Adh-Dhaariyat 51:53

Adh-Dhaariyat · from ayah 53

51:53

اَتَوَاصَوْا بِهٖ ۚ— بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۟ۚاَتَوَاصَوۡا بِهٖ‌ۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ‌ۚ

کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Did they suggest it to them? Rather, they [themselves] are a transgressing people.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:53

کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ لوگ ایک دوسرے کواس بات کی وصیت کرتے رہے؟ بلکہ وہ (سب) سرکش و باغی لوگ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سر کش لوگ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا یہ اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اس کی وصیت کرچھوڑی ہے۔ یہ ہیں ہی سرکش لوگ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں نے آپس میں اس بات پر کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا ؟ (نہیں) بلکہ یہ سب ہی سرکش لوگ ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا اس بات کی ایک دوسرت جو ریت کرتے آئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ (سب کے سب) ہوئے ہی سرکش ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے اس کی ؟ بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا یہ لوگ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have they arrived at a common understanding concerning this? No; but they are a people given to transgression.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they handed down (this saying) to each other as a legacy? Rather they are a rebellious people.

— Muhammad Taqi Usmani

Have they handed down (this saying) to each other as a legacy? Rather they are a rebellious people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they handed down (the saying) as an heirloom one unto another? Nay, but they are froward folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Did they suggest it to them? Rather, they [themselves] are a transgressing people.

— Saheeh International

Have they inherited such dealings with the Prophets from their predecessors or are they a rebellious people?

— Muhammad Sarwar

Have they charged each other with this? Nay! they are an inordinate people.

— Muhammad Habib Shakir

Have they bequeathed its Unto each other! Nay! they are a people contumacious.

— Abdul Majid Daryabadi

Is this the legacy they have transmitted, one to another? Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–60

تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 50 یعنی یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہزارہا برس تک ہر زمانے میں مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگوں کا دعوت انبیاء کے مقابلے میں ایک ہی رویہ اختیار کرنا، اور ایک ہی طرح کی باتیں ان کے خلاف بنانا کچھ اس بنا پر تو نہ ہوسکتا تھا کہ ایک کانفرنس کر کے ان سب اگلی اور پچھلی نسلوں نے آپس میں یہ طے کرلیا ہو کہ جب کوئی نبی آ کر یہ دعوت پیش کرے تو اس کا یہ جواب دیا جائے۔ پھر ان کے رویے کی یہ یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی یہ مسلسل تکرار کیوں ہے ؟ اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چونکہ ہر زمانے کے جاہل لوگ خدا کی بندگی سے آزاد اور اس کے محاسبہ سے بےخوف ہو کر دنیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اتواصوابہ، بل ھم قوم طاغون (53) یہ اشرار کی روش کی یکسانی اور اس کے تسلسل پر اظہار تعجب ہے کہا یسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کی اشرار نے اپنے بعد آنے والی قوم کے اشرار کو یہ وصیت کرچھوڑی ہے کہ تمہارے پاس بھی کوئی رسول آئے تو اس سے وہی سلوک کرنا جو ہم نے اپنے رسول سے کیا ہے چناچہ ہر آنے والی نسل اپنے اسلاف کی اس وصیت کی پوری وفاداری کے ساتھ تعمیل کرتی چلی جارہی ہے۔ بل ھم قوم طاغون ‘ یہ اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ عمل کی اس مشابہت کی اصل علت یہ ہے کہ یہ لوگ بھی (یعنی قریش) اسی طرح کے سرکش ہیں جس طرح کے سرکش پچھلے رسولوں کے مکذبین تھے۔ مزاج کی یہ یکسانی اس بات کا سبب ہوئی کہ یہ بھی وہی ٹیڑھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی ہر بعد میں آنے والی قوم نے اس طرح رسولوں کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ قرار دیا، جیسے پچھلی قومیں بعد میں آنے والی قوم کیلئے وصیت کر کے جاتی رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر قوم نے یہی تکذیب کا راستہ اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 52–54

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔ تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔ کذلک ........ او مجنون (15 : 25) ” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ہر زمانے کے کافر اس بات میں ایسے متفق اللفظ رہے کہ گویا ایک دوسرے کو وصیت کر مرے ہیں کہ جو رسول آئے اسے ساحر یا مجنون کہہ کر چھوڑ دینا۔ اور واقع میں وصیت تو کہاں کرتے، البتہ شرارت کے عنصر میں سب شریک ہیں۔ اور یہ ہی اشتراک پچھلے شریروں سے وہ الفاظ کہلاتا جو اگلے شریروں نے کہے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53{ اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج } ”کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے اس کی ؟“ یعنی جو باتیں آج سے صدیوں پہلے کے لوگ اپنے پیغمبروں سے کہتے تھے ‘ عین وہی باتیں قریش مکہ آج ہمارے آخری رسول ﷺ سے کہہ رہے ہیں۔ کیا ان کی ہر نسل دوسری نسل کو یہ باتیں وصیت میں بتا کر جاتی رہی ہے ؟ { بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ !“ ان کے رویے کی یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی مسلسل تکرار کی وجہ یہ ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چناچہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف ان کے اعتراضات بھی ایک جیسے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–54

46 سب کافروں میں قدر مشترک :۔ ان کے اس کردار کے تسلسل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم اپنے بعد میں آنے والی قوم کو یہ وصیت کرکے مرتی رہی کہ اگر تمہارے پاس کوئی رسول آئے تو تم بھی اسے ساحر اور مجنون ہی کہنا۔ بات یوں نہیں کہ ان قوموں کے درمیان کافی بعد زمانی یا مکانی پایا جاتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسے سب کافروں میں چند باتیں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں آبائی دین سے محبت عصبیت ہٹ دھرمی، اکڑ اور شریعت کی پابندیوں سے آزادی کی خواہش۔ جو انہیں اس بات پر مجبور کردیتی ہیں کہ پیغمبروں کو ان القاب یا ان جیسے ملتے جلتے القابات سے پکار کر ان کا مذاق اڑائیں۔ اس سے ایک اور اہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 52–53

31۔ یہاں خطیبانہ انداز میں پہلے تو سوال قائم کیا ہے کہ جس تسلسل وتواتر کے ساتھ شروع سے اب تک انبیاء کرام کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اب تک پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس کی وصیت ہی کرتی چلی آئی ہے، تو کیا ایسا ہی ہے ؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ نہیں، ایسا نہیں، بلکہ طغیان وسرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک رہتی ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ مراد ظاہر ہے کہ پرانی کا فرقومیں ہیں۔ (آیت) ” کذلک .... مجنون “۔ پوری آیت میں تسکین و تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کے لئے۔ آپ سے قبل ہر نبی کے ساتھ یہی معاملہ تکذیب و انکار کا پیش آچکا ہے اور اسے ساحر ومجنون کے خطاب مل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–55

فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے ہیں نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں اَتَوَا صَوْابِہٖ : یعنی کیا اگلے پچھلے کافر باہم اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں۔ ہمزۂ سوالیہ انکار اور تنبیہ کے لیے ہے۔ بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ : باہم وصیت کرنے سے یہ اضراب ہے یعنی ان لوگوں نے ایک دوسرے کو نصیحت نہیں کی تھی۔ ہر امت کا زمانہ الگ الگ تھا۔ باہم فاصلہ بہت تھا بلکہ خود ہی یہ سب لوگ سرکش تھے۔ ذاتی طغیان نے ان ہی سب کو سرکشی پر آمادہ کیا تھا۔ اس کلام میں رسول اللہ ﷺ کے لیے پیام تسلی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 52–53

(52۔ 53) اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کو جادوگر یا مجنوں کہتی ہے اسی طرح جو کافر لوگ آپ کی قوم سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا مجنوں نہ کہا ہو کیا ہر ایک قوم اس بات میں ایک دوسرے کی موافقت کرتی چلی آرہی ہے کہ اپنے اپنے رسولوں کو ان ہی الفاظ کے ساتھ یاد کریں بلکہ یہ سب کے سب کافر ہیں۔ شان نزول : فَتَوَلَّ عَنْهُمْ۔ وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ) ابن منبع اور ابن راہویہ اور ہثیم بن کلیب نے اپنی مسانید میں بواسطہ مجاہد حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ تو ہم میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اتواصوابہ :”تواصی یتواصی تواصیاً“ باپ تفاعل میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دور سے کو وصیت کرنا۔ یعنی جب سب نے ایک ہی بات کہی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سب ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کر گئے ہیں ؟ (2) بل ھم قوم طاغون : ینی یہ تو ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک دور سے کو اس بات کی وصیت کی ہو، کیونکہ ان کے درمیان مدتوں کا فاصلہ ہے، علاقے بھی ایک نہیں، تو اصل بات یہ ہے کہ یہ سرکش لوگ ہیں، پہلے لوگ بھی سرکش تھے اور اپنی خواہش نفس پر کوئی پابندی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ دونوں کی سرکشی ان کے لئے رسول کی اطاعت اور حق بات تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی، اسی لئے پچھلوں نے بھی وہی بات کہی جو ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–55

ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–53

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَتَوَاصَوْا [ کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کرگئے ] بِهٖ ۚ [ اس کی ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] قَوْمٌ طَاغُوْنَ [ ایک سرکشی کرنے والی قوم تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تاسعًا : فرمایا ﴿اَتَوَاصَوْا بِهٖ 1ۚ﴾ (کیا آپس میں ایک قوم نے دوسری قوم کو وصیت کی تھی کہ ہماری طرح تم بھی ایسی ایسی باتیں کرنا) یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی لیکن چونکہ سرکشی میں سب ہی مشترک ہیں اس لیے دور حاضر کے مکذبین اور ان سے پہلے معاندین سب ہی کو ان کی طغیانی اور سرکشی نے رسولوں کی تکذیب پر ابھارا اور آمادہ کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 52–55

18:۔ ” کذلک ما اتی “ یہ مشرکین پر شکوی اور آنحضرت کیلئے تسلیہ ہے۔ مشرکین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی پیغمبر آیا اسے جادوگر اور دیوانہ کہنے لگے۔ ” اتواصوا بہ۔ الایۃ “ کیا پہلے زمانے کے مشرکین اپنی نسلوں کو وصیت کر گئے ہیں کہ وہ ہر پیغمبر کو انہی القاب سے یاد کریں ؟ نہیں، بلکہ یہ پچھلی نسلیں خود ہی سرکش اور باغی ہیں اور خود ہی خبث باطن کی وجہ سے ایسی بےہودہ باتیں کر رہے ہیں۔ ” فتول عنہم “ آپ ان کی باتوں کی پروا نہ کریں اور ان سے اعراض فرمائیں۔ آپ پر کوئی طعن و ملامت نہیں، کیونکہ آپ نے افہام و تفہیم اور وعظ و تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے اور ان پر حجت خداوندی قائم کردی ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَتَوَاصَوْا بِہٖ۝ 0 ۚ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۝ 53 ۚ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۔ (الذریٰت : 53) (کیا انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اس کی وصیت کر چھوڑی ہے، نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ ) رسولوں کی مخالفت میں یکسانی کا سبب گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مخالفین کی روش کی جس یکسانی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس پر اظہارِتعجب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے ایک دوسرے کو یہ نصیحت کر رکھی ہے کہ جب بھی ان کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آئے تو اس کی مخالفت میں یہی رویہ اختیار کرنا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی مختلف زمانوں میں آئے اور ان کی قوموں کا بھی ایک دوسرے سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا۔ کسی نے کسی کو نہیں دیکھا اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–53

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے زمین و آسمان بنائے اور ہر چیز کو جوڑا، جوڑا پیدا کیا ہے اس کا کوئی جوڑا نہیں یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ادھر ادھر ٹکریں مارنے کی بجائے ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جبر کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اور ہر چیز کو صرف میں نے پیدا کیا ہے۔ تیری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تو اس کی بندگی اختیار کرے۔ اس نے اس سبق کی یاددہانی کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جن میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی دعوت تھی اور ہے کہ لوگو ! معبودان باطل کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کی طرف آجاؤ اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی اصل میں یہ سرکش نہیں : آیت 53 : اَتَوْا صَوْا بِہٖ (کیا وہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے تھے) ہٗ کی ضمیر قول کی طرف راجع ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے أتواصی الاولون والآخرون بہذا القول حتی قالوہ جمیعا متفقین علیہ۔ کیا اول و آخر اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے یہاں تک کہ سب نے بالا تفاق یہ بات کہی۔ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ (بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ تھے) یعنی انہوں نے وصیت تو نہ کی کیونکہ ان کی باہمی ملاقات ہی نہ ہوئی۔ زمانے مختلف تھے۔ بلکہ ایک علت نے ان کو جمع کردیا اور وہ علت طغیان تھی اور سرکشی ہی اس بات پر آمادہ کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52 ۔” کذلک “ اے محمد ! ﷺ جس طرح آپ ﷺ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی اور جادوگر اور مجنون کہا اسی طرح ” مااتی الذین من قبلھم “ کفار مکہ سے پہلے۔ ” من رسول الال قالوا ساحر ومجنون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–55

52۔ 55۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہو کر آنحضرت ﷺ پر وہ سلسلہ ختم ہوا۔ اور حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط ‘ حضرت شعیب کو جس طرح ان کی قوموں نے اور حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم نے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا اور دیوانہ جادوگر بتایا اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزر چکا ہے۔ اسی واسطے جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی ایذا دی اور جھٹلایا اور جادوگر دیوانہ اور قرآن شریف اور معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–53

اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے اللہ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین وآخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے ؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کرلینا کچھ بعید نہیں۔ (بل ھم قوم طاغون)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 54] منکرین کے حال پر اظہار تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب استفہام واستعجاب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اس بات پر آپس میں کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا۔ یہ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے، کہ ایسے نہیں ہوا، اور نہ ایسے ہوسکتا ہے کہ ان سب لوگوں نے باہم کوئی سمجھوتہ کرکے ایک ہی بات آپس میں طے کرلی ہو، کہ ان سب کے درمیان تو ہزاروں سال کا فاصلہ اور وقفہ ہے، سو اس کا اصل سبب یہ نہیں، بلکہ وہ ہے جو اس کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے، یعنی ان کی طغیانی اور سرکشی، جس کی بناء پر کل کے وہ منکر بھی نورحق و ہدایت سے محروم رہے اور آج کے یہ منکر و سرکش بھی اس سے محروم ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 جو ہر زمانہ میں پیغمبروں کی ایک ہی طرح سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔ 7 یعنی ان کی ایک جیسی مخالفت کی وجہ ایک دوسرے کو وصیت نہیں ہے بلکہ سرکشی ہے جو ان سب کی طبیعت میں یکساں پائی گی ہے اور پائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:53) اتواصوابہ۔ ہمزہ استفہامیہ انکار اور تنبیہ کے لئے آتا ہے۔ تواصوا مضارع جمع مذکر غائب۔ تواصی (تفاعل) مصدر بمعنی ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ وصیت کرنا۔ کہہ مرنا۔ بہ میں ضمیر ہ کا مرجع ان کا وہ قول کہ رسول یا تو ساحر ہے یا مجنون ۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا ان کے اگلے اور پچھلوں کو یہی وصیت کرتے چلے آئے تھے ؟ بل ہم قوم طاغون : بل حرف اضراب ہے۔ ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصدیق کے لئے آیا ہے۔ نہیں یہ بات نہیں بلکہ یہ لوگ فطرتاً سرکش و نافرمان تھے۔ طاغون : اسم فاعل جمع مذکر طغیان (باب فرح) مصدر بمعنی سرکش ، نافرمان، معصیت میں حد سے بڑھ جانا، سمندر کا جوش مارنا ۔ طاغی کی جمع بحالت رفع ہے۔ مطلب :۔ نہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–55

(ف 1) حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہوکر نبی ﷺ پر سلسلہ ختم ہوا، اور حضرت نوح ، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب کو جس طرح انکی قوموں نے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم نے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا، اور دیوانہ جادوگر بتلایا۔ اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزرچکا ہے اسی واسطے جب قریش نے نبی کو طرح طرح کی ایذا دی، اور جھٹلایا اور جادوگر، دیوانہ اور قرآن شریف معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے جھٹلانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–55

[24] یعنی جس تسلسل و تواتر کے ساتھ شروع سے اب تک پیغمبروں کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس بات کی وصیت کرتی چلی آئی ہے لیکن عمل کی اس مشابہت کی اصل وجہ یہ ہے کہ طغیانی و سرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

مظاہر قدرت سے استدلال 1: فرمایا آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھو ۔ نجوم وکواکب کے فوائد اور ان کی مصلحتوں پر غور کرو ۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین کو ہم نے کس طرح تمہارے پاؤں تلے بچھا رکھا ہے ۔ اور کیونکر ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔ کہ یہ سب چیزیں اس کی توحید اور قدرت کا ملہ پر صریح دال ہیں ۔ اس لئے اگر تمہارا مطالعہ صحیح اور کامل ہے ۔ تو پھر تمہارا فرض یہ ہے کہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ خدا کے حضور میں آؤ۔ اور دوڑ کر رشتہ توحید کو تھام لو ۔ کیونکو وہ ذات ہر نوع کے ساجھے سے پاک اور بالا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) کیا ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سب کے سب ہی سرکش لوگ ہیں۔ یعنی کچھ اس طرح تمام منکر اور کافر رسولوں کے ساتھ ایک سا سلوک کرتے رہے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرتے وقت ایک دوسرے کو کہہ کر مرتا ہے کہ اگر تمہارے زمانے میں کوئی رسول آئے تو اس کو جادوگر اور مجنون کہنا۔ پھر فرمایا بل ھم قوم طاغون نہیں بلکہ یہ سب کے سب ہی سرکش ہیں اور تمام کافروں کی ذہنیت ایک سی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 53–55

ف 6۔ یعنی یہ اجماع تو ایسا ہوگیا جیسے ایک دوسرے کو کہتے چلے آتے ہوں کہ دیکھو جو رسول آئے تم بھی ہماری طرح کہنا۔ 7۔ یعنی سبب اس قول کا طغیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کر کے مرے ہیں بلکہ ایک طرح کے سرکش ہیں 53 ؎ کہاں نوح (علیہ السلام) ‘ کہاں صالح ‘ اور ہود ‘ کہاں موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور کہاں محمد رسول اللہ ﷺ ان سب کے زمانوں میں کتنا بعد اور کتنی دوری ہے لیکن اس زمانی بعد کے باوجود ان کی فکر اور قول میں کتنی یکسانیت ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر مرنے والے نے آنے والوں کو یہ وصتک کی تھی کہ ہم نے اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کو ایسا ایسا کہا تھا اور تم اگر ہماری قوم سے ہو تو یہی بات تم کو بھی اپنے دور کے نبی و رسول سے کہنا ہوگی۔ کیا سچ مچ کہیں ایسا ہی تو نہیں ہوا کہ اگلے پچھلوں کو وصیت کرتے گئے ہوں۔ اچھا اگر یہ بات نہیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّ‌وا إِلَى اللَّـهِ (So flee to Allah....51:50). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: "It means: Flee from your sins and take shelter in Allah for repentance." Abu Bakr Warraq and Junaid Baghdadi رحمۃ اللہ علیہما said that the base self of man and the devil invite him to commit sins, and they deceive him. He needs to take refuge in Allah who will protect him against their evil. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50 That is, °The fact that the people of different countries and nations adopted the same attitude as against the invitation of the Prophets and opposed them in the same manner in different ages for thousands of years could not be due to the reason that all the former and the latter generations had settled in a conference that whenever a prophet came with his message, he should be given such and such an answer. Then, what could be the reason for the uniformity of their attitude and behavior? There could be no other reason for this than that rebellion and transgression was their common…

Read the full tafseer →