Adh-Dhaariyat 51:9

Adh-Dhaariyat · from ayah 9

51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ ۟ؕيُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Deluded away from the Qur'an is he who is deluded.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:9

اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس (آخرت کی حقیقت) سے وہی منہ موڑتا ہے جو حق سے بالکل ہی مڑا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن سے) وہی پھرتا ہے جِسے (علمِ ازلی سے) پھیر دیا گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے سے) بہکایا گیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جس کے لئے برگشتہ ہونا مقدر ہوچکا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو (ازل سے ہی) پھیر دیا گیا

— مولانا اسحاق مدنی

اس سے پھرتا وہی ہے جسے پھرنا ہی ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس سے وہی پھرتا ہے جو (اس اللہ) کی طرف سے پھر جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

though only those who are averse to the Truth will turn away from (believing in it).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Turned away from this (Qur‘an) is the one who is turned away (totally from the truth.)

— Muhammad Taqi Usmani

Turned away from this (Qur‘an) is the one who is turned away (totally from the truth.)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Turned aside therefrom is he who is turned aside.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He is made to turn away from it who is (himself) averse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Deluded away from the Qur'an is he who is deluded.

— Saheeh International

Let whoever wishes, turn away from Our Quran.

— Muhammad Sarwar

He is turned away from it who would be turned away.

— Muhammad Habib Shakir

Turned aside therefrom is who is turned aside.

— Abdul Majid Daryabadi

Through which are deluded (away from the Truth) such as would be deluded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 7 اصل الفاظ ہیں یُؤْفَکْ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ اس فقرے میں عَنْہُ کی ضمیر کے دو مرجع ہو سکتے ہیں۔ ایک جزائے اعمال۔ دوسرے قول مختلف۔ پہلی صورت میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ " جزائے اعمال کو تو ضرور پیش آنا ہے، تم لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کے مختلف عقیدے رکھتے ہو، مگر اس کو ماننے سے وہی شخص برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ " ان مختلف اقوال سے وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جو دراصل حق سے برگشتہ ہے "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ ، افک کے لفظی معنی پھرجانے، منحرف ہوجانے کے ہیں اور عنہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں، دونوں کے معنی الگ الگ ہیں، ایک احتمال تو یہ ہے کہ ضمیر قرآن اور رسول کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ قرآن اور رسول سے وہی بدنصیب منحرف ہوتا ہے جس کے لئے محرومی مقدر ہوچکی ہے۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر قول مختلف کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ تمہارے مختلف اور متضاد اقوال کی وجہ سے وہی شخص قرآن و رسول کا منکر ہوتا ہے جو بدنصیب محروم ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوفک عنہ من افک (9) یہ جملہ قول مختلف کی صفت نہیں بلکہ ایک مستقل جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے ذہن کو تناقص سے پاک کر کے سوچیں تو جزا و سزا کا معاملہ بالکل بدیہی حقیقت ہے لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ دی جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کردیئے جاتے ہیں۔ افک کے معنی الٹ دینے کے ہیں اور مافوک اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو فلما زاغوآ ازاغ اللہ قلوبھم (الصف : 5) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے، یعنی ان لوگوں نے اپنی عقل صحیح طور پر استعمال نہیں کی اس وجہ سے قانون الٰہی کے مطابق ان کی عقل الٹ دی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کو وہ چیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–12

9۔ 1 یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–11

4: جو شخص حق کی طلب رکھتا ہو، اس کے لیے آخرت کو ماننا ہرگز مشکل نہیں ہے، لیکن اس حقیقت سے وہی انکار کرتا ہے جو حق کی طلب رکھنے کے بجائے اس سے برگشتہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

11 یعنی قیامت اور آخرت کی بات میں خواہ مخواہ جھگڑے ڈال رکھے ہیں۔ اس کو وہ ہی تسلیم کرے گا جسے بارگاہ ربوبیت سے کچھ تعلق ہو۔ جو شخص راندہ درگا ہے اور خیر وسعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے وہ اس چیز کے تسلیم اور قبول کرنے سے ہمیشہ باز رہے گا۔ حالانکہ اگر صرف آسمان کے نظم و نسق میں غور کرے تو یقین ہوجائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ یُّـؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ۔ } ”اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہے۔“ تم میں سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو وحی کے اس پیغام کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور جزا و سزا کے متعلق مختلف باتیں بناتے رہتے ہیں۔ حالانکہ جزاو سزا کا معاملہ ایک بدیہی حقیقت ہے اور اس کو تسلیم کرنے سے وہی شخص باز رہے گا جو راندئہ درگاہ ہے اور خیر وسعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 آسمان کے نظم ونسق سے معاد پر دلیل :۔ یعنی ایسے جال دار راستوں والے آسمان کی قسم کہ تم لوگ جو قیامت اور آخرت کے بارے میں بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو تو بہت سے لوگ اس قیامت اور آخرت پر ایمان لے آئیں گے اور اس عقیدہ سے انکار صرف وہی شخص کرے گا جس نے خیر وسعادت کی تمام راہیں اپنے آپ پر بند کردی ہوں۔ ایسا ہی شخص ان باتوں کو تسلیم کرنے سے باز رہ سکتا ہے۔ ورنہ اگر وہ آسمان کے نظم و نسق میں ہی غور کرے تو اسے یقین ہوجائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

انکم لفی قول مختلف مذکورہ قسم بہ ہے، بظاہر اس کے مخاطب مشرکین مکہ میں جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف اور متضاد باتیں کیا کرتے تھے، کبھی مجنون، کبھی جادوگر تو کبھی اشعر، تو کبھی کاہن وغیرہ کے لغو خطابات دیتے تھے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب عام لوگ ہیں، مسلم ہوں یا کافر اور قول مختلف سے مردا یہ ہو کہ بعض تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں اور بعض انکار و مخالفت سے پیش آتے ہیں۔ (مظہری، معارف) اس اختلاف اقوال پر، متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں ان میں کوئی مطابقت اور یکسانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوفک عنہ من افک . ‘ اس سے وہی پھرتا ہے جس کو پھرنا ہوتا ہے۔ یُؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ : یعنی رسول اللہ یا قرآن کی طرف سے اسی کو پھیر دیا جاتا ہے جس کا پھیرا جانا (پہلے سے) اللہ کے علم (ازلی) میں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس کو قرآن اور رسول پر ایمان لانے سے محروم کردیا ‘ وہی محروم رہتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ عَنْہُ میں عَنْ بمعنی مِنْ ہو اور ضمیر قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ کی طرف راجع ہو یعنی ایمان سے وہ موڑا اور پھیرا جاتا ہے۔ بات یہ تھی کہ جب کوئی شخص مسلمان ہونا چاہتا تھا تو مکہ کے کافر راستہ میں اس کو روک کر کہتے تھے (تم کہاں جا رہے ہو ؟ ) وہ تو جھوٹا جادوگر ہے ‘ کاہن ہے ‘ پاگل ہے اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–9

(8۔ 9) قسم کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ والو تم رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کہ تم میں سے بعض تصدیق کرتے ہیں اور بعض تکذیب۔ رسولا کرم اور قرآن سے وہی پھرتا ہے جسے حق و ہدایت ہی سے پھرنا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یوفک عنہ من افک :”عنہ“ کی ضمیر کا مرجع یا تو ”ان الذین لواقع“ میں لفظ ”الدین“ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو) پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، کسی صحیح الدماغ آدمی کو اس سے پھیرا اور بہکایا انہیں جاسکتا۔ یا ”عنہ“ کی ضمیر کا مرجع ”قولم ختلف“ ہے، اس صورت میں ”عن“ تعلیل کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ یقینا تم ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو جس کی وجہ سے وہی آدمی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہ کیا ا گیا ہو، ایسی مختلف باتوں کی وجہ سے کسی صحیح دماغ والے کو بہ کیا انہیں جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ”عن“ کے معانی میں سے تعلیل مسلم معنی ہے، اس معنی کی مثال یہ آیت ہے :(وما نحن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–14

والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–16

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُّؤْفَكُ [ پھیرا جاتا ہے ] عَنْهُ [ اس (دین ) سے ] مَنْ [ اس کو جو ] اُفِكَ [ ضعیف العقل ہوا ] (آیت ۔ 9) عنہ میں ہ کی ضمیر قول مختلف کے لیے نہیں ہے ۔ اگر اس کے لیے ہوتی تو یؤفک بہ آتا ۔ ضمیر کے ساتھ عن کا صلہ بتارہا ہے کہ ضمیر اس کے لیے ہے جس کے بارے میں قول یعنی رائے مختلف ہے ، اور وہ الدین ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اس کے بعد آسمان کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ007﴾ کہ قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے آنے جانے کے) راستے ہیں تم لوگ ایک ایسی گفتگو میں لگے ہوئے ہو جس میں اختلاف ہو رہا ہے کوئی قیامت کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے اس میں جو لوگ قول حق کے مخالف ہیں یعنی وقوع قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس قول سے ہٹائے جا رہے ہیں یعنی جس کو بالکل ہی خیر سے اور حق سے محروم ہونا ہے وہی اس قول حق سے ہٹتا اور بچتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

4:۔ ” انکم لفی “ یہ زجر ہے کافروں کے لیے جو ایسے واضح نمونے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے یہ لوگ ایک مختلف بات پر قائم ہیں کو حشر و نشر میں شک کرتا ہے اور کوئی اس کا انکار کرتا ہے وہ خود کسی ایک متفق علیہ اور باہم موافق بات پر قائم نہیں ہیں۔ ہر وق شخص جس کو اللہ نے حق سے پھیر دیا ہے وہ قیامت پر ایمان لانے سے بھی پھیر دیا گیا ہے۔ انہم فی قول مختلف فو وقوعہ فمنہم شاک و منہم جاحد ثم قال یؤفک عن الاقرار بامر القیامۃ من ھو المافوک (مدارک ج 4 ص 139) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–18

جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُّؤْفَكُ عَنْہُ مَنْ اُفِكَ۝ 9 ۭ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/ 22] ، فاستعملوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–19

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُّؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ ۔ (الذریٰت : 9) (اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہے۔ ) اس آیت میں عَنْہُ کی ضمیر کا مرجع جزائے اعمال ہے۔ اس صورت میں اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر یہ لوگ اپنے فکری تضاد سے نکلیں اور صحیح رخ پر سوچنے کی عادت ڈالیں تو جزاء و سزا کا معاملہ بالکل سامنے کی بات ہے۔ لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ دی جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کردیئے جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص تضادفکر کا شکار ہوتا ہے اور ہر معاملے میں اس کی رائے ٹیڑھی ہوتی ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کو فکری سلامتی سے محروم کردیتا ہے۔ جس طرح سورة صف میں ارشاد فرمایا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–15

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن سے پھرنے والا بدنصیب ہوگیا : آیت 9 : یُّؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ (اس سے وہی پھرتا ہے جسے پھرنا ہوتا ہے) نمبر 1۔ ہ ضمیر کا مرجع قرآن مجید ہے یا نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی یعنی اس قرآن سے وہ پھرتا ہے جو ایسا پھرا ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی پھرنا خطرناک نہیں ہے۔ نمبر 3۔ اس سے وہی پھرتا ہے۔ جو علم الٰہی میں پھرنے والوں میں لکھا جا چکا یعنی علم ازلی میں حق کی طرف نہ آنا جس کا معلوم ہے۔ نمبر 2۔ یہ ضمیر ما توعدون کی طرف یا الدین کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ ذاریات کی اولاً قسم اٹھائی کہ قیامت کی آمد برحق ہے پھر آسمان کی قسم اٹھائی کہ یہ لوگ قیامت کے متعلق اختلاف کا شکار ہیں بعض تو شک کرنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” انکم “ اے اہل مکہ ! ” لفی قول مختلف “ قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں۔ تم قرآن کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ جادو اور کہانت اور پہلوں کی من گھڑت باتیں ہیں اور محمد ﷺ کے بارے میں کہتے ہو کہ جادوگر اور شاعر اور مجنون ہیں اور کہا گیا ہے کہ ” لفی قول مختلف “ یعنی تصدیق کرنیوالے اور تکذیب کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم ! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیم سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔ (انکم) محمد کریم ﷺ کو جھٹلانے والو ! بیشک تم (لفی قول مختلف) ” مختلف قول میں ہو۔ “ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت، شک اور اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔ ) یوفک عنہ من افک) پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل وبراہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 8] منکرین قانون مکافات کی رد میں۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے وہی روگردانی کرتا ہے جس کی عقل الٹ دی گئی ہے۔ یعنی اس قرآن اور صاحب قرآن پر ایمان لانے سے اعراض و روگردانی ایسے ہی لوگ کرتے ہیں جن کی عقلیں الٹی اور اوندھی ہوگئیں ہیں اور ان کی مت ماری گئی ہے جو کہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] یا یہ مطلب ہے کہ ایسے شخص کو راہ حق سے اس کے اس قول مختلف کی بناء پر پھیرا جاتا ہے جس سے وہ ایمان لانے سے محروم ہوجاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ سو اس قول حق و صدق سے اغراض اور روگردانی وہی لوگ کرتے ہیں جن کی مت ماری گئی، اور اس وجہ سے ان کو سیدھی بات بھی الٹی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–14

آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی جس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے روز ازل سے کفر و نافرمانی لکھ دی ہے۔ …” من افک “ کا دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جو (حق سے) پھر ہوا ہے۔ یعنی گمراہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:9) یؤفک عنہ من افک۔ یؤفک مضارع مجہول واحد مذکر غائب افک (باب ضرب) مصدر ۔ وہ پھیرا جاتا ہے وہ بھٹکایا جاتا ہے۔ عنہ میں ضمیر واحد مذکر غائب یا تو رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے یا قرآن مجید کی طرف، من موصولہ افک ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پھیرا گیا۔ صاحب قاموس لکھتے ہیں :۔ رجل مأفوک مصروف عن الحق الی الباطل : یعنی جو شخص حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف متوجہ ہوجائے ۔ اسے مافوک کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ جو شخص حق قبول کرنے سے منہ موڑ لیتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق اس کی دستگیری نہیں کرتی اور اسے گمراہی کی ڈگر پر دوڑنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–14

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–12

[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–14

ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔ حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اس کے ماننے سے وہی پھرا اور بازرہا جو راندہ گیا اور پھر دیا گیا۔ یہ آسمان کی قسم کھائی راستوں والا آسمان جس میں فرشتوں کے جانے آنے کے راستے ہیں یا تاروں والا آسمان حبک جمع ہے جی کہ کی جیسے طریق جمع طریقہ کی یا جمع ہے حباک کی جس کے معنی ستارے کے ہیں اسی وجہ سے ترجمے میں دو قول ہیں راستوں والے آسمان کی قسم اور تاروں والے آسمان کی قسم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اپنے ترجمے میں فرمایا قسم ہے آسمان جالی دار کی پھر موضع القرآن میں فرمایا آسمان جالی دار یعنی تارے ہیں اس میں جال سا اور جھگڑے کی بات آخرت کا جینا جو اس کی نہ مانے وہ درگاہ سے پھیرا گیا۔ جس طرح حبک کے معنی دو طرح کے گئے ہیں اسی طرح قول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–9

ف 6۔ ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف، یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسے عظیم القدرت کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جس کو پھیر دیا گیا ہو یعنی دین حق سے 9 ۔ (یوفک) واحد مذکر غائب مضارع مجہول افک سے پھیرا جاتا ہے۔ بھٹکایا جاتا ہے۔ افک وہ پھیرا گیا۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کے معنی کسی شے کے اپنے اصلی رخ سے پھیرنے کے ہیں اور یہ سب استعارات ہیں۔ اشارات ہیں جن کے اندر بہت بڑا مضمون مخفی رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اللہ کے رسول ﷺ سے اللہ کی کتاب قرآن کریم سے قیامت کے روز یوم آخرت سے پھیر دیا جاتا ہے اور پھر جس کو پھیر دیا جاتا ہے اس کی رہنمائی کے لیے اللہ کے رسول آئیں ، اس کے سامنے سینکڑوں نہیں ہزاروں دلائل رکھیں لیکن سب ایسا ہی ہے جیسے بھینس سامنے بین بجانا ایسے لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ (Turned away from this (Qur'an) is the one who is turned away 51:9). The word 'ufik literally denotes to turn away. The pronoun in ` anhu has two possibilities: [ 1] it could be referring to Qur'an and Rasul. In this case, the verse would mean that only that person turns away from the Qur'an who has been destined to be deprived of their guidance. And [ 2] the pronoun could be referring to the 'contradictory statement' in which case the meaning would be: he who turns away from the truth because of your discordant thoughts, is the one deprived of truth.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 The pronoun of anhu in this sentence either turns to the meting out of the rewards and punishments, or to various views. In the first case, it means: "The meting out of the rewards has to take place, in spite of your holding different beliefs about it; but only such a person is perverted from it, who has turned away from the Truth." In the second case, the meaning is: °Only such a one is misled by these different views, who has turned away from the Truth."

Read the full tafseer →