Adh-Dhaariyat 51:56

Adh-Dhaariyat · from ayah 56

51:56

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۟وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:56

میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا اور کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں نے تو جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

۔ } اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ میری عبادت کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

I created the jinn and humans for nothing else but that they may serve Me;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I did not create the Jinns and the human beings except for the purpose that they should worship Me.

— Muhammad Taqi Usmani

I did not create the Jinns and the human beings except for the purpose that they should worship Me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And I created not the Jinn and mankind except that they should worship Me.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I created the jinn and humankind only that they might worship Me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.

— Saheeh International

We have created jinn and human beings only that they might worship Me.

— Muhammad Sarwar

And I have not created the jinn and the men except that they should serve Me.

— Muhammad Habib Shakir

And have not created the Jinn and mankind but that they should worship Me.

— Abdul Majid Daryabadi

I have only created Jinns and men, that they may serve Me.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 53 یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری بندگی تو ان کو اس لیے کرنی چاہیے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اس کی بندگی کریں، اور ان کے لیے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ بندگی کرتے پھریں دوسروں کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف جنوں اور انسانوں ہی کا خالق تو نہیں ہے۔ بلکہ سارے جہان اور اس کی ہر چیز کا خالق ہے، پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے ان کو اپنے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور میں نے جن اور انسان کو (دراصل) اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں (اور تبعاً و تکمیلاً للعبادة جن وانس کی پیدائش پر دوسرے منافع کا مرتب ہونا اس کے منافی نہیں اور اسی طرح بعض جن و انس سے عبادت کا صادر نہ ہونا بھی اس مضمون کے منافی نہیں، کیونکہ حاصل اس لیعبدون کا ارادہ تشریعیہ ہے یعنی ان کو عبادت کا حکم دینا نہ کہ ارادہ تکوینیہ یعنی عبادت پر مجبور کرنا اور تخصیص جن و انس کی اس لئے ہے کہ عبادت سے مراد عبادت بالاختیار و ابتلاء ہے اور ملائکہ میں اگرچہ عبادت ہے ابتلاء نہیں اور دوسری مخلوقات حیوانات و نباتات وغیرہ میں اختیار نہیں، حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مجھ کو مطلوب شرعی ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–58

(56۔ 58) دواہم حقیقتوں کا بیان قریش کے لیڈروں سے اعراض کے حکم کے بعد ان آیات میں دو نہایت اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہی۔ اول اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو جو پیدا کیا ہے تو اپنی کسی احتیاج کے لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ہر حال میں ان کی ناز برداری کرتا رہے۔ اس کی سلطنت اپنے بل بوتے پر قائم رہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے پیدا کیا کہ اس کی عبادت و اطاعت کا حق ادا کرکے سعادت و کمال کے مدارج حاصل کریں جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔ اسی مقصد کی یاددہانی کے لئے اس نے اپنے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر اصل حقیقت واضح ہوجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5 6 ۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب و مطلوب ہے کہ تمام انس وجن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادہ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت و اطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت باز پرس ہوگی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما خلقت ........ المتین (85) (15 : 65 تا 85) ” میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست “۔ یہ چھوٹی سی آیت دراصل ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے۔ یہ اس کائنات کی وہ عظیم حقیقت ہے کہ جہاں انسان کی زندگی اس پر عمل کرنے کے سوا درست نہیں ہوسکتی۔ خواہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہو یا عالمی زندگی اور ہر دور میں یہ حقیقت اپنی جگہ سچی رہی ہے اور رہے گی۔ یہ عظیم حقیقت عالم انسانیت کے نہایت اہم گوشے اور خفیہ معانی پر کھلتی ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ان کے پیدا کرنے سے شرعاً بندگی مطلوب ہے۔ اسی لیے ان میں خلقۃً ایسی استعداد رکھی ہے کہ چاہیں تو اپنے اختیار سے بندگی کی راہ پر چل سکیں یوں ارادہ کونیہ قدریہ کے اعتبار سے تو ہر چیز اس کے حکم تکوینی کے سامنے عاجز اور بےبس ہے۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب سب بندے اپنے ارادہ سے تخلیق عالم کی اس غرض شرعی کو پوراکریں گے بہرحال آپ ﷺ سمجھاتے رہیے کہ سمجھانے سے ہی یہ مطلوب شرعی حاصل ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ } ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔“ شیخ سعدی رح نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی ! یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 عبادت کا وسیع مفہوم :۔ ساری کائنات میں جن اور انسان ہی تکالیف شرعیہ کی مکلف مخلوق ہے۔ ان کو میں نے دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے کہ میں ہی ان کا خالق ہوں۔ اب اگر یہ مجھے اپنا خالق تسلیم کرنے کے باوجود بندگی دوسروں کی کرنے لگیں تو ان کی حماقت کی کوئی حد ہے ؟ اور دوسرے جب وہ خالق ہی نہیں تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ بندگی کے مستحق یا معبود بن بیٹھیں۔ واضح رہے کہ عبادت کا مفہوم محض ارکان اسلام کی بجا آوری نہیں ہے جیسا کہ عوام میں مشہور ہوچکا ہے۔ بلکہ غلام ہر وقت اپنے مالک کا غلام ہے۔ اگر مالک نے کچھ کاموں پر اس کی ڈیوٹی لگا دی ہے تو اس کا یہ مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ عبادت۔ سے یہاں مراد فقہ کی کتاب العبادات والی عبادت پنجگانہ مراد نہیں۔ بلکہ اپنے وسیع وعام مفہوم میں طلب رضاء الہی کے مرادف مراد ہے۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ ساری عبادتوں کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں ایک امر الہی کی تعظیم، دوسرے خلق اللہ پر شفقت ..... دوسرے لفظوں میں حقوق اللہ کی ادائی، حقوق العباد کی ادائی۔ ماالعبادۃ التی خلق الجن والانس لھا قلنا التعظیم لامر اللہ والشفقۃ علی خلق للہ فان ھذین النوعین لم بخل شرع منھما (کبیر) (آیت) ” الجن والانس “۔ مخلوقات میں یہ دو قسمیں ایسی ہیں جن میں خالق نے پورا احساس ذمہ داری رکھ دیا ہے۔ اور ان کے اندر ابتلاء واختیار دونوں کی صلاحیتیں جمع کردی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–60

وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون یعنی ہم نے جنات اور انسان کو محض عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس میں ظاہر نظر میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب اجمالی طور پر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان ہوچکا ہے اس کی مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اعتراض اول : یہ ہے کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی مشیت بھی یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن اور محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشئیت کے خلاف کوئی کام محال ہے۔ اعتراض اول کا پہلا جواب : پہلے اشکار کے جواب میں بعض مفسرین نے اس مضمن کو صرف مومنین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما خلقت الجن والانس الا لیعبدون . اور میں نے جن اور انسان کو اسلئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔ ایک شبہ ظاہر آیت کا اقتضاء ہے کہ اللہ کی مراد یہی ہے کہ جن و انس اس کی طاعت کریں اور فرمانبردار ہوں اور مراد خداوندی کے خلاف کچھ ہو نہیں سکتا۔ پھر بہت سے جن و انس کیوں کفر و شرک کرتے ہیں اور کیسے نافرمان ہوسکتے ہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے حضرت علی ؓ نے آیت کا تفسیری ترجمہ اس طرح کیا ہے ‘ میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا ‘ مگر صرف اس لیے کہ ان کو اپنی عبادت کا حکم دوں۔ یعنی اپنے احکام کو مکلّف بناؤں۔ اسی مفہوم کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : وَمَآ اُمِرُوْٓا الاَّ لِیَعْبُدُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور میں نے جن و انسان کو دراصل اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری اطاعت کیا کریں یہ حکم صرف اہل اطاعت کے لیے خاص ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر ان کو صرف عبادت ہی کے لیے پیدا کیا جاتا تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے (تو مطلب یہ ہے) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ اللہ نے جن و انس دراصل اس لیے پیدا کیے ہیں کہ انہیں اپنی عبادت کا حکم دے اور اپنا مکلف بنائے یا یہ مطلب ہے کہ ان کو اس بات کا حکم دے کہ وہ توحید الہی کے قائل ہوں گے اور صرف اسی کی عبادت کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وما خلقت الجن و الانس الالیعبدون : اس آیت میں بتایا کہ نصیحت کیا کرنی ہے اور کون سی بات یاد دلانی ہے۔ فرمایا انہیں یاد دلاؤ کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (2) عبادت کا معنی بندگی ہے۔ غلام کو عربی میں عبد اور فاسری میں بندہ کہتے ہیں۔ عبادت وہ تعلق ہے جو غلام کا اپنے مالک یا عبد کا اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے۔ (3) کائنات کی ہر چیز رب تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، سکیک ی مجال نہیں کہ ذرہ برابر سرتابیک ر سکے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ”کن“ کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس ارادے کو ارادہ کونیہ اور اس حکم کو تکوینی حکم کہتے ہیں، فرمایا :(انما امرہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–60

وماخلقت الجن والا نس الا لیعبدون، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشاد ان کو خاص ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لفظ عام ذکر کیا اور مراد خاص ہے۔ معنی ہے میں نے جن وانس میں سے اہل سعادت کو پیدا نہیں کیا مگر اسی لئے کہ وہ میری توحید کا قرار کریں۔ قشیری نے کہا : آیت میں تخصیص قطعی طور پر داخل ہے کیونکہ مجنوں اور بچوں کو عبادت کا حکم نہیں دیا گیا یہاں تک کہ یہ بات کہی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عبادت کا ارادہ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس (الاعراف :179) جو لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ عبادت کیلئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–60

7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' (اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ) ۔ ان کو چاہئے کہ وہ عبودیت کا اقر ار کریں خوشی سے یا ناخوشی سے۔ 8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا اپنی اطاعت معصیت اور بدبختی اور نیک بختی پر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت ) '' وما خلقت الجن والانس الالیعبدون '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو شقاوت اور سعادت میں سے کسی پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا خَلَقْتُ [ اور میں نے نہیں پیدا کیا ] الْجِنَّ وَالْاِنْسَ [ جنوں کو اور انسانوں کو ] اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ [ سوائے اس کے کہ وہ بندگی کریں میری ] نوٹ۔ 4: آیت ۔ 56 ۔ کی مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کی تخلیق اس انداز پر کی ہے کہ ان میں عبادت کرنے کی استعداد اور صلاحیت ہو ۔ چناچہ ہر جن وانس کی فطرت میں یہ استعداد قدرتی طور پر موجود ہے ۔ پھر کوئی اس استعداد کو صحیح مصرف میں خرچ کرکے کامیاب ہوتا ہے اور کوئی اس استعداد کو اپنی خواہشات میں ضائع کردیتا ہے ۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنادیتے ہیں یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے وہ بڑا رزق دینے والا ہے کسی سے رزق کا طالب نہیں یہ پانچ آیات ہیں پہلی آیت میں نہایت واضح طور پر ارشاد فرما دیا کہ ہم نے جنات کو اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں جنہیں عقل اور فہم سے نوازا ہے ان میں فرشتے بھی ہیں اور جنات و انسان بھی ہیں، انسان اور جنات کا اختیار اور اقتدار بھی بہت زیادہ ہے۔ ان دونوں قوموں کے لیے فرمایا کہ ہم نے انہیں صرف اپنی دعبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن ان میں عبادت کرنے والے کم ہیں شر اور شرارت اور سرکشی والے زیادہ ہیں حالانکہ انہی کا سب سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

19:۔ ” وما خلقت “ یہ ماقبل کی علت ہے یعنی ان کو پند و نصیحت کرنا اور دعوت توحید دینا اس لیے ہے کہ ان کو اور ان کے علاوہ جنوں کو میں نے پیدا ہی اس لیے کیا ہے تاکہ وہ میری اطاعت کریں اور میری عبادت بجا لائیں اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ بنائیں۔ ان کی ٹخلیق میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہی تھا۔ ” ما ارید منہم “ ان کے پیدا کرنے سے میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ میں تحصیل رزق اور کسب معاش میں ان سے تعاون حاصل کروں جس طرح دنیوی آقاؤں کا دستور ہے میں تو رزق و معیشت سے بےنیاز ہوں (کشاف، بحر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا تاکہ وہ اپنی اور میری دوسری مخلوق کے رزق و معاش کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۝ 56 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے جِنّ ( شیطان) والجِنّ يقال علی وجهين : أحدهما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 56) (میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ ) جن و انس کا مقصد تخلیق گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت کی گئی تھی کہ جو لوگ آپ کی مخالفت کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں اور کسی طرح بھی آپ کی بات سننے کے روادار نہیں تھے اور آپ کی خیرخواہی اور دلسوزی کو حماقت اور جنون کا نام دیتے ہیں۔ اپنی تبلیغی مساعی کے لیے انھیں موضوع اور ہدف بنانے کی بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ کیجیے جو آپ کی نصیحت کو کان لگا کر سنتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے اپنی مسلسل مساعی سے ایک طرح سے ان پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–56

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کا کام کھلے الفاظ میں لوگوں کو سمجھانا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تھا۔ جس کا آپ ﷺ نے حق ادا کر رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ ” اللہ “ کی توحید سمجھانے اور لوگوں کی خیر خواہی کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ آپ لوگوں کو بار بار سمجھاتے کہ لوگو ! اللہ کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ آپ کے مخاطبین اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے۔ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اذّیتیں دیتے تھے۔ اس صورت حال میں آپ کی طرف سے جن لوگوں پر حق کا ابلاغ ہوچکا تھا۔ ان کے بارے میں آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے ان سے اعراض کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سیاق سے آیت خاص ہے : آیت 56 : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ (اور میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کیا کریں) العبادۃ کا حقیقی معنی مراد لیں تو پھر آیت عام نہ بنے گی۔ بلکہ اس وقت اس سے مراد جن و انس میں سے مومن مراد ہونگے۔ اس کی دلیل سیاق آیت ہے۔ میری مراد یہ ہے وذکرفان الذکری تنفع المؤمنین۔ اور قراءت ابن عباس ؓ وما خلقت الجن والانس من المؤمنین اس کی تائید کرتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ درست نہیں کہ وہ ان لوگوں کو عبادت کے لئے پیدا کرے جن کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ کیونکہ جب ان کو عبادت کے لئے پیدا کیا اور عبادت ان سے چاہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55 ۔” تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” وذکرفان الذکری تنفع المومنین “ تو ان کے دل خوش ہوئے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں قرآن کے ذریعے کفار مکہ کو نصیحت کرتے رہیں کیونکہ نصیحت اس کو نفع دے گی اللہ کے علم میں جس کے بارے میں یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے گا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں قرآن کے ذریعے اس کو نصیحت کریں جو آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایمان لے آیا ہے کیونکہ نصیحت ان کو نفع دے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–60

56۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیائ ورسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے وہ اللہ کی عباد ہے جو اس کی معرفت اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے اور یہ چیز اللہ کی معرفت ہے وابستہ ہے بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہوگی یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ نے مکلفین کو پیدا کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ان سے کوئی ضرورت تھی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–56

[ 57] تذکیر و تبلیغ کے ایک لازمی اور اہم فائدے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کی تذکیر اور یاددہانی کرتے ہیں۔ بیشک نصیحت سے فائدہ پہنچتا ہے ایمان والوں کو۔ کہ جن کے نصیب میں ایمان و یقین کی دولت مقدر ہوگی وہ ایمان لے آئیں گے، اور جو بالفعل ایمان لاچکے ہوں گے ان کے ایمان کو اس سے مزید جلاملے گی، اور ان کو راہ حق و ہدایت پر استحکام اور پختگی نصیب ہوگی، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم تذکیر اور یاددہانی کرتے رہو کہ اس سے اہل ایمان کو بہرحال فائدہ پہنچتا ہے، سرکشوں کے پیچھے پڑنے اور ان سے توقع رکھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قبول حق کی توفیق سے محروم ہوگئے، سو ہٹ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 اس سے معلوم ہوا کہ جن وا انس کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ان کو عبادت وطاعت کا مکلف بنایا جائے تاکہ فرمانبردار کو ثواب اور نافرمان کو سزا دی جائے پھر جو لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور پیغمبروں کی شریعت پر عمل پیرا نہیں ہوتے، وہ اپنی زندگی کے مقصد سے غافل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اصل چیزتوحید کی راہ اختیار کرنا ہے۔ اس بنا پر حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا لفظ آیا ہے اس سے مراد توحید ہے۔ امام ابن تیمیمہ فرماتے ہیں کہ عبادت ایک جامع لفظ ہے اور بہت وسیع فمہوم کا حامل ہے یعنی ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:56) وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اصل میں یعبدوننی تھا نون وقایہ ی متکلم ضمیر مفعول ۔ کہ وہ میری عبادت کریں۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ، الا حرف استثناء لام تعلیل کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–60

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 60 ما ارید میں نہیں چاہتا۔ یطعمون وہ کھلاتے ہیں۔ ذنوب پانی کا ڈول۔ تشریح : آیت نمبر 56 تا 60 انسانوں کی طرح جنات بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ہر ایک مخلوق کا دائرہ عمل اپنا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن جنات اور مومن انسانوں کی پیدئاش کا بنیادی مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور سا کے ساتھ کسی کو سکی طرح شریک نہ کریں۔ عبادت یہ ہے کہ اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ اور بندوں کے تمام حقوق کو احسن طریقے سے پورا کیا کریں۔ نہ حقوق اللہ میں کمی کریں نہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–60

انسانوں اور جنوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ میں نے جنوں کو اور انسانوں کو فقط اسی لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میرے احکام مانیں، میں نے سب کو اسی کا حکم دیا ہے کہ توحید اختیار کریں۔ آگے فرمایا کہ ان کی بندگی سے میرا کچھ فائدہ نہیں ان ہی کا نفع ہے، میں وہ مالک نہیں جو غلاموں سے کہے، میرے لیے کماکرلاؤ، یا میرے سامنے کھانالاکر رکھو، میری ذات ان تخیلات سے پاک اور برتر ہے، میں ان سے اپنے لیے روزی کیا طلب کرتا، خود ان کو اپنے پاس سے روزی پہنچاتا ہوں، بھلا مجھ جیسے زورآور اور قادر و توانا کو تمہاری خدمات کی کیا حاجت ہوسکتی ہے بندگی کا حکم صرف اس لیے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–60

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–60

تخلیق انسانی کی غرض وغایت 3: یہ مسئلہ ابتداء سے بہت اہم رہا ہے ۔ کہ انسانی تخلیق سے مقصود کیا ہے ؟ فاسد سے لے کر مذاہب تک نے اس پر یکساں نبع آزمائی کی ہے ۔ اور بالآخر دونوں نے اعتراف کیا ہے ۔ کہ وہ اس کا کوئی تسلی بخش حل دریافت نہیں کرسکے اور یہ جواب نہیں دے سکے ۔ کہ انسان کے پیدا ہونے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ البتہ قرآن حکیم اپنی زبان میں کہتا ہے ۔ کہ میں سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ انسان کو خلعت وجود سے اس لئے نوازا گیا ہے تاکہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ مگر کیا عبادت ایسا مفہوم ہے ۔ جو اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا ہو ۔ کہ اسے زندگی کا نصب العین قرار دیا جاسکے ۔ یہ چیز قابل غور ہے ۔ جہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(56) اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کیا کریں اور نہیں پیدا کیا میں نے جن وانس کو مگر اس لئے کہ پوجیں مجھ کو۔ مراد عبادت سے تشریعی عبادت ہے جو بالاختیار ہو اور ابتلائو امتحان کے طور پر ہو ملائکہ میں ابتلا نہیں اور دوسری مخلوقات میں اختیار نہیں یہ تشریعی عبادت جو بالاختیار کی جائے جن وانس کے ساتھ خاص ہے اسی لئے ان کی تخصیص فرمائی اور یہی عبادت ان سے مطلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 56–57

ف 1۔ حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مجھ کو مطلوب شرعی ان سے عبادت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میں نے جنوں اور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے 56 ؎ لفظ جن کا اطلاق پوری کائنات کی ہر اس مخلوق پر محیط ہے جو مخلوق پوشیدہ رہتی ہے ۔ کبھی ظاہر ہوتی ہے اور کبھی پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ بالکل مخفی ہے کہ نظر آہی نہیں سکتی۔ وہ جو اس قدر زور آور ہے کہ اس پر مشکل سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ وہ مخلوق جو ذوی العقول نہیں ہے۔ وہ مخلوق جو من حیث الجنس انسان سے تعلق رکھتی ہے لیکن بود و باش میں وہ مدنی نہیں ہے بلکہ بدوی اور سفری ہے۔ وہ مخلوق جس کی اصل آگ سے ہے وہ مرئی نہیں بلکہ بالکل مخفی ہے اور ملک یعنی فرشتہ کی ضد ہے جو مجسمہ برائی ہے اور خیر کا اس میں کوئی عنصر نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ان ساری اصناف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

[ 60] The Purpose of Jinn's and Mankind's creation وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (And I did not create the Jinns and the human beings except that they should worship Me."...51:56). This apparently may raise two questions: [ 1] If Allah has created a creature for a particular task, and it is His will that it should perform that task, rationally it is impossible for it to deviate from that task, because doing anything contrary to the will of Allah is inconceivable. [ 2] The purpose of jinn's and man's creation has been restricted to the worship of Allah whereas there…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53 That is, "I have not created them for the service of others but for My own service. They should serve Me, for I am their Creator. When no one else has created them, no one else has the right that they should serve him; and how can it be admissible for them that they should serve others instead of Me, their Creator?" Here, the question arises that Allah Almighty is not the Creator only of the jinn and men but of the entire Universe and of every thing in it. Then, why has it been said only about the jinn and men that He has not created them for the service of others but of Himself ? whereas…

Read the full tafseer →