Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة الذّٰرِیٰت 9
یعنی انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ اپنے ان غلط اندازوں کی وجہ سے وہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ان اندازوں کی بنا پر جو راستہ بھی کسی نے اختیار کیا ہے وہ سیدھا تباہی کی طرف جاتا ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہے وہ سرے سے کسی جوابدہی کی تیاری ہی نہیں کر رہا ہے اور اس خیال میں مگن ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی، حالانکہ اچانک وہ وقت آجائے گا جب اس کی توقعات کے بالکل خلاف دوسری زندگی میں اس کی آنکھیں کھلیں گی، اور اسے معلوم ہوگا کہ یہاں اس کو اپنے ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ جو شخص اس خیال میں ساری عمر کھپا رہا ہے کہ مر کر پھر اسی دنیا میں واپس آؤں گا اسے مرتے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
قتل الخرصون، الذین ھم فی غمرۃ ساھون (11-10)
گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی
یہ جملہ بھی امت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق وانفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد و قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی انکے لئے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 1 یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4: جو شخص حق کی طلب رکھتا ہو، اس کے لیے آخرت کو ماننا ہرگز مشکل نہیں ہے، لیکن اس حقیقت سے وہی انکار کرتا ہے جو حق کی طلب رکھنے کے بجائے اس سے برگشتہ ہو۔
Read the full tafseer →الذین ........ ساھون (51 : 11) ” جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں “ ان کے افکار باطل خیالات سے لبالب ہیں اور یہ ادہام میں مدہوش ہیں ، نہ ہوش میں آتے ہیں اور نہ جاگتے ہیں۔ انداز تعبیر ایک خاص رنگ اور تصور دے رہا ہے۔ ان کی تصویر کچھ ایسی بنتی ہے۔ وہ غفلت میں سوئے ہوئے ہیں یا بےہوش ہیں ، مست پڑے ہیں اور انہیں اپنے ماحول کے بارے میں کوئی احساس نہیں ہے اور وہ کوئی فکر بھی نہیں کرتے اور ان کے ذہن اور دماغ کام نہیں کررہے جس طرح نشے میں ہوں۔ اس لئے کہ ایک واضح بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسی کہ ہر ہوشمند شخص اسے دیکھتے ہی سمجھ لے اور ان کی حالت یہ ہے۔
Read the full tafseer →13 یعنی دنیا کے مزوں نے آخر سے اور خدا سے غافل کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1 1{ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاہُوْنَ۔ } ”جو اپنی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“
انہیں نہ تو اپنے مقصد تخلیق کی خبر ہے اور نہ اپنے انجام کی فکر۔ حتیٰ کہ وہ اپنے اس عہد کو بھی بھولے ہوئے ہیں جو عالم ارواح میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ سورة الاعراف کی آیت 172 میں اس عہد کا ذکر اس طرح ہوا ہے :
{ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰیج شَہِدْنَاج }
”اور یاد کرو جب نکالا آپ ﷺ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر ‘ اور سوال کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
5 آخرت سے انکار بلادلیل ہے اور محض وہم و قیاس ہے :۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت کے منکر ہیں ان کے پاس کوئی علمی بنیاد نہیں۔ آخرت کا علم نہ انسان کو مشاہدہ سے حاصل ہوسکتا ہے اور نہ محسوسات اور ادراکات سے۔ اس کے متعلق علمی بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ اس کے ہونے اور نہ ہونے کے یعنی دونوں طرح کے امکانات موجود ہیں۔ آخرت کے قائم ہونے کے متعلق تو بہت سے دلائل بھی موجود ہیں۔ سب پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی یہی تعلیم رہی ہے پھر کائنات کا نظام بھی اس پر قوی دلیل ہے تو کیوں نہ اس احتمال کو تسلیم کیا جائے جس کی تائید میں بیشمار دلائل مل جاتے ہیں۔ اور اس کے نہ ہونے کے لیے اگر کوئی دلیل موجود نہیں تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
4۔ (اور یہ غفلت چونکہ اختیار ہی سے پیدا ہوئی ہے اس لیے اس پر مواخذہ بھی ہے) (آیت) ” الخرصون “۔ خراص “۔ حقیقۃ وہ شخص ہے جو بغیر کسی دلیل قطعی کے، یوں ہی ظن وتخمین سے کام لیتا رہے خواہ اتفاق سے کبھی اس کا گمان صحیح بھی ثابت ہوجائے۔ کل قول مقول عن ظن وتخمین یقال خرص سواء کان مطابقا للشیء او مخالفا لہ (راغب) کثرت سے ” قدیم معقولی “ اور ” جدید فلسفی “ بلاعلم وتحقیق الہیات پر رائے زنی کرنے والے۔ خراصون ہی کے تحت میں آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Read the full tafseer →الذین ھم فی غمرۃ ساھون
جو جہالت میں بھولے ہوئے ہیں
غَمْرَۃٍ : یعنی ایسی غفلت و جہالت جو ان پر چھائی ہوئی ہے ‘ ان کو ڈھانکے ہوئے ہے۔
سَاھُوْنَ : یعنی احکام خداوندی سے غافل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور ولید بن مغیرہ، ابو جہل، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، نبیہ بن حجاج اور منبہ بن حجاج ہے کہ انہوں نے لوگوں کو والے جھوٹی قسمیں کھا کھا کر رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق سے ہٹایا۔
جھوٹ بولنے والے یعنی بنی مخزوم ولید بن صغیرہ اور اس کے ساتھی غارت اور ملعون ہوجائیں گے جو کہ جہالت میں آخرت سے اندھے اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →الذین ھم فی غمرۃ ساھون :”غمر یغمر غمراً“ (ن)”المائ“ کا معنی ”پانی کا کسی چیز کو ڈھانپ لینا“ ہے، اسلئے گہرے پانی کو ”غمرۃ“ کہتے ہیں۔ سختی اور موت کو اور جہالت و غفلت کو بھی ”غمرۃ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی آدمی کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں۔”غمرۃ“ پر تنوین تعظیم کے لئے ہے، اس لئے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ ”ساھون“ ’ سھا یسھو سھواً“ (ن) سے اسم فاعل کی جمع ہے، بھولے ہوئے۔ یعنی انہوں نے آخرت کا انکار محض خیال اور اندازے ک بنا پر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی تیاری سے بہت بڑی غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے خوفناک انجام کو بھولے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ هُمْ [ وہ لوگ کہ وہی ] فِيْ غَمْرَةٍ [ مدہوشی میں ] سَاهُوْنَ [ غافل ہونے والے ہیں ]
س ھ و : (ن) سھوا ۔ دل کا دوسری طرف پھرجانا ۔ غافل ہونا ، بھولنا ، چوک جانا ۔ ساھ ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ بھولنے والا ۔ غافل ۔ زیر مطالعہ آیت 11 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
﴿الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ0011﴾ (جو جہل عظیم میں پرے ہوئے ہیں، غافل ہیں) ﴿يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ0012﴾ (تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا جزا کا دن) ﴿ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ 0013﴾ (یہ بدلہ کا دن اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے) ۔ ﴿ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ 1ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠0014﴾ (ان سے کہا جائے گا اپنی اس سزا کا مزہ چکھو، یہ ہے وہ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے) دنیا میں تم باتیں بناتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دن کب ہوگا، كب ہوگا ؟ اب یہ دن آگیا انکار کی سزا بھگت لو اور جلدی مچانے کا مزہ چکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔
(ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
5:۔ ” قتل الخراصون۔ تا۔ تستعجلون “ یہ منکرین قیامت کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قتل، لعن الخراصون۔ جھوٹے اور ظن وتخمین سے حکم لگانے والے۔ غمرۃ جہالت و غفلت، یفتنون، آگ میں جلائے جائیں گے (مظہری، روح، مدارک) قیامت کو محض ظن وتخمین سے جھٹلانے والے جو جہالت و غفلت میں بےہوش و بیخبر پڑے ہیں ملعون اور خدا کی رحمت سے محروم ہیں۔ اور محض استہزاء و انکار کی غرض سے سوال کرتے ہیں کہ جزاء وسزا کا دن کب آئیگا۔ یوم کا عامل مقدر ہے۔ قی ھو کائن یعنی الجزاء (بحر) ۔ یعنی جزا وسزا لا محالہ اس دن ہونے والی ہے جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا آج اپنے کیے کی سزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان
سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ غَمْرَۃٍ سَاہُوْنَ 11 ۙ
غمر
أصل الغَمْرِ : إزالة أثر الشیء، ومنه قيل للماء الکثير الذي يزيل أثر سيله، غَمْرٌ وغَامِرٌ ، قال الشاعر :
342-
والماء غَامِرُ جدّادها
«1» .
وبه شبّه الرّجل السّخيّ ، والفرس الشّديد العدو، فقیل لهما : غَمْرٌ كما شبّها بالبحر، والغَمْرَةُ : معظم الماء الساترة لمقرّها، وجعل مثلا للجهالة التي تَغْمُرُ صاحبها، وإلى نحوه أشار بقوله : فَأَغْشَيْناهُمْ [يس/ 9] ، ونحو ذلک من الألفاظ قال : فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ [ المؤمنون/ 54] ، الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ ساهُونَ [ الذاریات/ 11] ، وقیل للشَّدائِد :
غَمَرَاتٌ. قال تعالی: فِي غَمَراتِ الْمَوْتِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاھُوْنَ ۔ (الذریٰت : 10، 11)
(مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے۔ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں بالکل بیخبر ۔ )
قریش اور دیگر مشرکین کے انکارِ قیامت کے اسباب
قیامت کے بارے میں قریش اور دیگر مشرکین کے یکسو نہ ہونے اور اپنے غلط مزعومات پر اڑے رہنے کی تین وجہ بیان فرمائی گئی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ قیامت کا عقیدہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور انسانی زندگی میں اس عقیدے کی اہمیت کیا ہے۔ یہ کس قدر اہم سوال ہے کہ انسان موت آنے کے بعد کیا ہمیشہ کے لیے مرجاتا ہے جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی سوال نہیں، یا اسے واقعی کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 11 : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ (جو کہ جہالت میں بھولے ہوئے ہیں) ایسی جہالت میں مبتلا ہیں جو ان کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ سَاہُوْنَ (جو ان کو حکم ملا ہے اس سے غافل ہیں)
Read the full tafseer →10 ۔” قتل الخراصون “ تکذیب کرنے والوں پر لعنت کی گئی۔ کہا جاتا ہے ” تحرص علی فلان الباطل “ فلاں پر باطل الزام لگایا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکہ کے عتاب کو آپس میں تقسیم کیا تھا اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں قول کو تقسیم کیا تھا تاکہ لوگوں کو دین اسلام سے پھیریں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کاہن لوگ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (قتل الخرصون) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ (الذین ھم فی غمرۃ) ” جو بیخبر ی میں ہیں۔ “ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ (ساھون ) ” اور بھولے ہوئے ہیں۔ “
(یسئلون) وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں : ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انہوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[ 10] غفلت و لاپرواہی کی جڑ بنیادی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، سو وہ بغیر کسی سند اور دلیل کے محض اٹکل پچو اور ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت اور اہل ھویٰ کا حال ہے کہ یہ لوگ اپنی نئی ایجاد کردہ بدعات اور خود ساختہ خرافات کو دین کے نام پر رواج دینے کیلئے خود تراشیدہ فلسفوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے، اور نصوص قرآن و سنت میں اپنی اہواء و اعراض کے مطابق طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اور آفاق وانفس کے دلائل و آیات سے منہ موڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب
تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7)
اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 9 یعنی قیامت کے آنے پر یقین نہیں رکھتے اس لئے مذاق کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ” اجی ! وہ تمہاری قیامت کب آئیگی۔
Read the full tafseer →(51:11) الذین ہم فی غمرۃ ساھون۔ الذین اسم موصول۔ اگلا جملہ اس کا صلہ۔ غمرۃ غمر کا اصل معنی کسی چیز کے اثرو نشان کو مٹا دینا ہے۔ کثیر پانی کو بھی غمر کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی اپنی بہنے کی جگہ کو چھپا دیتا ہے۔ چونکہ جہالت بھی جاہل کو بالکل ڈھانپ دیتی ہے اور لوگوں کی آنکھوں سے اسے اوجھل کردیتی ہے اس لئے اسے بھی غمرہ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے فذرہم فی غمرتہم (33: 54) تو ان کو ان کی غفلت میں ہی رہنے دے۔
غمرات کے معنی شدائد اور سختیاں بھی ہے کیونکہ وہ بھی انسان پر ہجوم کر کے اسے بدحواس کردیتی ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے فی غمرات الموت (6:93) (جب) موت کی سختیوں میں ۔
ساھون : اسم فاعل جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔
(ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح
آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔
حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں…
Read the full tafseer →(11) جو غفلت اور جہالت میں فراموش کرنے اور بھولنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے۔
Read the full tafseer →جو غفلت اور جہالت کے باعث بھولے ہوئے ہیں یا ضد میں آئے ہوئے ہیں
11 ۔ (غمرۃ) کی اصل غ م ر ہے اور (غمرۃ) اس کثیر پانی کو کہتے ہیں جس کی گہرائی کے باعث تہ نظر نہ آئے اور بطور تشبیہ جہالت اور اندھی عقیدت پر اس لفظ کو بالا جاتا ہے اور انسان پر چھا جانے والی غفلت پر بھی اس کا اطلاق کرتے ہیں اور (غمر) کے اصل معنی ہیں کسی چیز کے اثر کو زائل کرنا ، لیکن تیز رو گھوڑے اور فیاض آدمی پر بھی اس کو بولا جاتا ہے زیر نظر آیت میں چھا جانے والی جہالت ہی مرا لی جاسکتی ہے اور (غمراب الموت) موت کی سختیوں کو کہا جاتا ہے جو انسان کے سارے بدن پر چھا جاتی ہیں رنگ بدل جاتا ہے اور اعضاء کی حرکت عجیب سی ہوجاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…
Read the full tafseer →9 That is, "They do not know what fate they are heading for on account of their wrong conjectures, whereas every way that is adopted with a wrong view of the Hereafter only leads to ruin. He who is a denier of the Hereafter is not at all preparing himself for any accountability and is engrossed in the thought that there would be no life after death, whereas the time would suddenly come when against alI this expectations he would open his eyes in the new life and he would realize that there he has to render an account of each of his acts and deeds. The person who is expending his life under…
Read the full tafseer →