Ayah 51:1والذریت ذروا . قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں۔
ذَرْوًا : مصدر ہے الذاریات سے مراد ہیں خاک اڑانے والی ہوائیں یا اولاد کو پھیلانے والی عورتیں یا ملائکہ اور دوسرے (سماوی و ارضی) اسباب جو روئے زمین پر مخلوق کو پھیلاتے ہیں۔
Ayah 51:2فالحملت وقرًا . پھر ان بادلوں کی جو (بارش کا) بوجھ اٹھاتے ہیں۔
بوجھ یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کا بار اٹھاتی ہیں یا وہ عورتیں جو نطفے اور حمل کا بوجھ اٹھاتی ہیں یا وہ بادل جو بارش کے پانی کو اٹھاتے ہیں یا ان کے (سماوی و ارضی) اسباب۔
Ayah 51:3فالجریت یسرا . پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں ‘ یعنی وہ ہوائیں جو آہستہ آہستہ چلتی ہیں یا وہ عورتیں جو حاملہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوہروں کی خدمت سست رفتار سے کرتی ہیں یا وہ کشتیاں جو سمندر میں آہستہ آہستہ رواں ہوتی ہیں یا وہ ستارے جو اپنی اپنی منزلوں میں آہستہ آہستہ چلتے ہیں۔
Ayah 51:4فالمقسمت امرًا . پھر ان (فرشتوں) کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلا کر بارش کو تقسیم کرتی ہیں یا وہ ملائکہ جو بارش اور رزق وغیرہ کو تقسیم کرتے ہیں یا وہ تمام (فطری) اسباب جو (اشیاء کی) تقسیم کرتے ہیں۔
اگر مذکورہ بالا جملوں میں مختلف چیزیں علیحدہ علیحدہ مراد ہوں تو ہر جملہ میںترتیب اقسام کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ کمال قدرت کو ظاہر کرنے میں سب کی حالت ایک جیسی نہیں ہے بلکہ باہمی بڑا تفاوت ہے اور اگر تمام فقروں میں متعدد مختلف چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی چیز مراد ہو تو فَ ترتیب افعال کے لیے ہوگی۔
Ayah 51:5انما تو عدون لصادق
تم سے جو (قیامت کا) وعدہ کیا جا رہا ہے (وہ وعدہ) بالکل سچ ہے
Ayah 51:6وان الدین لواقع .
اور اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے۔
جس چیز کا تم کو وعدہ سنایا جا رہا ہے یعنی وعدۂ قیامت سچا وعدہ ہے اور اعمال کی سزا و جزاء ضرور ہوگی۔ متعدد مختلف حیران کن تعجب آفریں چیزوں کی جو صانع مختار کے اقتدار کامل اور صنعت جمیل و محکم پر دلالت کر رہی ہیں قسم کھا کر اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کی صراحت کی ‘ گویا ان چیزوں کی تخلیق و صنعت کو پیش کر کے قیامت پر قادر ہونے کو بدلیل ثابت کیا۔
Ayah 51:7والسما ذات الحبک
قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے چلنے کے) راستے ہیں
ذَاتِ الْحُبُکِ : حُبکُ ‘ حبیکۃ کی جمع ہے جیسے ‘ طُرُق طریقہ کی جمع ہے ( یا حباک کی جمع ہے جیسے مثال کی جمع مثل آتی ہے) صاحب قاموس نے لکھا ہے حبک مضبوط بناوٹ والے۔ حبک الثوب کپڑے کی ساخت میں خوبصورت آثار صنعت۔ حبک الرمل ریت کی دھاریاں۔ حبک کا واحد حباک ہے جیسے کتب کا واحد کتاب۔ حبک الماء : پانی کی شکستہ لہریں۔ حبک الشعر : گھونگریالے بال۔ حبک السماء : ستاروں کی گزرگاہیں۔
بغوی نے کہا حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور عکرمہ کے نزدیک ذات الحبک کا ترجمہ ہے خوبصورت ہموار بناوٹ والے ‘ کپڑے کی بناوٹ میں اگر حسن و جودت ہو تو عرب کہتے ہیں : مَا اَحْسَنَ حُبُکَہٗ : سعید بن جبیر نے ترجمہ کیا : سجاوٹ والا ‘ حسن نے کہا : آسمان کی سجاوٹ ستاروں سے کی گئی ہے۔ مجاہد نے کہا : مضبوط ساخت والا مقاتل ‘ کلبی اور ضحاک نے کہا : جس طرح ہوا لگنے سے پانی میں لہریں اور ریت میں دھاریاں پڑجاتی ہیں اور جس طرح بالوں میں گھونگریالا پن ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح آسمان میں راستے (یعنی لہریں اور دھاریاں) ہیں لیکن دور ہونے کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتے۔ بیضاوی نے ترجمہ کیا راہوں والا ‘ راہوں سے مراد ہیں محسوس راستے یعنی ستاروں کی گزرگاہیں یا عقلی راستے مراد ہیں جن پر اہل بصیرت چل کر معرفت کے مقام پر پہنچتے ہیں۔
یا ستارے مراد ہیں جن کے راستے آسمان میں (مقرر) ہیں اور جن کی وجہ سے آسمان کی زینت ہے۔
جس طرح کپڑے پر چھپی ہوئی دھاریوں سے کپڑے کی سجاوٹ ہوتی ہے۔
Ayah 51:8انکم لفی قول مختلف
کہ تم (سب) لوگ (قیامت کے بارے میں) مختلف گفتگو میں ہو
اِنَّکُمْ : کفار مکہ کو خطاب ہے۔
لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ : یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تمہارے قول مختلف ہیں ‘ کبھی شاعر کہتے ہو ‘ کبھی جادوگر ‘ کبھی دیوانہ ‘ پاگل یا قرآن کے متعلق تمہارے اقوال میں اختلاف ہے۔ کوئی اس کو جادو کہتا ہے ‘ کوئی کہانت ‘ کوئی داستان پارینہ اور کوئی خودساختہ شعر یا قیامت کے بارے میں تمہارے کلام جدا جدا ہیں ‘ کوئی قیامت کے واقع ہونے میں شک کرتا ہے ‘ کوئی اس کو محال سمجھتا اور انکار کرتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس جملۂ قسمیہ میں لوگوں کے قولی اختلاف اور مقاصد کی منافات کو طرق سماوی سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ سماوی راستوں میں بھی باہم بڑی دوری ہے اور غایات کا اختلاف ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مخاطب اہل مکہ ہوں خو اہ مؤمن ہوں یا کافر یعنی اے اہل مکہ تم میں سے کچھ لوگ تصدیق کرتے ہیں اور کچھ تکذیب
Ayah 51:9یوفک عنہ من افک .
‘ اس سے وہی پھرتا ہے جس کو پھرنا ہوتا ہے۔
یُؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ : یعنی رسول اللہ یا قرآن کی طرف سے اسی کو پھیر دیا جاتا ہے جس کا پھیرا جانا (پہلے سے) اللہ کے علم (ازلی) میں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس کو قرآن اور رسول پر ایمان لانے سے محروم کردیا ‘ وہی محروم رہتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ عَنْہُ میں عَنْ بمعنی مِنْ ہو اور ضمیر قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ کی طرف راجع ہو یعنی ایمان سے وہ موڑا اور پھیرا جاتا ہے۔ بات یہ تھی کہ جب کوئی شخص مسلمان ہونا چاہتا تھا تو مکہ کے کافر راستہ میں اس کو روک کر کہتے تھے (تم کہاں جا رہے ہو ؟ ) وہ تو جھوٹا جادوگر ہے ‘ کاہن ہے ‘ پاگل ہے اس طرح ایمان لانے سے اس کو پھیر دیتے تھے۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔
Ayah 51:10قتل الخراصون
غارت ہوجائیں ‘ بےسند باتیں کرنے والے
الخَرَّاصُوْنَ : بڑے جھوٹے۔ اس سے مراد ہیں وہ کافر جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے متعلق مختلف اقوال کے قائل تھے۔ خرص کا معنی ہے بغیر کسی یقین بخش دلیل کے کسی بات کا گمان کرنا اور آنکڑا بنا لینا جو بات کسی یقینی صحیح دلیل پر مبنی ہو اس میں اختلاف کا تصوّر بھی نہیں ہوسکتا۔
قُتِلَ الْخَرَّاصُوْنَ : (بظاہر) بددُعا ہے (لیکن نیک دعا ہو یا بد دعا دونوں دعا کرنے والے کے عاجز ہونے پر دلالت کرتی ہیں اس لیے) اس جگہ بددعا سے مراد ہے لعنت (اپنے قرب یا اپنی رحمت سے دور کردینا) ۔
Ayah 51:11الذین ھم فی غمرۃ ساھون
جو جہالت میں بھولے ہوئے ہیں
غَمْرَۃٍ : یعنی ایسی غفلت و جہالت جو ان پر چھائی ہوئی ہے ‘ ان کو ڈھانکے ہوئے ہے۔
سَاھُوْنَ : یعنی احکام خداوندی سے غافل۔
Ayah 51:12یسئلون ایان یوم الدین
پوچھتے ہیں بدلہ کا دن کب ہوگا ؟
یَسْءَلُوْنَ : یعنی بطور انکار یا بصورت استہزاء رسول اللہ ﷺ سے جلد وقوع قیامت کی درخواست کرتے ہیں۔
یَوْمُ الدِّیْنِ : اعمال کے بدلہ کا دن۔
Ayah 51:13یوم ھم علی النار یفتنون .‘ جس روز وہ آگ پر رکھے جائیں گے۔
یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ : علٰی بمعنی بَ ہے یعنی جس روز کہ ان کو آگ سے جلایا جائے گا ‘ وُ ہ دن کب آئے گا۔
Ayah 51:14ذوقوا فتنتکم ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون .
(ان سے کہا جائے گا) اپنی سزا کا مزہ چکھو۔ یہی ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔
فِتْنَتَکُمْ : اپنے عذاب کو یا اپنے کفر کی سزا کو۔
تَسْتَعْجِلُوْنَ : یعنی دنیا میں جس عذاب کی تم تکذیب کرتے اور اس کے آنے کی جلدی مچاتے تھے ‘ یہ وہی عذاب ہے۔ کافروں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد اللہ نے مؤمنوں کی جزا کا آئندہ آیت میں ذکر فرمایا۔
Ayah 51:15ان المتقین فی جنت و عیون
بے شک متقی لوگ بہشتوں میں اور چشموں میں ہوں گے
عُیُوْنٍ : یعنی نہریں۔
Ayah 51:16اخذین ما اتاھم ربھم انھم کانوا قبل ذلک محسین .
اور ان کے رب نے جو (ثواب) ان کو عطا کیا ہوگا وہ اس کو (خوشی خوشی) لے رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں نیکو کار تھے۔
مَا اٰتٰھُمْ : یعنی جو (ثواب اور) خیر و عزت ان کا رب ان کو عطا فرمائے گا وہ اس کو خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جو کچھ ان کو عطا فرمائے گا وہ اعلیٰ اور پسندیدہ ہوگا۔
قَبْلَ ذٰلِکَ : یعنی جنت میں داخل ہونے سے پہلے دنیا میں۔
مُحْسِنِیِْنَ : یعنی حضور خاطر اور خلوص قلب کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کی خوشنودی کے طلبگار تھے۔
Ayah 51:17کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون . وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے۔
مَا یَھْجَعُوْنَ : میں ما زائد ہے۔ ہجوع کا معنی ہے رات کو سونا۔
قَلِیْلاً : مفعول فیہ ہے یا مفعول مطلق یعنی رات کے تھوڑے وقت وہ سوتے ہیں یا رات کے کچھ حصہ میں وہ تھوڑی سی نیند لے لیتے ہیں یعنی رات کے زیادہ حصہ میں نماز پڑھتے ہیں۔
سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کمتر رات ایسی گزرتی ہے کہ وہ اس کے کسی حصہ میں نماز نہ پڑھتے ہوں ‘ شروع رات میں پڑھتے ہیں یا درمیان شب میں پڑھتے ہیں یا آخر رات میں یعنی پوری رات کم ہی سوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ پوری رات نہیں سوتے۔
Ayah 51:18وبالاسحارھم یستغفرون . اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے۔
سحر ‘ رات کا آخری چھٹا حصہ ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے صبح سے کچھ پہلے کا وقت اور ہر شئی کا کنارہ۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو کم سونے اور بیشتر وقت میں نماز پڑھتے رہنے کے باوجود وہ اپنے اس عمل کو اداء حق سے کم سمجھتے ہیں اور سحر کو معافی کے طلبگار ہوتے ہیں گویا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی بڑا جرم سرزد ہوگیا اور اللہ کی اطاعت میں قصور ہوگیا ‘ جس کی تلافی توبہ سے کرنی ضروری ہے۔
حسن نے کہا : جملے کا معنی یہ ہے کہ وہ رات کو کم ہی سوتے ہیں اکثر چستی کے ساتھ سحر تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں ‘ پھر استغفار کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر رات کو جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ‘ اللہ آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے : میں ہی بادشاہ ہوں ‘ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں ‘ کون ہے جو مجھ سے گناہوں کی معافی کا طلبگار ہو اور میں اس کے گناہ معاف کر دوں۔ (متفق علیہ)
مسلم کی روایت میں ہے پھر اللہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے : ” کون ہے جو روک سکتا ہو ایسی ذات کو جو نہ نادار ہے نہ ظالم “ یہاں تک کہ فجر نکل آتی ہے۔
حضرت ابن عباس کی صحیح روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات سے اٹھ کر تہجد پڑھتے ‘ استغفار کرتے اور کہتے تھے : اے اللہ ! تیرے ہی لیے ستائش (زیبا) ہے۔ آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کی کائنات کا تو ہی مدبر ہے ‘ تیرے ہی لیے حمد ہے۔ آسمانوں کا زمین کا اور ان کی موجودات کا تو ہی حاکم ہے ‘ تیری ہی تعریف (زیبا) ہے۔ تو ہی حق ہے ‘ تیرا ہی و عدہ حق ہے تیرا (ہمیشہ) باقی رہنا حق ہے ‘ تیرا کلام حق ہے ‘ دوزخ حق ہے ‘ انبیاء حق ہیں ‘ محمد ﷺ حق ہیں ‘ قیامت حق ہے۔ اے اللہ ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں ‘ تجھی پر ایمان رکھتا ہوں ‘ تجھی پر میرا بھروسہ ہے ‘ تیری ہی طرف میں رجوع کرتا ہوں ‘ تیری مدد سے میں دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہوں ‘ تیری ہی جانب میں اپنا معاملہ (فیصلہ کے لیے) لے جاتا ہوں ‘ تو ہمارا رب ہے ‘ تیری ہی طرف منتقل ہونا ہے ‘ میرے اگلے ‘ پچھلے اور پوشیدہ ‘ ظاہر گناہ اور وہ قصور جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے معاف فرما دے ‘ تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے ہٹانے والا ہے (یا سب سے پہلے اور سب کے بعد تو ہی ہے) تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تیرے علاوہ کوئی قابل پرستش نہیں۔ (متفق علیہ)
حضرت عبادہ ؓ بن صامت راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات سے اٹھ کر کہے : لَا اِلٰہَ الاَّ اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ وَ سُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُِ ﷲِ وَلَا اِلٰہَ الاَّ اللہ وَ اللہ ُ اَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ الاَّ بِ اللہ ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ . اس کے بعد کہے : رَبِّ اغْفِرْلِیْ یا فرمایا : پھر دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی ‘ اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھے گا تو نماز قبول کی جائے گی۔ (رواہ البخاری)
[ ترجمہ ] : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ‘ اسی کی حکومت ہے ‘ اسی کے لیے ہر تعریف (زیبا) ہے اور وہ ہر شے پر قابو رکھتا ہے۔ اللہ پاک ہے ‘ اللہ کے لیے ہر تعریف زیبا ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اللہ سب سے بڑا ہے ‘ سوائے اللہ کی مدد کے جو بزرگ اور عظمت والا ہے ‘ نہ طاقت ہے نہ قوت۔ پھر کہے : اے میرے رب مجھے معاف کر دے یا فرمایا : پھر دعا کرے ‘ الخ
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات سے بیدار ہوتے تو کہتے : لَآ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِیْ وَاَسْءَلُکَ رَحْمَتَکَ اَللّٰھُمَّ زِدْنِیْ عِلْمًا وَلاَ تُزِغْ قَلْبِیْ بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنِیْ وَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ. [ رواہ ابوداوٗد ]
Ayah 51:19وفی اموالھم حق للسائل والمحروم . اور ان کے مال میں سوالی اور غیر سوالی کا حق تھا۔
وَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ : یعنی وہ سائلوں کو بھی دیتے ہیں اور سوال سے بچنے والے کو بھی ‘ جن کو سوال نہ کرنے کی وجہ سے ناواقف لوگ مالدار سمجھتے ہیں۔ نیکو کار ان کے چہرے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور اندرونی احوال سے واقف ہونے کے بعد ان کو بھی دیتے ہیں۔ قتادہ اور زہری وغیرہ نے محروم کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن مسیّب نے کہا : محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کو نہ مال غنیمت سے کوئی حصہ ملا ہو ‘ نہ مال فے میں سے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم کا بیان ہے کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین کا ایک دستہ روانہ کیا۔ ان مجاہدوں کے ہاتھ (کافروں کی) کچھ بکریاں لگ گئیں جب یہ لوگ بکریوں کے حصے بخرے کر کے فارغ ہوگئے تو کچھ (غریب) لوگ آپہنچے۔ ان مجاہدوں نے ان کو بھی کچھ حصہ دے دیا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ زید بن اسلم نے کہا : محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کے (باغوں کے) پھلوں پر یا کھیتی پر یا مویشیوں کے بچوں پر کوئی (آسمانی یا زمینی) آفت آگئی ہو اور باغ ‘ کھیت اور جانور تباہ ہوگئے ہوں) محمد بن کعب قرظی نے بھی یہی کہا اور (اس معنی کے ثبوت میں) آیت : اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ پڑھی۔
Ayah 51:20وفی الارض ایت للموقنین . اور یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اس جملہ کا اور اس کے بعد آنے والے سارے معطوفات کا تعلق اِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ سے ہے اور دونوں کے درمیان کے تمام جملے معترضہ ہیں۔ میرے نزدیک اس کا عطف ان مدحیہ جملوں پر ہے جو سابق کلام میں محسنین کے حالات کی تشریح میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ زمین میں ان محسنین کے لیے (اللہ کی قدرت تامہ ‘ علم محیط اور ربوبیت و الوہیت کی) نشانیاں ہیں۔ وہ ان نشان ہائے قدرت کو اندھوں ‘ بہروں کی طرح دیکھ کر گزر نہیں جاتے بلکہ بینا آنکھوں سے دیکھ کر غور کرتے اور سوچتے ہیں کہ زمین کیسے پیدا ہوئی ‘ کیسے بچھائی گئی۔ آدمیوں کے رہنے کے لیے اس کا کچھ خشک حصہ کیسے ابھار دیا گیا ہے۔ زمین کے مختلف اجزاء کی مختلف کیفیات ‘ حالات اور متضاد خاصیات کیسے اور کیوں ہیں ‘ چشمے پھوٹ کر ‘ نہریں بن کر دریا کس طرح اور کس حکمت کے زیر اثر بہتے ہیں۔ زمین کے اندر قیمتی جواہر کی کانیں کیسے بن جاتی ہیں۔ زمین کے اوپر غیر محدود اَن گنت نباتات اور حیوانات کا پھیلاؤ کتنا ناقابل فہم ہے ‘ یہ سب انواع ‘ اجناس ‘ کیفیات ‘ خاصیات اشکال اور الوان کا تعدد دلالت کر رہا ہے کہ ان کا کوئی بنانے والا واجب الوجود ‘ خالق کل ‘ ہمہ گیر علم اور قدرت کاملہ کا مالک ہے۔ اسی نے اپنی رحمت اور حکمت سے ان چیزوں کو بنایا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ زمین پر اور زمین کی موجودات پر اللہ کی رحمت کی کیسی بارش ہو رہی ہے۔ وجود اور بقائے وجود کی اللہ کی طرف سے کس قدر برکتیں نازل ہو رہیں ہیں اور موجودات ارضی کی ہر چیز اپنی ساری ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ کی رحمت کے سامنے دست سوال پھیلا رہی ہے۔ کُلَّ یُوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔
Ayah 51:21وفی انفسکم . اور خود تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔
وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ : یعنی اے انسانو ! خود تمہارے اندر اللہ کی بہت سی نشانیاں ہیں۔
انسان عالم صغیر (چھوٹی دنیا) ہے۔ اللہ کی قدرت ‘ حکمت ‘ صنعت اور ربوبیت کی جو نشانیاں عالم کبیر میں ابتداء تخلیق سے لے کر آخری انجام تک وہ ساری آیات انسان کے اندر ہیں۔ آغاز میں تخلیق انسانی بصورت نطفہ تھی۔ پھر نطفہ بستہ خون بنا۔ پھر ایک گوشت کا لوتھڑا ہوا۔ پھر ہڈیاں بنائی گئیں ‘ پھر ہڈیوں کے ڈھانچے کو گوشت کا لباس پہنایا گیا۔ پھر اس میں روح ڈالی گئی۔ پھر بسہولت باہر آنے کا راستہ بنایا گیا۔ باہر آنے کے بعد فراہمی غذا کا انتظام کیا گیا۔ پستان مادر سے دودھ پینا سکھایا گیا اور رفتہ رفتہ دوسری غذاؤں کی طرف آنے اور کھانے کی رہنمائی کی گئی۔ بول و براز اور دوسرے فضلے کو اس کے راستوں سے باہر پھینکا گیا۔
یہ تمام تدبیریں بقاء جسمانی کیلئے کی گئیں۔ اس سے آگے بقاء نسل بھی ضروری تھی تو قوت تولید کو پیدا کیا گیا اور ایک جوڑے کے اختلاط سے سابق کی طرح تیسرے انسان کو بنایا اور پیدا کیا گیا۔ پھر پیغمبروں کو بھیج کر اور آسمان سے کتابیں اتار کر معاد کی طرف جانے کا صحیح راستہ دکھایا گیا۔
انسانوں کی زبانوں یا صورتوں کا ‘ رنگوں کا ‘ طبیعتوں اور مزاجوں کا ‘ عقل و دانش کا ‘ قبولِ حق کی صلاحیتوں کا ‘ راہ حق پر چلنے کی استعدادوں کا۔ پھر درجات قرب اور مراتب معرفت پر فائز ہونے کا عظیم الشان تفاوت اور تعدد ‘ صانع کی نادر صنعت اور بدیع نقوش ہیں جو اہل بصیرت اور معرفت کوش قلوب نظارہ کرتے اور بےساختہ پکار اٹھتے ہیں : تبارک اللہ احسن الخالقین۔
پھر ان اہل عرفان کے سامنے سے تجلیات ذاتیہ و صفاتیہ اور انوار ظلالیہ کے چہروں سے اسرار کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ اسی کی تعبیر حدیث قدسی میں اس طرح فرمائی ہے : ” بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔ آخر میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ‘ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ‘ جن سے وہ دیکھتا ہے۔ “ (الحدیث)
اس مرتبہ پر پہنچ کر عارف کہتا ہے شکر ہے اللہ کا جس نے ہم کو اس کی راہ بتائی ‘ اگر اللہ ہماری راہنمائی نہ کرتا تو ہم ہدایت یاب نہ ہوتے۔ ہمارے رب کے رسول ﷺ حق لے کر آئے تھے۔
افلا تبصرون . پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا۔
یعنی اے بےسند باتیں کرنے والو ! کیا تم کو وہ نشانیاں دکھائی نہیں دیتیں جو نیکو کار ‘ اہل یقین کو نظر آتی ہیں۔ اس جملہ کا عطف محذوف جملے پر ہے۔ یعنی کیا تم لوگ قیامت برپا کرنے پر اللہ کی قدرت کا انکار کرتے ہو اور تم کو اللہ کی مذکورہ نشانیاں دکھائی نہیں دیتیں۔
Ayah 51:22وفی السماء رزقکم وما تو عدون .
اور تمہارا رزق اور جو تم سے (قیامت کے متعلق) وعدہ کیا جاتا ہے (ان سب کا معین وقت) آسمان میں ہے۔
وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے کہ رزق سے مراد ہے رزق کے پیدا ہونے کا سبب یعنی بارش۔ اس تفسیر کی بنا اس مسلمہ پر ہے جو (ظاہر) شریعت میں آیا ہے کہ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے۔
بیضاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ السمآء سے مراد بادل اور رزق سے مراد ہے بارش۔ یہ تشریح فلاسفہ کے خیال پر مبنی ہے (کہ بارش بادل سے ہوتی ہے) بیضاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسباب رزق مراد ہیں۔
یا رزق سے مراد ہے حصہ اور نصیب (لغت میں رزق کا یہی معنی ہے) ۔
آیت مبارکہ میں آیا ہے : وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقُکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ : یعنی تکذیب کرنے کو تم اپنا نصیب اور حصہ بنا رہے ہو۔ رزق کا اگر یہ معنی لیا جائے تو آیت : وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ میں یا تو اللہ کی قدرت کی آفاتی اور انفسی نشانیاں مراد ہوں گی جیسے چاند ‘ سورج ‘ ستارے اور ان کی رفتار۔ طلوع و غروب اور پھر ان سے پیدا ہونے والے مفید و مضر آثار اور موسموں کے اختلافات وغیرہ۔ ان ارضی و سماوی آیات میں غور کرنا اور ان سے اللہ کی قدرت پر استدلال کرنا درحقیقت نیکو کار اہل ایمان ہی کا حصہ ہے۔ پھر اس استدلال اور فہم و دانش پر جس رحمت اور برکات کا اللہ کی طرف سے فیضان ہوتا ہے اور اہل عرفان پر جو تجلیات کی بارش ہوتی ہے وہ بھی انہی محسنین و موقنین کا نصیب ہے اور جن کے دلوں پر اور گوش ہوش پر اللہ نے مہر کردی ہے اور جن کی آنکھوں پر غفلت و جہالت کے پردے پڑے ہیں وہ بےنصیب ہیں اور فیضان و عرفان سے محروم ہیں۔ عارف رومی نے کہا ہے۔
گر نخواہد بےبدن جانِ تو زیست فی السماء رزقکم روزئی کیست
یا رزق سے مراد ہے روزئی غذا جس سے جسم کی پرورش ہوتی ہے۔ اس صورت میں آیت کے اندر اس امر پر تنبیہ ہوگی کہ تمہارا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آسمان پر لکھا ہوا ہے اس لیے اللہ ہی سے طلب کرو اور اسی کی اطاعت اور عبادت کرو اور خلوص کے ساتھ کرو۔ دکھاوٹ اور شہرت طلبی کی آمیزش تمہاری عبادت میں نہ ہونا چاہیے۔ اس تفسیر پر بھی آیت میں نیکو کار اہل ایمان کے خصوصی اوصاف کا اظہار اور ان کی مدح ہوگی کہ وہ رزق کے معاملہ میں بھی اللہ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔
وَمَا تُوْعَدُوْنَ : بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء کے نزدیک مَا تُوْعَدُوْنَ سے مراد ہے عذاب وثواب۔ مجاہد کے نزدیک خیر و شر اور ضحاک کے نزدیک جنت و دوزخ۔
میں کہتا ہوں ان علماء کے یہ تینوں اقوال اس امر پر مبنی ہیں کہ خطاب کا رخ مؤمنوں کی طرف بھی ہو اور کافروں کی طرف بھی اور دونوں گروہوں کو مخاطب مانا جائے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ تمہارا رزق اور وعدۂ ثواب و عذاب یا وعدۂ خیر و شر یا وعدۂ جنت و دوزخ آسمان میں لکھا موجود ہے ‘ یہ مطلب نہ ہوگا کہ خیر و شر اور ثواب و عذاب اور جنت و دوزخ آسمان میں ہیں کیونکہ یہ غلط ہے کہ جنت آسمان پر ہے اور دوزخ زمین کے نیچے ‘ اس کی صراحت احادیث میں آچکی ہے لیکن اگر مخاطب صرف محسنین کو قرار دیا جائے تو اس تاویل کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ نیکو کاروں سے جنت اور ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اور جنت آسمان میں ہے۔
Ayah 51:23فورب السما والارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون . پس قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی بلاشبہ یہ بات (جو ذکر کی گئی یعنی قیامت ‘ عذاب وثواب ‘ رزق ‘ وعدہ وعید وغیرہ) ایسے ہی حق ہے جیسے تمہارا بولنا۔
بغوی نے لکھا ہے یہ بات حق ہے جیسے تم بولتے ہو اور لا اِلٰہ الاّ اللہ کہتے ہو گویا نطق سے مراد بغوی کے نزدیک منطوق (بولا ہوا کلام) مراد ہے۔ اس صورت میں اگر مخاطب صرف اہل ایمان کو قرار دیا جائے تو اہل ایمان عام طور پر اکثر لا اِلٰہ الاّ اللہ پڑھا ہی کرتے ہیں اور اگر خطاب کو عام مانا جائے تو جس طرح آدمی کا بات کرنا اور بولنا بدیہی ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ حق اور ناقابل شک ہے جیسے عام طور پر کہا جاتا ہے ‘ یہ بات اتنی ہی سچی ہے جیسے اس وقت تمہارا میرے سامنے موجود ہونا یا تمہارا بولنا۔
اصمعی کا بیان ہے : ” میں بصرہ کی جامع مسجد سے آ رہا تھا ‘ سامنے سے ایک اعرابی آیا اور مجھ سے پوچھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ میں نے کہا : بنی اصمع سے۔ بولا : کہاں سے آ رہے ہو ؟ میں نے کہا : وہاں سے جہاں اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ کہنے لگا : مجھے بھی کچھ سناؤ۔ میں نے سورة والذاریات تلاوت کی۔ جب آیت : فی السماء رزقکم پر پہنچا تو اعرابی نے کہا : بس کرو پھر خود اٹھ کر اپنی اونٹنی کے پاس گیا ‘ اس کو نحر کیا اور گوشت آنے جانے والوں کو بانٹ دیا اور پھر اپنی کمان اور تلوار توڑ دی اور منہ موڑ کر چلا گیا۔
اس کے بعد جب ہارون رشید کے ساتھ حج کو گیا اور (مکہ مکرمہ میں) گھومنے نکلا تو اچانک ایک آواز سنی کہ کمزور آواز سے مجھے پکار رہا تھا۔ میں نے منہ موڑ کر دیکھا تو وہی اعرابی تھا۔ میں قریب گیا تو اس نے سلام کیا اور وہی سورت (الذاریات) سنانے کی فرمائش کی۔ جب میں نے پڑھ کر سنائی اور اسی آیت پر پہنچا تو اس نے ایک چیخ ماری اور بولا : ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو حق پایا۔ پھر کہنے لگا : کیا اور کچھ (آپ پڑھیں گے ؟ ) ۔
میں نے (اس سے آگے) پڑھا : فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لْحَقٌّ : اعرابی نے یہ سنتے ہی ایک چیخ ماری اور کہا : ” سبحان اللہ ! ربِّ جلیل کو کس نے غضب ناک کردیا کہ اس نے قسم کھائی۔ لوگوں نے اس کی بات کو سچ نہ جانا اور اس کو قسم کھانے پر مجبور کردیا “ یہ الفاظ اس نے تین بار کہے اور یہی کہتے کہتے اس کی جان نکل گئی۔ (مدارک)
بلاغت کا تقاضا ہے کہ مخاطب کا انکار جس درجہ کا ہوتا ہے خبر دینے والا کلام کو اسی قدر تاکید کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اللہ نے اس جگہ کلام کو انتہائی تاکید کے ساتھ بیان کیا۔ قسم کھائی اِنَّ (تحقیقہ) کا استعمال کیا۔ لام تاکید بھی ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ بات حق ہے اور آخر میں حقانیت کلام کو نطق انسانی سے تشبیہ دی جو کھلی ہوئی محسوس حقیقت ہے ‘ گویا اللہ کی طرف سے رزق کا جو وعدہ کیا گیا ہے انسان اس کا شدید منکر ہے اور روزی کمانے کے لیے انتہائی مشقتیں جھیلتا ہے حالانکہ اللہ نے فرما دیا ہے : وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الاَّ عَلَی اللہ رِزْقُھَا : اللہ نے انسان کو جس چیز کا مکلف کیا ہے اور ابدی ثواب و عذاب کو جس سے وابستہ کیا ہے ‘ آدمی اس کی طرف سے غافل ہے۔
Ayah 51:24ھل اتاک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین . کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ کو پہنچی ہے۔
ھَلْ اَ تٰکَ : استفہام تقریری ہے یعنی ابراہیم کے معزز مہمانوں کے واقعہ کی اطلاع آپ کے پاس پہنچ چکی ہے۔ اس جملہ سے عظمت واقعہ کی طرف اشارہ بھی ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ وحی کے ذریعہ سے اس واقعہ کی اطلاع پہلے دی جا چکی ہے۔
حَدِیْثُ ضَیْفِ : ضیف اصل میں مصدر ہے اس لیے اس کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔
بغوی نے لکھا ہے ان مہمانوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطاء نے فرمایا : تین فرشتے تھے جبرئیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل۔
محمد بن کعب نے کہا : جبرئیل اور ان کے ساتھ سات اور تھے (کُل آٹھ) ضحاک نو ہونے کے قائل ہیں۔ مقاتل نے کہا : بارہ فرشتے تھے ‘ سدی نے کہا : گیارہ ملائکہ تھے امرد لڑکوں کی شکل میں جن کے چہرے چمکیلے (نورانی) تھے۔
الْمُکْرَمِیْنَ : معزز۔ یعنی پہچاننے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی عزت کی تھی۔ حضرت نے خود بنفس نفیس اور آپ کی بی بی نے ان کی خدمت کی تھی اور طعام مہمانی پیش کیا تھا۔ پیغمبروں کا طریقہ ہی یہی ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں کا یہی معمول ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے ‘ اس کو چاہیے کہ اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرے ‘ (عربی میں جار کا اطلاق مہمان پر بھی ہوتا ہے ‘ اس لیے جار سے مراد ہمسایہ اور مہمان دونوں ہوسکتے ہیں ‘ مترجم)
دوسری روایت میں آیا ہے کہ اس کو چاہیے کہ اپنے ہمسایہ کو دکھ نہ دے اور جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو اپنے مہمان کی خاطر کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔
(رواہ الشیخان فی الصحیحین و احمد والترمذی و ابن ماجہ عن ابی ہریرہ)
حضرت ابو شریح کعبی کی روایت سے صحیحین میں حدیث مذکور اس طرح آئی ہے : جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے۔ ایک دن رات کی میزبانی کرے اور (انتہائی) مہمانی تین روز تک ہے۔ اس کے بعد خیرات ہے اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس اتنا ٹھہرے کہ وہ آخر نکال باہر کر دے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت سے آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : کونسا اسلام بہتر ہے ؟ (یعنی اسلام میں کونسا معاشرتی اور اخلاقی عمل بہتر ہے۔ مترجم) فرمایا : کھانا کھلانا اور شناسائی ہو یا نہ ہو (سب کو) سلام کرنا۔
” مُکْرَمِیْنَ “ : کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی کہ اللہ کے نزدیک وہ مہمان معزز تھے کیونکہ وہ ملائکہ تھے اور ملائکہ کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ۔
Ayah 51:25اذ دخلوا علیہ فقالوا سلما قال سلم قوم منکرون . (اور یہ قصہ اس وقت کا تھا) جب وہ (مہمان) ابراہیم کے پاس آئے اور سلام کیا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے بھی جواب میں کہا : سلام (اور کہا :) تم لوگ انجان ہو۔
اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ : جب مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔
فَقَالُوْا سَلٰمًا : پھر انہوں نے کہا : ہم آپ کو سلام کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : تم پر بھی سلام ہو۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلامٌ یعنی بجائے جملہ فعلیہ کے جملہ اسمیہ بولا تاکہ دعاء سلامتی کسی خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہ ہو بلکہ دوامی ہو اور فرشتوں نے جو سلام کیا تھا اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب بہتر اور احسن ہوجائے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِذَ احُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بآحْسَنَ مِنْھَا اَوْرُدُّوْھَا اِنَّ اللہ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ حَسِیْبًا : جب تم کو سلام کیا جائے تو جواب میں تم اس سے بہتر سلام کرو یا ویسا ہی جواب لوٹا دو ۔ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ : یعنی تم اجنبی لوگ ہو ‘ ہم تم کو نہیں پہچانتے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت ابراہیم نے اپنے دل میں کہا تھا ‘ یہ اجنبی لوگ ہیں ہم ان کو نہیں پہچانتے۔
ابو العالیہ نے کہا اس شہر میں سلام کا دستور نہ تھا اسلئے حضرت ابراہیم نے سلام میں غیریت محسوس کی ‘ سلام تو اسلام کی علامت ہے۔
Ayah 51:26فراغ الی اھلہ فجاء بعجل سمین
پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا) لائے
فَرَاغَ : یعنی فوری مہمانی کے لیے حضرت ابراہیم گھر والی کے پاس گئے اور ایک بچھڑا بھون کر لائے۔ حضرت ابراہیم کا بڑا مال یہی مویشی (گائے ‘ بیل) تھے۔
Ayah 51:27فقربہ الیھم قال الا تاکلون . اور ان کے پاس رکھ کر کہنے لگے ‘ آپ کھاتے کیوں نہیں۔
بچھڑا مہمان کے سامنے لا کر رکھا اور فرمایا : کھاؤ لیکن انہوں نے کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھائے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : تم کھاتے کیوں نہیں ؟
Ayah 51:28فاوجس منھم خیفۃ قالوا لا تخفف و بشروہ بغلم علیم . (جب انہوں نے نہ کھایا) تو دل میں ان سے خوفزدہ ہوئے۔ مہمان نے کہا : آپ اندیشہ نہ کریں اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا۔
فَاَوْجَسَ : دل میں محسوس کیا۔
خِیْفَۃً : خوف۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمان کھانے کی طرف مائل نہیں ہیں اور اعراض کر رہے ہیں تو دل میں اندیشہ پیدا ہوا (کہ شاید یہ لوگ دشمن ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ ملائکہ ہیں ‘ ان کو عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔
قَالُوْا لَا تَخَفْ : مہما نوں نے کہا : آپ کچھ اندیشہ نہ کریں۔ ہم اللہ کے فرستادہ (یعنی ملائکہ) ہیں ‘ اللہ نے ہم کو بھیجا ہے۔
بِغُلٰمٍ : غلام سے مراد ہیں حضرت اسحق۔
عَلِیْمٍ : یعنی بالغ ہونے کے بعد اسی لڑکے کو کمال علمی حاصل ہوگا۔
Ayah 51:29فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصلت وجھھا و قالت عجوز عقیم
اتنے میں ان کی بی بی بولتی آئیں ‘ پھر ماتھے پر ہاتھ مرا اور کہنے لگیں : (اوّل تو) بوڑھیا (پھر) بانجھ
فاقبلت : اس کی بیوی آئی۔
فِیْ صَرَّۃٍ : چیختی ہوئی ‘ بعض اہل علم کا قول ہے کہ آنے سے مراد انتقال مکانی یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا مراد نہیں ہے بلکہ (اقبلت کی حیثیت معاون فعل کی ہے) اس کا ترجمہ ہے : لگی چیخنے۔ چیخنا شروع کیا ‘ جیسے کہا جاتا ہے : اَقْبَلَ یَشْتِمُنِیْ : وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ بہرحال فِیْ صَرَّۃٍ : محل نصب میں ہے ‘ خواہ حال ہونے کی وجہ سے یا مفعولیت کی بناء پر۔
فَصَلَّتْ : حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا : اس نے اپنے ہاتھ سے اپنا منہ لپیٹ لیا۔ عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی غیر معمولی عجیب بات سن کر یا دیکھ کر منہ لپیٹ لیتی ہیں۔ بعض اہل روایت نے لکھا ہے : اس نے حیض کے خون کی حرارت محسوس کی اور شرم سے منہ لپیٹ لیا۔
وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ : اور کہا : کیا بوڑھی بانجھ عورت کے بچہ ہوگا۔ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت نوّے سال تھی اور کبھی بچہ نہیں ہوا تھا (بانجھ تھیں) ۔
Ayah 51:30قالوا کذلک قال ربک انہ ھو الحکیم العلیم .‘ فرشتے کہنے
لگے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ بلاشبہ وہ بڑی حکمت (اور) بڑے علم والا ہے۔
قَالُوْا کَذٰلِکَ قَالَ رَبُّکِ : یعنی جو بات ہم نے کہی تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا۔ ہم اللہ کی جانب سے تجھے خبر دے رہے ہیں۔ اَلْحَکِیْمُ : یعنی صفت میں حکیم ہے (اس کی صفت پر حکمت ہے) ۔
اَلْعَلِیْمُ : یعنی وہ ماضی کو بھی جانتا ہے اور مستقبل سے بھی واقف ہے ‘ اس لیے اس کا قول سچا اور فعل محکم (ناقابل شکست) ہے (اس کے خلاف نہیں ہوسکتا) ۔ الحمد اللہ چھبیسواں پارہ ختم ہوا
Ayah 51:31قال فما خطبکم ایھا المرسلون
ابراہیم ( علیہ السلام) کہنے لگے : اے فرشتو ! (یہ تو بتاؤ) کہ تمہیں کیا بڑی مہم
درپیش ہے ؟
فَمَا خَطْبُکُمْ : یعنی تمہارے آنے کی کیا وجہ ہے ‘ کس کام سے تم کو بھیجا ہے ؟
Ayah 51:32قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین
فرشتوں نے کہا : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ : یعنی قوم لوط ( علیہ السلام) جو ایسے گندے افعال میں مبتلا تھی کہ اس سے پہلے کسی نے بھی ویسے گندے عمل نہیں کیے تھے۔ یہ لوگ لواطت کے بانی تھے۔ رہزن تھے ‘ لٹیرے تھے اور عام جلسوں میں سب کے سامنے بےحیائی کے کام کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے ان ہی کے ایک برادر وطن حضرت لوط کو بھیجا لیکن قوم نے لوط کی نبوت ماننے سے انکار کردیا اور بولے : اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔ لوط ( علیہ السلام) نے دعا کی : اے میرے ربّ ! مجھے اس ظالم قوم سے محفوظ رکھ اور ان مفسدوں کے مقابلہ میں میری مدد کر اور فتح عنایت فرما۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور ملائکہ کو ان بدکاروں کی ہلاکت کے لیے بھیج دیا۔
Ayah 51:33لنرسل علیھم حجارۃ من طین
تاکہ ہم ان پر کنکر ‘ پتھر برسائیں
حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ : یعنی کنکر ‘ وہ مٹی جو منجمد ہو کر پتھر بن جاتی ہے۔
Ayah 51:34مسومۃ عند ربک للمسرفین . جن پر آپ کے رب کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشانیاں ہیں ‘ حد سے گزرنے والوں کے لیے۔
مُسَوَّمَۃً : نشاندار ‘ جس پتھر سے جس شخص کو ہلاک کرنے کا حکم تھا ‘ اس شخص کا نام اس پتھر پر مقرر تھا۔
لِلْمُسْرِفِیْنَ : بدکاری میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی مشرکوں کے لیے کیونکہ شرک سب سے بڑا اور حد سے زیادہ گناہ ہے۔
Ayah 51:35فاخرجنا من کان فیھا من المؤمنین
فِیْھَا : قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ بستیوں کا ذکر اگرچہ پہلے نہیں کیا گیا لیکن رفتار کلام سے معلوم ہوتا ہے۔
اَلْمُؤْمِنِیْنَ : یعنی لوط ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں سے۔ یعنی ملائکہ نے کہا : لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ان کی دسترس تم تک نہ ہو سکے گی۔ تم کچھ رات رہے ‘ اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل جاؤ۔ تم میں سے کوئی منہ پھیر کر نہ دیکھے۔ ہاں ! تمہاری بیوی منہ پھیر کر دیکھے گی اس لیے جو پتھر اوروں پر گریں گے ‘ اس پر بھی ویسا ہی پتھر آپڑے گا۔
Ayah 51:36فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین . اور جتنے وہاں ایماندار تھے۔ ہم نے ان کو وہاں سے علیحدہ کردیا۔ سو بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمانوں کا) ہم نے نہیں پایا۔
غَیْرَ بَیْتٍ : یعنی ایک گھر والوں کے سوا ‘ اس سے مراد ہیں حضرت لوط اور آپ کی بیٹیاں۔ اللہ نے پہلے ان کو مؤمن فرمایا پھر مسلم کیونکہ ہر مؤمن مسلم ہوتا ہے۔
Ayah 51:37وترکنا فیھا ایۃ للذین یخافون العذاب الالیم . اور ہم نے اس واقعہ میں (ہمیشہ کے لیے) ایسے لوگوں کے لیے ایک عبرت رہنے دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ آیتہ۔ یعنی وہ پتھر جو ان بستیوں پر گرائے گئے تھے یا وہاں جو پتھر تہ بر تہ ہو کر ڈھیر ہوگئے تھے یا بدبودار سڑا ہوا پانی۔
اَلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ : سے مراد ہیں عبرت حاصل کرنے والے۔
Ayah 51:38وفی موسیٰ اذ ارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین . اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر بھیجا۔
وَفِیْ مُوْسٰٓی : اس کا عطف ترکنا پر ہے یعنی موسیٰ کو بھیجنے میں بھی ہم نے ایک نشان عبرت قائم کیا تھا۔ جیسے محاورہ میں کہا جاتا ہے : و علفتھا تبنًا وماءً باردًا یعنی بھوسہ میں نے اس جانور کو کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ بعض نے کہا اس کا عطف فی الارض پر ہے مگر یہ غیر مناسب ہے۔ اوّل تو فی الارض ‘ فی موسیٰ سے دور ہے دوسرے اس سے اس کی مناسبت نہیں ہے۔
بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ : کھلی ہوئی دلیل۔ یعنی معجزات جیسے عصا ‘ ید بیضاء ‘ قحط ‘ سمندر میں راستے بنا دینا وغیرہ۔
Ayah 51:39فتولی برکنہ و قال سحر او مجنون .
سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ موسیٰ ساحر ہے یا مجنون ہے۔
فَتَوَلّٰی : یعنی فرعون نے ایمان لانے سے اعراض کیا۔ بِرُکْنِہٖ : یعنی اپنے جتھے اور لشکر کے ساتھ۔
وَقَالَ : اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ۔
سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ : جادوگر ہے یا پاگل۔ ابوعبیدہ نے کہا : اس جگہ او بمعنی واؤ ہے یعنی موسیٰ جادوگر اور پاگل ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے معجزات صادر ہوتے ہوئے دیکھ کر آپ کو جادوگر کہا اور چونکہ اس کی بیمار ‘ کور بصیرت والی عقل میں موسیٰ کی دعوت توحید نہیں آتی تھی ‘ اسلئے آپ کو پاگل کہنے لگا (حالانکہ محروم العقل خود تھا ‘ مترجم) اسکے دونوں کلاموں میں باہم تضاد تھا (اگر موسیٰ مجنون تھے تو ساحر کیسے ہوگئے ؟ ساحر تو دانشمند ہوتا ہے اور دانشمند تھے تو مجنون کیسے ہوئے ؟ دانشمند تو مجنون نہیں کہا جاسکتا۔ مترجم)
بیضاوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کے معجزات کو دیکھ کر فرعون نے آپ کو آسیب زدہ سمجھا ‘ پھر سوچنے لگا کہ ان افعال کے اظہار میں موسیٰ کے اپنے اختیار اور کوشش کو دخل ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو یہ جادوگر ہے اور بےختیار ہے تو پاگل ہے۔ وہ فیصلہ نہ کرسکا کہ اظہار معجزات میں موسیٰ ( علیہ السلام) کے ارادے اور اختیار کو دخل ہے یا نہیں ؟
Ayah 51:40فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم و ھو ملیم .
تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا اور اس نے کام ہی ملامت کا کیا تھا۔
فَنَبَذْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ : یعنی ہم نے ان کو دریا میں پھینک کر غرق کردیا۔
وَھُوَ مُلِیْمٌ : یعنی کفر ‘ تکبر اور حق سے عداوت جیسے قابل ملامت افعال کا مرتکب تھا اور مستحق ملامت تھا۔
وفی عاد اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم ما تذر من شی انت علیہ الا جعلتہ کالرمیم .
اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی ‘ وہ جس چیز پر سے گزرتی تھی (اور اس چیز کو تباہ کرنے کا حکم ہوتا تھا) اس کو ریزہ ریزہ ‘ خاک کی طرح کر کے چھوڑتی تھی۔