Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 10
کفار کا یہ سوال کہ روز جزاء کب آئے گا، علم حاصل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ طعن اور استہزاء کے طور پر تھا، اس لیے ان کو جواب اس اندازے سے دیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی شخص کو بد کرداریوں سے باز نہ آنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہیں کہ ایک روز ان حرکات کا برا نتیجہ دیکھو گے، اور وہ اس پر ایک ٹھٹھا مار کر آپ سے پوچھے کہ حضرت، آخر وہ دن کب آئے گا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا یہ سوال اس برے انجام کی تاریخ معلوم کرنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی نصیحتوں کا مذاق اڑانے کے لیے ہوگا۔ اس لیے اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ وہ اس روز آئے گا جب تمہاری شامت آئے گی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →یوم ھم علی النار یفتنون 13
جواب منکرین کی ذہنیت کے مطابق
یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انکار اور استہزاء کے لئے تھا، اس وجہ سے قرآن نے جواب ان کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کردیا۔ یہ امر واضح رہے کہ جو لوگ اس طرح کے سوال کرتے تھے وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ اس کے ظہور کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا علم نہ ہونے سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے وقت اور دن سے تعرض کرنے کے بجائے اس صورت حال کی تصویر ان کے سامنے رکھ دی جس سے اس دن سابقہ پیش آئے گا کہ یہ جزا کا دن اس وقت ظہور میں آئے گا جب یہ آگ پر…
Read the full tafseer →13۔ 1 یفتنون کے معنی ہیں یحرقون ویعذبون جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر پرکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ ڈالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
5: یہ سوال حقیقت جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یوم ھم علی النار یفتنون (51 : 31) ” جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے “ اور پھر اس منظر ہی میں انہیں شرمندہ بھی کیا جاتا ہے جس سے ان کے رنج میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ وہ تو پہلے سے مشکل میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
1 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دیا گیا۔ یعنی ذرا صبر کرو۔ وہ دن آیا چاہتا ہے۔ جب تم آگ میں الٹے سیدھے کیے جاؤ گے۔ اور خوب جلا تپا کر کہا جائے گا کہ لو اب اپنی شرارت اور استہزاء کا مزہ چکھو۔ جس دن کی جلدی مچا رہے تھے وہ آگیا۔
Read the full tafseer →آیت 13{ یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے۔“
چونکہ مشرکین یہ سوال غیر سنجیدہ انداز میں کرتے تھے اس لیے جواب میں ان کے لیے ڈانٹ کا انداز پایاجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6 یعنی دنیا کی دلچسپیوں اور اس کے دھندوں میں مست اور سرشار ہیں اور آخرت سے بالکل بےفکر اور بےنیاز بنے ہوئے ہیں اور از راہ تمسخر یہ سوال کرتے ہیں کہ اجی حضرت جس قیامت سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آرہی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
5۔ مفسر تھانوی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ یہ جواب اس طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوجائے مگر وہ احمق محض اس بناء پر کہ تاریخ اور وقت نہیں بیان کیا گیا ہے۔ طنزا یہ کہتا ہے کہ اچھا تو وہ دن آخر کب آئے گا ؟ (آیت) ” یسئلون “۔ یہ سوال بطور طنز و استہزاء کے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Read the full tafseer →یوم ھم علی النار یفتنون .‘ جس روز وہ آگ پر رکھے جائیں گے۔
یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ : علٰی بمعنی بَ ہے یعنی جس روز کہ ان کو آگ سے جلایا جائے گا ‘ وُ ہ دن کب آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(12۔ 13) اور بنی مخزوم بطور مذاق پوچھتے ہیں کہ اے محمد وہ قیامت کا دن کب ہوگا جس میں عذاب دیا جائے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کا دن وہ ہوگا جس روز یہ لوگ آگ میں جلائے جائیں گے یا یہ کہ آگ پر رکھے جائیں گے یا یہ کہ ان کو دوزخ میں عذاب دیا جائے گا یا یہ کہ یہ لوگ دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے۔
Read the full tafseer →یوم ھم علی النار یفتنون :”فتن یفتن“ (ن، ض) کا معنی آزمانا بھی ہے اور جلانا بھی۔ کھرے یا کھوٹے کی پہچان کے لئے سونے کو آگ میں پگھلایا جائے تو کہتے ہیں :”فتنت الذھب،“ فرمایا، وہ روز جزا اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر رکھ کر تپایا اور جلایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
والسماء ذات المحبک، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں السماء سے مراد بادل ہیں جو زمین کو سایہ کیے ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد بلند آسمان ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : مراد ساتواں آسمان ہے (2): اسے مہدوی، ثعلبی، مارودی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے۔ المحبک میں : سات قول ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے (3) ۔ یعنی خوبصورت و کامل مخلوق والا ؛ یہ عکرمہ کا قول ہے کہا : کیا تو کپڑا بننے والے کو نہیں دیکھتا جب وہ کپڑا بنتا ہے اور اس کو اچھی طرح بنتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : حمک الثوب یح مکہ جس نے اس کی اچھی طرح بنائی کی۔ ابن اعرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →يَوْمَ هُمْ عَلَي النَّارِ [ جس دن وہ لوگ آگ پر ] يُفْتَنُوْنَ [ عذاب دیئے جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
﴿الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ0011﴾ (جو جہل عظیم میں پرے ہوئے ہیں، غافل ہیں) ﴿يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ0012﴾ (تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کب ہوگا جزا کا دن) ﴿ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ 0013﴾ (یہ بدلہ کا دن اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے) ۔ ﴿ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ 1ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠0014﴾ (ان سے کہا جائے گا اپنی اس سزا کا مزہ چکھو، یہ ہے وہ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے) دنیا میں تم باتیں بناتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دن کب ہوگا، كب ہوگا ؟ اب یہ دن آگیا انکار کی سزا بھگت لو اور جلدی مچانے کا مزہ چکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔
(ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
5:۔ ” قتل الخراصون۔ تا۔ تستعجلون “ یہ منکرین قیامت کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قتل، لعن الخراصون۔ جھوٹے اور ظن وتخمین سے حکم لگانے والے۔ غمرۃ جہالت و غفلت، یفتنون، آگ میں جلائے جائیں گے (مظہری، روح، مدارک) قیامت کو محض ظن وتخمین سے جھٹلانے والے جو جہالت و غفلت میں بےہوش و بیخبر پڑے ہیں ملعون اور خدا کی رحمت سے محروم ہیں۔ اور محض استہزاء و انکار کی غرض سے سوال کرتے ہیں کہ جزاء وسزا کا دن کب آئیگا۔ یوم کا عامل مقدر ہے۔ قی ھو کائن یعنی الجزاء (بحر) ۔ یعنی جزا وسزا لا محالہ اس دن ہونے والی ہے جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا آج اپنے کیے کی سزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان
سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →يَوْمَ ہُمْ عَلَي النَّارِ يُفْتَنُوْنَ 13
نار
والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ،
( ن و ر ) نار
اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ یَوْمَ ھُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ۔ ذُوْقُوْا فِتْنَتَـکُمْ ط ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 12 تا 14)
(پوچھتے ہیں جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟ جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ چکھو مزہ اپنے فتنے کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ )
سوال کی صورت میں تمسخر اور اس ذہنیت کے مطابق جواب
آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے سامنے جزائے اعمال کا ذکر کرتے، قیامت کا حوالہ دیتے اور بار بار انھیں اصلاحِ اعمال کی طرف توجہ دلاتے تو وہ بجائے آپ کی باتوں کو قبول کرنے کے تمسخر کے طور پر یہ کہتے کہ صاحب اتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ ہمیں قیامت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 13 : یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ (جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے) یوم کا لفظ صرف فعل مضمر کہ جس پر سوال دلالت کر رہا ہے کی وجہ سے منصوب ہے ای یقع یوم۔ نمبر 2۔ غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے اس کا مفتوح ہونا بھی درست ہے۔ اور وہ غیر متمکن جملہ اسمیہ ہے۔ اور فعل مضمر یقع کی وجہ سے وہ محلاً منصوب ہے یا نمبر 2۔ مرفوع ہو مقدر کی وجہ سے ہے ای ہو یوم ہم علی النار یفتنون۔ یفتنون کا معنی : جلائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →12 ۔” یسالون ایان یوم الدین “ وہ کہتے ہیں اے محمد ! ﷺ کب ہوگا جزاء کا دن۔ یعنی قیامت کا دن یہ تکذیب اور استہزاء کے لئے کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (قتل الخرصون) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ (الذین ھم فی غمرۃ) ” جو بیخبر ی میں ہیں۔ “ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ (ساھون ) ” اور بھولے ہوئے ہیں۔ “
(یسئلون) وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں : ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انہوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[ 10] غفلت و لاپرواہی کی جڑ بنیادی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، سو وہ بغیر کسی سند اور دلیل کے محض اٹکل پچو اور ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں۔ جیسا کہ اہل بدعت اور اہل ھویٰ کا حال ہے کہ یہ لوگ اپنی نئی ایجاد کردہ بدعات اور خود ساختہ خرافات کو دین کے نام پر رواج دینے کیلئے خود تراشیدہ فلسفوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے، اور نصوص قرآن و سنت میں اپنی اہواء و اعراض کے مطابق طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر اور آفاق وانفس کے دلائل و آیات سے منہ موڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آسمان کی قسم، اور قیامت کا عذاب
تشریح : جیسا کہ قرآن مجید کا یہ انداز ہے کہ چلتے چلتے ہلکے پھلکے جملوں میں رشد و ہدایت، ڈراوے اور انعام، حکمت و دانائی اور کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ یہاں بھی آسمانوں کی قسم کھاتے ہوئے آخرت کے دن، سزا و جزا اور خوفناک سزا کا ذکر کردیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آسمانوں کی قسم کیوں کھائی۔ یہ اس لیے کہ ہواؤں کی طرح آسمان بھی کائنات کے اجزاء میں سے ایک نہایت اہم جز ہے۔ اور پھر آسمان کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت کا ذکر یوں کردیا کہ ” جس میں جال دار راستے ہیں “۔ (آیت 7)
اس کو سمجھنے کے لیے ہم موریس بو کائیے کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 10 یعنی مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو اسے جلدی کیوں نہیں لے آتے ؟
Read the full tafseer →(51:13) یوم ہم علی النار یفتنون۔ ای قیل لہم جوابا یقع یوم الدین یوم ہم علی النار یفتنون : جواباً ان سے کہا جائے گا۔ یوم الدین (روز جزا) اس دن واقع ہوگا (یا وہ دن ہوگا) جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔ یوم بوجہ مفعول فیہ منصوب ہے۔
یفتنون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب فتن (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی عذاب دینا دکھ دینا۔ آزمائش میں ڈالنا۔
عرب کہتے ہیں فتنت الذھب ای احرقتہ لتختبرہ یعنی جب تو سونے کو پرکھنے کے لئے آگ میں جلائے تو کہا جاتا ہے فتنت الذھب ۔ آیت میں یفتنون اسی معنی میں مستعمل ہے یعنی جس روز انہیں آگ میں تپایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔
(ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] کفار کا یہ سوال کہ روز جزا کب آئے گا طنز و تمسخر کے طور پر تھا اس لئے ان کو جواب اس انداز میں دیا گیا ظاہر ہے تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ کسی منکر آخرت کو اقرار پر آمادہ کر دے کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یقین کرلیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ف 1: منکرین کے تذبذب اور ذہنی انتشار کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جس طرح آسمانوں میں ستاروں کے لئے مختلف گزرگاہیں موجود ہیں ۔ اسی طرح تمہارے ذہن میں مختلف خیالات کے لئے مختلف راستے ہیں ۔ اور کسی بات کو بھی تم تیقن او وثوق کے ساتھ پیش کرتے ہو ۔ قرآن حکیم چونکہ قطعیات کو پیش فرماتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ اس کے نزدیک قابل ملامت ہیں ۔ جو محض اٹکلی اور تخمین کو اپنے معتقات کے لئے بطور اساس کے قرار دیتے ہیں ۔ اور مذہب کے باب میں ایسی باتوں کو مانتے ہیں ۔ جن کی عقل تائید نہیں کرتی ۔
حل لغات :۔ فانجرایت ۔ جب آہستہ آہستہ چلنے لگیں فاتمقسیمت ۔ جب بارش کو حسب موقع تقسیم کرنے بعض کے نزدیک اس سے مراد فرشتے ہیں…
Read the full tafseer →(13) وہ اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے۔
Read the full tafseer →وہ دن وہی ہے جس دن ان کو آگ میں جلا دیا جائے گا۔
13 (یفعون) جمع مذکر غائب مضارع مجمہول ، وہ مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ فرمایا جس دن کے بارے میں وہ از راہ مذاق اور از راہ استہزاء سوال کر رہے ہیں اور پھر اس طرح سوال کرنا ان کا محض دل لگی ہے لئے ہے اس لئے ان کو اس طرح کا جواب بھی سنا دو کہ وہ دن وہی دن ہوگا جب ان کو آگ پر لاکھڑا کردیا جائے گا اور اب ان کا امتحان لیا جائے گا کہ بتائو یہ دن کونسا دن ہے اور اس جگہ تم کو لاکر کیوں کھڑا کیا گیا ہے ؟ ذرا سوچ کر جواب دو کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس دن سے تم انکار کرتے تھے وہ دن یہی دن ہو اور ظاہر ہے کہ اس وقت ان کو یہ باتیں کھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10 The disbelievers did not ask the question: When will Resurrection be? for the sake of seeking knowledge but for the purpose of taunt and ridicule. That is why they have been given such an answer. It is just like the taunting reaction of the wicked person who is admonished to desist from his immoral deeds, otherwise he would meet with the evil consequences of those deeds one day, and he asks in jest: When will that day be? Obviously, such a question is not asked to know the date of the occurrence of the evil end but to make fun of the admonition. Therefore, its right answer is that it will…
Read the full tafseer →