Adh-Dhaariyat 51:58

Adh-Dhaariyat · from ayah 58

51:58

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ ۟اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ

خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, it is Allah who is the [continual] Provider, the firm possessor of strength.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:58

اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تو خود ہی رزاق ہے، مستحکم قوت والا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اﷲ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے (اسے کسی کی مدد و تعاون کی حاجت نہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ ہی بےحد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلاشبہ اللہ ہی روزی رساں، زور آور، قوت والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اللہ ہی سب کو روزی دینے والا بڑی قوت والا انتہائی زور والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ تو خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے۔ قوت والا ہے مضبوط ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ ہی سب کو رزق دینے والا قوت والا زبردست ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ہی تو رزق دینے والا زور آور اور زبردست ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah is the Bestower of all provision, the Lord of all power, the Strong.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact, Allah is the All-Sustainer, Possessor of power, the Strong.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact, Allah is the All-Sustainer, Possessor of power, the Strong.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah is the All-Provider, Owner of power, the Most Strong.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah! He it is that giveth livelihood, the Lord of unbreakable might.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, it is Allah who is the [continual] Provider, the firm possessor of strength.

— Saheeh International

It is God Who is the Sustainer and the Lord of invincible strength.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah is the Bestower of sustenance, the Lord of Power, the Strong.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah! He is the Provider, Owner of power, Firm.

— Abdul Majid Daryabadi

For Allah is He Who gives (all) Sustenance,- Lord of Power,- Steadfast (for ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 55 اصل میں لفظ " متین " استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں مضبوط اور غیر متزلزل، جسے کوئی ہلا نہ سکتا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ الایة۔ یعنی میں جن و انس کو پیدا کر کے ان سے عام انسانوں کی عادت کے مطابق اپنا کوئی نفع نہیں چاہتا، کہ وہ رزق پیدا کریں، میرے لئے یا اپنے لئے یا میری دوسری مخلوق کے لئے اور یا یہ کہ وہ مجھے کما کر کھلائیں، یہ سب کلام انسان کی عام عادت پر کیا گیا ہے کیونکہ بڑے بڑے انسان جو غلام خریدتا اور اس پر خرچ کرتا ہے تو اس کا مصداق ان غلاموں سے اپنے کام لینا اپنی ضروریات اور کاموں میں مدد لینا اور کمائی کر کے آقا کو دینا ہوتا ہے، حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے پاک اور بالا و برتر ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کو پیدا کرنے سے میرا اپنا کوئی نفع مقصود نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–58

(56۔ 58) دواہم حقیقتوں کا بیان قریش کے لیڈروں سے اعراض کے حکم کے بعد ان آیات میں دو نہایت اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہی۔ اول اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو جو پیدا کیا ہے تو اپنی کسی احتیاج کے لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ہر حال میں ان کی ناز برداری کرتا رہے۔ اس کی سلطنت اپنے بل بوتے پر قائم رہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے پیدا کیا کہ اس کی عبادت و اطاعت کا حق ادا کرکے سعادت و کمال کے مدارج حاصل کریں جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔ اسی مقصد کی یاددہانی کے لئے اس نے اپنے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر اصل حقیقت واضح ہوجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–58

57۔ 1 یعنی میری عبادت و اطاعت سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے کما کر کھلائیں، جیسا کہ دوسرے آقاؤں کا مقصود ہوتا ہے، بلکہ رزق کے سارے خزانے تو خود میرے ہی پاس ہیں میری عبادت و اطاعت سے تو خود ان ہی کا فائدہ ہوگا کہ ان کی آخرت سنور جائے گی نہ کہ مجھے کوئی فائدہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–59

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 57–58

10 یعنی ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں، ان ہی کا نفع ہے۔ میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے میرے لیے کما کر لاؤ یا میرے سامنے کھانا لا کر رکھو۔ میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے۔ میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ تم میری شہنشائی و عظمت وکبریائی کا قولاً فعلاً اعتراف کرکے میرے خصوصی الطاف ومراحم کے مورد مستحق بنو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58{ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔ } ”یقینا اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ‘ قوت والا ‘ زبردست ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 متین کا لغوی مفہوم :۔ متین : متن کے معنی کسی چیز کا اپنی ذات میں مضبوط ہونا اور اس میں صلابت کا پھیل جانا اور حبل متین بمعنی مضبوط رسی، اور اللہ تعالیٰ کے متین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ مضبوط اور غیر متزلزل ہے جسے کوئی ہستی یا کوئی قوت اس کے مقام یا اس کے ارادہ سے ہلا نہیں سکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 57–58

34۔ (نہ یہ کہ کوئی اسے کھلائے پلائے، کوئی اس کا سہارا بن جائے) عبد و معبود، بندہ و خالق کے باہمی تعلق کے باب میں یہ عقیدہ مشرک قوموں میں کثرت سے شائع رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کا کام یہ ہے کہ بندوں کو روزی دے، ان کے لئے پانی برسائے، ان پر ہوا چلائے، انہیں روشنی دے، گرمی پہنچائے، اور بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے آگے نذرانہ پیش کرتے رہیں، اسکے سامنے بھینٹ چڑھاتے رہیں۔ اس کے استھانوں پر چڑھاوے چڑھایں، وہ بھوکا ہو تو یہ اسے کھانے پینے کو دیں وقس علی ھذا۔ قرآن نے آکر اس نظریہ شرک پر ضرب لگائی اور توحید کا نعرہ لگا کر کہا کہ یہ کیا واہیات خرافات ہے۔ اللہ کی ذات پاک ہر قسم کی حاجت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–60

وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اعتراض اول : یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔ اعتراض اول کا پہلا جواب : پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین . ‘ اللہ خود ہی (سب کو) رزق دینے والا ‘ مضبوط قوّت والا ہے۔ ھُوَ الرَّزَّاقُ : یعنی ساری مخلوق کو اللہ ہی رزق پہنچانے والا ہے اور خود رزق سے بےنیاز ہے۔ ذُوالْقُوَّۃِ : رزق پہنچانے پر بلکہ ہر مراد پر بڑی قدرت رکھنے و الا ہے۔ اَلْمَتِیْن : بڑی قدرت والا۔ بعض علماء نے آیت مذکورہ میں لفظ قل کو محذوف قرار دیا ہے اور مطلب اس طرح بیان کیا ہے : ” اے محمد ! آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں سے رزق کا طلبگار نہیں ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کھانا کھلائیں۔ “ آیت : لَا اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا۔ اسی مضمون کی تائید کر رہی ہے۔ ایک شبہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بلکہ اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے بندوں کو رزق پہنچانے والا ہے اور وہ اپنے دشمنوں پر بھی بڑی قوت والا اور ان سے سخت ترین انتقام لینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان اللہ ھو الرزاق ذوالقواۃ المتین :”ھو“ ضمیر فصل لانے سے اور ”الرزاق“ خبر پر ”الف لام“ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا کہ رزاق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ ”الرزاق“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی میں نہ جن و انس سے کسی طرح کا رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، کیونکہ رزق دینے والا تو صرف میں ہوں، میرے سوا کوئی رزق دینے والا ہے ہی نہیں اور میں کھانیپ ینے اور ہر ضرورت سے غنی ہوں، تو میں جن و انس سے رزق کا یا کھلانے کا ارادہ کیوں کروں گا ؟ دوسریج گہ فرمایا :(قل اغیر اللہ اتخذ و لیافاطر السموت والارض وھو یطعم ولایطعم) (الانعام : 13) ”کہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی مالک بناؤں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–60

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] هُوَ الرَّزَّاقُ [ ہی مسلسل رزق دینے والا ہے ] ذُو الْقُوَّةِ [ قوت والا ہے ] الْمَتِيْنُ [ مضبوط ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

پھر فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ 0058﴾ (بلاشبہ اللہ بہت زیادہ رزق دینے والا ہے وہ قوت والا ہے اور نہایت ہی قوت والا ہے) وہی سب کو رزق دیتا ہے اور خوب زیادہ رزق دیتا ہے وہ قوت والا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی قوت والا نہیں پھر بھلا وہ بندوں سے رزق کا کیا امیدوار ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ظالموں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ظالموں کے لیے عذاب کا بڑا حصہ ہے جیسا کہ ان سے پہلے ان جیسے لوگوں کا حصہ تھا لہٰذا عذاب آنے کی جلدی نہ مچائیں کفر کے باعث ان پر عذاب آنا ہی آنا ہے۔ دیر لگنے کی وجہ سے عذاب سے چھٹکارہ نہ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ ” ان اللہ۔ الایۃ “ اللہ تعالیٰ خود ہی ساری مخلوق کا رازق اور سب کی روزی کا کفیل ہے وہ بڑی قوت کا مالک اور صاحب اقتدار ہے۔ ساری مخلوقات کے رزق کی کفالت اس کے لیے معمولی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ ہُوَالرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِيْنُ۝ 58 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 57–58

مَـآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَـآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ۔ (الذریٰت : 57، 58) (میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود ہی رزاق، زورآور اور قوت والا ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس بات کی وضاحت کے بعد کہ جنوں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ انسانوں کی بیشتر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا نہ اسے کھانے پینے کی حاجت ہے۔ وہ صرف اپنی بندگی کا مطالبہ کرتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نہیں اس میں لوگوں کا ہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں لوگوں سے رزق نہیں مانگتا اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ رزق تو سب کو اللہ ہی دینے والا ہے، وہ بڑا طاقتور اور مضبوط ہے۔ عربوں نے زرخرید غلام رکھے ہوتے تھے جو ان کے لیے مزدوری اور مختلف قسم کے کام کرتے اور اس کی مزدوری اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی کہ یہ تمہارا طریقہ ہے کہ تم اپنے غلاموں کی کمائی کھاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 58 : اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ (اللہ تعالیٰ خود ہی سب کو رزق پہنچانے والا ہے۔ قوت والا نہایت ہی قوت والا ہے) القوۃ المتین (نہایت قوت والا) نحو :۔ رفع کے ساتھ یہ ذو کی صفت ہے۔ اعمشنے جر کے ساتھ پڑھا۔ اور القوۃ کی صفت قرار دیا۔ اقتدار کی تاویل پر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

57 ۔” ماارید منھم من رزق “ یعنی وہ میری مخلوق میں سے کسی کو رزق دیں اور یہ کہ وہ خود کو رزق دیں۔ ” وماارید ان یطعمون “ یعنی وہ میری مخلوق میں سے کسی کو کھانا کھلائیں۔ اطعام کی نسبت اپنی طرف کی ہے اس لئے کہ خلق اللہ کا کنبہ ہے اور جو جو کسی کے کنبہ کو کھانا کھلائے تو اس نے اس کو کھانا کھلایا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! میں تجھ سے کھانا مانگا تونے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ یعنی تونے میرے بندوں کو کھانا نہیں کھلایا۔ پھر بیان کیا کہ رزق دینے والا وہی اللہ ہے نہ کہ اس کا غیر۔ پس فرمایا :

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–60

56۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–58

(مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ ) میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج اور ضروریہ اور غیرضروریہ میں اس کی محتاج ہے اسی لیے فرمایا (ان اللہ ھوالرزاق) یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے زمین و آسمان میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو وہ اس کا ٹھکانہ بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے۔ (ذوالقوۃ المتین) ۔ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–59

[ 60] روزی رساں سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے سب کا روزی رساں۔ یعنی متبداء اور خبر چونکہ دونوں معرفہ ہیں۔ اس لئے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا کہ روزی رساں صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کو روزی رساں سمجھنا جائز نہیں۔ مگر کلمہ گو مشرکوں نے اس سب کے باوجود کسی کو داتا بنا رکھا ہے، کسی کو غریب نواز، اور کسی کو سخی سرکار، اور کسی کو کچھ اور وغیرہ وغیرہ، جب کہ قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تصریح کرتی ہیں کہ داتا اور روزی رساں سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو کیا ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:58) الرزاق۔ رزق دینے وال۔ روزی دینے والا۔ رزق سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ امام خطابی کا بیان ہے کہ رزاق وہ ذات ہے جو رزق کا متکفل ہے اور ہر جان قیام کے لئے جس قدر قوت کی ضرورت ہے اس کی بہم پہنچانے والی ہے اس لفظ کا اطلاق بجز ذات باری تعالیٰ کے جائز نہیں ہے۔ ذوالقوۃ المتین : ذو بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے۔ اور اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو پیش کی حالت میں واؤ زیر کی حالت میں الف اور زبر کی حالت میں یاء آتی ہے جیسے ذواذا۔ ذی۔ یہ ہمیشہ مضاف ہوکر استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–60

انسانوں اور جنوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ میں نے جنوں کو اور انسانوں کو فقط اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میرے احکام مانیں، میں نے سب کو اسی کا حکم دیا ہے کہ توحید اختیار کریں۔ آگے فرمایا کہ ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں ان ہی کا نفع ہے، میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے، میرے لیے کماکرلاؤ، یا میرے سامنے کھانالاکر رکھو، میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے، میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں، بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–60

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–60

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) بیشک اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا زور آور اور مضبوط ہے۔ یعنی جب ہم خود ہی سب کو روزی دینے والے ہیں اور خود روزی کے محتاج نہیں تو عبادت میں ہمارے کسی نفع کا تصور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس عبادت میں بندوں ہی کا نفع ہے۔ زور آور مضبوط شاید اس لئے فرمایا کہ جس کو وہ روزی دینا چاہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا نہ اس کی دی ہوئی روزی کو کوئی چھین سکتا ہے۔ رزاق بھی اور ذوالقوۃ المتین بھی۔ رساند رزق بروج ہے کہ شاید بسازو کا رہا نوحے کہ باید بہ روزی بےنوایاں را نوازد بہ رحمت بےکساں را کارسازد

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–60

ف 2۔ حاصل یہ کہ جب اس عبادت کے مشروع کرنے سے ہماری کوئی غرض نہیں بلکہ خود بندوں ہی کا نفع ہے تو ان کو اس میں پس و پیش نہ کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ان ظالموں کا حصہ بھی مقرر ہے جیسا کہ ان کے ساتھیوں کا تھا لیکن وہ جلدی نہ کریں 59 ؎ (ظلموا) ان لوگوں نے کفر ‘ شرک ‘ ‘ نفاق اور دوسری بہت سی معاصی کا ارتکاب کر کے اپنی فطرت سلیمہ کو ضائع کردیا ہے اور بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے جس کا ان کو مکلف بنایا گیا ہے اور جس کی تخلیقی صلاحیتیں ان کو دی گئی ہیں ان کا کفران نعمت کر کے انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ہے اور ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور آخرت سے انکار کر کے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرلیا ہے یقینا ان ظالموں کو بھی ان کا حصہ ملے گا جیسا کہ ان سے پہلے ظالموں کو ملا یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

مَا أُرِ‌يدُ مِنْهُم مِّن رِّ‌زْقٍ (I do not want any sustenance from them, nor do I want them to feed Me...51:57). It means that by creating jinn and mankind, Allah does not stand in need of them, so that they will have to produce sustenance for Him or for themselves or for any of His other creations or that they earn to feed Him. This has been stated according to the general trend of people. The most affluent of men buys a slave and spends on him not for nothing, but he has an underlying purpose: He expects the slaves to work for him, help him in his tasks, fulfill his needs and earn…

Read the full tafseer →