اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۟ۙاِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ
کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, what you are promised is true.
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۟ۙاِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ
کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, what you are promised is true.
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat
حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے وہ سچی ہے
کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں
کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقینی طور پر سچا ہے۔
بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضروری سچ ہے،
بیشک (آخرت کا) جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے بالکل سچا ہے،
کہ بلاشبہ جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقینا سچا ہے۔
کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے۔
کہ جس عذاب کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے
بلاشبہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے (اے لوگو) وہ قطعی طور پر سچی ہے
کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل برحق ہے
جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔
کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے۔
surely what you are being warned against is true,
whatever you are being promised is surely true,
whatever you are being promised is surely true,
Verily, that which you are promised is surely true.
Lo! that wherewith ye are threatened is indeed true,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, what you are promised is true.
that what you are promised is certainly true
What you are threatened with is most surely true,
Verily that wherewith ye are threatened is surely true.
Verily that which ye are promised is true;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 3 اصل میں لفظ تُوْعَدُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اگر وَعْد سے ہو تو اس کا مطلب ہوگا " جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے "۔ اور وعید سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ " جس چیز کا تم کو ڈراوا دیا جا رہا ہے "۔ زبان کے لحاظ سے دونوں مطلب یکساں درست ہیں۔ لیکن موقع و محل کے ساتھ دوسرا مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک اور فسق و فجور میں غرق تھے اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کبھی ان کو محاسبے اور جزائے اعمال سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اسی لیے ہم نے تُوْعَدُوْنَ کو وعدے کے بجائے وعید کے معنی میں لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو (حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے (ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
انما توعدون لصادق، وان الدین لواقع (6-5) قسم کا مقسم علیہ یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہوائوں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزاء و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ توعدون، کا مفہوم انما تعدون استاذ امام فراہی کے نزیک توعدون، وعد سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبنی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ وہ ان الدین لواقع کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں۔ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ توعدون وعید سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کرلیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1: یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس بات سے بےنیاز ہے کہ اپنی کسی بات پر قسم کھائے، البتہ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ کلام میں فصاحت و بلاغت کا زور پیدا کرنے کے لئے آئی ہیں، اور بسا اوقات ان میں یہ پہلو مد نظر ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جارہی ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو وہ اس بات کی دلیل اور گواہ ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہے، چنانچہ یہاں قسم کے بعد جو بات بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور جزاء وسزا کا فیصلہ ضرور ہوگا۔ اور قسم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9 یعنی یہ ہواؤں اور بارش وغیرہ کا نظام شاہد ہے کہ آخرت کا وعدہ سچا، اور انصاف ہونا ضروری ہے۔ جب اس دنیا میں ہوا تک بےنتیجہ نہیں چلتی تو کیا اتنا بڑا کارخانہ یوں ہی بےنتیجہ چل رہا ہے ؟ یقینا اس کا کوئی عظیم الشان انجام ہوگا۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5 ‘ 6{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔“ یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقیناسچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
2 آخرت دراصل انسان کے امتحان کے نتیجہ کا دن ہے جس پر جزا و سزا مرتب ہوگی :۔ زمین پر بارش کے نظام پر ہی زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے رزق اور زندگی کا انحصار ہے اسی وجہ سے اس پورے نظام کو بطور شہادت پیش کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جو تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ وعدہ سے مراد آخرت کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ جنت کا بھی، دوزخ کا بھی اور عذاب کا وعدہ بھی خواہ یہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا، اور بارش کا یہ نظام آخرت کے وعدہ پر دلیل اس لحاظ سے ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور بالخصوص یہ بارش کا نظام چل رہا ہے ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو عبث ہو اور کوئی مفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ (اس لیے تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری پوری محسوس کرے) قرآن مجید کے پیش نظر ایک ایسی امت تیار کرنا ہے، جس کا ہر ہر فرد اپنے ایک ایک عمل میں زندگی کے ایک ایک جزئیہ میں، اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس رکھتا ہو، اور کسی حال میں اس کے قدم کو لغزش نہ ہو۔ انسان کو ہمہ وقت صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے حشر کا اعتقاد ہی نہیں، بلکہ اس کا استحضار بھی لازمی ہے۔ (آیت) ” الذریت ذروا “۔ مرا دوہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اڑاتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” فالحملت وقرا “۔ مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادی وغیر مادی ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے قسم ہے ان ہوائوں کی جو غبار وغیرہ کو پراگندہ کرتی ہیں (ذروا) مصدر ہے اور کہا جاتا ہے تذریہ ذریاً یعنی ہوائیں غبار کو اڑاتی ہیں پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھانے والے ہیں وقراً حاملات کا مفعول ہے، پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو پانی کی سطح پر سہولت کے ساتھ چلتی ہیں یسراً مصدر ہے حال کی جگہ میں یعنی حال یہ کہ وہ سبک رفتاری سے چلتی ہیں پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ایک بڑے اہم کام کی یعنی رزق اور بارش وغیرہ کی بندوں اور شہروں کے درمیان تقسیم کرنے والے ہیں اور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ما مصدریہ ہے یعنی ان سے بعث…
Read the full tafseer →انما تو عدون لصادق تم سے جو (قیامت کا) وعدہ کیا جا رہا ہے (وہ وعدہ) بالکل سچ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(1) انما توعدون لصادق …: یہاں ”انما“ اکٹھا لفظ نہیں جو کلمہ حصر ہے اور جس کا معنی ہے ”اس کے سوا نہیں“ بلکہ اس میں ”ان ‘ حرف تاکید الگ ہے اور ”ما الگ ہے جو اسم موصول ہے اور اس کا معنی ہے ”وہ جو۔ ذ صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں رسم الحظ پوری طرح ضبط نہیں ہوا تھا، انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا لکھ دیا، تو بعد میں امت نے قرآن مجید کی حفاظت کا اتنا زبردست اہتمام کیا کہ صحابہ نے جو لفظ جس طرح لکھا تھا قرآن مجید کے رسم الخط میں اسے اسی طرح باقی رکھا گیا۔ (2) یعنی انچ اورں صفات کی حامل ہوائیں شاہد ہیں کہ تم سے دوبارہ زندہ کئے جانے اورق بروں سے نکل کر اللہ کے سامنے پیش ہونے کا جو وعدہ کیا ج اتا ہے وہ یقیناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
والذریت ذروا، ابوبکر انباری نے کہا عبدا للہ بن ناجیہ، یعقوب بن ابراہیم سے وہ مکی بنی ابراہیم سے وہ جعید بن عبدالرحمن سے وہ یزدبن خصیفہ سے وہ سائب بن یزد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ سے عرض کی : میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ مشکل القرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس پر قدرت دے۔ ایک روز وہ آدمی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لباس اور عمامہ زیب تن کئے ہوئے تھا جب کہ حضرت عمر ؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جب آپ قرآن پڑھنے سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! والذریت ذروا کیا ہے ؟ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] تُوْعَدُوْنَ [ تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے ] لَصَادِقٌ [ (وہ) یقینا سچ ہونے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری…
Read the full tafseer →اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ 5 ۙ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ (الذریٰت : 5، 6) (جس چیز کی تمہیں وعید سنائی جارہی ہے وہ سچ ہے۔ اور جزاء و سزا بیشک واقع ہو کے رہے گی۔ ) قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ یہ اس سے پہلے بیان کردہ قسموں کا جوابِ قسم ہے۔ ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسمیں اس کے لیے دلائل کا کام دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دو باتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ جس عذاب سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لائو گے اور راہ راست اختیار نہیں کرو گے تو اندیشہ ہے کہ تم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ جس طرح تکذیبِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن ربط کلام : پانی کا انحصار بارش پر ہے اور اس کے ذریعے زمین سے بیج اگتے ہیں۔ جس طرح زمین سے بیج اگتے ہیں اسی طرح لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ پہلی آیات میں بارش کے حوالے سے اشارتاً قیامت کا ذکر ہوا اور اب بار بار تاکید کے الفاظ لا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ یہ بات سورة ق کی آیات 9 تا 19 کی تفسیر میں ذکر ہوئی ہے کہ جس ذات نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے اس کے لیے مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل نہیں بلکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے اس…
Read the full tafseer →آیت 5 : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ یہ جواب قسم ہے۔ اور ما موصولہ یا مصدر یہ ہے اور موعودہ چیز بعث ہے۔ لَصَادِقٌ یعنی وہ سچائی والا وعدہ ہے یہ ترکیب عیشۃ راضیۃ کی طرح ہے۔ ای ذات رضا۔
Read the full tafseer →4 ۔” فالمقسمات امرا “ فرشتے جو مخلوق کے درمیان امور کی تقسیم کرتے ہیں۔ اس تفصیل پر جس کا ان کو حکم دیا گیا ہوتا ہے۔ ان اشیاء کی قسم کھائی کیونکہ ان میں اس کی کاری گری اور قدرت پر دلالت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تفسیر سورة الذریت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں، جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لامحالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل وبراہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کرسکتے ہیں۔ (الذاریات) یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں (ذروا) اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی…
Read the full tafseer →[ 4] بعث بعد الموت کی حقانیت پر استدلال کا ذکر وبیان : سو ان چاروں قسموں کے بعد اور ان کے جواب قسم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس چیز کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا ہے وہ قطعی طور پر سچ ہے۔ یعنی یہ کہ تم لوگوں نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہے، اور اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ { توعدون } وعد سے نہیں وعید سے مشتق ہو، جس کے معنی ڈرانے دھمکانے اور خوف دلانے کے آتے ہیں، سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس سے تمہیں ڈرایا اور خوف دلایا جا رہا ہے، اے لوگو ! وہ بہرحال اور قطعی طور پر سچی ہے۔ اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہواؤں کی قسم اور ہواؤں کے معمولات تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ ہواؤں کی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ یہ بھی کائنات کے کارخانہ کا ایک بڑا اہم اور عام فہم سا پرزہ ہے۔ مگر ہے بڑا اہم کیونکہ ان کی موجودگی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے والے اہم اجزاء کی تکمیل حیات اور نشوونما کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز زندہ ہے اور زندگی کی بقاء کے لیے ہوا بےحد ضروری جزو ہے۔ تیز چلتی ہیں تو تخم پاشی یعنی بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور یہ بیج لگانے کا قدرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(51:5) انما توعدون لصادق : ان حرف مشبہ بالفعل حرف تحقیق ہے۔ بمعنی تحقیق بےشک، یقینا۔ ما موصولہ۔ توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ وعد (باب ضرب) مصدر سے صلہ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے موصول وصلہ مل کر اسم ان ۔ لصادق لام تاکید صادق سچا۔ صدق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہ ان کی خبر ہے بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔ یہ آیت جواب قسم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →[4] قسموں کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: قرآن حکیم نے کئی سورتوں کو قسمیہ الفاظ سے شروع کیا ہے ۔ جس کے متعلق عام طور پر یہ وہ خیال ہیں :۔ ایک تو یہ کہ اس وقت کے اس وقت کے مخالفین جب حضور ﷺ کی قوت استدلال سے متاثر ہوئے تھے ۔ تو کہتے تھے ۔ کہ ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ آپ نے زور خطابت سے ہم کو قائل کرلیا ہے ۔ مگر ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ کہ آپ کے پاس فی الواقع صداقت بھی موجود ہے ۔ ان کو نسلی اور اطمینان خاطر کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ وہ حلفاً حرف بہ حرف درست ہے ۔ اور اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ وہ منشعت کے اعتبار سے اس قابل ہیں ۔…
Read the full tafseer →(5) یقینا تم لوگوں سے جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ سزا و جزا کا دن ضرور آنے والا ہے اور بدلہ مل کر رہے گا 6 ۔ یہ بات ہم پیچھے بہت سے مقامات پر واضح کرچکے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کے اعمال کا حساب بےباک نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ انسان کے مرنے کے ساتھ بھی فوراً اس کا حساب کتاب مکمل نہیں کردیا جاتا ہاں ! اس کی اصل سکونت کا پر تو چاہے اس کو نظر آجائے اور روح پر جو عوارضات گزرتے ہیں وہ بھی محض ایک ترغیب و ترہیب کا انداز اپنے اندر رکھتے ہیں اس کو مکمل بدلہ نہیں کہا جاسکتا لہٰذا ضروری تھا کہ اس کے لیے کوئی ایک دن مقرر کیا جائے اور وہ دن وہی ہو جس دن اس پورے نظام کو ختم کرکے کوئی نیا نظام قائم کیا جائے کیونکہ جب یہ دنیا کا نظام قائم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Affirmation of After-Life The subject-matter of Surah Adh-Dhariyat, like its predecessor Surah Qaf, is mainly the Hereafter, Resurrection, Reckoning, Judgment, and Allah's reward and punishment. The first few verses contain an oath from Allah that the promise of Resurrection is true, and shall come to pass. In these verses Allah swears an oath by four phenomena, as follows: وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿2﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿4﴾ (I swear) by those (winds) that scatter dust, then by those (clouds) that bear loads, then by those…
Read the full tafseer →3 The word used in the original is to 'edun. If it is derived from we'd, the meaning would be: "That which you are being promised;" and if it is from wa'id, it would mean: "That which you are being threatened with." As regards the context, the second meaning is preferable, for the addressees are the people who were lost in disbelief, polytheism and sin, and were not prepared to believe that they would be held accountable some time in the future and would be rewarded or punished accordingly. That is why, we have taken to 'adun in the meaning of wa' id and not of wa'd (promise).
Read the full tafseer →