Adh-Dhaariyat 51:8

Adh-Dhaariyat · from ayah 8

51:8

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ۟ۙاِنَّـكُمۡ لَفِىۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, you are in differing speech.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:8

(آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ تم متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم مختلف بات میں ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تم مختلف بے جوڑ باتوں میں (پڑے) ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ بلا شبہ تم یقینا ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم (آخرت کے بارے میں) مختلف قسم کی باتیں کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک تم ایک اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک تم لوگ پڑے ہو ایک سخت ہی اختلاف والی بات میں

— مولانا اسحاق مدنی

کہ تم مختلف گفتگوؤں میں (پڑے) ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑگئے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

surely you are at variance (about the Hereafter);

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

you are (involved) in a contradictory discussion.

— Muhammad Taqi Usmani

you are (involved) in a contradictory discussion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, you have different ideas.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! ye, forsooth, are of various opinion (concerning the truth).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, you are in differing speech.

— Saheeh International

your ideas are confused.

— Muhammad Sarwar

Most surely you are at variance with each other in what you say,

— Muhammad Habib Shakir

Verily ye are in a divided opinion.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 51:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 6 اس اختلاف اقوال پر متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو اور ہر ایک بات دوسرے سے مختلف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ دنیا ازلی و ابدی ہے اور کوئی قیامت برپا نہیں ہو سکتی۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ نظام حادث ہے اور ایک وقت میں یہ جا کر ختم بھی ہوسکتا ہے، مگر انسان سمیت جو چیز بھی فنا ہوگئی، پھر اس کا اعادہ ممکن نہیں ہے۔ کوئی اعادے کو ممکن مانتا ہے، مگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے اچھے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

(آیت) وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ، اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ، حبک، حبیکہ کی جمع ہے، کپڑے کی بناوٹ میں جو دھاریاں ہوجاتی ہیں ان کو حبک کہا جاتا ہے، وہ چونکہ راستہ اور سڑک کے مشابہ ہوتی ہیں اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے، بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے، راستوں سے وہ راستے بھی مراد ہو سکتے ہیں جن سے فرشتے آتے جاتے ہیں اور اس سے مراد ستاروں اور سیاروں کے راستے اور ان کے مدار بھی ہو سکتے ہیں جو دیکھنے والوں کو آسمان میں نظر آتے ہیں اور چونکہ یہ بناوٹ کی دھاریاں کپڑے کی زینت اور حسن بھی ہوتی ہیں، اس لئے بعض حضرات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انکم لفی قول مختلف (8) مخالفین کو ملامت شاہد ہے کہ یہ ٹکڑا جو اب قسم نہیں ہے بلکہ مخالفین کے رویہ پر ان کو ملامت ہے۔ جو اب قسم اوپر گزر چکا ہے اور یہ دوسری قسم اوپر والی قسم ہی کی تکمیل ہے اس وجہ سے اس کے بعد جواب قسم کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ مکذبین کو سرزنش کردی گئی کہ تم لوگ ایک صریح قسم کے اختلاف اور تناقض فکر میں مبتلا ہو ورنہ ان شہادتوں کے ہوتے نہ وعید عذاب کو جھٹلانے کی گنجائش ہے، نہ وعدہ جزا و سزا میں شک کرنے کی قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ وضاحت قرینہ کی بنا پر جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ کوئی سرزنش و ملامت کا جملہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس کی ایک نہایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی اے اہل مکہ ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادو گر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی جھوٹا کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق مانتے ہو، اور دوسری طرف اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

11 یعنی قیامت اور آخرت کی بات میں خواہ مخواہ جھگڑے ڈال رکھے ہیں۔ اس کو وہ ہی تسلیم کرے گا جسے بارگاہ ربوبیت سے کچھ تعلق ہو۔ جو شخص راندہ درگا ہے اور خیر وسعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے وہ اس چیز کے تسلیم اور قبول کرنے سے ہمیشہ باز رہے گا۔ حالانکہ اگر صرف آسمان کے نظم و نسق میں غور کرے تو یقین ہوجائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ اِنَّـکُمْ لَـفِیْ قَـوْلٍ مُّخْتَلِفٍ۔ } ”یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑگئے ہو۔“ یعنی آخرت کے بارے میں تم ایک اختلاف میں پڑگئے ہو اور تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

3 حَبَکَ کا لغوی معنی :۔ حبک (الثوب) بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہا اور حبک حابک الثوب بمعنی جولا ہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے (المنجد) اور کپڑا بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عرض کی طرف۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔ (مفردات القرآن۔ منجد) اور اس کی جمع حُبُک ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بیشمار راہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کر اس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔ یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لا تعداد گزر گاہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

2۔ (عقیدہ حشر سے متعلق کہ کوئی تو اس عقیدہ کی تکذیب ہی کررہا ہے، اور کوئی اس کے متعلق تذبذب اور گومگو میں پڑا ہوا ہے، اور کسی نے اس سے دنیا میں نیا جنم مراد لے کر چلنے پھرنے کے علاوہ ستاروں کی گردش کے بھی مدار یاراستے لیے گئے ہیں۔ ھی ذات الطرائق فمن الناس من تصور ھھنا الطرئق المحسوسۃ بالنجوم ومنھم من اعتبر ذلک بما فیہ من الطرائق المعقولۃ المدرکۃ بالبصیرۃ (راغب) (آیت) ” لفی قول مختلف “ ایک مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تم لوگ قرآن اور رسول کے متعلق مختلف اقوال اور مضطرب آراء کے چکر میں پڑے ہوئے۔ اے فی القران وفی محمد ﷺ (معالم) فی الرسول ﷺ او فی القران (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

انکم لفی قول مختلف مذکورہ قسم بہ ہے، بظاہر اس کے مخاطب مشرکین مکہ میں جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف اور متضاد باتیں کیا کرتے تھے، کبھی مجنون، کبھی جادوگر تو کبھی اشعر، تو کبھی کاہن وغیرہ کے لغو خطابات دیتے تھے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب عام لوگ ہیں، مسلم ہوں یا کافر اور قول مختلف سے مردا یہ ہو کہ بعض تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں اور بعض انکار و مخالفت سے پیش آتے ہیں۔ (مظہری، معارف) اس اختلاف اقوال پر، متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں ان میں کوئی مطابقت اور یکسانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انکم لفی قول مختلف کہ تم (سب) لوگ (قیامت کے بارے میں) مختلف گفتگو میں ہو اِنَّکُمْ : کفار مکہ کو خطاب ہے۔ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ : یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تمہارے قول مختلف ہیں ‘ کبھی شاعر کہتے ہو ‘ کبھی جادوگر ‘ کبھی دیوانہ ‘ پاگل یا قرآن کے متعلق تمہارے اقوال میں اختلاف ہے۔ کوئی اس کو جادو کہتا ہے ‘ کوئی کہانت ‘ کوئی داستان پارینہ اور کوئی خودساختہ شعر یا قیامت کے بارے میں تمہارے کلام جدا جدا ہیں ‘ کوئی قیامت کے واقع ہونے میں شک کرتا ہے ‘ کوئی اس کو محال سمجھتا اور انکار کرتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس جملۂ قسمیہ میں لوگوں کے قولی اختلاف اور مقاصد کی منافات کو طرق سماوی سے تشبیہ دی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–9

(8۔ 9) قسم کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ والو تم رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کہ تم میں سے بعض تصدیق کرتے ہیں اور بعض تکذیب۔ رسولا کرم اور قرآن سے وہی پھرتا ہے جسے حق و ہدایت ہی سے پھرنا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

انکم لفی قول مختلف : یعنی یہ آسمان جو نہایت مضبوط و مسحتکم اور بےحد خوبصورت ہے، جس میں ستاروں کے راستے میں اور جو بادلوں کی لہروں سے آراستہ ہے، شاہد ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں تمہارا بہت اختلاف ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس میں آسمان کی شہادت کیسے ہے اور یہ کہنے سے حاصل کیا ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں بہت اختلاف ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اتنا مستحکم و مضبوط ، بلند و بالا، خوبصورت اور مزین آسمان شاہد ہے کہ اس کے بنانے والے کے لئے قیامت برپا کرنا اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں، جیسا کہ فرمایا :(ء انتم اشد خلقاً ام السمآء بنھا) (النازعات : 28)”کیا پیدا کرنے میں تم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–14

والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–16

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّكُمْ [ یقیناتم لوگ ] لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ [ لازما ایک اختلاف کرنے والی بات میں ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اس کے بعد آسمان کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ007﴾ کہ قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے آنے جانے کے) راستے ہیں تم لوگ ایک ایسی گفتگو میں لگے ہوئے ہو جس میں اختلاف ہو رہا ہے کوئی قیامت کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے اس میں جو لوگ قول حق کے مخالف ہیں یعنی وقوع قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس قول سے ہٹائے جا رہے ہیں یعنی جس کو بالکل ہی خیر سے اور حق سے محروم ہونا ہے وہی اس قول حق سے ہٹتا اور بچتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

4:۔ ” انکم لفی “ یہ زجر ہے کافروں کے لیے جو ایسے واضح نمونے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے یہ لوگ ایک مختلف بات پر قائم ہیں کو حشر و نشر میں شک کرتا ہے اور کوئی اس کا انکار کرتا ہے وہ خود کسی ایک متفق علیہ اور باہم موافق بات پر قائم نہیں ہیں۔ ہر وق شخص جس کو اللہ نے حق سے پھیر دیا ہے وہ قیامت پر ایمان لانے سے بھی پھیر دیا گیا ہے۔ انہم فی قول مختلف فو وقوعہ فمنہم شاک و منہم جاحد ثم قال یؤفک عن الاقرار بامر القیامۃ من ھو المافوک (مدارک ج 4 ص 139) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–18

جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ۝ 8 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–19

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّـکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ۔ (الذریٰت : 8) (بےشک تم ایک دوسرے سے مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ) یہ جوابِ قسم ہے یہ قسم کا جوابِ قسم ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ان مخالفین نے قیامت اور جزاء و سزا کے بارے میں جو مختلف خیالات بنا رکھے ہیں اور جو اس سلسلے میں مختلف باتیں ان کی طرف سے کہی جاتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ تضادفکر میں بھی مبتلا ہیں اور تضادقول میں بھی۔ کیونکہ یہ لوگ ایک ہی بات کے قائل نہیں تھے۔ کچھ لوگ تو ایسے تھے جو قیامت کے کھلے منکر تھے۔ اور کچھ لوگ تھے جنھیں قیامت کے اقرار و انکار میں تذبذب تھا۔ نہ صریح انکار کرتے نہ اور نہ صریح اقرار کرتے تھے، بلکہ اس کو مستبعداز عقل سمجھتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–15

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسول اللہ ﷺ سے متعلق کفار کے قول : آیت 8 : اِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (کہ تم لوگ مختلف گفتگو میں ہو) اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے متعلق ان کا قول ساحر ٗ شاعر ٗ مجنون اور قرآن مجید کے متعلق شعر ٗ سحر ٗ اساطیر الاولین وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔ پھر دوسری قسم کی ابتداء کی اور فرمایا ” والسمآء ذات الحبک “ ابن عباس ؓ ، عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اچھی اور ٹھیک تخلیق والا۔ کپڑا بننے والا جب عمدہ کپڑا بنے تو اس کو کہا جاتا ہے ” مااحسن حبکتہ بن جبیر (رح) فرماتے ہیں زینت والا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تاروں کے ساتھ مزین کیا گیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں مضبوط تعمیر والا۔ مقاتل ، کلبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں راستوں والا جیسا کہ پانی کی لہریں جب ان پر ہوا چلے اور ریت کے ٹیلے کا راستہ بالوں کے گچھے کی ایک لٹ۔ لیکن تو اس کو لوگوں سے دور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکے۔ یہ حباک اور حبیکۃ کی جمع ہے اور جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم ! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیم سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔ (انکم) محمد کریم ﷺ کو جھٹلانے والو ! بیشک تم (لفی قول مختلف) ” مختلف قول میں ہو۔ “ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت، شک اور اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔ ) یوفک عنہ من افک) پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل وبراہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 7] منکرین کے تضاد فکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تم لوگ سخت اختلاف والی بات میں پڑے ہو۔ یعنی اس قرآن اور صاحب قرآن کے بارے میں، کہ کبھی تم لوگ اسے جادو قرار دیتے ہو، اور کبھی شعر اور کہانیت، اور پیغمبر کو کبھی تم شاعر کہتے ہو، کبھی ساحر و جادوگر اور کبھی دیوانہ، جو کہ حقیقت میں خود تمہاری اپنی ہی دیوانگی اور خردباختگی کا ثبوت ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ نیز اپنے اسی جرم انکار کی بناء پر تم لوگ قیامت کی اس حقیقت سمری کے بارے میں بھی سخت اختلاف میں پڑے ہو، جس کی خبر تم کو یہ قرآن اور یہ پیغمبر دے رہے ہیں، کبھی تم کہتے ہو کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اسی میں ہمارا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–14

آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–8

ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:8) انکم کفار مکہ کو خطاب ہے۔ لفی قول مختلف : لام تحقیق کے لئے۔ فی حرف جار قول مختلف موصوف وصفت مل کر مجرور ۔ تحقیق تم قیامت کے بارے میں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یا قرآن کے بارے میں مختلف اقوال رکھتے ہو۔ کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس کو محال خیال کرتا ہے کوئی اسے بالکل انکار کرتا ہے ، کوئی رسول اللہ ﷺ کو شاعر کہتا ہے کوئی جادو گر کہتا ہے اور کوئی دیوانہ خیال کرتا ہے۔ اور کوئی قرآن مجید کو داستان پارنیہ بتاتا ہے کوئی اسے خود ساختہ بتاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–14

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–12

[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ف 1: قرآن حکیم نے کئی سورتوں کو قسمیہ الفاظ سے شروع کیا ہے ۔ جس کے متعلق عام طور پر یہ وہ خیال ہیں :۔ ایک تو یہ کہ اس وقت کے اس وقت کے مخالفین جب حضور ﷺ کی قوت استدلال سے متاثر ہوئے تھے ۔ تو کہتے تھے ۔ کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ آپ نے زور خطابت سے ہم کو قائل کرلیا ہے ۔ مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہ آپ کے پاس فی الواقع صداقت بھی موجود ہے ۔ ان کو نسلی اور اطمینان خاطر کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ وہ حلفاً حرف بہ حرف درست ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ وہ منشعت کے اعتبار سے اس قابل ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–9

ف 6۔ ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف، یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسے عظیم القدرت کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ تم لوگ مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو جن کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے 8 ۔ مخاطب اول کفار مکہ میں اور اس کے بعد سارے وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کے ماننے والے نہیں یا اس کو محض ماننے کی حد تک محدود ہیں اس کا لحاظ اعمال میں نہیں کرتے فرمایا تم لوگ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف رائیوں کا اظاہر کرتے ہو کبھی کہتے ہو کہ وہ شاعر ہے پھر خود ہی کہہ دیتے ہو کہ شاعر تو کوئی کاہن ہے اور کبھی کہتے ہو جادوگر ہے اور پھر کہتے ہو کہ نہیں یہ تو شحر زدہ ہے اور کبھی پاگل اور مفتری قرار دیتے ہو اس طرح تم قیامت کے متعلق بھی مختلف رائیں رکھتے ہو اس طرح تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (By the sky, having paths, you are (involved) in a contradictory statement - 51:7-8) Hubuk is the plural habikah and primarily denotes thin irregular lines or streaks on fabrics when woven. They resemble tracks and pathways; therefore pathways are also referred to as hubuk in Arabic. Most interpreters take this to be the meaning in this context. Some scholars say that the 'tracks' refer to pathways used by the angels for entrance and exit. Others say that the tracks or paths of heaven are those orbits of planets and stars that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The oath has been sworn by the sky of various appearances on this difference of views because of the similarity. That is, just as the clouds and the clusters of stars in the sky have different appearances and there is uniformity among them, so are also your views about the Hereafter, each different from the other. Some one says that this world is eternal and no Resurrection can take place. Another say s that this system is not eternal and can come to an end in the course of time, but whatever becomes extinct, including man, cannot possibly be resurrected. Another one regards resurrection as…

Read the full tafseer →