Adh-Dhaariyat 51:4

Adh-Dhaariyat · from ayah 4

51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۟ۙفَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ‏

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those [angels] apportioning [each] matter,

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:4

پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر حکم سے بانٹنے والیاں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کام تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قَسم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ایک بڑے کام (بارش) کو تقسیم کرنے والی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کی جو امر (بارش) کو تقسیم کرنیوالی ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر الگ الگ کرتی ہیں معاملہ۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان فرشتوں کی جو تقسیم کرتے ہیں حکم کے مطابق

— مولانا اسحاق مدنی

پھر چیزیں تقسیم کرنے والے فرشتوں کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اللہ کے امر کو تقسیم کرنے والی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and execute the great task of apportioning (rainfall):

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then those who distribute things,

— Muhammad Taqi Usmani

then those who distribute things,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the distributors of command,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who distribute (blessings) by command,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those [angels] apportioning [each] matter,

— Saheeh International

by the angels which distribute the affairs,

— Muhammad Sarwar

Then those (angels who) distribute blessings by Our command;

— Muhammad Habib Shakir

And the angels who distribute the affair.

— Abdul Majid Daryabadi

And those that distribute and apportion by Command;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 2 الجَارِیَاتِ یُسْراً اور المُقَسِّمٰتِ اَمْراً کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے، یا یہ مفہوم لینا جائز رکھا ہے کہ ان دونوں سے مراد بھی ہوائیں ہی ہیں، یعنی یہی ہوائیں پھر بادلوں کو لے کر چلتی ہیں اور پھر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، جہاں جتنا حکم ہوتا ہے، پانی تقسیم کرتی ہیں۔ دوسرے گروہ نے الجَارِیَاتِ یُسْراً سے مراد سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی کشتیاں لی ہیں اور المُقَسِّمٰتِ اَمْراً سے مراد وہ فرشتے لیے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی مخلوقات کے نصیب کی چیزیں ان میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو (حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے (ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات ا کی وضاحت والذریت ذروا، فالحملت وقراہ فالجریت یسوآء فالمقسمت امراً (4-1) جو اقسم کے لئے ہے اور قسم شہادت کے لئے والذریت میں ’ و ‘ قسم کے لئے ہے اور اس بات کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح اشیاء کی جو س میں کھائی گئی ہیں اس کا مقصود ان اشیاء کی تعظیم نہیں، بلکہ ان کو اس دعوت پر شہادت کے لئے پیش کرنا ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوتا ہے یا سیاق کلام سے سمجھا جاتا ہے، چناچہ یہ قسم بھی شہادت ہی کے لئے ہے۔ اس کا ترجمہ اگر شہادت کے لفظ سے کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز ہوگا۔ ذاریت ذاریات غبار اڑانے والی ہوائوں کو کہتے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4۔ 1 مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کرلیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–6

1: یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس بات سے بےنیاز ہے کہ اپنی کسی بات پر قسم کھائے، البتہ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ کلام میں فصاحت و بلاغت کا زور پیدا کرنے کے لئے آئی ہیں، اور بسا اوقات ان میں یہ پہلو مد نظر ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جارہی ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو وہ اس بات کی دلیل اور گواہ ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہے، چنانچہ یہاں قسم کے بعد جو بات بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور جزاء وسزا کا فیصلہ ضرور ہوگا۔ اور قسم ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

8 اول زور کی ہوائیں اور آندھیاں چلتی ہیں جن سے غبار وغیرہ اڑتا ہے اور بادل بنتے ہیں، پھر ان میں پانی بنتا ہے۔ اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہیں۔ پھر برسنے کے قریب نرم ہوا چلی ہے پھر اللہ کے حکم کے موافق بارش میں جس جگہ کہ جتنا حصہ ہوتا ہے وہ تقسیم کرتی ہیں۔ ان ہواؤں کی اللہ قسم کھاتا ہے۔ بعض علماء نے " ذاریات، سے ہوائیں۔ " حاملات " سے بادل، " جاریات " سے ستارے اور " مقسمات " سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ گویا مقسم بہ کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہوئی اور حضرت علی ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ " ذاریات " ہوائیں۔ " حاملات "۔ بادل، " جاریات " کشتیاں، اور " مقسمات " فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے رزق وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ } ”پھر اللہ کے امر کو تقسیم کرنے والی ہیں۔“ اس سے مراد بارش کے پانی کی تقسیم ہے۔ بادل کی شکل میں سمندر کے پانی کو ہوائیں مختلف علاقوں میں اڑائے پھرتی ہیں ‘ مگر کس جگہ بارش ہوگی اور کس جگہ نہیں ہوگی اور جہاں ہوگی وہاں کس قدر ہوگی ‘ یہ سب کچھ تو اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اس امر حکم کی تقسیم ہوائوں کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔ اس تقسیم کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے ہیں۔ چناچہ بعض علاقوں میں بارش سے جل تھل ہوجاتا ہے اور کچھ علاقے پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے رہ جاتے ہیں اور کالی گھٹائیں ان کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ ان آیات میں ہوائوں کی قسمیں کھا کر اور پھر ان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–6

2 آخرت دراصل انسان کے امتحان کے نتیجہ کا دن ہے جس پر جزا و سزا مرتب ہوگی :۔ زمین پر بارش کے نظام پر ہی زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے رزق اور زندگی کا انحصار ہے اسی وجہ سے اس پورے نظام کو بطور شہادت پیش کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جو تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ وعدہ سے مراد آخرت کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ جنت کا بھی، دوزخ کا بھی اور عذاب کا وعدہ بھی خواہ یہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا، اور بارش کا یہ نظام آخرت کے وعدہ پر دلیل اس لحاظ سے ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور بالخصوص یہ بارش کا نظام چل رہا ہے ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو عبث ہو اور کوئی مفید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–6

1۔ (اس لیے تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری پوری محسوس کرے) قرآن مجید کے پیش نظر ایک ایسی امت تیار کرنا ہے، جس کا ہر ہر فرد اپنے ایک ایک عمل میں زندگی کے ایک ایک جزئیہ میں، اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس رکھتا ہو، اور کسی حال میں اس کے قدم کو لغزش نہ ہو۔ انسان کو ہمہ وقت صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے حشر کا اعتقاد ہی نہیں، بلکہ اس کا استحضار بھی لازمی ہے۔ (آیت) ” الذریت ذروا “۔ مرا دوہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اڑاتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” فالحملت وقرا “۔ مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادی وغیر مادی ہر طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے قسم ہے ان ہوائوں کی جو غبار وغیرہ کو پراگندہ کرتی ہیں (ذروا) مصدر ہے اور کہا جاتا ہے تذریہ ذریاً یعنی ہوائیں غبار کو اڑاتی ہیں پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھانے والے ہیں وقراً حاملات کا مفعول ہے، پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو پانی کی سطح پر سہولت کے ساتھ چلتی ہیں یسراً مصدر ہے حال کی جگہ میں یعنی حال یہ کہ وہ سبک رفتاری سے چلتی ہیں پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ایک بڑے اہم کام کی یعنی رزق اور بارش وغیرہ کی بندوں اور شہروں کے درمیان تقسیم کرنے والے ہیں اور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ما مصدریہ ہے یعنی ان سے بعث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالمقسمت امرًا . پھر ان (فرشتوں) کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلا کر بارش کو تقسیم کرتی ہیں یا وہ ملائکہ جو بارش اور رزق وغیرہ کو تقسیم کرتے ہیں یا وہ تمام (فطری) اسباب جو (اشیاء کی) تقسیم کرتے ہیں۔ اگر مذکورہ بالا جملوں میں مختلف چیزیں علیحدہ علیحدہ مراد ہوں تو ہر جملہ میںترتیب اقسام کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ کمال قدرت کو ظاہر کرنے میں سب کی حالت ایک جیسی نہیں ہے بلکہ باہمی بڑا تفاوت ہے اور اگر تمام فقروں میں متعدد مختلف چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی چیز مراد ہو تو فَ ترتیب افعال کے لیے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فالمقمت امراً : یہ بھی وہ ہوائیں ہی ہیں جو بھاری بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے انہیں اللہ کے حکم سے زمین کے مختلف حصوں میں لے جا کر ان کے حصے کی بارش برساتی ہیں، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور ہر علاقے کے لوگوں میں ان کا رزق تقسیم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

والذریت ذروا، ابوبکر انباری نے کہا عبدا للہ بن ناجیہ، یعقوب بن ابراہیم سے وہ مکی بنی ابراہیم سے وہ جعید بن عبدالرحمن سے وہ یزدبن خصیفہ سے وہ سائب بن یزد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ سے عرض کی : میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ مشکل القرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس پر قدرت دے۔ ایک روز وہ آدمی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لباس اور عمامہ زیب تن کئے ہوئے تھا جب کہ حضرت عمر ؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جب آپ قرآن پڑھنے سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! والذریت ذروا کیا ہے ؟ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–16

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–6

2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۝ 4 ۙ تقسیم کرنے والیاں۔ امرا منصوب بوجہ مفعول بہ ہونے کے۔ کہا جاتا ہے قسم الرزق اس نے رزق تقسیم کیا۔ امر واحد آیا ہے۔ لیکن مراد اس سے امور ( جمع) ہے۔ المقسمت امرا۔ تقسیم کرنے والیاں مختلف چیزوں کو ، یا کاموں کو، مراد یہاں فرشتے ہیں۔ جو رزق بارش وغیرہ لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–19

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا۔ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ (الذریٰت : 1 تا 4) (قسم ہے ان ہَوائوں کی جو گرد اڑانے والی ہیں۔ پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں۔ پھر سبک رفتاری سے چلنے والی ہیں۔ پھر ایک بڑے کام کی تقسیم کرنے والی ہیں۔ ) قسم اور جوابِ قسم کی وضاحت ہم متعدد مواقع پر اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ” وائو “ قسم کے لیے بھی آتا ہے اور ان آیات میں ” وائو “ قسم کے لیے آیا ہے۔ جس لفظ پر یہ ” وائو “ داخل ہوتا ہے اسے قسم کہا جاتا ہے۔ گویا وہ ایک طرح کی دلیل اور ایک طرح کی شہادت ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : سورة ق کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا۔ الذّاریات کی ابتدا بھی قیامت کے ذکر اور اس کے دلائل سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی کی قسم اٹھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ اس سے دیگر مقاصد کے ساتھ اس چیز کی اہمیت بتلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ جنس (gender) کے اعتبار سے ہوا ایک ہے لیکن کام اور اثرات کے لحاظ سے اس کی کئی اقسام ہیں یہاں چار قسم کی ہواؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قسم ہے گردوغبار اڑانے والی، بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی پھر سبک رفتار چلنے والی اور پانی کو بارش کی صورت میں برسانے والی ہواؤں کی۔ یاد رہے کہ قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں ہوابھی اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مختلف کاموں پر مقرر فرشتے : آیت 4 : فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا اس سے ملائکہ مراد ہیں۔ کیونکہ وہ مختلف کام بارش ‘ ارزاق وغیرہ کی تقسیم پر مقرر ہیں۔ نمبر 2۔ وہ تقسیم کا فعل کرتے ہیں اس حال میں کہ ان کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ نمبر 3۔ بندوں کے معاملات کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں مثلاً جبرئیل سختی کیلئے۔ نمبر 2۔ میکائیل رحمت کیلئے۔ نمبر 3۔ ملک الموت قبض ارواح کیلئے نمبر 4۔ اسرافیل نفخ صور کیلئے۔ ایک اور تفسیر : اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے صرف ہوائیں مراد ہوں کیونکہ وہ بادلوں کو بناتی اور ان کو اٹھاتی اور تقسیم کرتی اور فضائوں میں نرمی سے چلتی ہیں۔ اور بادلوں کو موڑ کر بارش کو تقسیم کرتی ہیں۔ فائکا معنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

تفسیر سورة الذریت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں، جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لامحالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل وبراہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کرسکتے ہیں۔ (الذاریات) یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں (ذروا) اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو تقسیم کرتے ہیں حکم کے مطابق، یعنی جو اللہ پاک کے حکم کے مطابق کہ اس کا مشاہدہ ہمیشہ ہوتا رہتا ہے، سو ان کو جو امطار، ارزاق، اور افراح، واحزان، وغیرہ کو تقسیم کرتے ہیں، کہیں کچھ اور کہیں کچھ، جیسا اور جس قدر حکم ہوتا ہے، وہ وہی اور ویسا ہی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کے مطابق اور اس کی مخلوق کے نصیب کی چیزیں ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ سے اس کا یہی مطلب مروی و منقول ہے، اور آپ ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں نے اللہ کے رسول سے ایسا نہ سنا ہوتا تو کبھی نہ کہتا، اسی لئے علامہ آلوسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

ہواؤں کی قسم اور ہواؤں کے معمولات تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ ہواؤں کی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ یہ بھی کائنات کے کارخانہ کا ایک بڑا اہم اور عام فہم سا پرزہ ہے۔ مگر ہے بڑا اہم کیونکہ ان کی موجودگی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے والے اہم اجزاء کی تکمیل حیات اور نشوونما کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز زندہ ہے اور زندگی کی بقاء کے لیے ہوا بےحد ضروری جزو ہے۔ تیز چلتی ہیں تو تخم پاشی یعنی بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور یہ بیج لگانے کا قدرتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–8

ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:4) فالمقسمت امرا۔ اس کا عطف بھی الذریت پر ہے۔ المقسمت۔ تقسیم (تفعیل ) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ تقسیم کرنے والیاں۔ امرا منصوب بوجہ مفعول بہ ہونے کے۔ کہا جاتا ہے قسم الرزق اس نے رزق تقسیم کیا۔ امر واحد آیا ہے۔ لیکن مراد اس سے امور (جمع) ہے۔ المقسمت امرا۔ تقسیم کرنے والیاں مختلف چیزوں کو ، یا کاموں کو، مراد یہاں فرشتے ہیں۔ جو رزق بارش وغیرہ لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ فائدہ : مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ چار چیزیں کیا ہیں ؟ بعض کہتے کہ یہ چاروں مختلف چیزیں ہیں۔ ذریت سے مراد ہوائیں۔ حملت سے مراد بادل۔ جریت سے مراد کشتیاں اور مقسمت سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض کے نزدیک چاروں سے مراد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–14

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی بارش۔ [3] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پانی تقسیم کرتی ہیں۔ بعض علاقوں کو جل تھل کردیتی ہیں، بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ جاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے کہ بعض علاقوں پر وہ طوفان و سیلاب بن کر نازل ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو امرالٰہی (بارش) کو تقسیم کرتی ہیں 4 ۔ (المقسمات) اسم فاعل جمع مونث المقسم واحد تقسیم کرنے والی ہوائیں جو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم سے پانی کو تقسیم کرتی ہیں کہ کس علاقہ کو کتنا پانی درکار ہے یا کس علاقہ کے لیے کتنا پانی گرانے اور بہانے کا حکم ہے اس سے کم و بیش اس علاقہ میں پانی نہیں گرایا جاتا بارش کے ذریعہ سے اتنا پانی برسایا جاتا ہے جتنا کہ حکم الٰہی میں کسی علاقہ کا حصہ ہے اور یہ سب احکام اللہ رب کریم کی طرف سے تقسیم کیے جاتے ہیں اور اسی کے حکم سے یہ ہوائیں یہ سارے کام چلارہی ہیں اور اس پابندی کے ساتھ چلا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کے خلاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

Affirmation of After-Life The subject-matter of Surah Adh-Dhariyat, like its predecessor Surah Qaf, is mainly the Hereafter, Resurrection, Reckoning, Judgment, and Allah's reward and punishment. The first few verses contain an oath from Allah that the promise of Resurrection is true, and shall come to pass. In these verses Allah swears an oath by four phenomena, as follows: وَالذَّارِ‌يَاتِ ذَرْ‌وًا ﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرً‌ا ﴿2﴾ فَالْجَارِ‌يَاتِ يُسْرً‌ا ﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرً‌ا ﴿4﴾ (I swear) by those (winds) that scatter dust, then by those (clouds) that bear loads, then by those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

2 The commentators have disputed the commentary of al-Jariyat-i yusran and al-muqassimat-i amran. One group has preferred the view, or held this meaning as admissible, that by these two also are meant the winds; that is, the same very winds then transport the clouds, and spreading over different parts of the earth, distribute the water as and where required according to Allah's command, The other group holds that al-ariyat-i yusran implies fast moving boats, and al-muqassimat-i amran implies the angels who distribute among the creatures their shares of the provisions according to Allah's…

Read the full tafseer →