وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۟ؕوَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ
اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, the recompense is to occur.
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۟ؕوَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ
اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, the recompense is to occur.
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat
اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے
اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا
اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے
اور اعمال کا بدلہ یقینا مل کر رہے گا۔
اور بیشک انصاف ضرور ہونا
اور بیشک (اعمال کی) جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی،
اور بلاشبہ جزا یقینا واقع ہونے والی ہے۔
اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا۔
اور جزاء و سزا بیشک واقع ہو کے رہے گی۔
اور بلاشبہ جزا و سزا (اور عدل و انصاف کے عمل) نے بہرحال ہو کر رہنا ہے
اور جزا ضرور ہی ہونے والی ہے۔
اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔
اور انصاف کا دن ضرور واقعہ ہوگا
and the Judgement shall doubtlessly take place.
and Recompense (of deeds) is sure to happen.
and Recompense (of deeds) is sure to happen.
And verily, Ad-Din is sure to occur.
And lo! the judgment will indeed befall.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And indeed, the recompense is to occur.
and the Day of Judgment will inevitably take place.
And the judgment must most surely come about.
And verily the Requital is surely to befall.
And verily Judgment and Justice must indeed come to pass.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 4 یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس بےنظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اور جو حکمت اور مصلحتیں اس میں صریح طور پر کار فرما نظر آتی ہیں، وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں کہ یہ دنیا کوئی بےمقصد اور بےمعنی گھروندا نہیں ہے جس میں لاکھوں کروڑوں برس سے ایک بہت بڑا کھیل بس یونہی الل ٹپ ہوئے جا رہا ہو، بلکہ یہ در حقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔ اس نظام میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ یہاں انسان جیسی ایک مخلوق کو عقل، شعور، تمیز اور تصرف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو (حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے (ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
انما توعدون لصادق، وان الدین لواقع (6-5) قسم کا مقسم علیہ یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہوائوں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزاء و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ توعدون، کا مفہوم انما تعدون استاذ امام فراہی کے نزیک توعدون، وعد سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبنی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ وہ ان الدین لواقع کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں۔ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ توعدون وعید سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کرلیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1: یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس بات سے بےنیاز ہے کہ اپنی کسی بات پر قسم کھائے، البتہ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ کلام میں فصاحت و بلاغت کا زور پیدا کرنے کے لئے آئی ہیں، اور بسا اوقات ان میں یہ پہلو مد نظر ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جارہی ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو وہ اس بات کی دلیل اور گواہ ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہے، چنانچہ یہاں قسم کے بعد جو بات بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور جزاء وسزا کا فیصلہ ضرور ہوگا۔ اور قسم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا : والسمائ ........ من افک یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9 یعنی یہ ہواؤں اور بارش وغیرہ کا نظام شاہد ہے کہ آخرت کا وعدہ سچا، اور انصاف ہونا ضروری ہے۔ جب اس دنیا میں ہوا تک بےنتیجہ نہیں چلتی تو کیا اتنا بڑا کارخانہ یوں ہی بےنتیجہ چل رہا ہے ؟ یقینا اس کا کوئی عظیم الشان انجام ہوگا۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5 ‘ 6{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔“ یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقیناسچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
2 آخرت دراصل انسان کے امتحان کے نتیجہ کا دن ہے جس پر جزا و سزا مرتب ہوگی :۔ زمین پر بارش کے نظام پر ہی زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے رزق اور زندگی کا انحصار ہے اسی وجہ سے اس پورے نظام کو بطور شہادت پیش کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جو تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ وعدہ سے مراد آخرت کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ جنت کا بھی، دوزخ کا بھی اور عذاب کا وعدہ بھی خواہ یہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا، اور بارش کا یہ نظام آخرت کے وعدہ پر دلیل اس لحاظ سے ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور بالخصوص یہ بارش کا نظام چل رہا ہے ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو عبث ہو اور کوئی مفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ (اس لیے تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری پوری محسوس کرے) قرآن مجید کے پیش نظر ایک ایسی امت تیار کرنا ہے، جس کا ہر ہر فرد اپنے ایک ایک عمل میں زندگی کے ایک ایک جزئیہ میں، اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس رکھتا ہو، اور کسی حال میں اس کے قدم کو لغزش نہ ہو۔ انسان کو ہمہ وقت صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے حشر کا اعتقاد ہی نہیں، بلکہ اس کا استحضار بھی لازمی ہے۔ (آیت) ” الذریت ذروا “۔ مرا دوہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اڑاتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” فالحملت وقرا “۔ مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادی وغیر مادی ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے قسم ہے ان ہوائوں کی جو غبار وغیرہ کو پراگندہ کرتی ہیں (ذروا) مصدر ہے اور کہا جاتا ہے تذریہ ذریاً یعنی ہوائیں غبار کو اڑاتی ہیں پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھانے والے ہیں وقراً حاملات کا مفعول ہے، پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو پانی کی سطح پر سہولت کے ساتھ چلتی ہیں یسراً مصدر ہے حال کی جگہ میں یعنی حال یہ کہ وہ سبک رفتاری سے چلتی ہیں پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ایک بڑے اہم کام کی یعنی رزق اور بارش وغیرہ کی بندوں اور شہروں کے درمیان تقسیم کرنے والے ہیں اور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ما مصدریہ ہے یعنی ان سے بعث…
Read the full tafseer →وان الدین لواقع . اور اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے۔ جس چیز کا تم کو وعدہ سنایا جا رہا ہے یعنی وعدۂ قیامت سچا وعدہ ہے اور اعمال کی سزا و جزاء ضرور ہوگی۔ متعدد مختلف حیران کن تعجب آفریں چیزوں کی جو صانع مختار کے اقتدار کامل اور صنعت جمیل و محکم پر دلالت کر رہی ہیں قسم کھا کر اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کی صراحت کی ‘ گویا ان چیزوں کی تخلیق و صنعت کو پیش کر کے قیامت پر قادر ہونے کو بدلیل ثابت کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(1) انما توعدون لصادق …: یہاں ”انما“ اکٹھا لفظ نہیں جو کلمہ حصر ہے اور جس کا معنی ہے ”اس کے سوا نہیں“ بلکہ اس میں ”ان ‘ حرف تاکید الگ ہے اور ”ما الگ ہے جو اسم موصول ہے اور اس کا معنی ہے ”وہ جو۔ ذ صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں رسم الحظ پوری طرح ضبط نہیں ہوا تھا، انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا لکھ دیا، تو بعد میں امت نے قرآن مجید کی حفاظت کا اتنا زبردست اہتمام کیا کہ صحابہ نے جو لفظ جس طرح لکھا تھا قرآن مجید کے رسم الخط میں اسے اسی طرح باقی رکھا گیا۔ (2) یعنی انچ اورں صفات کی حامل ہوائیں شاہد ہیں کہ تم سے دوبارہ زندہ کئے جانے اورق بروں سے نکل کر اللہ کے سامنے پیش ہونے کا جو وعدہ کیا ج اتا ہے وہ یقیناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
والذریت ذروا، ابوبکر انباری نے کہا عبدا للہ بن ناجیہ، یعقوب بن ابراہیم سے وہ مکی بنی ابراہیم سے وہ جعید بن عبدالرحمن سے وہ یزدبن خصیفہ سے وہ سائب بن یزد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ سے عرض کی : میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ مشکل القرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس پر قدرت دے۔ ایک روز وہ آدمی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لباس اور عمامہ زیب تن کئے ہوئے تھا جب کہ حضرت عمر ؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جب آپ قرآن پڑھنے سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! والذریت ذروا کیا ہے ؟ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →وَّاِنَّ الدِّيْنَ [ اور بیشک بدلہ ] لَوَاقِــعٌ [یقینا واقع ہونے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری…
Read the full tafseer →وَّاِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِــعٌ 6 ۭ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ (الذریٰت : 5، 6) (جس چیز کی تمہیں وعید سنائی جارہی ہے وہ سچ ہے۔ اور جزاء و سزا بیشک واقع ہو کے رہے گی۔ ) قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ یہ اس سے پہلے بیان کردہ قسموں کا جوابِ قسم ہے۔ ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسمیں اس کے لیے دلائل کا کام دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دو باتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ جس عذاب سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لائو گے اور راہ راست اختیار نہیں کرو گے تو اندیشہ ہے کہ تم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ جس طرح تکذیبِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن ربط کلام : پانی کا انحصار بارش پر ہے اور اس کے ذریعے زمین سے بیج اگتے ہیں۔ جس طرح زمین سے بیج اگتے ہیں اسی طرح لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ پہلی آیات میں بارش کے حوالے سے اشارتاً قیامت کا ذکر ہوا اور اب بار بار تاکید کے الفاظ لا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ یہ بات سورة ق کی آیات 9 تا 19 کی تفسیر میں ذکر ہوئی ہے کہ جس ذات نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے اس کے لیے مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل نہیں بلکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے اس…
Read the full tafseer →آیت 6 : وَّ اِنَّ الدِّیْنَ (اور جزائے اعمال) لَوَاقِعٌ (ضرور ہونے والی ہے)
Read the full tafseer →5 ۔ پھر مقسم علیہ کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” انما توعدون “ ثواب و عتاب کا ” لصادق “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تفسیر سورة الذریت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں، جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لامحالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل وبراہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کرسکتے ہیں۔ (الذاریات) یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں (ذروا) اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی…
Read the full tafseer →[ 5] جزا وسزا کا قیام ووجود قطعی طور پر حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ جزاوسزا نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ تاکہ ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ اور جب دنیا میں ایک فانی اور مجازی مالک بھی اپنے نوکروں اور ماتحتوں کو ایک برابر نہیں رکھتا بلکہ وہ ان کی دیانت و امانت اور کارکردگی کے مطابق ان سے معاملہ کرتا ہے، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ مالک الملک جو کہ حقیقی مالک بھی ہے اور احکم الحاکمین بھی، وہ اپنے بندوں کے درمیان عدل و انصاف نہ فرمائے ؟ اور نیک و بد سب ایک ہی طرح رہیں ؟ پس حقیقی انصاف کے اس دن نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے اور عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہواؤں کی قسم اور ہواؤں کے معمولات تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ ہواؤں کی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ یہ بھی کائنات کے کارخانہ کا ایک بڑا اہم اور عام فہم سا پرزہ ہے۔ مگر ہے بڑا اہم کیونکہ ان کی موجودگی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے والے اہم اجزاء کی تکمیل حیات اور نشوونما کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز زندہ ہے اور زندگی کی بقاء کے لیے ہوا بےحد ضروری جزو ہے۔ تیز چلتی ہیں تو تخم پاشی یعنی بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور یہ بیج لگانے کا قدرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(51:6) وان الدین لواقع۔ ان حرف مشبہ بالفعل الدین اسم ان ۔ لواقع ان کی خبر، الدین منصوب بوجہ اسم ان ۔ دان یدین (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی جزاء وسزا شریعت ۔ حکم ماننا۔ اطاعت کرنا۔ مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور بیشک اعمال کی جزاء سزا واقع ہو کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →[5] ہواؤں کے تصرفات پر یہاں دو چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، ایک اس بات پر کہ کفار کو بصورت تکذیب جس عذاب کا وعدہ دیا جا رہا ہے وہ بالکل سچا ہے۔ جن قوموں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو ہواؤں کے ذریعے ہلاک کر مارا۔ آگے تاریخ کی روشنی میں اس وعدے کو سچ ثابت کرنے کے لئے قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ دوسری چیز جس پر قسم کھائی ہے، وہ آخرت ہے۔ بارش کا یہ نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ دنیا بےمعنی اور بےمقصد گھروندا نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان کو زمین میں اختیارات دے کر بس یونہی چھوڑ دیا جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: قرآن حکیم نے کئی سورتوں کو قسمیہ الفاظ سے شروع کیا ہے ۔ جس کے متعلق عام طور پر یہ وہ خیال ہیں :۔ ایک تو یہ کہ اس وقت کے اس وقت کے مخالفین جب حضور ﷺ کی قوت استدلال سے متاثر ہوئے تھے ۔ تو کہتے تھے ۔ کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ آپ نے زور خطابت سے ہم کو قائل کرلیا ہے ۔ مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہ آپ کے پاس فی الواقع صداقت بھی موجود ہے ۔ ان کو نسلی اور اطمینان خاطر کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ وہ حلفاً حرف بہ حرف درست ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ وہ منشعت کے اعتبار سے اس قابل ہیں ۔…
Read the full tafseer →(6) اور یقینا اعمال کی جزا ضرور ملنے والی ہے۔ یعنی بارش سے پہلے جو بادلوں کو ابھارنے کے لئے تیز ہوا چلتی ہے جس سے خاک اور غبار اڑتا ہے اس کی قسم پھر جب پانی سے بھرے ہوئے بادل اٹھ آتے ہیں ان بدلیوں کی قسم، اور سازگاری ہوا کے ساتھ جو نرم رفتار کے ساتھ کشتیاں چلتی ہیں ان کی قسم اور ان فرشتوں کی قسم جو ارزاق وغیرہ کی تقسیم پر موکل ہیں یا اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق مختلف علاقوں میں بارش کی تقسیم کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ چاروں قسمیں ہوا کی ہوں۔ مثلاً یوں ترجمہ کیا جائے قسم ہے ان ہوائوں کی جو اڑا کر بکھیرتی ہیں جن سے غبار اور خاک وغیرہ اڑتی ہے۔ پھر وہ ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 6۔ ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف، یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسے عظیم القدرت کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
قسم ہے رب آسمان کی جس میں راستے بنے ہوئے ہیں اور انہی راستوں پر سیارے چلتے ہیں 6 ۔ 7 ۔ (حبک) کا ایک ہی لفظ بول کر آسمانوں کے اندر جو کچھ موجود ہے اور جس طرح موجود ہے سب کی وضاحت کردی اور جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے اس ا کی ہی لفظ کی ترجمانی ہوتی رہے گی اور جو کچھ معلومات ہوئی ہیں اور جو ابھی ہوں گی ان سب پر یہ استعارہ کام دیتا رہے گا اس استعارہ نے یہ بات واضح کردی کہ آسمان کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کا سب ایک پورے نظم کے اندر ہے اور وہاں کسی طرح کی کوئی بد نظمی نہیں ہے اور جس نظام کے ساتھ ان کو چلایا گیا ہے وہ اتنا پختہ ہے کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس میں وہ نظم و ضبط باقاعدہ قائم ہے اور یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Affirmation of After-Life The subject-matter of Surah Adh-Dhariyat, like its predecessor Surah Qaf, is mainly the Hereafter, Resurrection, Reckoning, Judgment, and Allah's reward and punishment. The first few verses contain an oath from Allah that the promise of Resurrection is true, and shall come to pass. In these verses Allah swears an oath by four phenomena, as follows: وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿2﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿4﴾ (I swear) by those (winds) that scatter dust, then by those (clouds) that bear loads, then by those…
Read the full tafseer →4 This is the thing for which the oath has been sworn. The oath implies this: The unique order and regularity with which the wonderful system of the rain is functioning before your eyes, and the wisdom and good reasons which clearly underlie it, testify to the reality that this world is not a meaningless and useless toy-house where the great drama of life is being presented at random since millions and millions of years. Hut, it is, in fact, a wise system of the highest order in which everything that happens has a purpose and reason behind it. In this system it is not possible that n creature…
Read the full tafseer →