Adh-Dhaariyat 51:51

Adh-Dhaariyat · from ayah 51

51:51

وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ؕ— اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ‌ؕ اِنِّىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ

اور خدا کے ساتھ کسی اَور کو معبود نہ بناؤ۔ میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not make [as equal] with Allah another deity. Indeed, I am to you from Him a clear warner.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:51

اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کے ساتھ کسی اَور کو معبود نہ بناؤ۔ میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھراؤ۔ بیشک میں تمہیں اس کی طرف سے کھلا ڈرانے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ یقین جانو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بیشک میں اس کی جانب سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بلاشبہ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ میں اس کی طرف تمہیں صاف صاف ڈرا رہا ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو شریک نہ بنائو۔ میں اس کی جانب سے تمہارے لئے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مت بناؤ تم اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بلاشبہ میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبودمت قرار دو میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرائو۔ یقینا میں اس کی جانب سے تمہارے لیے واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ اس کی طرف سے میں تمہیں واضح رستہ بتانے والا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

and do not set up any deity with Allah. Surely I am a clear warner to you from Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And do not make up any other god along with Allah. Indeed I am a plain warner sent by Him for you.

— Muhammad Taqi Usmani

And do not make up any other god along with Allah. Indeed I am a plain warner sent by Him for you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And set not up any other god along with Allah. Verily, I am a plain warner to you from Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And set not any other god along with Allah; lo! I am a plain warner unto you from Him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not make [as equal] with Allah another deity. Indeed, I am to you from Him a clear warner.

— Saheeh International

Do not choose other gods besides Him. I have been sent from Him to plainly warn you".

— Muhammad Sarwar

And do not set up with Allah another god: surely I am a plain warner to you from Him.

— Muhammad Habib Shakir

And set not up another god with Allah; verily I am Unto you from Him a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

And make not another an object of worship with Allah: I am from Him a Warner to you, clear and open!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–51

تخلیق کائنات زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنادیا ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ ثوری اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کردیا ہے اور قائم رکھا ہے زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لئے بچھونا بنادیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 48 یہ فقرے اگرچہ اللہ ہی کا کلام ہیں مگر ان میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی ﷺ ہیں۔ گویا بات دراصل یوں ہے کہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کہلوا رہا ہے کہ دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہیں اس کی طرف سے خبردار کرتا ہوں۔ اس طرز کلام کی مثال قرآن کی اولین سورة ، یعنی سورة فاتحہ میں موجود جس میں کلام تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے مگر متکلم کی حیثیت سے بندے عرض کرتے ہیں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّا کَ نَسْتَعِیْنُ ، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ جس طرح وہاں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ " اے اہل ایمان تم اپنے رب سے یوں دعا مانگو "، مگر فحوائے کلام سے خود بخود یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولا تجعلو امع اللہ الھا اخرط انی لکم منہ نذیر مبین (51) اس حقیقت کی یاد دہانی کہ خدا کا کوئی شریک نہیں یہ اوپر کے مضمون کی تکرار نہیں ہے بلکہ ایک اور حقیقت سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ جب آخرت کا مرحلہ آئے گا تو اس دن تمہارے مزعومہ شرکاء وشفعاء تمہاری مدد کریں گے یا سفارش کرکے خدا کی پکڑ سے تمہیں بچا لیں گے۔ اس قسم کے خیالی سہاروں پر بھروسہ کرکے اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ اس دن سابقہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے پیش آئے گا، دوسرے سہارے سب بےحقیقت ثابت ہوں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مشن پر بھی مامور ہوں کہ تمہیں اس حقیقت سے بھی اچھی طرح آگاہ کردوں کہ خدا کا کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 51–52

51۔ 1 یعنی میں تمہیں کھول کھول کر ڈرا رہا اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی طرف رجوع کرو، اسی پر اعتماد اور بھروسہ کر اور صرف اسی ایک کی عبادت کرو، اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک مت کرو، ایسا کرو گے تو یاد رکھنا جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیئے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولا تجعلوا ........ مبین (15 : 15) ” اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ “ اللہ کی طرف آنے کو فرار سے تعبیر کرنا درحقیقت ایک عجیب اور معنی خیز تعبیر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اس زمین میں انسانوں کو کس طرح ناجائز طور پر برباد کردیا گیا۔ کس طرح اسے پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے کس طرح اسے بیڑیاں پہنا کر جیلوں کے گڑھوں میں بند کردیا گیا ہے جنہوں نے انسانوں کو اس زمین کے ساتھ چپکا دیا ہے ، اس پر گرادیا ہے اور اس کو قسم قسم کے بندھنوں سے باندھ دیا گیا ہے۔ خصوصاً رزق اور مال و دولت کی لالچ کے ذریعے اور اپنے حصے کا رزق حاصل کرنے کے لئے ظاہری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

5 یعنی جب زمین و آسمان اور تمام کائنات ایک اللہ کی پیدا کی ہوئی اور اسی کے زیر حکومت ہے تو بندہ کو چاہیے ہر جانب سے ہٹ کر اسی کی طرف بھاگے۔ اگر اس کی طرف نہ بھاگا اور رجوع نہ ہوا تو یہ بہت ڈر کی چیز ہے۔ یا کسی اور ہستی کی طرف رجوع ہوگیا تو یہ بھی ڈر کی بات ہے ان دونوں صورتوں کے خوفناک انجام سے میں تم کو صاف صاف ڈراتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51{ وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰــہًا اٰخَرَط } ”اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرائو۔“ { اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْـرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”یقینا میں اس کی جانب سے تمہارے لیے واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 انہی مذکورہ اشیاء کا ذکر کرکے انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ یہ سب کچھ معلوم کرلینے کے بعد تمہیں چاہیے کہ فوراً ان اشیاء کے خالق کی طرف رجوع کرو۔ اور صرف اسی کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ تخلیق، ملکیت اور تصرف سب کچھ اسی کا ہے۔ دوسرا کوئی اس میں حصہ دار نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (اور میری تبلیغ اور تاکید یہی ہے کہ شرک کے ہر پہلو سے دستبردار ہوجاؤ) (آیت) ” انی .... مبین “۔ آیت کے تکرار تاکید کلام کے لئے ہے۔ جوش بیان کے وقت تکرار کلام ہر خطیب وانشاء پرداز کی زبان پر جاتی ہے اور اثبات توحید سے بڑھ کر اور کونسا موقع جوش بیان کا قرآن مجید کے لئے ہوسکتا ہے۔ تکریر للتاکید (بیضاوی) لیکن شاید زیادہ مناسب ہو اگر یہ کہا جائے کہ آیت ماقبل میں یہ جملہ توحید کے ایجابی واثباتی پہلوپر زور دینے کے لئے تھا اور اب جو اس کی تکرار ہوئی ہے وہ سلبی ومنفی پہلو کی اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔ وکررانی لکم منہ نذیر مبین عن الامر بالطاعۃ والنھی عن الشرک (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–55

فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر انی لکم منہ نذیر مبین . اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود مت قرار دو ‘ میں تمہارے واسطے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی واجب الوجود ہونے میں یا استحقاق معبودیت میں یا مقصود اصلی اور محبوب ذاتی ہونے میں کسی کو اس کا شریک مت بناؤ۔ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ : اس جملہ کی تکرار تاکید کیلئے ہے یا پہلے جملہ میں خواص کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا نہ کسی دوسرے سے محبت کریں ‘ نہ اپنا رخ کسی اور کی طرف کریں اور اس جملہ میں عوام کو حکم دیا کہ شرک اور گناہوں سے اجتناب رکھیں۔ کلام کی رفتار بھی اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے یعنی ہر چیز سے اگر تم فرار نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) سو اللہ کے حکم سے اللہ ہی کی طرف دوڑو یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف دوڑو یا یہ کہ شیطان کی اطاعت سے اللہ کی اطاعت کی طرف دوڑو میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے ڈرانے والا رسول ہو کر آیا ہوں، یا یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور نہ اس کے لیے اولاد تجویز کرو میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے صاف طور پر ڈرانے والا ہو کر آیا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر…: یعنی صرف اللہ کی طرف رجوع کافی نہیں بلکہ اس کے سوا ہر معبود سے برأت بھی ضروری ہے، اس لئے اس کے ساتھ کسی اور کو معبود مت بناؤ۔ تاکید کے لئے دوبارہ فرمایا کہ میں اس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–55

ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–53

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا تَجْعَلُوْا [ اور تم لوگ مت بناؤ ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ ۭ [ دوسرا الہ ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سادساً : فرمایا ﴿ وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ (اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت قرار دو ) ۔ ثامناً : فرمایا کہ اے رسول تمہارے بارے میں جو کچھ مخالفین کہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–51

17:۔ ” ففروا الی اللہ “ یہ بیان توحید ہے علی سبیل الترقی۔ دلائل بالا میں غور و فکر کرو اور اللہ کی طرف دوڑو یعنی شرک کو چھوڑ کر اللہ کی توحید کو مانو، کفر و انکار سے باز آؤ۔ شیطان کی اطاعت ترک کرو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے احکام کی تعمیل کرو۔ ای من الشرک الی الایمان باللہ او من طاعۃ الشیطان الی طاعۃ الرحمن (مدارک ج 4 ص 143) ۔ میں اللہ کی طرف سے کھول کر بیان کرنے والا اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ ” ولا تجعلوا مع اللہ۔ الایۃ “ اللہ کے ساتھ ساتھ خود ساختہ معبودوں کو شریک نہ بناؤ اور حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو میں اللہ کی طرف کھلا ڈرانے والا ہوں اور ہر بات کو واضح اور روشن کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ۝ 0 ۭ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْہُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 51 ۚ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ ط اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الذریٰت : 51) (اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنائو، میں اس کی جانب سے تمہارے لیے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگنے یعنی متوجہ ہونے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی الوہیت میں کسی اور کو شریک کرنے لگو۔ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، اس کے سوا غیرمشروط اطاعت کسی کی نہیں ہوسکتی۔ سب سے بالاتر محبت صرف اس کے لیے ہے، اسی کا دیا ہوا قانونِ شریعت انفرادی اور اجتماعی زندگی میں واجب العمل ہے، اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–53

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے زمین و آسمان بنائے اور ہر چیز کو جوڑا، جوڑا پیدا کیا ہے اس کا کوئی جوڑا نہیں یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ادھر ادھر ٹکریں مارنے کی بجائے ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جبر کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اور ہر چیز کو صرف میں نے پیدا کیا ہے۔ تیری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تو اس کی بندگی اختیار کرے۔ اس نے اس سبق کی یاددہانی کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جن میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی دعوت تھی اور ہے کہ لوگو ! معبودان باطل کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کی طرف آجاؤ اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 51 : وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا ٰاخَرَ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود مت قرار دو ! میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں) انی لکم الایۃ کو دوبارہ تاکید کے لئے لائے۔ وعید کو طویل کرنا بلاغت کا قاعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 51–52

50-51” ففروا الی اللہ “ پس تم دوڑو اللہ کے عذاب سے اس کے ثواب کی طرف ایمان اور طاعت کے ذریعے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے اس کی طرف دوڑو اور اس کی فرمانبرداری والے عمل کرو اور سہل بن عبداللہ (رح) فرماتے ہیں ماسوی اللہ سے اللہ کی طرف دوڑو۔ ” انی لکم منہ نذیر مبین۔ ولا تجعلوا مع اللہ الھا آخر انی لکم منہ نذیر مبین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–51

47۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ) اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الہ نہ بناؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو، یعنی بتوں اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت اپنے خوف ورجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 51] اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا مت بناؤ تم لوگ اللہ کے ساتھ کوئی معبود۔ اور یہ ارشاد ماقبل کی تاکید و تکرار کے طور پر فرمایا گیا کہ کسی کو بھی اس کا شریک وسہیم نہ بناؤ خواہ وہ لکڑی پتھر کا کوئی بت ہو، یا کوئی زندہ و مردہ انسان، یا کوئی جن یا فرشتہ، وغیرہ کہ " الھاً " کا عموم ان سب ہی کو عام اور شامل ہے، اور معبود اس وحدہٗ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں، سو کوئی اس طرح کی کسی غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء اس کی مدد کرکے اس کو وہاں کے عذاب سے چھڑا دیں گے، پس ایسی کوئی صورت وہاں ممکن نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 51–52

ف 4 کہ شرک بری بلا ہے تم تباہ ہوجائو گے۔ 5 اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ اس طرح کی مخالفت سے پہلے تمام پیغمبروں کو بھی سابقہ پیش آتا رہا ہے اس لئے آپ پوری ہمت اور صبر و استقال سے دعوت کا کام جاری رکھئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:51) ولا تجعلوا۔ واؤ عاطفہ لا تجعلوا فعل نہی جمع مذکر حاضر اور مت بتاؤ مت ٹھہراؤ۔ الہا۔ اسم مفعول ۔ جس کی بندگی کی جائے وہ الہٰ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔ اخر۔ دوسرا۔ الہا کی صفت ہے (کوئی) دوسرا (معبود) اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بناؤ۔ یعنی واجب الوجود ہونے میں یا استحقاق معبودیت میں َ یا مقصود اصلی اور محبوب ذاتی ہونے میں کسی کو اس کا شریک مت بناؤ۔ انی لکم منہ نذیر مبین۔ اس جملہ کی تکرار تاکید کے لئے ہے یا پہلے جملہ میں خواص کو حکم دیا گیا تھا۔ کہ اللہ کے سوا نہ کسی سے محبت کریں نہ اپنا رخ کسی اور کی طرف کریں۔ اور اس جملہ میں عوام کو حکم دیا گیا ہے کہ شرک اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپر پچھلی قوموں کی ہلاکت ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کے تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لیے سمجھدار کو کافی ہیں کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا تو عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں اگر کافر لوگ اتنی بات سمجھ کر اللہ کا حق پورا ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حق پورا ادا کرتا، اس نصیحت کے بعد فرمایا، اے محبوب تم مشرکین کو جتلادو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–52

[23] مطلب یہ ہے کہ گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب تو ماسو کو چھوڑ کر اللہ کے ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

مظاہر قدرت سے استدلال 1: فرمایا آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھو ۔ نجوم وکواکب کے فوائد اور ان کی مصلحتوں پر غور کرو ۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین کو ہم نے کس طرح تمہارے پاؤں تلے بچھا رکھا ہے ۔ اور کیونکر ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔ کہ یہ سب چیزیں اس کی توحید اور قدرت کا ملہ پر صریح دال ہیں ۔ اس لئے اگر تمہارا مطالعہ صحیح اور کامل ہے ۔ تو پھر تمہارا فرض یہ ہے کہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ خدا کے حضور میں آؤ۔ اور دوڑ کر رشتہ توحید کو تھام لو ۔ کیونکو وہ ذات ہر نوع کے ساجھے سے پاک اور بالا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنائو اور کوئی اور معبود تجویز نہ کرو بیشک میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم سب کو صاف اور کھلا ڈرانے والاہوں۔ اوپر فرار الی اللہ توحید باری کو مستلزم تھا اور یہاں شرک کی نہی مقصود ہے تمہارے سمجھانے کے واسطے میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ کھل کر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں اگر شرک سے باز نہ آئے تو عذاب کئے جائو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–52

ف 5۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ واقع میں بلا شبہ نذیر مبین ہیں، جیسا ابھی مذکور ہوا، لیکن یہ آپ کے مخالفین ایسے جاہل ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کبھی ساحر کبھی مجنون بتاتے ہیں سو آپ صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنائو میں اللہ کی طرف سے تم کو ڈرانے کیلئے آیا ہوں 51 ؎ لوگو ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں یہ آفاق وانفس کے دلائل جن کا تمہارے سامنے انبار لگا دیا گیا ہے اور اللہ کی یہ کائنات اس کی کھلی کتاب ہے اس کے ایک ایک ورق کی ورق گردانی کرو تم کو جس طرح روز قیامت کا ثبوت ان اوراق میں ملے گا اسی طرح اس کی توحید کے دلائل بھی ملیں گے اور تم پر یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ وہ وحدہ لا شریک ہے جو اس محیر العقول کارخانہ قدرت کا خالق ومالک ہے اور اس نے اس میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی اور جو بنایا لاریب خوب بنایا ہے۔ وہ کتنا ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّ‌وا إِلَى اللَّـهِ (So flee to Allah....51:50). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: "It means: Flee from your sins and take shelter in Allah for repentance." Abu Bakr Warraq and Junaid Baghdadi رحمۃ اللہ علیہما said that the base self of man and the devil invite him to commit sins, and they deceive him. He needs to take refuge in Allah who will protect him against their evil. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

48 Though these sentences are the Word of Allah, the speaker here is not AIIah but the Holy Messenger of Allah. In fact, Allah has made his Messenger say: "Flee unto Allah: I am warning you from Him." An instance of this style is found in the very first Surah of the Qur'an, Surah AI-Fatihah, where the Word is of Allah, but the speakers are the servants, who say: Iyyaka na `budu wa lyyaka nasta 'in; ihdi-nas sirat al-mustaqim: "Thee alone we worship and to Thee alone we pray for help. Show us the Straight Way." Just as there it has not been said: "O believers, pray to your Lord thus," but the…

Read the full tafseer →