخراج (افعال) مصدر۔ ضمیر جمع متکلم، اللہ کے لئے ہے اس جملہ سے قبل کچھ عبارت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔
کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتوں کی گفتگو ختم ہوئی اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ سورة ہود (11) آیات 77 تا 84 ، سورة الحجر (15) آیات 61 تا 77 ۔ اور سورة عنکبوت (29) آیات 33 تا 35 میں ملاحظہ فرما دیں۔ یہاں سورة ہذا میں صرف اس آخری وقت کا ذکر کیا جا رہا ہے جب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا۔
ارشاد ہوتا ہے :۔ پھر ہم نے (یعنی عذاب کے نازل ہونے سے قبل) ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے۔
من : موصولہ ہے۔ جو۔
فیہا : میں ہا ضمیر واحد مؤنث غائب حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے متعلق ہے ۔ بستیوں کا ذکر اگرچہ پہلے نہیں کیا گیا لیکن رفتار کلام سے معلوم ہوتا ہے۔
من المؤمنین۔ من بیانیہ ہے، بمعنی جو۔ جتنے، پس جتنے وہاں مومن (ایمان دار) تھے ۔ ہم نے ان کو وہاں سے نکال لیا۔ مومنوں سے مراد حضرت لوط پر ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 51:36(51:36) فم :عاطفہ ، اور ما نافیہ ہے اور (ہم نے) نہ (پایا) ۔۔
فیہا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف راجع ہے۔
غیر بیت : ایک گھر کے سوا۔ فما وجدنا ۔۔ الایۃ اور ہم نے اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔
فائدہ : آیت 35 میں لفظ المؤمنین آیا ہے اور آیہ ہذا میں المسلمین آیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو دل سے نہیں بس صرف زبانی (ظاہری) طور پر اسلام قبول کرلے اور مومن اس کو کہیں گے جو سچے دل سے ماننے والا ہو۔
اگرچہ قرآن مجید میں مسلم اور مومن کے الفاظ اکثر انہی معانی میں آئے ہیں۔ لیکن کئی مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ الفاظ دونوں معانی کو متضمن ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد پنجم الحجرات (49) حاشیہ نمبر 31) ۔
تفسیر مظہری میں ہے، پہلے ان کو مومن فرمایا پھر مسلم ۔ کیونکہ ہر مومن مسلم ہوتا ہے۔
Ayah 51:37(51:37) وترکنا فیہا ایۃ : واؤ عاطفہ، ترکنا ماضی جمع متکلم۔ ترک (بابا نصر) مصدر، ہم نے چھوڑا۔ فیہا ای فی القری (ان) بستیوں میں ۔ ایۃ : منصوب بوجہ مفعول فعل ترکنا کے (نشانی)
ترجمہ : پھر ہم نے ان (بستیوں) میں ایک نشانی چھوڑی (جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں) نشانی سے مراد بحیرۃ مردار ہے جس کا کنوبی علاقہ آج بھی ایک تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔
العذاب الالیم۔ موصوف و صفت مل کر مفعول یخافون کا۔ دردناک عذاب ۔
Ayah 51:38(51:38) وفی موسیٰ : ای وجعلنا فی موسیٰ ایۃ : جملہ ہذا کا عطف جملہ وترکنا فیہا ایۃ پر ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کے واقعہ میں بھی ایک نشانی یا عبرت رکھی ہے۔
اذ۔ اسم ظرف زمان ہے (گو اسم ظرف مکان بھی مستعمل ہے) بطور حرف مفاجات بھی مستعمل ہے بمعنی جب۔
سلطن مبین : موصوف وصفت، سلطان کے معنی حجت، دلیل، برہان کے ہیں جو یہاں مراد ہے۔ گو اس کا استعمال، رور، قوت اور سند کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔
مبین : بمعنی ظاہر۔ کھلی، کھلی دلیل یا برہان بمعنی معجزہ بھی ہے۔ یہاں ارشاد ہے ان معجزات کی طرف جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا وندتعالیٰ نے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ مثلاً عصائ، یدبیضا، قحط، سمندر میں راستے بنادینا وغیرہ۔
Ayah 51:39(51:39) فتولی : میںعبارت مقدرہ پر دال ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ فرعون کے پاس تشریف لے گئے۔ اور اسے حق کی دعوت دی۔ مگر اس نے دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اور سننے سے منہ پھیرلیا۔ تولی ماضی مذکر غائب۔ تولیٰ (تفعیل) مصدر۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اس نے (ایمان لانے) اعراض کیا۔
برکنہ۔ رکن بمعنی آسرا۔ قوت، زور، کسی شے کی وہ جانب جس کا آسرا لیا جائے : مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ فرعون کی طرف راجع ہے اور قوت سے مراد اس کی ذاتی قوت ہے اس کا لشکر، اس کی فرمانبرداری رعایا ہوسکتی ہے۔
برکنہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) ب۔ تعدیہ کی ہوسکتی ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے کہ اس نے اپنے لشکر جرار اپنے اعوان و انصار یا اپنی ڈاتی طاقت سے معزور ہوکر حضرت موسیٰ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔
(2) ب۔ مصاحبت کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے : اس نے اپنے لشکر اپنے اعوان و انصار اور اپنی قوم سمیت حضرت موسیٰ کی دعوت کو سننے سے منہ پھیرلیا۔
(3) رکن سے مراد اگر اس کی ذاتی قوت لی جائے تو مطلب ہوگا کہ اس نے اپنی ذاتی قوت کے بل بوتے پر حضرت موسیٰ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
ای ثنی عطفہ واعرض عن الایمان اس نے (غرور سے) گردن اور ایمان لانے سے انکار کردیا۔ یا جیسے قرآن مجید میں انسان کی ایسی ہی حالت کو یوں بیان فرمایا ہے :۔ واذا انعمتا علی الانسان اعرض ونا بجانبہ (17:83) اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو وہ گرداں ہوجاتا ہے اور اپنا پہلو پھیر لیتا ہے۔
وقال سحرا ومجنون ۔ ۔ ای وقال فرعون ھو (ای موسیٰ ) ساحر اور مجنون اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ بڑا جادوگر ہے یا مجنون ہے۔
ابو عبیدہ نے کہا کہ اس جگہ او بمعنی واؤ کے ہے یعنی موسیٰ جادوگر اور پاگل ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے ساتھ سے معجزات صادر ہوتے دیکھ کر آپ کو جادوگر کہا۔ اور چونکہ اس بیمار کو بصیرت والی عقل میں حضرت موسیٰ کی دعوت توحید نہیں آئی تھی اس لئے آپ کو پاگل کہنے لگا۔ اس کے دونوں کلاموں میں تضاد تھا۔ کیونکہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مجنون تھے تو ساحر کیے ہوگئے ساحر تو دانشمند ہوتا ہے اور اگر دانشمند تھے تو مجنون کیسے ہوگئے ؟
بیضاوی نے لکھا ہے کہ :۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو دیکھ کر فرعون نے آپ کو آسیب زدہ کہا۔ پھر سوچنے لگا کہ ان افعال کے اظہار میں موسیٰ کے اپنے اختیار اور کوشش کو دخ (رح) ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو جادوگر ہے اور اگر بےاختیار ہے تو پاگل ہے۔
کانہ جعل ما ظھر علیہ من الخوارق منسوبا الی الجن وتردد فی انہ حصل ذلک باختیارہ وسعیہ او بغیر ھما فان کان باختیارہ فھو ساحر وان کان بغیرہ فھو مجنون (بیضاوی)
Ayah 51:40(51:40) فاخذنہ۔ترتیب کا ہے۔ اخذنا ماضی جمع متکلم۔ اخذ (باب نصر) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ و جنودہ۔ واؤ عاطفہ جنود جمع جند کی، بمعنی فوج ، لشکر : اس کا عطف ہ ضمیر مفعول پر ہے۔ ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑا
فنبذنھم :عاطفہ، بنذنا ماضی جمع متکلم نبذ (باب ضرب ) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع فرو ون اور اس کا لشکر ہے۔ اور ہم نے ان کو پھینک دیا۔ یا ڈال دیا ۔
فی الیم : جار مجرور۔ ای فی البحر، دریا میں، یعنی ہم نے ان کو پکڑ کر دریا میں پھینک کر غرق کردیا۔
وھو ملیم : جملہ حالیہ ہے ملیم اسم فاعل واحد مذکر الامۃ (افعال) مصدر۔ ملامت یا لوم کا مستحق ، ایسا کام کرنے والا۔ جس پر ملامت کی جاوے۔ لوم، مادہ۔ لام ولمتہ (باب نصر) لوما کے معنی کسی کو برے فعل کے ارتکاب پر برا بھلا کہنے اور علامت کرنے کے ہیں۔ لائم علامت کرنے والا۔ ملوم ملامت کیا ہوا۔ ولا یخافون لومۃ لائم (5:54) اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ اور فانھم غیر ملومین (23:6) ان سے مباشرت کرنے میں انہیں ملامت نہیں ہے۔ وھو ملیم۔ اور وہ کام ہی ملامت کے قابل کرتا تھا۔