Explained with ayahs 52–60
تبلیغ میں صبرو ضبط کی اہمیت
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لئے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے اللہ کی باتیں پہچانتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 49
یعنی آج پہلی مرتبہ ہی یہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کی زبان سے آخرت کی خبر اور توحید کی دعوت سن کر لوگ اسے ساحر اور مجنون کہہ رہے ہیں۔ رسالت کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جب سے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے رسول آنے شروع ہوئے ہیں، آج تک جاہل لوگ اسی ایک حماقت کا پوری یکسانی کے ساتھ اعادہ کیے چلے جا رہے ہیں۔ جس رسول نے بھی آ کر خبردار کیا کہ تم بہت سے خداؤں کے بندے نہیں ہو بلکہ صرف ایک ہی خدا تمہارا خالق و معبود اور تمہاری قسمتوں کا مالک و مختار ہے، جاہلوں نے شور مچا دیا کہ یہ جادوگر ہے جو اپنے افسوں سے ہماری عقلوں کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ جس رسول نے بھی آ کر خبردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)
Read the full tafseer →کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالو اساحراومجنون (52)
یہ نبی ﷺ کو تسلی دیگئی ہے کہ ان لوگوں کی اس روش پر غم نہ کرو۔ اس صورت حال سے تمہی کو سابقہ پیش نہیں آیا ہے بلکہ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔
رسولوں کے ساتھ شریروں کی روش
قالو اساحرا ومجنون، یعنی انہوں نے جب ان کی طلب پر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھائیں تو ان کو جادوگر ٹھہریا اور جب ان کو عذاب وقیامت سے ڈرایا تو ان کو خبطی اور دیوانہ قرار دیا۔ ساحر، اور مجنون، کے الفاظ بطور مثال نقل ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت کے لئے انہوں نے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیا، اسی طرح تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 1 یعنی میں تمہیں کھول کھول کر ڈرا رہا اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی طرف رجوع کرو، اسی پر اعتماد اور بھروسہ کر اور صرف اسی ایک کی عبادت کرو، اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک مت کرو، ایسا کرو گے تو یاد رکھنا جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیئے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔
تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔
کذلک ........ او مجنون (15 : 25)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں…
Read the full tafseer →6 یعنی ایسی صاف تنبیہ و انذار پر اگر یہ منکرین کان نہ دھریں تو غم نہ کیجیے۔ ان سے پہلے جن کافر قوموں کی طرف کوئی پیغمبر آیا، اسی طرح جادوگر یا دیوانہ کہہ کر اس کی نصیحتوں کو ہنسی میں اڑا دیا۔
Read the full tafseer →آیت 52{ کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اسی طرح ہوتا آیا ہے کہ نہیں آیا تھا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“
Read the full tafseer →45 ہر نبی کو ساحر اور دیوانہ کہا جاتا رہا ہے :۔ یعنی یہ ساحر اور دیوانہ کا جو لقب کفار مکہ کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے۔ تو آپ اس لقب میں منفرد نہیں بلکہ پہلی قوموں نے اپنے اپنے رسولوں کو انہی القاب سے نوازا تھا۔ کفار رسولوں کو ساحر تو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ بعض کفار کے مطالبہ پر اور بعض دفعہ مطالبہ کے بغیر ان پیغمبروں سے ایسے واقعات کا ظہور یا صدور ہوتا تھا جو خرق عادت ہوتے تھے۔ جنہیں معجزات بھی کہا جاتا ہے اور مجنوں اس لحاظ سے کہتے تھے کہ پیغمبر جو دعوت پیش کرتا ہے وہ ساری قوم کے مزاج اور اعتقاد کے خلاف ہوتی تھی اور رسول یہ دعوت پیش کرکے ساری قوم کی مخالفت مول لے لیتا تھا۔ اور یہی بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
31۔ یہاں خطیبانہ انداز میں پہلے تو سوال قائم کیا ہے کہ جس تسلسل وتواتر کے ساتھ شروع سے اب تک انبیاء کرام کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اب تک پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس کی وصیت ہی کرتی چلی آئی ہے، تو کیا ایسا ہی ہے ؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ نہیں، ایسا نہیں، بلکہ طغیان وسرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک رہتی ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ مراد ظاہر ہے کہ پرانی کا فرقومیں ہیں۔ (آیت) ” کذلک .... مجنون “۔ پوری آیت میں تسکین و تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کے لئے۔ آپ سے قبل ہر نبی کے ساتھ یہی معاملہ تکذیب و انکار کا پیش آچکا ہے اور اسے ساحر ومجنون کے خطاب مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →اسی طرح جو کافر لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا مجنون نہ کہا ہو۔ کیا اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے ہیں نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں
کَذٰلِکَ : یعنی آپ ﷺ کی امت کے کافروں کی جو حالت اور جو قول آپ ﷺ کے ساتھ ہے ایسا ہی گزشتہ پیغمبروں کے ساتھ ان کی (کافر) امتوں کا حال اور قول رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(52۔ 53) اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کو جادوگر یا مجنوں کہتی ہے اسی طرح جو کافر لوگ آپ کی قوم سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا مجنوں نہ کہا ہو کیا ہر ایک قوم اس بات میں ایک دوسرے کی موافقت کرتی چلی آرہی ہے کہ اپنے اپنے رسولوں کو ان ہی الفاظ کے ساتھ یاد کریں بلکہ یہ سب کے سب کافر ہیں۔
شان نزول : فَتَوَلَّ عَنْهُمْ۔ وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ)
ابن منبع اور ابن راہویہ اور ہثیم بن کلیب نے اپنی مسانید میں بواسطہ مجاہد حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ تو ہم میں سے…
Read the full tafseer →(کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول …: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ معاملہ آپ ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا کہ توحید اور آخرت کی دعوت سن کر جھٹلایا گیا ہو اور جادوگر یا دیوانہ کہا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے جس قوم کے پاس بھی کوئی رسول آیا اس کے جاہلوں نے یہی کہا کہ جادوگر دیوانہ کہا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے جس قوم کے پاس بھی کوئی رسول آیا اس کے اجہلوں نے یہی کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ وہ سب جب معجزوں کیساتھ لاجواب ہوتے تو انہیں جادو کہہ کر جھٹلا دیتے، جب رسول کے کلام کی بےپناہ تاثیر دیکھتے تو اسے جادوگر کہہ کر لوگوں کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے اور جب دیکھتے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔
18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔
19:۔…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ [اسی طرح ] مَآ اَتَى الَّذِيْنَ [ نہیں پہنچا ان کے پاس جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان لوگوں سے پہلے تھے ] مِّنْ رَّسُوْلٍ [ کوئی بھی رسول ] اِلَّا قَالُوْا [مگر (یہ کہ) ان لوگوں نے کہا ] سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ [جادوگر ہے یا مجنون ہے ]
Read the full tafseer →﴿ كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ0052﴾ (اسی طرح ان سے پہلے ان لوگوں کے پاس جو بھی کوئی رسول آیا اس کے بارے میں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے (جس طرح ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–60
اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔
(ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔
اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
18:۔ ” کذلک ما اتی “ یہ مشرکین پر شکوی اور آنحضرت کیلئے تسلیہ ہے۔ مشرکین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی پیغمبر آیا اسے جادوگر اور دیوانہ کہنے لگے۔ ” اتواصوا بہ۔ الایۃ “ کیا پہلے زمانے کے مشرکین اپنی نسلوں کو وصیت کر گئے ہیں کہ وہ ہر پیغمبر کو انہی القاب سے یاد کریں ؟ نہیں، بلکہ یہ پچھلی نسلیں خود ہی سرکش اور باغی ہیں اور خود ہی خبث باطن کی وجہ سے ایسی بےہودہ باتیں کر رہے ہیں۔ ” فتول عنہم “ آپ ان کی باتوں کی پروا نہ کریں اور ان سے اعراض فرمائیں۔ آپ پر کوئی طعن و ملامت نہیں، کیونکہ آپ نے افہام و تفہیم اور وعظ و تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے اور ان پر حجت خداوندی قائم کردی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
ربط آیات
وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آسمان کی تخلیق
مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52 ۚ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–58
ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔
تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ مَـآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ۔ (الذریٰت : 52)
(اسی طرح ہوتا رہا ہے کہ ان سے پہلے کی قوموں کے پاس جو رسول بھی آیا اس کو انھوں نے جادوگر یا دیوانہ ٹھہرایا۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ قریش اور دیگر مشرکین آپ کے بارے میں جو یا وہ گوئی کرتے ہیں اور کبھی آپ کو ساحر قرار دیتے ہیں اور کبھی مجنون، آپ اس پر دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ واقعہ پہلی دفعہ پیش نہیں آیا بلکہ رسالت کی پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آیا اور اس نے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے زمین و آسمان بنائے اور ہر چیز کو جوڑا، جوڑا پیدا کیا ہے اس کا کوئی جوڑا نہیں یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ادھر ادھر ٹکریں مارنے کی بجائے ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے۔
اللہ تعالیٰ نے جبر کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اور ہر چیز کو صرف میں نے پیدا کیا ہے۔ تیری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تو اس کی بندگی اختیار کرے۔ اس نے اس سبق کی یاددہانی کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جن میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی دعوت تھی اور ہے کہ لوگو ! معبودان باطل کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کی طرف آجاؤ اور اس…
Read the full tafseer →آیت 52 : کَذٰلِکَ (اسی طرح جو لوگ) یعنی معاملہ اسی طرح ہے۔ ذلک سے ان کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور ساحر و مجنون جیسے القاب دینے کی طرف اشارہ ہے۔ پھر اس اجمال کی تفصیل اس ارشاد میں فرمائی۔ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں) ہم آپ کی قوم قریش۔ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ قَالُوْا (ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا۔ جس کو انہوں نے نہ کہا ہو) کہ وہ سَاحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ (ساحر ہے یا مجنون) انہوں نے ان پر سحر یا جنون کا الزام اپنی جہالت کی بنیاد پر لگا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
50-51” ففروا الی اللہ “ پس تم دوڑو اللہ کے عذاب سے اس کے ثواب کی طرف ایمان اور طاعت کے ذریعے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے اس کی طرف دوڑو اور اس کی فرمانبرداری والے عمل کرو اور سہل بن عبداللہ (رح) فرماتے ہیں ماسوی اللہ سے اللہ کی طرف دوڑو۔ ” انی لکم منہ نذیر مبین۔ ولا تجعلوا مع اللہ الھا آخر انی لکم منہ نذیر مبین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
52۔ 55۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہو کر آنحضرت ﷺ پر وہ سلسلہ ختم ہوا۔ اور حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط ‘ حضرت شعیب کو جس طرح ان کی قوموں نے اور حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم نے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا اور دیوانہ جادوگر بتایا اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزر چکا ہے۔ اسی واسطے جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی ایذا دی اور جھٹلایا اور جادوگر دیوانہ اور قرآن شریف اور معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے اللہ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین وآخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے ؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کرلینا کچھ بعید نہیں۔ (بل ھم قوم طاغون)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 53] پیغمبر (علیہ السلام) کے لئے تسکین و تسلی کا سامان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح پہلے لوگوں کے پاس بھی جو کوئی رسول آیا ان کے بارے میں بھی ان لوگوں نے یہی کہا کہ یہ جادو گر ہے، یا دیوانہ۔ یعنی جس طرح آج آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ سے یہ سلوک کر رہی ہے، اسی طرح آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، پس نہ تو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے، اور نہ ہی ان لوگوں کا یہ سلوک اور برتاؤ کوئی نئی چیز ہے، پس آپ ﷺ بھی اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ آپ ﷺ سے پہلے کے اولوالعزم رسولوں نے کیا، اور ان لوگوں کے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے
تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیات 45 تا 60۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔
بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 4 کہ شرک بری بلا ہے تم تباہ ہوجائو گے۔
5 اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ اس طرح کی مخالفت سے پہلے تمام پیغمبروں کو بھی سابقہ پیش آتا رہا ہے اس لئے آپ پوری ہمت اور صبر و استقال سے دعوت کا کام جاری رکھئے۔
Read the full tafseer →(51:52) کذلک : ای الامر مثل ذلک۔ وذلک اشارۃ الی تکذیبھم الرسول وتسمیتہ ساحرا اور مجنونا۔ ثم فسر ما اجمل بقولہ : ما اتی الذین من قبلہم ۔۔ الخ۔ بات اس طرح ہے ذلک کا اشارہ (گذشتہ رسولوں کی قوموں کا ) اپنے رسول کی تکذیب اور اسء ساحر یا مجنون کا نام دینے کی طرف ہے۔
پھر اس اجمال کی تفسیر ارشاد باری تعالیٰ ما اتی الذین ۔۔ میں آتی ہے۔
ما اتی الذین من قبلہم من رسول : ما نافیہ ہے الذین اسم موصول جمع مذکر۔ من قبلہم اس کا صلہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ نہیں آیا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول۔
الا حرف اسثتناء ۔ مگر۔
قالوا ساحر او مجنون : ای قالوا ھو ساحر او مجنون :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55
الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 55
انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہوکر نبی ﷺ پر سلسلہ ختم ہوا، اور حضرت نوح ، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب کو جس طرح انکی قوموں نے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم نے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا، اور دیوانہ جادوگر بتلایا۔ اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزرچکا ہے اسی واسطے جب قریش نے نبی کو طرح طرح کی ایذا دی، اور جھٹلایا اور جادوگر، دیوانہ اور قرآن شریف معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے جھٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
[23] مطلب یہ ہے کہ گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب تو ماسو
کو چھوڑ کر اللہ کے ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
مظاہر قدرت سے استدلال
1: فرمایا آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھو ۔ نجوم وکواکب کے فوائد اور ان کی مصلحتوں پر غور کرو ۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین کو ہم نے کس طرح تمہارے پاؤں تلے بچھا رکھا ہے ۔ اور کیونکر ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔ کہ یہ سب چیزیں اس کی توحید اور قدرت کا ملہ پر صریح دال ہیں ۔ اس لئے اگر تمہارا مطالعہ صحیح اور کامل ہے ۔ تو پھر تمہارا فرض یہ ہے کہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ خدا کے حضور میں آؤ۔ اور دوڑ کر رشتہ توحید کو تھام لو ۔ کیونکو وہ ذات ہر نوع کے ساجھے سے پاک اور بالا ہے
Read the full tafseer →(52) جس طرح یہ لوگ آپ کو کہتے ہیں اسی طرح جو منکران سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے پاس کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا دیوانہ نہ کہا ہو، یعنی اگر یہ لوگ آپ کی بات نہیں مانتے اور آپ پر طرح طرح کے الزام لگا رہے ہیں اسی طرح وہ کافر جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا حال تھا کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس کا ساحر یا مجنون نہ کہا جیسا کہ ابھی موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرعون کا قول گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 5۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ واقع میں بلا شبہ نذیر مبین ہیں، جیسا ابھی مذکور ہوا، لیکن یہ آپ کے مخالفین ایسے جاہل ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کبھی ساحر کبھی مجنون بتاتے ہیں سو آپ صبر کیجئے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے جادو گر اور دیوانہ ہی قرار دیا
52 ؎ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جو کچھ آپ ﷺ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اپ کو کبھی جادوگر ‘ کبھی سحر زدہ ‘ کبھی مجنون ‘ کبھی کاہن اور کبھی شاعر کہتے ہیں یہ اس طرح کے الزام دے کر بالکل وہی بات کر رہے ہیں جو ان سے پہلے لوگ اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ساتھ کرچکے۔ انہوں نے بھی کبھی اپنے اپنے رسول کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جو ان لوگوں نے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ساتھ کیا وہی یہ لوگ آپ ﷺ سے کر رہے ہیں تو پھر جو نتیجہ ان کو بھگنتنا پڑا وہی نتیجہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
فَفِرُّوا إِلَى اللَّـهِ (So flee to Allah....51:50). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: "It means: Flee from your sins and take shelter in Allah for repentance." Abu Bakr Warraq and Junaid Baghdadi رحمۃ اللہ علیہما said that the base self of man and the devil invite him to commit sins, and they deceive him. He needs to take refuge in Allah who will protect him against their evil. (Qurtubi)
Read the full tafseer →49 That is, °This has not happened for the first time that the people are calling the Messenger sent by Allah a sorcerer and a madman when they heard the news of the Hereafter and the invitation to the Oneness of Allah from him. The whole history of Apostleship bears evidence that ever since the Messengers started coming for the guidance of mankind, ignorant people have been repeating the same folly in the same manner. Whichever Messenger came and gave them the warning that they were not the servants of many gods but One God alone is their Creator and Deity and Master of their destinies,…
Read the full tafseer →