Adh-Dhaariyat 51:7

Adh-Dhaariyat · from ayah 7

51:7

وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ۟ۙوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

By the heaven containing pathways,

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:7

قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے راہوں والے آسمان کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

آرائش والے آسمان کی قسم

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (ستاروں اور سیّاروں کی) کہکشاؤں اور گزرگاہوں والے آسمان کی قَسم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شاہد ہے دھاریوں والا آسمان !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قسم ہے راستوں والے آسمان کی

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قسم ہے جالی دار آسمان کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان کی قسم جس میں جال دار رستے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

By the heaven with its numerous forms:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

By the sky, having paths,

— Muhammad Taqi Usmani

By the sky, having paths,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the heaven full of Hubuk,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By the heaven containing pathways,

— Saheeh International

By the beautiful heavens,

— Muhammad Sarwar

I swear by the heaven full of ways.

— Muhammad Habib Shakir

By the heaven full of paths.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 51:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 5 اصل میں لفظ ذات الْحُبُکِ استعمال ہوا ہے۔ حبُک راستوں کو بھی کہتے ہیں۔ ان لہروں کو بھی کہتے ہیں جو ہوا کے چلنے سے ریگستان کی ریت اور ٹھرے ہوئے پانی میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اور گھونگھر والے بالوں میں جو لٹیں سے بن جاتی ہیں ان کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں آسمان کو حبک والا یا تو اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ آسمان پر اکثر طرح طرح کی شکلوں والے بادل چھائے رہتے ہیں جن میں ہوا کے اثر سے بار بار تغیر ہوتا ہے اور کبھی کوئی شکل نہ خود قائم رہتی ہے، نہ کسی دوسری شکل سے مشابہ ہوتی ہے۔ یا اس بنا پر فرمایا گیا ہے کہ رات کے وقت آسمان پر جب تارے بکھرے ہوتے ہیں تو آدمی دیکھتا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

(آیت) وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ، اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ، حبک، حبیکہ کی جمع ہے، کپڑے کی بناوٹ میں جو دھاریاں ہوجاتی ہیں ان کو حبک کہا جاتا ہے، وہ چونکہ راستہ اور سڑک کے مشابہ ہوتی ہیں اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے، بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے، راستوں سے وہ راستے بھی مراد ہو سکتے ہیں جن سے فرشتے آتے جاتے ہیں اور اس سے مراد ستاروں اور سیاروں کے راستے اور ان کے مدار بھی ہو سکتے ہیں جو دیکھنے والوں کو آسمان میں نظر آتے ہیں اور چونکہ یہ بناوٹ کی دھاریاں کپڑے کی زینت اور حسن بھی ہوتی ہیں، اس لئے بعض حضرات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والسمآء ذات الحبک (7) ذات الحبک کی تحقیق مسماء سے آسمان کو بھی مراد لے سکتے ہیں اور بادلوں کو بھی۔ یہ دونوں معنوں کے لئے قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن آسمان کو مراد لیں گے تو یہاں لازماً ذلک الحبک کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے تو یہاں لازماً ذات الحبک کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے۔ اس وجہ سے اصل تحقیق طلب چیز یہ صفت ہی ہے۔ اساتذ امام رمتہ اللہ علیہ نے تفسیر سورة ذاریات میں اس لفظ کی تحقیق کلام عرب کے شواہد کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ ہم اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں یہاں درج کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ حبک کے معنی بادنھنے اور گرہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ اس مضبوطی و استواری کے لئے استعمال ہوا جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 دوسرا ترجمہ، حسن جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے چاند، سورج ستارے و سیارے، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق وزینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: یہاں راستوں سے مراد بظاہر وہ راستے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے، لیکن فرشتوں کی آمد و رفت ان راستوں سے ہوتی ہے، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آسمان کا لفظ بعض اوقات ہر اوپر والی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور یہاں اوپر کی وہ فضا مراد ہے جس میں ستاروں کے متعین راستے بنے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی صاف و شفاف، خوبصورت، مضبوط اور پررونق آسمان کی قسم جس پر ستاروں کا جال بچھا ہوا معلوم ہوتا ہے اور جس پر ستاروں کی اور فرشتوں کی راہیں پڑی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْحُبُکِ۔ } ”اور قسم ہے جالی دار آسمان کی۔“ یہ اس منظر کی طرف اشارہ ہے جو رات کے وقت تاروں بھرا آسمان پیش کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

3 حَبَکَ کا لغوی معنی :۔ حبک (الثوب) بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہا اور حبک حابک الثوب بمعنی جولا ہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے (المنجد) اور کپڑا بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عرض کی طرف۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔ (مفردات القرآن۔ منجد) اور اس کی جمع حُبُک ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بیشمار راہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کر اس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔ یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لا تعداد گزر گاہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

2۔ (عقیدہ حشر سے متعلق کہ کوئی تو اس عقیدہ کی تکذیب ہی کررہا ہے، اور کوئی اس کے متعلق تذبذب اور گومگو میں پڑا ہوا ہے، اور کسی نے اس سے دنیا میں نیا جنم مراد لے کر چلنے پھرنے کے علاوہ ستاروں کی گردش کے بھی مدار یاراستے لیے گئے ہیں۔ ھی ذات الطرائق فمن الناس من تصور ھھنا الطرئق المحسوسۃ بالنجوم ومنھم من اعتبر ذلک بما فیہ من الطرائق المعقولۃ المدرکۃ بالبصیرۃ (راغب) (آیت) ” لفی قول مختلف “ ایک مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تم لوگ قرآن اور رسول کے متعلق مختلف اقوال اور مضطرب آراء کے چکر میں پڑے ہوئے۔ اے فی القران وفی محمد ﷺ (معالم) فی الرسول ﷺ او فی القران (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

والسماء ذات الحبک انکم لفی لفی قول مختلف حبک، حبیکۃ کی جمع ہے، کپڑے کی دھاریوں کو کہتے ہیں، دھاریاں چونکہ سڑک اور راستہ کے مشابہ ہوتی ہیں، اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے اور راستوں سے وہ راستے مراد ہوسکتے ہیں جن سے فرشتوں کی آمد و رفت ہوتی ہے اور اس سے ستاروں اور سیاروں کے مدار بھی مراد ہوسکتے ہیں اور چونکہ کپڑے کی دھاریاں کپڑے کی زینت ہوتی ہیں اسلئے بعض مفسرین نے حبک کا ترجمہ زینت والے آسمان سے کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والسما ذات الحبک قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے چلنے کے) راستے ہیں ذَاتِ الْحُبُکِ : حُبکُ ‘ حبیکۃ کی جمع ہے جیسے ‘ طُرُق طریقہ کی جمع ہے ( یا حباک کی جمع ہے جیسے مثال کی جمع مثل آتی ہے) صاحب قاموس نے لکھا ہے حبک مضبوط بناوٹ والے۔ حبک الثوب کپڑے کی ساخت میں خوبصورت آثار صنعت۔ حبک الرمل ریت کی دھاریاں۔ حبک کا واحد حباک ہے جیسے کتب کا واحد کتاب۔ حبک الماء : پانی کی شکستہ لہریں۔ حبک الشعر : گھونگریالے بال۔ حبک السماء : ستاروں کی گزرگاہیں۔ بغوی نے کہا حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور عکرمہ کے نزدیک ذات الحبک کا ترجمہ ہے خوبصورت ہموار بناوٹ والے ‘ کپڑے کی بناوٹ میں اگر حسن و جودت ہو تو عرب کہتے ہیں :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور قسم ہے آسمان کی جو کہ حسن و جمال درستگی اور فرشتوں کے چلنے کے لیے رستوں والا ہے یا یہ کہ جو چاند و سورج اور ستاروں والا ہے یا یہ کہ وہ پانی کی طرح رستوں والا ہے جیسا کہ پانی میں ہوا کی وجہ سے رستے بن جاتے ہیں یا یہ کہ وہ ریت کے اڑنے کی طرح ہے جبکہ اسے ہوا اڑاتی ہے یا یہ کہ وہ گھنگریالے بالوں کی طرح ہے یا یہ کہ وزر ہوں کے خانوں کی طرح ہے یا ذات الحبک سے ساتواں آسمان مراد ہے غرض کہ یہ آخری قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(والسمآء ذات الحبک :”حبک یحبک حبکا“ (ن، ض) کسی چیز کو باندھنا، مضبوط بنانا، جو لا ہے کا کپڑے کو مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ بننا۔”الحبک“ ”حبیکۃ“ کی جمع ہے۔ ”حبک الرمل والماء والشعر“ ٹھہرے ہوئے پانی یا ریت پر ہوا سے جو لہریں سی بن جاتی ہیں، گھونگھر یا لے بالوں کی لہریں۔ ”حبک السمآئ“ آسمان میں ستاروں کے راستے۔ (قاموس)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–14

والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–16

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالسَّمَاۗءِ [قسم ہے آسمان کی ] ذَاتِ الْحُبُكِ [ جو راستوں والا ہے ] ح ب ک : (ن) حبکا ۔ مضبوط کرنا ، جو لائے کا کپڑے کو عمدہ بننا ۔ حبیک فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ اسم المفعول کے معنی میں ۔ مضبوط کیا ہوا ۔ بنا ہوا۔ حبیکۃ ۔ ج : حبک ۔ حبیک کا مؤنث ہے۔ ریت کے ٹیلے کا راستہ ۔ ستاروں کے درمیان کا راستہ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 7 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اس کے بعد آسمان کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ007﴾ کہ قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے آنے جانے کے) راستے ہیں تم لوگ ایک ایسی گفتگو میں لگے ہوئے ہو جس میں اختلاف ہو رہا ہے کوئی قیامت کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے اس میں جو لوگ قول حق کے مخالف ہیں یعنی وقوع قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس قول سے ہٹائے جا رہے ہیں یعنی جس کو بالکل ہی خیر سے اور حق سے محروم ہونا ہے وہی اس قول حق سے ہٹتا اور بچتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” والسماء ذات الحبک “ زینت و آرائش یا ستارے (بیضاوی، مدارک) ۔ جواب قسم محذوف ہے۔ ای انکم لتحشرون۔ اس آسمان کی قسم جس پر ستاروں کی زینت و آرائش کا جال بچھا ہے تم ضرور مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے۔ یہ حشر و نشر پر شاہد ہے یعنی جس طرح رات کو آسمان پر اچانک ستارے نمودار ہوجاتے ہیں اسی طرح تم بھی اچانک زمین سے نکل آؤ گے۔ یہاں تک دعوی ثبوت قیامت و جزا و سزا مکمل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–18

جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ۝ 7 ۙ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–19

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْجُبُکِ ۔ (الذریٰت : 7) (قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی۔ ) یہ بھی قسم ہے حُبُکْ راستوں کو بھی کہتے ہیں اور ان لہروں کو بھی جو ہوا کے چلنے سے ریگستان کی ریت اور ٹھہرے ہوئے پانی میں پیدا ہوجاتی ہے۔ آیت کریمہ میں آسمان کو حُبُکْ والا قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رات کے وقت جب آسمان پر ستارے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں تو آدمی آسمان کی مختلف جگہوں میں مختلف شکلیں منعکس ہوتے ہوئے دیکھتا ہے جبکہ ہر شکل دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جس کی مختلف شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی شکل بھی ہمارے لیے حقیقت کا درجہ نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–15

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : وَالسَّمَآئِ (قسم ہے آسمان کی) یہ دوسری قسم ہے۔ ذَاتِ الْحُبُکِ (جس میں راستے ہیں) عمدہ راستے۔ جیسا کہ پانی پر ہوا چلنے سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی لہریں اور اسی طرح حبک الشعر۔ ایسے آثار جو ان کو دوہرا کریں اور توڑیں۔ یعنی گھونگریالے بال۔ حبک جمع حبیکۃ جیسے طرق جمع طریقہ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آسمان کی خلقت اسی طرح ہے۔ قولِ حسن (رح) : حبک السماء سے آسمان کے ستارے مراد ہیں اور یہ جمع حباک ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم ! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیم سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔ (انکم) محمد کریم ﷺ کو جھٹلانے والو ! بیشک تم (لفی قول مختلف) ” مختلف قول میں ہو۔ “ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت، شک اور اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔ ) یوفک عنہ من افک) پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل وبراہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 6] راستوں والے آسمان کی قسم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے راستوں والے آسمان کی " حُبُک " جمع ہے " حِبَاک " کی جیسے کتب جمع ہے کتاب کی اور مثل جمع ہے مثال کی۔ یا یہ جمع ہے جیسا کہ طرق جمع ہے طریقہ کی اور مدن جمع ہے مدینہ کی، وغیرہ وغیرہ اور حباک و، جیسا کہ دراصل ریت کے ان راستوں اور پانی کی ان لہروں کو کہا جاتا ہے جو ہوا کے چلنے سے پیدا ہوجاتی ہیں، اور آسمان کے راستوں سے مراد وہ راستے بھی ہوسکتے ہیں جو فرشتوں کی آمدورفت کے لئے مقرر ہیں، اور وہ بھی جو سیاروں اور ستاروں کے لئے مقرر ہیں، اور یہ چیزیں چونکہ آسمان میں ایک خاص قسم کا حسن بھی پیدا کرتی ہیں، اس لئے " ذات الحبک "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–14

آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–8

ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:7) والسماء زات الحبک۔ وائو قسم کی ہے السماء منصوب بوجہ عمل وائو قسمیہ ہے۔ موصوف ذات الحبک مضاف مضاف الیہ مل کر صفت السماء کی۔ قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں : حبک جمع ہے حباک کی جیسے مثال کی جمع مثل ہے بمعنی ریت کے ٹیلے کا راستہ، یا حبیکۃ کی جیسے طریقۃ کی جمع طرق ہے بمعنی ستاروں کے درمیان کا راستہ ۔ بیضاوی نے اس کا مطلب لیا ہے۔ ذات الطرائق والمراد اما الطرائق المحسوسۃ التی بھی مسیر الکواکب او المعقولۃ التی یسلکھا النظار وتتوصل بھا الی المعارف۔ راہوں والا۔ راہوں سے مراد ہیں محسوس راستے، یعنی ستاروں کی گذر گاہ یا عقلی راستے جس پر اہل بصیرت چل کر معرفت کے مقام پر پہنچتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–14

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] یہ قسم سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کی ہے جو شمال کی بادوتند کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں اور جن کو پچھلی قوموں کی تباہی میں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے بڑا دخل رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ف 1: قرآن حکیم نے کئی سورتوں کو قسمیہ الفاظ سے شروع کیا ہے ۔ جس کے متعلق عام طور پر یہ وہ خیال ہیں :۔ ایک تو یہ کہ اس وقت کے اس وقت کے مخالفین جب حضور ﷺ کی قوت استدلال سے متاثر ہوئے تھے ۔ تو کہتے تھے ۔ کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ آپ نے زور خطابت سے ہم کو قائل کرلیا ہے ۔ مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہ آپ کے پاس فی الواقع صداقت بھی موجود ہے ۔ ان کو نسلی اور اطمینان خاطر کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ وہ حلفاً حرف بہ حرف درست ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ وہ منشعت کے اعتبار سے اس قابل ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–9

ف 6۔ ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف، یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسے عظیم القدرت کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 6–7

قسم ہے رب آسمان کی جس میں راستے بنے ہوئے ہیں اور انہی راستوں پر سیارے چلتے ہیں 6 ۔ 7 ۔ (حبک) کا ایک ہی لفظ بول کر آسمانوں کے اندر جو کچھ موجود ہے اور جس طرح موجود ہے سب کی وضاحت کردی اور جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے اس ا کی ہی لفظ کی ترجمانی ہوتی رہے گی اور جو کچھ معلومات ہوئی ہیں اور جو ابھی ہوں گی ان سب پر یہ استعارہ کام دیتا رہے گا اس استعارہ نے یہ بات واضح کردی کہ آسمان کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کا سب ایک پورے نظم کے اندر ہے اور وہاں کسی طرح کی کوئی بد نظمی نہیں ہے اور جس نظام کے ساتھ ان کو چلایا گیا ہے وہ اتنا پختہ ہے کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس میں وہ نظم و ضبط باقاعدہ قائم ہے اور یہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (By the sky, having paths, you are (involved) in a contradictory statement - 51:7-8) Hubuk is the plural habikah and primarily denotes thin irregular lines or streaks on fabrics when woven. They resemble tracks and pathways; therefore pathways are also referred to as hubuk in Arabic. Most interpreters take this to be the meaning in this context. Some scholars say that the 'tracks' refer to pathways used by the angels for entrance and exit. Others say that the tracks or paths of heaven are those orbits of planets and stars that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 The word hubuk in the original is also used for the paths and for the waves which are produced on the sand of the desert and the surface of stagnant water by the wind; it is also spoken for the curls in wavy hair. Here, the sky has been characterized by "hubuk" either because the sky is often overcast with clouds of different shapes, which go on changing because of the wind, and no shape lasts nor resembles any other, or because at night one sees the stars scattered in the sky in many different combinations and no combination resembles any other combination.

Read the full tafseer →