Adh-Dhaariyat 51:12

Adh-Dhaariyat · from ayah 12

51:12

یَسْـَٔلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ ۟ؕيَسۡئَــلُوۡنَ اَيَّانَ يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They ask, "When is the Day of Recompense?"

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:12

پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

پوچھتے ہیں کہ : جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پوچھتے ہیں انصاف کا دن کب ہوگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پوچھتے ہیں یومِ جزا کب ہو گا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پوچھتے ہیں جزا و سزا کا دن کب ہوگا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پوچھتے ہیں جزا و سزا کا دن کب آئے گا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو (استہزاء کے طور پر) کہتے ہیں کہ کب ہوگا جی بدلے کا وہ دن ؟

— مولانا اسحاق مدنی

پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پوچھتے ہیں کہ ”جزا کا دن کب ہوگا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They ask: “When will the Day of Judgement be?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask, :When shall be the Day of Recompense?

— Muhammad Taqi Usmani

They ask, :When shall be the Day of Recompense?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They ask: "When will be the Day of Ad-Din"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They ask: When is the Day of Judgment?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They ask, "When is the Day of Recompense?"

— Saheeh International

They ask, "When it will be the Day of Judgment?"

— Muhammad Sarwar

They ask: When is the day of judgment?

— Muhammad Habib Shakir

They ask: when is the Day of Requital coming?

— Abdul Majid Daryabadi

They ask, "When will be the Day of Judgment and Justice?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة الذّٰرِیٰت 9 یعنی انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ اپنے ان غلط اندازوں کی وجہ سے وہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ان اندازوں کی بنا پر جو راستہ بھی کسی نے اختیار کیا ہے وہ سیدھا تباہی کی طرف جاتا ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہے وہ سرے سے کسی جوابدہی کی تیاری ہی نہیں کر رہا ہے اور اس خیال میں مگن ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی، حالانکہ اچانک وہ وقت آجائے گا جب اس کی توقعات کے بالکل خلاف دوسری زندگی میں اس کی آنکھیں کھلیں گی، اور اسے معلوم ہوگا کہ یہاں اس کو اپنے ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ جو شخص اس خیال میں ساری عمر کھپا رہا ہے کہ مر کر پھر اسی دنیا میں واپس آؤں گا اسے مرتے ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–16

(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یسئلون ایان یوم الدین 12 منکرین جزا کا معارضہ یعنی وہ جزا و سزا سے آگاہ کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ سوال کرتے ہیں کہ جس یوم الجزاء سے ڈرا رہے ہو کہاں ہے ؟ اس کا ظہور کب ہوگا ! اس سوال کے اندر انکار، استہزاء اور جلد بازی تینوں ہی باتیں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر فی الواقع اس طرح کا کوئی دن آنے والا ہے تو وہ آتا کیوں نہیں ! اس کے ڈرائونے سنتے سنتے تو ہمارے کان پک گئے لیکن اس کو نہ آنا تا نہ آیا۔ یہ محض ایک ہوا ہے جس سے تم ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہو۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہے تو اس کو لائو۔ اس کو دیکھے بغیر ہم تمہاری ان خیالی باتوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں ! یہ سوال نقل کرنے سے قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–12

9۔ 1 یعنی نبی ﷺ پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–13

5: یہ سوال حقیقت جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یسئلون ایان یوم الدین (51 : 21) ” پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا “ وہ جس طرح پوچھتے ہیں اس سے ان کا مقصد طلب علم یا طلب معرفت نہیں ہیں بلکہ وہ منکر ہیں ، جھٹلاتے ہیں اور اسے ایک ناممکن بات سمجھ کر پوچھتے ہیں کیونکہ ” ایان “ کے لفظ کو ایسے ہی مواقع پر بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اپنے انداز میں قیامت کی ایک جھلک جلدی سے دکھا دیتا ہے کہ دیکھو یہ ہے جس کو تم ناممکن سمجھتے ہو۔ وہ اس طرح اس میں جل جاتے ہیں جس طرح کسی دھات کو جلاکر اس کی حقیقت معلوم کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی انکار اور ہنسی کے طور پر پوچھتے ہیں کہ ہاں صاحب ! وہ انصاف کا دن کب آئے گا ؟ آخر اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن !“ مشرکین یہ سوال طنزیہ انداز میں کرتے تھے کہ آپ ﷺ کہتے رہتے ہیں کہ جزائے اعمال کا دن آکر رہے گا ‘ تو آخر کب تک آئے گا وہ روز جزا ؟ چناچہ ان کے اس سوال کا جواب بھی انہیں اسی انداز میں دیا جا رہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

6 یعنی دنیا کی دلچسپیوں اور اس کے دھندوں میں مست اور سرشار ہیں اور آخرت سے بالکل بےفکر اور بےنیاز بنے ہوئے ہیں اور از راہ تمسخر یہ سوال کرتے ہیں کہ اجی حضرت جس قیامت سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آرہی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

5۔ مفسر تھانوی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ یہ جواب اس طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوجائے مگر وہ احمق محض اس بناء پر کہ تاریخ اور وقت نہیں بیان کیا گیا ہے۔ طنزا یہ کہتا ہے کہ اچھا تو وہ دن آخر کب آئے گا ؟ (آیت) ” یسئلون “۔ یہ سوال بطور طنز و استہزاء کے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یسئلون ایان یوم الدین پوچھتے ہیں بدلہ کا دن کب ہوگا ؟ یَسْءَلُوْنَ : یعنی بطور انکار یا بصورت استہزاء رسول اللہ ﷺ سے جلد وقوع قیامت کی درخواست کرتے ہیں۔ یَوْمُ الدِّیْنِ : اعمال کے بدلہ کا دن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–13

(12۔ 13) اور بنی مخزوم بطور مذاق پوچھتے ہیں کہ اے محمد وہ قیامت کا دن کب ہوگا جس میں عذاب دیا جائے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس روز یہ لوگ آگ میں جلائے جائیں گے یا یہ کہ آگ پر رکھے جائیں گے یا یہ کہ ان کو دوزخ میں عذاب دیا جائے گا یا یہ کہ یہ لوگ دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یسئلون ایان یوم الدین : یعنی جب انہیں قیامت کے انکار کی کوئی معقول دلیل نہیں ملتی تو وہ کہتے ہیں، اچھا یہ بتاؤ جزا کا دن کب ہے ؟ ظاہر ہے ان کا یہ سوال محض انکار اور استہزا کے لئے ہے، کیونکہ تاریخ کا تعین کوئی دلیل نہیں جس سے کوئی منکر اقرار پر آمادہ ہوجائے، بلکہ اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہوگا کہ اس کے آنے سے پہلے آخر ہم یہ یقین کیسے کرلیں کہ اس دن وہ واقعی آجائے گی ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا وقت نہیں بتایا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–14

والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–16

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَسْـَٔـلُوْنَ اَيَّانَ [ پوچھتے ہیں کب ہے ] يَوْمُ الدِّيْنِ [ بدلے کا دن ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–14

﴿الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ0011﴾ (جو جہل عظیم میں پرے ہوئے ہیں، غافل ہیں) ﴿يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ0012﴾ (تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا جزا کا دن) ﴿ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ 0013﴾ (یہ بدلہ کا دن اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے) ۔ ﴿ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ 1ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠0014﴾ (ان سے کہا جائے گا اپنی اس سزا کا مزہ چکھو، یہ ہے وہ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے) دنیا میں تم باتیں بناتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دن کب ہوگا، كب ہوگا ؟ اب یہ دن آگیا انکار کی سزا بھگت لو اور جلدی مچانے کا مزہ چکھ لو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–14

5:۔ ” قتل الخراصون۔ تا۔ تستعجلون “ یہ منکرین قیامت کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قتل، لعن الخراصون۔ جھوٹے اور ظن وتخمین سے حکم لگانے والے۔ غمرۃ جہالت و غفلت، یفتنون، آگ میں جلائے جائیں گے (مظہری، روح، مدارک) قیامت کو محض ظن وتخمین سے جھٹلانے والے جو جہالت و غفلت میں بےہوش و بیخبر پڑے ہیں ملعون اور خدا کی رحمت سے محروم ہیں۔ اور محض استہزاء و انکار کی غرض سے سوال کرتے ہیں کہ جزاء وسزا کا دن کب آئیگا۔ یوم کا عامل مقدر ہے۔ قی ھو کائن یعنی الجزاء (بحر) ۔ یعنی جزا وسزا لا محالہ اس دن ہونے والی ہے جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا آج اپنے کیے کی سزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–18

جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَسْـَٔـلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِ۝ 12 ۭ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–19

ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ۔ ذُوْقُوْا فِتْنَتَـکُمْ ط ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 12 تا 14) (پوچھتے ہیں جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟ جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ چکھو مزہ اپنے فتنے کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ ) سوال کی صورت میں تمسخر اور اس ذہنیت کے مطابق جواب آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے سامنے جزائے اعمال کا ذکر کرتے، قیامت کا حوالہ دیتے اور بار بار انھیں اصلاحِ اعمال کی طرف توجہ دلاتے تو وہ بجائے آپ کی باتوں کو قبول کرنے کے تمسخر کے طور پر یہ کہتے کہ صاحب اتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ ہمیں قیامت سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–15

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 12 : یَسْئَلُوْنَ (پوچھتے ہیں یہ کہتے ہوئے) اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ (کہ روز جزاء کب ہوگا) کہ جزاء کا دن کب ہے۔ اس کی تقدیر کلام یہ ہے۔ ایان وقوع یوم الدین۔ (قیامت کا وقوع کب ہے) کیونکہ احیان حوادث کیلئے ظرف بنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” الذین ھم فی غمرۃ “ غفلت، اندھے پن اور جہالت میں۔ ” ساھون “ غافل بےپرواہ آخرت کے امر سے اور سہو کسی چیز سے غافل ہونا اور وہ دل کا اس پر چلاجانا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–14

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (قتل الخرصون) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ (الذین ھم فی غمرۃ) ” جو بیخبر ی میں ہیں۔ “ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ (ساھون ) ” اور بھولے ہوئے ہیں۔ “ (یسئلون) وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں : ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انہوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

[ 10] غفلت و لاپرواہی کی جڑ بنیادی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، سو وہ بغیر کسی سند اور دلیل کے محض اٹکل پچو اور ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت اور اہل ھویٰ کا حال ہے کہ یہ لوگ اپنی نئی ایجاد کردہ بدعات اور خود ساختہ خرافات کو دین کے نام پر رواج دینے کیلئے خود تراشیدہ فلسفوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے، اور نصوص قرآن و سنت میں اپنی اہواء و اعراض کے مطابق طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اور آفاق وانفس کے دلائل و آیات سے منہ موڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–14

آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7) اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–23

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 11–12

ف 9 یعنی قیامت کے آنے پر یقین نہیں رکھتے اس لئے مذاق کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ” اجی ! وہ تمہاری قیامت کب آئیگی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:12) یسئلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب سؤال (باب فتح) مصدر۔ وہ پوچھتے ہیں۔ (طلب علم کے لئے نہیں بلکہ بطور استہزائ) ایان : کب، (متی کے معنی قریب) کسی شے کا وقت دریافت کرنے کے لئے آتا ہے بعض لوگ اس کی اصل ای اوان بمعنی کون سے وقت بتاتے ہیں الف کو حذف کر کے وائو کو یاء کیا گیا پھر ی کو ی میں ادغام کردیا۔ ایان ہوگیا۔ یوم الدین ۔ مضاف مضاف الیہ، جزا وسزا کا دن، قیامت کا دن۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–23

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–14

عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–12

[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–14

ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔ حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ پوچھتے ہیں کہ سزا و جزا کا دن کب ہوگا ؟ ان کا یہ پوچھنا بطور مذاق ہے : 12 وہ روز قیامت کے بارے میں استفسار کرتے ہیں لیکن ان کا یہ استفار بطور معلومات نہیں ہے بلکہ از راہ مذاق ہے اور وہ جزا و سزا کو تسلیم کرنے والوں کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں اور ان کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں کہ صاحب جس دن سے آپ ہم کو ڈرا رہے ہیں وہ کب آئے گا ؟ وہ آخر آکیوں نہیں جاتا یہ ڈراوے تو ہم ایک مدت مدیر سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔ نہ اس دن کو آنا تھا نہ وہ آیا لیکن تم دقیانوسی خیال کے لوگ اپنی پرانی رٹ لگاتے چلے جا رہے ہیں اس طرح دراصل وہ مذاق ہی مذاق کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ ان کے جھٹلانے کا ایک انداز ہے اسی لئے قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–16

قُتِلَ الْخَرَّ‌اصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

10 The disbelievers did not ask the question: When will Resurrection be? for the sake of seeking knowledge but for the purpose of taunt and ridicule. That is why they have been given such an answer. It is just like the taunting reaction of the wicked person who is admonished to desist from his immoral deeds, otherwise he would meet with the evil consequences of those deeds one day, and he asks in jest: When will that day be? Obviously, such a question is not asked to know the date of the occurrence of the evil end but to make fun of the admonition. Therefore, its right answer is that it will…

Read the full tafseer →