قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ ۟ۙقُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Destroyed are the falsifiers
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ ۟ۙقُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Destroyed are the falsifiers
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat
مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے
خدا کی مار ہو ان پر جو (عقیدے کے معاملے میں) اٹکل پیچوں باتیں بنایا کرتے ہیں۔
مارے جایں دل سے تراشنے والے
ظنّ و تخمین سے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے،
اٹکل لگا نے والے مارے گئے۔
وہم و قیاس کرنے والوں کا ستیاناس ہو۔
اٹکل کے تیر تکے چلاین والے ہلاک ہوں !
ہلاک ہوگئے وہ اٹکل پچو باتیں بنانے والے
غارت ہوں اٹکل پچو باتیں بنانے والے
ہلاک ہوجائیں یہ اٹکلیں دوڑانے والے۔
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
Doomed are the conjecturers
Death upon those who make conjectures (against the true faith),
Death upon those who make conjectures (against the true faith),
Cursed be Al-Kharrasun
Accursed be the conjecturers
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Destroyed are the falsifiers
Death to those whose opinions are merely baseless conjectures.
Cursed be the liars,
Perish the conjecturers
Woe to the falsehood-mongers,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 8 ان الفاظ میں قرآن مجید ایک اہم حقیقت پر انسان کو متنبہ کر رہا ہے۔ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی اندازہ کرنا یا تخمینہ لگانا، دنیوی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو کسی حد تک چل سکتا ہے، اگرچہ علم کا قائم مقام پھر بھی نہیں ہو سکتا، لیکن اتنا بڑا بنیادی مسئلہ کہ ہم اپنی پوری زندگی کے اعمال کے لیے کسی کے سامنے ذمہ دار و جواب دہ ہیں یا نہیں، اور ہیں تو کس کے سامنے، کب اور کیا جوابدہی ہمیں کرنی ہوگی، اور اس جوابدہی میں کامیابی و ناکامی کے نتائج کیا ہوں گے، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے متعلق آدمی محض اپنے قیاس و گمان کے مطابق ایک اندازہ قائم کرلے اور پھر اسی جوئے کے داؤں پر اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
قتل الخرصون، الذین ھم فی غمرۃ ساھون (11-10) گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی یہ جملہ بھی امت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق وانفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد و قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی انکے لئے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 1 یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4: جو شخص حق کی طلب رکھتا ہو، اس کے لیے آخرت کو ماننا ہرگز مشکل نہیں ہے، لیکن اس حقیقت سے وہی انکار کرتا ہے جو حق کی طلب رکھنے کے بجائے اس سے برگشتہ ہو۔
Read the full tafseer →قتل ........ تسعجلون خرص کے معنی ظن ، گمان ، اندازے کے ہیں ، یعنی ایسی سوچ جو کسی گہرے اور یقینی معیار پر مبنی نہ ہو اور جس کا کوئی صغری کبری نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ بددعا فرماتا ہے کہ وہ قتل ہوں اور اللہ کی طرف سے بددعا کے معنی ہیں ” بس قتل ہوئے۔ “ قتل الخرصون (51 : 01) ” مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے “ اور ان کی ذرا مزید وضاحت کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →12 یعنی دین کی باتوں میں اٹکلیں دوڑاتے ہیں اور محض اپنے ظن وتخمین سے قطعیات کو رد کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 10{ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ۔ } ”ہلاک ہوجائیں یہ اٹکلیں دوڑانے والے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
5 آخرت سے انکار بلادلیل ہے اور محض وہم و قیاس ہے :۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت کے منکر ہیں ان کے پاس کوئی علمی بنیاد نہیں۔ آخرت کا علم نہ انسان کو مشاہدہ سے حاصل ہوسکتا ہے اور نہ محسوسات اور ادراکات سے۔ اس کے متعلق علمی بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ اس کے ہونے اور نہ ہونے کے یعنی دونوں طرح کے امکانات موجود ہیں۔ آخرت کے قائم ہونے کے متعلق تو بہت سے دلائل بھی موجود ہیں۔ سب پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی یہی تعلیم رہی ہے پھر کائنات کا نظام بھی اس پر قوی دلیل ہے تو کیوں نہ اس احتمال کو تسلیم کیا جائے جس کی تائید میں بیشمار دلائل مل جاتے ہیں۔ اور اس کے نہ ہونے کے لیے اگر کوئی دلیل موجود نہیں تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
4۔ (اور یہ غفلت چونکہ اختیار ہی سے پیدا ہوئی ہے اس لیے اس پر مواخذہ بھی ہے) (آیت) ” الخرصون “۔ خراص “۔ حقیقۃ وہ شخص ہے جو بغیر کسی دلیل قطعی کے، یوں ہی ظن وتخمین سے کام لیتا رہے خواہ اتفاق سے کبھی اس کا گمان صحیح بھی ثابت ہوجائے۔ کل قول مقول عن ظن وتخمین یقال خرص سواء کان مطابقا للشیء او مخالفا لہ (راغب) کثرت سے ” قدیم معقولی “ اور ” جدید فلسفی “ بلاعلم وتحقیق الہیات پر رائے زنی کرنے والے۔ خراصون ہی کے تحت میں آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Read the full tafseer →قتل الخراصون غارت ہوجائیں ‘ بےسند باتیں کرنے والے الخَرَّاصُوْنَ : بڑے جھوٹے۔ اس سے مراد ہیں وہ کافر جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے متعلق مختلف اقوال کے قائل تھے۔ خرص کا معنی ہے بغیر کسی یقین بخش دلیل کے کسی بات کا گمان کرنا اور آنکڑا بنا لینا جو بات کسی یقینی صحیح دلیل پر مبنی ہو اس میں اختلاف کا تصوّر بھی نہیں ہوسکتا۔ قُتِلَ الْخَرَّاصُوْنَ : (بظاہر) بددُعا ہے (لیکن نیک دعا ہو یا بد دعا دونوں دعا کرنے والے کے عاجز ہونے پر دلالت کرتی ہیں اس لیے) اس جگہ بددعا سے مراد ہے لعنت (اپنے قرب یا اپنی رحمت سے دور کردینا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور ولید بن مغیرہ، ابو جہل، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، نبیہ بن حجاج اور منبہ بن حجاج ہے کہ انہوں نے لوگوں کو والے جھوٹی قسمیں کھا کھا کر رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق سے ہٹایا۔ جھوٹ بولنے والے یعنی بنی مخزوم ولید بن صغیرہ اور اس کے ساتھی غارت اور ملعون ہوجائیں گے جو کہ جہالت میں آخرت سے اندھے اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →قتل الخرصون :”خرص یخرص خرصاً“ (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا :(ان ھو الا یخرصون) (الزخرف : 20)”وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔“ (خراص“ مبالغے کا فیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفار کے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لئے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں ان کا سارا دار و مدار ظن وتخمین اور وہم پر گمان پر ہے۔ چناچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اسلئے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ [ مارے جائیں جھوٹ اڑانے والے ] (آیت ۔ 10) قتل یہاں خبر یہ نہیں بلکہ دعائیہ ہے ۔ یہ ہم بتا چکے ہیں کہ دعا کی بعض صورتوں میں عربی میں فعل امر کے بجائے ماضی یا مضارع استعمال ہوتا ہے ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:72، نوٹ ۔ 2) ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ0010﴾ غارت ہوجائیں اٹکل پچو باتیں کرنے والے (یعنی جھوٹے لوگ) جو قرآن کو جھٹلاتے ہیں دلائل سامنے ہوتے ہوئے ان میں غور نہیں کرتے اپنی جاہلانہ اٹکل کو سامنے رکھ کر تکذیب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
5:۔ ” قتل الخراصون۔ تا۔ تستعجلون “ یہ منکرین قیامت کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قتل، لعن الخراصون۔ جھوٹے اور ظن وتخمین سے حکم لگانے والے۔ غمرۃ جہالت و غفلت، یفتنون، آگ میں جلائے جائیں گے (مظہری، روح، مدارک) قیامت کو محض ظن وتخمین سے جھٹلانے والے جو جہالت و غفلت میں بےہوش و بیخبر پڑے ہیں ملعون اور خدا کی رحمت سے محروم ہیں۔ اور محض استہزاء و انکار کی غرض سے سوال کرتے ہیں کہ جزاء وسزا کا دن کب آئیگا۔ یوم کا عامل مقدر ہے۔ قی ھو کائن یعنی الجزاء (بحر) ۔ یعنی جزا وسزا لا محالہ اس دن ہونے والی ہے جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا آج اپنے کیے کی سزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ 10 ۙ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] خرص الخَرْص : حرز الثّمرة، والخَرْص : المحروز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاھُوْنَ ۔ (الذریٰت : 10، 11) (مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے۔ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں بالکل بیخبر ۔ ) قریش اور دیگر مشرکین کے انکارِ قیامت کے اسباب قیامت کے بارے میں قریش اور دیگر مشرکین کے یکسو نہ ہونے اور اپنے غلط مزعومات پر اڑے رہنے کی تین وجہ بیان فرمائی گئی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ قیامت کا عقیدہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور انسانی زندگی میں اس عقیدے کی اہمیت کیا ہے۔ یہ کس قدر اہم سوال ہے کہ انسان موت آنے کے بعد کیا ہمیشہ کے لیے مرجاتا ہے جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی سوال نہیں، یا اسے واقعی کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →بےدلیل باتوں والوں کی ہلاکت : آیت 10 : قُتِلَ (غارت ہوجائیں) ملعون ہوئے دراصل یہ قتل و ہلاکت کی بددعا ہے۔ پھر لعنت کی جگہ استعمال ہونے لگی۔ الْخَرّٰصُوْنَ (بےسند باتیں کرنے والے) جھوٹے ٗ غلط اندازے کرنے والے وہ مختلف باتیں کرنے والے تھے۔ لام سے انہی کی طرف اشارہ ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے۔ قتل ہؤلاء الخراصون۔ یہ بےسند باتیں کرنے والے ہلاک ہوں۔
Read the full tafseer →9 ۔” یوفک عنہ من افک “ اس پر ایمان لانے سے وہ پھرتا ہے پھرتا ہے حتیٰ کہ اس کی تکذیب کرلے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے سے محروم کردے اور کہا گیا ہے کہ ” عن “ من اجل کے معنی میں ہے۔ یعنی اس مختلف قول کی وجہ سے پھرتا ہے یا اس کے سبب ایمان سے وہ پھرتا ہے کیونکہ وہ اس شخص کو ملتے جس کا ایمان لانے کا ارادہ ہوتا تو اس کو کہتے کہ وہ جادو گر اور کاہن اور مجنون ہیں۔ پس اس کو ایمان سے پھیر دیتے اور یہ مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (قتل الخرصون) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ (الذین ھم فی غمرۃ) ” جو بیخبر ی میں ہیں۔ “ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ (ساھون ) ” اور بھولے ہوئے ہیں۔ “ (یسئلون) وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں : ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انہوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے…
Read the full tafseer →[ 9] اٹکل پچو باتوں کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہلاک ہوگئے وہ لوگ جو اٹکل پچو باتیں بناتے اور غفلت میں پڑے بھولے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کو پھٹکار پڑگئی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے کیونکہ جو اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا اور اس پر پھٹکار پڑگئی وہ یقینا ہلاک ہوگیا [ المراغی، الصلوۃ وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ سو ایسے لوگوں نے جب عقل و خرد سے کام لینا چھوڑ دیا، اور یہ اھوا و اغراض کے پیچھے لگ کر حیوان محض بن گئے، اور بطن و فرج کے تقاضوں کی تکمیل میں منہمک ہوگئے اور یہ محروم اور ہلاک ہوگئے، سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے کے بعد یہ لوگ اندھے اور اوندھے بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →ف 8 مراد ہیں جھوٹے لوگ جو کسی قابل اعتماد ذریعہ علم کے بغیر محض جو اٹل پچو بات ذہن میں آتی ہے زبان سے ادا کردیتی ہیں جیسا کہ کفار مکہ آنحضرت کو مجنون، کذاب شاعر اور ساحر وغیرہ کہا کرتے تھے
Read the full tafseer →(51:10) قتل الخراصون۔ خراصون : اٹکل دوڑانے والے۔ جھوٹ بکنے والے، خرص (باب نصر) مصدر سے : مبالغہ کا صیغہ جمع مذکر ہے خواص واحد۔ الخرص۔ پھلوں کا اندازہ لگانا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہتے ہیں جو بمعنی مخروص ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ خرص بمعنی کذب بھی آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ ان ہم الا یخرصون (43؛2) (یہ تو صرف اٹکلیں دوڑاتے ہیں) میں بعض نے کہا ہے کہ یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے معنی۔ اٹکل کرنے والے ہلاک ہوں “ اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہو، یا جھوٹے ہلاک ہوجائیں “ آئے ہیں۔ (کفار کے لئے بددعا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔ حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں…
Read the full tafseer →(10) ہلاک کئے جائیں اور خدا کی رحمت سے دور کئے جائیں وہ تخمینے لگانے اور اٹکل کرنے والے اور بےسند باتیں کرنے والے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی جو قیامت کا انکار کرتے ہیں بلا اس کے کہ ان کے پاس کوئی اس کی دلیل ہو۔
Read the full tafseer →غارت ہوئے اٹکل سے باتیں بنانے والے جو ہمیشہ شک میں مبتلا ہیں 10 ۔ (الخراصون) اٹکل دوڑانے والے جھوٹ بکنے والے (خرص) مبالغہ کا صیغہ (قتل) بددعا کا ایک کلمہ ہے جیسے ہماری زبان میں بدذات ، نامراد اور بدبخت کے الفاظ بولے جاتے ہیں اور اسی کو لعنت اور پھٹکار کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں درختوں پر پھل جو لگتے ہیں ان پھلوں کو دیکھ کر اور اس طرح پھل دار بیلوں کو دیکھ کر پھلوں کا اندازہ کرنے والے کو بھی ” خراص “ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اندازہ کرتا ہے اور اندازہ سے ان کے پھلوں اور پھر پھلوں کی رقم اور قیمت لگا کر بتا دیتا ہے جن لوگوں کا پیچھے سے ذکر چلتا آرہا ہے یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں دین اسلام کے متعلق ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…
Read the full tafseer →8 Here the Qur'an is warning man of an important truth. To judge or make an estimate on the basis of conjecture and speculation in the ordinary matters of worldly life may be useful to some extent, although it would be no substitute for knowledge, but it would be disastrous to make estimates and give judgments merely according to one's own conjectures and speculations in a question of such fundamental nature and importance as whether we are, or are not, responsible and accountable to anyone for the deeds and actions of our lifetime, and if we arc, to whom we are accountable, when and what…
Read the full tafseer →