Explained with ayahs 52–60
تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 51
اس آیت میں دین کی تبلیغ کا ایک قاعدہ بیان فرمایا گیا ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ایک داعی حق جب کسی شخص کے سامنے معقول دلائل کے ساتھ اپنی دعوت صاف صاف پیش کر دے اور اس کے شبہات و اعتراضات اور دلائل کا جواب بھی دے دے تو حق واضح کرنے کا جو فرض اس کے ذمے تھا اس سے وہ سبکدوش ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ شخص اپنے عقیدہ و خیال پر جما رہے تو اس کی کوئی ذمہ داری داعی حق پر عائد نہیں ہوتی۔ اب کچھ ضرور نہیں کہ وہ اسی شخص کے پیچھے پڑا رہے، اسی سے بحث میں اپنی عمر کھپائے چلا جائے، اور اس کا کام بس یہ رہ جائے کہ اس ایک آدمی کو کسی نہ کسی طرح اپنا ہم خیال بنانا ہے۔ داعی اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)
Read the full tafseer →فتول عنھم فماانت بملوم (54)
مغروروں سے اعراض اور نیکوں کی طرف التفات کی ہدایت
یعنی اس قسم کے شریر لوگوں سے، جو مخالفت کے لئے ادھار کھائے بیٹھے ہوں، تم اعراض کرو۔ رسول کی حیثیت سے انذاروتبلیغ کی جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کردی۔ اب تم عنداللہ بری ہو، اب کوئی پرسش ان کے باب میں تم سی نہیں ہونی ہے بلکہ یہ خود سزا وار ملامت ہیں اور اس کا انجام عنقریب دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →54۔ 1 یعنی ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی بلکہ ہر قوم ہی اپنی اپنی جگہ سرکش ہے، اس لئے ان سب کے دل بھی متشابہ ہیں اور ان کے طور اطوار بھی ملتے جھلتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔
تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔
کذلک ........ او مجنون (15 : 25)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
8 یعنی آپ فرض دعوت و تبلیغ کما حقہ ادا کرچکے، اب زیادہ پیچھے پڑنے اور غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ نہ ماننے کا جو کچھ الزام رہے گا ان ہی معاندین پر رہے گا۔ ہاں سمجھانا آپ کا کام ہے۔ سو یہ سلسلہ جاری رکھیے جس کی قسمت میں ایمان لانا ہوگا اس کو یہ سمجھانا کام دے گا جو ایمان لاچکے ہیں ان کو مزید نفع پہنچے گا اور منکروں پر خدا کی حجت تمام ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 54{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ۔ } ”پس اے نبی ﷺ ! آپ ان سے رُخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔“
یعنی اگر وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں یہاں تک آگئے ہیں کہ آپ ﷺ کو شاعر ‘ ساحر ‘ مجنون اور معُلَّم سکھایا ہوا تک کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ کی دعوت سے مسلسل اعراض کر رہے ہیں تو اب آپ بھی اپنی توجہ ان کی طرف سے ہٹالیجیے۔ آپ محکم دلائل کے ساتھ ان پر اتمامِ حجت کرچکے ہیں۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے تو اس کی جواب دہی آپ سے نہیں ہوگی۔ لہٰذا آپ انہیں چھوڑ کر ان لوگوں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں جو آپ ﷺ کی بات کو سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
46 سب کافروں میں قدر مشترک :۔ ان کے اس کردار کے تسلسل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم اپنے بعد میں آنے والی قوم کو یہ وصیت کرکے مرتی رہی کہ اگر تمہارے پاس کوئی رسول آئے تو تم بھی اسے ساحر اور مجنون ہی کہنا۔ بات یوں نہیں کہ ان قوموں کے درمیان کافی بعد زمانی یا مکانی پایا جاتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسے سب کافروں میں چند باتیں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں آبائی دین سے محبت عصبیت ہٹ دھرمی، اکڑ اور شریعت کی پابندیوں سے آزادی کی خواہش۔ جو انہیں اس بات پر مجبور کردیتی ہیں کہ پیغمبروں کو ان القاب یا ان جیسے ملتے جلتے القابات سے پکار کر ان کا مذاق اڑائیں۔ اس سے ایک اور اہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
32۔ (اور منکروں پر اتمام حجت کرتارہتا ہے) گویا تذکیر وتبلیغ نافع بہرحال، بہرصورت ہے، کوئی ایمان لائے یا نہ لائے۔ (آیت) ” فتول .... بملوم “۔ یعنی آپ ان کی مخالفت کی پروا اور غم زیادہ نہ کیجئے۔ آپ ﷺ کے فرائض میں یہ تو کہیں داخل نہیں کہ آپ ﷺ انہیں ایمان لانے پر مجبور ہی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →فتول عنھم فما انت بملوم
سو آپ انکی طرف التفات نہ کیجئے اپ پر کسی طرح کا الزام نہیں
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ : یعنی جب آپ بار بار ان کو دعوت اسلام دے چکے اور انہوں نے بغض وعناد کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا تو اب ان سے جھگڑا نہ کیجئے ‘ ان کی طرف توجہ نہ کیجئے۔
فَمَا اَنْتَ بِمَلُوْمٍ : جب آپ ﷺ ان کو بقدر امکان دعوت دے چکے اور اپنی طاقت کے موافق کوشش کرچکے تو اب ان کی طرف سے روگردانی اور اعراض سے آپ قابل ملامت نہیں قرار دیئے جاسکتے۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن منیع ‘ ابن راہویہ ‘ ابن ہیثم بن کلیب نے بروایت مجاہد حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : فَتَوَلَّ عَنْھُمْ فَمَا اَنْتَ بِمَلُوْمٍ نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(54۔ 55) اے محمد آپ ان کی طرف التفات نہ کیجیے کیونکہ ہمارے یہاں آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں اس لیے کہ آپ نے کامل طور پر احکام الہی کو پہنچا دیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا۔ آپ ان کو بذریعہ قرآن کریم سمجھاتے رہیے اس لیے کہ اس طرح سمجھانا ایمان والوں کے لیے ایمان میں بھی مزید ترقی کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →(فتول عنھم فما انت بملوم : یعنی جب وہ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں اور حق واضح ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے پر تیار نہیں تو آپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ انہی کے پیچھے پڑے رہیں، بلکہ آپ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ آپ کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب اگر وہ اسے قبول نہیں کرتے تو آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (48) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
1:۔ ابوداؤد فی ناسخہ وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتول عنہم فما انت بملوم '' (سو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ان سے پیٹھ پھیر لیجئے تاکہ ان کو عذاب دیں اور محمد ﷺ کو معذور قرار دیا پھر فرمایا (آیت ) '' وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین '' (اور سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا ایمان والوں کو بھی نفع دے گا) پس اس حکم نے پہلے کو منسوخ کردیا۔
2:۔ اسحاق بن راھویہ واحمدبن منیع والھشیم بن کلیب فی الاسانید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان والضیاء فی…
Read the full tafseer →فَتَوَلَّ [پھر آپ بےرخی برتیں ] عَنْهُمْ [ ان لوگوں سے ] فَمَآ اَنْتَ [ تو آپ نہیں ہوں گے ] بِمَلُوْمٍ [ ملامت کیے ہوئے ]
نوٹ ۔ 3 آیت ۔ 54 ۔ میں دین کی تبلیغ کا ایک قاعدہ بیان کی گیا ہے ۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ ایک داعی جب کسی شخص کے سامنے معقول دلائل کے ساتھ اپنی دعوت صاف صاف پیش کردے اور اس کے شبہات ، اعتراضات اور دلائل کا جواب بھی دے دے تو حق واضح کرنے کا جو فرض اس کے ذمہ تھا اس سے وہ سبکدوش ہوجاتا ہے ۔ وہ شخص نہیں مانتا تو نہ مانے ۔ اب اس کی طرف التفات نہ کرنے پر داعی کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ تم نے ایک شخص کو گمراہی میں مبتلا رہنے دیا ، کیونکہ اب اپنی گمراہی کا وہ شخص خود…
Read the full tafseer →عاشراً : آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ﴾ آپ ان کی طرف سے اعراض کریں، آپ کا کام پہنچا دینا ہے آپ نے پہنچا دیا محنت کرلی جو شخص ان میں سے ایمان نہ لائے وہ اس کی شقاوت کی بات ہے ﴿ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍٞ0054 ﴾ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ ان کو مسلمان کیوں نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–60
اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔
(ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔
اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
18:۔ ” کذلک ما اتی “ یہ مشرکین پر شکوی اور آنحضرت کیلئے تسلیہ ہے۔ مشرکین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی پیغمبر آیا اسے جادوگر اور دیوانہ کہنے لگے۔ ” اتواصوا بہ۔ الایۃ “ کیا پہلے زمانے کے مشرکین اپنی نسلوں کو وصیت کر گئے ہیں کہ وہ ہر پیغمبر کو انہی القاب سے یاد کریں ؟ نہیں، بلکہ یہ پچھلی نسلیں خود ہی سرکش اور باغی ہیں اور خود ہی خبث باطن کی وجہ سے ایسی بےہودہ باتیں کر رہے ہیں۔ ” فتول عنہم “ آپ ان کی باتوں کی پروا نہ کریں اور ان سے اعراض فرمائیں۔ آپ پر کوئی طعن و ملامت نہیں، کیونکہ آپ نے افہام و تفہیم اور وعظ و تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے اور ان پر حجت خداوندی قائم کردی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
ربط آیات
وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آسمان کی تخلیق
مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…
Read the full tafseer →فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ 54 ۤ ۡ
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–58
ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔
تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ ۔ وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 54، 55)
(پس آپ ان سے اعراض کریں، پس آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ نصیحت کرتے رہیے کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع پہنچاتی ہے۔ )
ان دو آیتوں میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو دو اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اور آپ کے واسطے سے ہر اس داعی حق کو رہنمائی مہیا کی گئی ہے جو دعوت الیٰ اللہ کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد بنا چکا ہے۔
نامور مخالفین پر اتمامِ حجت ہوچکا، عام لوگوں میں تذکیر کی ہدایت
پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آپ نے ان لوگوں پر تبلیغ و دعوت کے لیے ہر طریقہ آزما کے دیکھ لیا اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کا کام کھلے الفاظ میں لوگوں کو سمجھانا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تھا۔ جس کا آپ ﷺ نے حق ادا کر رہے ہیں۔
نبی کریم ﷺ ” اللہ “ کی توحید سمجھانے اور لوگوں کی خیر خواہی کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ آپ لوگوں کو بار بار سمجھاتے کہ لوگو ! اللہ کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ آپ کے مخاطبین اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے۔ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اذّیتیں دیتے تھے۔ اس صورت حال میں آپ کی طرف سے جن لوگوں پر حق کا ابلاغ ہوچکا تھا۔ ان کے بارے میں آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے ان سے اعراض کا…
Read the full tafseer →آیت 54 : فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس آپ ان کی طرف التفات نہ فرمائیں) پس ان سے اعراض فرمائیں جن کو بار بار دعوت دی جا چکی مگر انہوں نے عناد کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا۔ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ (کیونکہ آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں) آپ نے جب پیغام رسالت پہنچا دیا تو اب اعراض سے آپ پر الزام نہ ہوگا آپ نے تو دعوت و تبلیغ میں امکانی جہد صرف کر ڈالی۔
Read the full tafseer →53 ۔” اتواصوابہ “ یعنی ان میں سے پہلوں نے پچھلوں کو وصیت کی اور ایک دوسرے کو تکذیب کرنے کی وصیت کی اور اس پر اتفاق ہوگیا اور الف اس میں ڈانٹ کا ہے۔ ” بل ھم قوم طاغون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو کچھ میں نے ان کو دیا اور ان پر وسعت کی اس نے ان کو سرکش اور آپ (علیہ السلام) کی تکذیب پر ابھارا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
52۔ 55۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہو کر آنحضرت ﷺ پر وہ سلسلہ ختم ہوا۔ اور حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط ‘ حضرت شعیب کو جس طرح ان کی قوموں نے اور حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم نے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا اور دیوانہ جادوگر بتایا اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزر چکا ہے۔ اسی واسطے جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی ایذا دی اور جھٹلایا اور جادوگر دیوانہ اور قرآن شریف اور معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے…
Read the full tafseer →(فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ) یعنی آپ ان کی پرواہ کیجئے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجئے۔ اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے۔ (فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ ) ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں۔ آپ کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ کے سپرد کردی گئی تھی وہ آپ نے پوری کردی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 56] سرکشوں سے اعراض و رُوگرانی کی ہدایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے رخ پھیر لیں۔ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ آپ ﷺ نے اپنا فریضہء تبلیغ پورا کردیا اور بتمام و کمال پورا کردیا اب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کا قصور ہے آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں اور اب اس کے ذمہ دار یہ خود ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور جب حق کی تبلیغ اور پوری طرح توضیح و تشریح کے باوجود یہ لوگ حق کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہے ہیں، تو ان کے پیچھے لگ کر وقت ضائع کرنا اور خود تکلیف اٹھانا درست نہیں، لہٰذا ان سے اعراض و روگردانی ہی بہتر ہے کہ ایسے لوگ اپنے شر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے
تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیات 45 تا 60۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔
بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 8 یعنی آپ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا دیا اور ان کے ایک ایک شبہ کا جواب دے دیا اب بھی اگر یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں تو آپ ان کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ان کے معاملہ میں اپنے آپ کو کسی قسم کے غم و فکر میں ڈالیں کیونکہ ان کے نہ ماننے کا کوئی الزام آپ پر نہیں ہے۔ البتہ عام انداز میں سمجھتاے رہیں کیونکہ جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھا ہے وہ آپ کی نصیحت سے فائدہ اٹھائینگے اور ایمان لائیں گے۔
Read the full tafseer →(51:54) تول : امر واحد مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ ولی مادہ۔ تو منہ پھیرلے۔ تو توجہ ہٹالے۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے۔ کسی کام کو ٹھانے۔ والیو حاکم ہونے کے ہیں۔ جیسے ومن یتولہم منکم فانہ منہم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان ان سے دوستی کرے وہ ان ہی میں سے ہے اور والذی تولی کبرہ منہم (24:11) اور جس نے اٹھایا بڑی بات کو (ان میں سے) اور فہل عسیتم ان تولیتم (47:22) پھر تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو۔
اور جب اس کا تعدیہ عن کے ساتھ ہوتا ہے خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیر لینے اور نزدیکی چھوڑ دینے کے معنی آتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55
الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 55
انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہوکر نبی ﷺ پر سلسلہ ختم ہوا، اور حضرت نوح ، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب کو جس طرح انکی قوموں نے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم نے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا، اور دیوانہ جادوگر بتلایا۔ اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزرچکا ہے اسی واسطے جب قریش نے نبی کو طرح طرح کی ایذا دی، اور جھٹلایا اور جادوگر، دیوانہ اور قرآن شریف معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے جھٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
[24] یعنی جس تسلسل و تواتر کے ساتھ شروع سے اب تک پیغمبروں کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس بات کی وصیت کرتی چلی آئی ہے لیکن عمل کی اس مشابہت کی اصل وجہ یہ ہے کہ طغیانی و سرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
مظاہر قدرت سے استدلال
1: فرمایا آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھو ۔ نجوم وکواکب کے فوائد اور ان کی مصلحتوں پر غور کرو ۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین کو ہم نے کس طرح تمہارے پاؤں تلے بچھا رکھا ہے ۔ اور کیونکر ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔ کہ یہ سب چیزیں اس کی توحید اور قدرت کا ملہ پر صریح دال ہیں ۔ اس لئے اگر تمہارا مطالعہ صحیح اور کامل ہے ۔ تو پھر تمہارا فرض یہ ہے کہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ خدا کے حضور میں آؤ۔ اور دوڑ کر رشتہ توحید کو تھام لو ۔ کیونکو وہ ذات ہر نوع کے ساجھے سے پاک اور بالا ہے
Read the full tafseer →(54) لہٰذا آپ ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے اور ان کی جانب التفات نہ کیجئے کیونکہ اب آپ پر کوئی الزام اور اولاہنا نہیں۔ یعنی آپ ان کی جانب التفات نہ کیجئے آپ نے تبلیغ کا حق ادا کردیا اب آپ پر کوئی الزام نہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے اپنے کام میں کوتاہی کی آپ اطمینان کے ساتھ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیے اور ان سے کسی قسم کا تملق اور چاپلوسی نہ کیجئے یعنی کھینچ کر بات کیجئے اور ان سے منہ پھیر لیجئے یعنی ان سے کوئی اچھی امید نہ رکھیے اور ان کی تکذیب کی پروانہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ف 6۔ یعنی یہ اجماع تو ایسا ہوگیا جیسے ایک دوسرے کو کہتے چلے آتے ہوں کہ دیکھو جو رسول آئے تم بھی ہماری طرح کہنا۔
7۔ یعنی سبب اس قول کا طغیان ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے منہ پھیر لیجئے آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں ہے
54۔ نبی و رسول کے ذمہ کیا ہے ؟ فقط پیغام پہنچانا اور پیغام ان تک آپ ﷺ نے پہنچا دیا۔ لیکن پیغام سننے والوں نے پیغام سن کر جو ناک بھوں چڑھائی اور آپ ﷺ کو الٹی سیدھی سنا دیں تو کیا اب آپ ﷺ ان کا پیچھا کریں گے ؟ نہیں ‘ ہرگز نہیں انہوں نے جو کچھ کیا محض اپنی جہالت کے باعث کیا پھر جاہل سے آخر کس چیز کی توقع ہو سکتی ہے ؟ جہالت کی تو آپ ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی کسی کو کوئی جواب دیں بلکہ ان کی جہالت کی باتوں سے اعراض کر جائیں آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں آئے گا کیونکہ کسی کے الزام دینے سے آدمی مجرم نہیں ہوجاتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فَفِرُّوا إِلَى اللَّـهِ (So flee to Allah....51:50). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: "It means: Flee from your sins and take shelter in Allah for repentance." Abu Bakr Warraq and Junaid Baghdadi رحمۃ اللہ علیہما said that the base self of man and the devil invite him to commit sins, and they deceive him. He needs to take refuge in Allah who will protect him against their evil. (Qurtubi)
Read the full tafseer →51 In this verse a method of the preaching of religion has been taught, which should be well understood. When a preacher of the truth has presented his message clearly before a person with rational arguments, and has also removed his doubts and objections and answered his arguments, he becomes relieved of his duty of making the truth plain. Even after this if the other person persists in his belief and creed, the responsibility for it does not lie on the preacher of the truth. It is no more necessary that he should pursue the same person, should go on spending his time in discussing things…
Read the full tafseer →