Adh-Dhaariyat 51:57

Adh-Dhaariyat · from ayah 57

51:57

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ۟مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ

میں ان سے طالب رزق نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:57

میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں ان سے طالب رزق نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں ان سے کسی قسم کا رزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ میں اُن سے رِزق (یعنی کمائی) طلب کرتا ہوں اور نہ اس کا طلب گار ہوں کہ وہ مجھے (کھانا) کھلائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں ان سے رزق نہیں چاہتا نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ میں ان سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ رزق کا سامان کریں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ تو میں ان سے کوئی روزی چاہتا ہوں اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں

— مولانا اسحاق مدنی

میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلایا کریں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں پلائیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں ان سے رزق طلب کرنے والا نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھانا کھلائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I desire from them no provision, nor do I want them to feed Me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I do not want any sustenance from them, nor do I want them to feed Me.

— Muhammad Taqi Usmani

I do not want any sustenance from them, nor do I want them to feed Me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

I seek not any provision from them nor do I ask that they should feed Me.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I seek no livelihood from them, nor do I ask that they should feed Me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.

— Saheeh International

I do not expect to receive any sustenance from them or that they should feed Me.

— Muhammad Sarwar

I do not desire from them any sustenance and I do not desire that they should feed Me.

— Muhammad Habib Shakir

I seek not any provision from them, nor I desire that they should feed Me.

— Abdul Majid Daryabadi

No Sustenance do I require of them, nor do I require that they should feed Me.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 54 یعنی میری کوئی غرض جنوں اور انسانوں سے اٹکی ہوئی نہیں ہے کہ یہ میری عبادت کریں گے تو میری خدائی چلے گی اور یہ میری بندگی سے منہ موڑ لیں گے تو میں خدا نہ رہوں گا۔ میں ان کی عبادت کا محتاج نہیں ہوں بلکہ میری عبادت کرنا خود ان کی اپنی فطرت کا تقاضا ہے، اسی کے لیے یہ پیدا کیے گئے ہیں، اور اپنی فطرت سے لڑنے میں ان کا اپنا نقصان ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ " میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں "، اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ خدا سے برگشتہ لوگ دنیا میں جن جن کی بندگی بجا لا رہے ہیں، وہ سب در حقیقت اپنے ان بندوں کے محتاج ہیں۔ یہ ان کی خدائی نہ چلائیں تو ایک دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ الایة۔ یعنی میں جن و انس کو پیدا کر کے ان سے عام انسانوں کی عادت کے مطابق اپنا کوئی نفع نہیں چاہتا، کہ وہ رزق پیدا کریں، میرے لئے یا اپنے لئے یا میری دوسری مخلوق کے لئے اور یا یہ کہ وہ مجھے کما کر کھلائیں، یہ سب کلام انسان کی عام عادت پر کیا گیا ہے کیونکہ بڑے بڑے انسان جو غلام خریدتا اور اس پر خرچ کرتا ہے تو اس کا مصداق ان غلاموں سے اپنے کام لینا اپنی ضروریات اور کاموں میں مدد لینا اور کمائی کر کے آقا کو دینا ہوتا ہے، حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے پاک اور بالا و برتر ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کو پیدا کرنے سے میرا اپنا کوئی نفع مقصود نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–58

(56۔ 58) دواہم حقیقتوں کا بیان قریش کے لیڈروں سے اعراض کے حکم کے بعد ان آیات میں دو نہایت اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہی۔ اول اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو جو پیدا کیا ہے تو اپنی کسی احتیاج کے لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ہر حال میں ان کی ناز برداری کرتا رہے۔ اس کی سلطنت اپنے بل بوتے پر قائم رہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے پیدا کیا کہ اس کی عبادت و اطاعت کا حق ادا کرکے سعادت و کمال کے مدارج حاصل کریں جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔ اسی مقصد کی یاددہانی کے لئے اس نے اپنے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر اصل حقیقت واضح ہوجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–58

57۔ 1 یعنی میری عبادت و اطاعت سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے کما کر کھلائیں، جیسا کہ دوسرے آقاؤں کا مقصود ہوتا ہے، بلکہ رزق کے سارے خزانے تو خود میرے ہی پاس ہیں میری عبادت و اطاعت سے تو خود ان ہی کا فائدہ ہوگا کہ ان کی آخرت سنور جائے گی نہ کہ مجھے کوئی فائدہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–59

ما ارید ........ المتین (15 : 85) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 57–58

10 یعنی ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں، ان ہی کا نفع ہے۔ میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے میرے لیے کما کر لاؤ یا میرے سامنے کھانا لا کر رکھو۔ میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے۔ میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ تم میری شہنشائی و عظمت وکبریائی کا قولاً فعلاً اعتراف کرکے میرے خصوصی الطاف ومراحم کے مورد مستحق بنو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57{ مَــآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ } ”میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا“ { وَّمَــآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ۔ } ”اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں ‘ پلائیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 اہل عرب غلاموں کی کمائی کھاتے تھے اور اللہ اپنے بندوں کو کھلاتا ہے :۔ دور نبوی کے عرب معاشرہ میں غلام رکھنے کا رواج تھا اور مالک ان سے اپنی خدمت ہی نہیں لیتے تھے بلکہ انہیں کمائی کے لیے بھیجتے اور ان کی کمائی کھاتے تھے۔ گویا غلام ہی ان کا سرمایہ تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے اتنا ہی وہ زیادہ مالدار سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں اس کی مثال فیکٹری سے دی جاسکتی ہے۔ ایک فیکٹری میں اگر دس ملازم ہیں اور دوسری میں سو ہیں تو سو ملازموں کی فیکٹری کا مالک یقیناً زیادہ سرمایہ دار اور مالدار سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمام انسان اور جن میرے بندے اور غلام ہیں۔ لیکن میں ان کی کمائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 57–58

34۔ (نہ یہ کہ کوئی اسے کھلائے پلائے، کوئی اس کا سہارا بن جائے) عبد و معبود، بندہ و خالق کے باہمی تعلق کے باب میں یہ عقیدہ مشرک قوموں میں کثرت سے شائع رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کا کام یہ ہے کہ بندوں کو روزی دے، ان کے لئے پانی برسائے، ان پر ہوا چلائے، انہیں روشنی دے، گرمی پہنچائے، اور بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے آگے نذرانہ پیش کرتے رہیں، اسکے سامنے بھینٹ چڑھاتے رہیں۔ اس کے استھانوں پر چڑھاوے چڑھایں، وہ بھوکا ہو تو یہ اسے کھانے پینے کو دیں وقس علی ھذا۔ قرآن نے آکر اس نظریہ شرک پر ضرب لگائی اور توحید کا نعرہ لگا کر کہا کہ یہ کیا واہیات خرافات ہے۔ اللہ کی ذات پاک ہر قسم کی حاجت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–60

وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اعتراض اول : یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔ اعتراض اول کا پہلا جواب : پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما ارید منھم من رزق وما ارید ان یطعمون میں ان سے (مخلوق کو) رزق (رسانی) کی درخواست نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کچھ کھلایا کریں مَآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ..... مقصد یہ ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں سے تعلق ایسا نہیں ہے جیسے دوسرے آقاؤں کا اپنے غلاموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ آقا چاہتے ہیں کہ ان کے غلام ان کو کما کر کھلائیں۔ ان کے مالک ہونے کی یہی غرض ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ سے کمائی کرائیں اور خود لے لیں۔ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میں بندوں سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ دو سروں کو یا خود اپنے آپ کو رزق پہنچائیں یا میری مخلوق میں سے کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

میں نے ان کو اس چیز کا مکلف نہیں بنایا کہ وہ اپنی روزیوں کا انتظام کیا کریں یا ان ہی کو رزق رسانی میں وہ میری مدد کیا کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(مار ارید منھم من رزق …: یہ کلام انسان کی عام عادت کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ انسان جو کچھ بناتا ہے اپنے کسی فائدے کے لئے بناتا ہے اور جو غلام خریدتا اور پانی ملکیت میں رکھتا ہے اس سے مقصد اپنی ضروریات کے لئے ان سے کام لینا اور ان کی کمائی کھانا ہوتا ہے۔ فرمایا جن و انس سے نہ میں کسی طرح کا رزق چاہتا ہوں اور نہ میرا یہ مقصد ہے کہ وہ مجھے کھانے کو کچھ دیں۔ ان کے پیدا کرنے سے میرا اپنا کوئی نفع مقصود نہیں، میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ میری بندگی کریں، میرے غلام بن کر رہیں اور اس میں انھی کا فائدہ ہے۔ آیت میں اپنے لئے پہلے رزق کی نفی کی جس میں انسان کی ہر ضورت آتی ہے۔ اس کے بعد رقز میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–60

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ [ میں نہیں چاہتا ان سے ] مِّنْ رِّزْقٍ [ کوئی بھی رزق ] وَّمَآ اُرِيْدُ [ اور میں نہیں چاہتا ] اَنْ يُّطْعِمُوْنِ [کہ وہ کھلائیں مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوسری آیت میں فرمایا کہ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلائیں اس میں شان بےنیازی کا اظہار فرمایا کہ جس طرح دنیا والے اپنے غلاموں سے کسب اور کمائی چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ ہمیں کما کردیں تاکہ ہمارا رزق کا کام چلے یہ صرف اہل دنیا کی اپنی خواہش اور تقاضے ہیں میں نے جو جن اور انس کو عبادت کا حکم دیا ہے اس میں میرا کوئی فائدہ نہیں میں ان سے رزق کا امیدوار نہیں ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

19:۔ ” وما خلقت “ یہ ماقبل کی علت ہے یعنی ان کو پند و نصیحت کرنا اور دعوت توحید دینا اس لیے ہے کہ ان کو اور ان کے علاوہ جنوں کو میں نے پیدا ہی اس لیے کیا ہے تاکہ وہ میری اطاعت کریں اور میری عبادت بجا لائیں اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ بنائیں۔ ان کی ٹخلیق میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہی تھا۔ ” ما ارید منہم “ ان کے پیدا کرنے سے میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ میں تحصیل رزق اور کسب معاش میں ان سے تعاون حاصل کروں جس طرح دنیوی آقاؤں کا دستور ہے میں تو رزق و معیشت سے بےنیاز ہوں (کشاف، بحر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا تاکہ وہ اپنی اور میری دوسری مخلوق کے رزق و معاش کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اُرِيْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ۝ 57 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 57–58

مَـآ اُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَـآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ۔ (الذریٰت : 57، 58) (میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود ہی رزاق، زورآور اور قوت والا ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس بات کی وضاحت کے بعد کہ جنوں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ انسانوں کی بیشتر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا نہ اسے کھانے پینے کی حاجت ہے۔ وہ صرف اپنی بندگی کا مطالبہ کرتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نہیں اس میں لوگوں کا ہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں لوگوں سے رزق نہیں مانگتا اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ رزق تو سب کو اللہ ہی دینے والا ہے، وہ بڑا طاقتور اور مضبوط ہے۔ عربوں نے زرخرید غلام رکھے ہوتے تھے جو ان کے لیے مزدوری اور مختلف قسم کے کام کرتے اور اس کی مزدوری اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی کہ یہ تمہارا طریقہ ہے کہ تم اپنے غلاموں کی کمائی کھاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 57 : مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ (میں ان سے رزق رسائی کی درخواست نہیں کرتا) میں نے ان کو اس لئے نہیں بنایا کہ وہ اپنے نفسوں کو رزق پہنچائیں۔ یا میرے بندوں میں سے کسی کو رزق پہنچائیں۔ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ (کہ وہ مجھ کو کھلایا کریں) قولِ ثعلب نحوی : ای یطعموا عبادی۔ یہ اضافت تخصیص ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد میں جو کہ حدیث قدسی ہے۔ من اکرم مؤمنا فقدا کرمنی۔ ومن اٰذی مؤمنا فقد آذانی۔ (فیض القدیر۔ 8517) جس نے کسی مومن کا اکرام کیا اس نے میرا اکرام کیا اور جس نے کسی مومن کو ایذاء دی اس نے مجھے ایذاء دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

56 ۔” وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون “ کلبی، ضحاک اور سفیان رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں فریقوں میں سے اہل طاعت کے ساتھ خاص ہے۔ اس پر ابن عباس ؓ کی قرات دلالت کرتی ہے۔ ” وما خلقت الجن والانس، من المومنین الا لیعبدون “ پھر دوسری آیت میں فرمایا ” ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس “ اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں میں سے نیک بختوں کو نہیں پیدا کیا مگر اپنی عبادت کے لئے اور ان میں سے بدبختوں کو اپنی معصیت کے لئے اور یہ زید بن اسلم کے قول کا معنی ہے۔ فرمایا وہ لوگ اسی پر ہیں جو ان کی طبیعت بنائی گئی شقاوت وسعادت کی۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں ” الا لیعبدون…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–60

56۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–58

(مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ ) میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج اور ضروریہ اور غیرضروریہ میں اس کی محتاج ہے اسی لیے فرمایا (ان اللہ ھوالرزاق) یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے زمین و آسمان میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو وہ اس کا ٹھکانہ بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے۔ (ذوالقوۃ المتین) ۔ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 59] بندوں کی اصل ذمہ داری عبادت و بندگیئِ خداوندی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندوں کی اصل ذمہ داری عبادت و بندگیئِ خداوندی ہے۔ چناچہ ارشادد فرمایا گیا کہ نہ میں ان سے کوئی روزی چاہتا ہوں اور نہ ان سے یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں۔ کہ مجھے ان میں سے کسی بھی چیز کی نہ کوئی ضرورت ہے، نہ حاجت۔ پس بندوں کے ذمے میری عبادت ہے اور میرے ذمے ان کی روزی۔ سبحان اللّٰہ !۔ کیسی صاف وصریح اور واضح تقسیم ہے کہ بندے کے ذمے اصل فریضہ اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنا اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانا ہے، اور اس کی روزی کا انتظام اللہ پاک خود فرمائے گا سبحانہ وتعالیٰ لیکن افسوس کہ بندوں کی اکثریت نے آج…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی ان کو عبادت کا حکم دینے میں میرا اپنا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ انہی کے قائدہ کے لئے ہے اور یہ جو فرمایا کہ میں ان سے روزی اور کمائی نہیں چاہتا تو اس سے مقصود اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ بندوں سے میرا تعلق دنیا میں ان آقائوں کی طرح کا نہیں ہے جن کی عیش و بسر ہی نوکروں کی کمائی کے سہارے پر ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ بندوں سے کچھ وصول کرنے کی بجائے ان کو روزی بھی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:57) ما ارید، مضارع منفی، واحد متکلم ۔ اراو یرید ارادۃ (افعال) مصدر ردود مادہ۔ میں نہیں چاہتا ہوں، میں طلب نہیں کرتا ہوں۔ من رزق : من بیانیہ ہے۔ میں ان سے کوئی رزق طلب نہیں کرتا ہوں۔ وما ارید ان یطعمون : واؤ عاطفہ۔ ما ارید مضارع منفی واحد متکلم۔ ان مصدریہ ۔ یطعمون : ای لطعموننی اور نہ میں یہ طلب کرتا کہ وہ مجھے کھلائیں ۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا وھو یطعم ولا یطعم (6:14) اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–60

انسانوں اور جنوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ میں نے جنوں کو اور انسانوں کو فقط اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میرے احکام مانیں، میں نے سب کو اسی کا حکم دیا ہے کہ توحید اختیار کریں۔ آگے فرمایا کہ ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں ان ہی کا نفع ہے، میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے، میرے لیے کماکرلاؤ، یا میرے سامنے کھانالاکر رکھو، میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے، میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں، بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–60

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–60

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) میں ان سے رزق رسائی کی خواہش نہیں کرتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ککھانا کھلایا کریں۔ یعنی میری یہ خواہش نہیں کہ تم میری مخلوق کو رزق بانٹتے پھرو نہ میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ مجھ کو کھانا کھلایا کرو غرض نہ مخلوق کی رزق رسائی ان کے سپرد ہے نہ میں غذا کا اور کھانے کا محتاج ہوں اور یہ کیوں ہوتا ہے جبکہ میں خود ہی سب کو روزی دینے والا ہوں چناچہ فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 56–57

ف 1۔ حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مجھ کو مطلوب شرعی ان سے عبادت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں 57 ؎ گزشتہ آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ” میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے “ اس کی مزید وضاحت اس زیر نظر آیت نے کردی ہے وہ اس طرح کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ کوئی اس کی عبادت کرے اور ظاہر ہے کہ ضرورت احتیاج کی نشاندہی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو کسی کی احتیاج ہے بلکہ اس کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مکلف مخلوق کے فرائض میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی دوسرے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

مَا أُرِ‌يدُ مِنْهُم مِّن رِّ‌زْقٍ (I do not want any sustenance from them, nor do I want them to feed Me...51:57). It means that by creating jinn and mankind, Allah does not stand in need of them, so that they will have to produce sustenance for Him or for themselves or for any of His other creations or that they earn to feed Him. This has been stated according to the general trend of people. The most affluent of men buys a slave and spends on him not for nothing, but he has an underlying purpose: He expects the slaves to work for him, help him in his tasks, fulfill his needs and earn…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54 That is, "I do not stand in need of any kind of help from the jinn and men: that My Godhead would not function if they did not worship Me: that I would be no more God if they turned away from My service. I indeed do not stand in need of their service, but it is the demand of their own nature that they should serve Me. They have been created for this very object, and fighting nature would be to their own detriment." And in saying: "I do not ask any sustenance of them nor do I ask them to feed Me," there is a subtle hint to this Those whom the people who have turned away from God worship in…

Read the full tafseer →