51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا

(1۔ 6) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

اور قسم ہے آسمان کی جو کہ حسن و جمال درستگی اور فرشتوں کے چلنے کے لیے رستوں والا ہے یا یہ کہ جو چاند و سورج اور ستاروں والا ہے یا یہ کہ وہ پانی کی طرح رستوں والا ہے جیسا کہ پانی میں ہوا کی وجہ سے رستے بن جاتے ہیں یا یہ کہ وہ ریت کے اڑنے کی طرح ہے جبکہ اسے ہوا اڑاتی ہے یا یہ کہ وہ گھنگریالے بالوں کی طرح ہے یا یہ کہ وزر ہوں کے خانوں کی طرح ہے یا ذات الحبک سے ساتواں آسمان مراد ہے غرض کہ یہ آخری قسم ہے۔
Ayahs 51:8–9

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

(8۔ 9) قسم کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ والو تم رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کہ تم میں سے بعض تصدیق کرتے ہیں اور بعض تکذیب۔ رسولا کرم اور قرآن سے وہی پھرتا ہے جسے حق و ہدایت ہی سے پھرنا ہوتا ہے۔
Ayahs 51:10–11

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو بیخبر ی میں بھولے ہوئے ہیں

(10۔ 11) اور ولید بن مغیرہ، ابو جہل، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، نبیہ بن حجاج اور منبہ بن حجاج ہے کہ انہوں نے لوگوں کو والے جھوٹی قسمیں کھا کھا کر رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق سے ہٹایا۔ جھوٹ بولنے والے یعنی بنی مخزوم ولید بن صغیرہ اور اس کے ساتھی غارت اور ملعون ہوجائیں گے جو کہ جہالت میں آخرت سے اندھے اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 51:12–13

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

(12۔ 13) اور بنی مخزوم بطور مذاق پوچھتے ہیں کہ اے محمد وہ قیامت کا دن کب ہوگا جس میں عذاب دیا جائے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس روز یہ لوگ آگ میں جلائے جائیں گے یا یہ کہ آگ پر رکھے جائیں گے یا یہ کہ ان کو دوزخ میں عذاب دیا جائے گا یا یہ کہ یہ لوگ دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے۔
Ayah 51:14

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اب اپنی شرارت کا مزا چکھو یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے

تب وہاں کے محافظ انہیں کہیں گے کہ اپنے جلنے بھننے کا اور عذاب کا مزہ چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کی تم دنیا میں جلدی مچایا کرتے تھے۔
Ayahs 51:15–18

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

(اور) جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

(15۔ 18) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کا مقام بیان فرمتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے باغوں اور پاکیزہ پانی کے چشموں میں ہوں گے اور جنت میں ان کے پروردگار نے جو انہیں اجر وثواب عطا کیا ہوگا اس سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے یا یہ کہ دنیا میں ان کے پروردگار نے جو ان کو حکم دیا تھا اس کی کمال کے ساتھ تعمیل کرنے والے ہوں گے اور کیوں نہ ہوں وہ اس ثواب اور درجات کی بلندی سے پہلے بھی دنیا میں قول فعل سے نیکوکار تھے، رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں خوب نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
Ayahs 51:19–21

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت) سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

(19۔ 20) اور ان کے مال میں سوالی اور غیر والی سب کا حق تھا اور محروم ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم ہوگیا ہو یا یہ کہ محروم سے وہ پیشہ ور آدمی مراد ہے جس کا ذریعہ معاش بہت تنگ ہو اور ایک دن کی روزی بھی اسے میسر نہ ہو۔ شان نزول : وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا تو اسے فتح اور خوب غنیمت حاصل ہوئی اس لشکر کے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسری قوم آئی تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں زمین کی کائنات میں بہت سی نشانیاں ہیں جیسا کہ درخت جانور پہاڑ اور سمندر وغیرہ اور خود تمہاری ذات میں بھی نشانیاں ہیں جیسا کہ امراض درد اور قسم قسم کی مصیبتیں یہاں تک کہ صرف ایک رستہ سے کھاتا ہے اور دو مقامات سے اس کے فضلہ کا اخراج کرتا ہے کیا تم نہیں سمجھتے کہ اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں اس میں غور کرو اور آسمان سے تمہارا رزق یعنی بارش آتی ہے اور وہیں جنت موجود ہے یا یہ کہ آسمان کے پروردگار کے ذمہ تمہیں رزق پہنچانا ہے اور جو تم سے ثواب و عتاب کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 51:22–23

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

(22۔ 23) سو قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی کہ تم سے جو رزق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ حق ہے اور ایسا یقینی جیسا کہ تم کلمہ طیبہ پڑھتے ہو۔
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہونچی ہے ؟

اے محمد کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کی جن کی بھنے ہوئے بچھڑے سے مہمان نوازی کی گئی تھی آپ تک حکایت پہنچی ہے۔
Ayahs 51:25–26

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

(25۔ 26) جبکہ وہ یعنی جبریل امین اور فرشتے یا یہ کہ بارہ فرشتے اور ان کے پاس آئے اور آکر ابراہیم کو سلام کیا ابراہیم نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور کیونکہ ان کو پہچانا نہیں اور اس سرزمین میں یہ طریقہ سلام رائج تھا تو کہنے لگے انجان لوگ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور اپنے مہمانوں کے پاس ایک فربہ بچھڑا پکا ہوا لے کر آئے اور اس بچھڑے کو اپنے مہمانوں کے سامنے لاکر رکھا۔
Ayah 51:27

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

(اور کھانے کے لئے) انکے آگے رکھ دیا کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے ؟

مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو ابراہیم نے فرمایا تم لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے ْ
Ayah 51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

جب پھر بھی انہوں نے نہ کھایا تو ان سے ابراہیم دل میں خوف زدہ ہوئے اور سمجھے کہ کہیں یہ دشمن نہ ہوں کیونکہ اس زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے ساتھی کا کھانا کھا لیتا تھا وہ اس سے مطمئن ہوجاتا تھا غرض کہ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم کے خوف کو محسوس کیا تو وہ بولے ابراہیم آپ ہم سے ڈریے مت ہم آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرزند کی بشارت دی جو بچپن ہی سے بڑا عالم اور بڑھاپے میں بڑا حلیم اور عظیم المرتبت ہوگا یعنی اسحاق علیہ السلام۔
Ayahs 51:29–30

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو ابراہیم کی بیوی چلاتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے وہ بیشک صاحب حکمت (اور) خبردار ہے

(29۔ 30) اتنے میں یہ گفتگو کہیں سے سن کر ان کی بیوی حضرت سارہ پکارتی آئیں اور تعجب سے اپنے ماتھے اور چہرے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں اول تو بڑھیا پھر بانچھ اس وقت بچہ پیدا ہونا بھی عجیب ہے، حضرت جبریل اور ان کے ساتھ والے کہنے لگے اے سارہ جیسا ہم نے تم سے بیان کیا ہے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے وہ بانجھ اور غیر بانجھ کے لیے لڑکے کا حکم دیتا ہے اور جو تم سے پیدا ہونے والا ہے وہ اس سے واقف ہے۔
Ayahs 51:31–36

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی

اور وہ گھر لوط اور ان کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور زنتا کا تھا اور ہم نے قوم لوط کی بستیوں کی ہلاکت میں ایسے لوگوں کے لیے ایک عبرت رہنے دی جو آخرت میں دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں اور ان کے افعال کی پیروی نہیں کرتے۔
Ayahs 51:38–39

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب نے ہم اس کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے اپنی قوت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

(38۔ 39) اور موسیٰ کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس واضح دلیل یعنی عصا اور ید بیضا دے کر بھیجا تو فرعون نے مع اپنے تمام لشکر کے اس معجزہ اور موسیٰ پر ایمان لانے سے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ جادوگر یا مجنوں ہیں۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

سو ہم نے اس کو اور اس کے تمام لشکر کو پکڑ کر دریا میں غرق کردیا اور وہ اللہ کی جانب سے مبغوض تھا خود اپنے آپ ہی کو ملامت کر رہا تھا۔