Adh-Dhaariyat 51:50

Adh-Dhaariyat · from ayah 50

51:50

فَفِرُّوْۤا اِلَی اللّٰهِ ؕ— اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟ۚفَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنِّىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ

تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So flee to Allah. Indeed, I am to you from Him a clear warner.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:50

تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا دوڑو اللہ کی طرف یقین جانو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم اﷲ کی طرف دوڑ چلو، بیشک میں اُس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس دوڑو اللہ کی طرف، یقینا میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس اللہ کی طرف دوڑ کر آؤ۔ میں تمہارے لئے اس کی طرف سے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اللہ کی طرف بھاگو، میں اس کی طرف سے تمہارے لئے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم سب دوڑو اللہ کی طرف (اے لوگو !) بیشک میں تم سب کے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

بس تم اللہ ہی کی طرف دوڑو میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

۔ } تو دوڑو اللہ کی طرف یقینا میں تم لوگوں کے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم لوگ اللہ کی طرف بھاگ چلو میں تمہیں صاف رستہ بتانے والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Flee, therefore, to Allah. Surely I am a clear warner to you from Him;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, flee to Allah. Indeed I am a plain warner sent by Him for you.

— Muhammad Taqi Usmani

So, flee to Allah. Indeed I am a plain warner sent by Him for you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, flee to Allah. Verily, I am a plain warner to you from Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor flee unto Allah; lo! I am a plain warner unto you from him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So flee to Allah. Indeed, I am to you from Him a clear warner.

— Saheeh International

(Muhammad), tell them,"Seek refuge in God. I have been sent from Him to plainly warn you.

— Muhammad Sarwar

Therefore fly to Allah, surely I am a plain warner to you from Him.

— Muhammad Habib Shakir

Flee therefore Unto Allah; verily I am Unto you from Him a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Hasten ye then (at once) to Allah: I am from Him a Warner to you, clear and open!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–51

تخلیق کائنات زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنادیا ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ ثوری اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کردیا ہے اور قائم رکھا ہے زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لئے بچھونا بنادیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الذّٰرِیٰت 46 یعنی دنیا کی تمام اشیاء تزویج کے اصول پر بنائی گئی ہیں۔ یہ سارا کارخانہ عالم اس قاعدے پر چل رہا ہے کہ بعض چیزوں کا بعض چیزوں سے جوڑ لگتا ہے اور پھر ان کا جوڑ لگنے ہی سے طرح طرح کی ترکیبات وجود میں آتی ہیں۔ یہاں کوئی شے بھی ایسی منفرد نہیں ہے کہ دوسری کوئی شے اس کا جوڑ نہ ہو، بلکہ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 31۔ الزخرف، حاشیہ 12)۔ سورة الذّٰرِیٰت 47 مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات کا تزویج کے اصول پر بنایا جانا، اور دنیا کی تمام اشیاء کا زوج زوج ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو آخرت کے وجوب پر صریح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ففروا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین (50) آخرت کی یاددہانی یعنی جب آخرت ہے اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز آئو، اپنے رب کی طرف بھاگو اور اس دن کے لئے تیاری کرو جس دن ہر شخص سے اس کے اعمال کی بابت پرسش ہونی ہے اور جس دن خدا کے سوا کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ انی لکم منہ نذیر مبین، یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے ایک نذیر مبین، کی حیثیت سے آیا ہوں کہ آخرت کے ظہور سے پہلے پہلے اس کے خطرات سے تمہیں اچھی طرح آگاہ کردوں تاکہ کسی کے لئے اس دن عذر کی گنجائش باقی نہ رہے کہ اس کے پاس کوئی اس دن سے آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 یعنی کفر و معصیت سے توبہ کرکے فوراً بارگاہ الٰہی میں جھک جاؤ، اس میں تاخیر مت کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–60

18: یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں جلدی کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

ومن ........ تذکرون (15 : 94) ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ یہ ایک عجیب حقیقت ہے جو اس زمین کی تخلیق کا بنیادی اصول بتاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہی اصول پوری کائنات میں بھی کار فرما ہو کیونکہ انداز تعبیر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صرف زمین اندر ہی یہ اصول کار فرما ہے۔ یہ اصول تخلیق میں زوجیت اور جوڑے کا اصول ، زندہ چیزوں میں زوجیت کا اصول تو بالکل ظاہر و باہر ہے لیکن ” شئی “ کے لفظ کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ تمام اشیاء بھی زوجیت کے اصول پر تخلیق کردہ ہیں۔ جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم چودہ سو سال سے اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

5 یعنی جب زمین و آسمان اور تمام کائنات ایک اللہ کی پیدا کی ہوئی اور اسی کے زیر حکومت ہے تو بندہ کو چاہیے ہر جانب سے ہٹ کر اسی کی طرف بھاگے۔ اگر اس کی طرف نہ بھاگا اور رجوع نہ ہوا تو یہ بہت ڈر کی چیز ہے۔ یا کسی اور ہستی کی طرف رجوع ہوگیا تو یہ بھی ڈر کی بات ہے ان دونوں صورتوں کے خوفناک انجام سے میں تم کو صاف صاف ڈراتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50{ فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ ط اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”تو دوڑو اللہ کی طرف ‘ یقینا میں تم لوگوں کے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔“ اگر اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچ گیا ہے اور میری باتیں تمہاری سمجھ میں آگئی ہیں تو پھر اللہ کی طرف رجوع کرنے میں دیر نہ کرو۔ ممکن ہے فرشتے کو تمہاری جان قبض کرنے کا حکم بھی مل چکا ہو اور تمہاری مہلت عمل ختم ہونے کا وقت بالکل قریب آ لگا ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

43 ہر چیز کے جوڑے اور زوج کے مختلف مفہوم :۔ زوج کا لفظ عربی میں تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) متضاد اشیاء جیسے دن اور رات، دھوپ اور سایہ، روشنی اور تاریکی، سیاہی اور سفیدی، خوشی اور رنج، خوشحالی اور تنگدستی وغیرہ۔ (2) ہم مثل اشیاء کے لیے جیسے پاؤں کے دونوں جوتے ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے مجرم ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ (3) نر و مادہ کے لیے مثلاً خاوند بیوی کا زوج ہے، بیوی خاوند کی زوج ہے۔ ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے۔ اور اس آیت میں غالباً اسی قسم کے زوج مراد ہیں۔ جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ نباتات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ (اور میری ساری تنبیہوں کا خلاصہ بس یہی ہے کہ شرک والحاد چھوڑ کر توحید کی راہ پر قائم ہوجاؤ) (آیت) ” ففروا “۔تعقیب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اتنی مشرک گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب سارے عالم سے بھاگ کر اللہ کے ہوجاؤ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ لفظ فرار سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ توجہ الی اللہ خوب شوق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلا موقع توحید کے ایجابی واثباتی پہلو پر زور دینے کا ہے اور دوسرا سلبی ومنفی پہلو کی اہمیت کا اظہار کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–55

فقروا الی اللہ دوڑ واللہ کی طرف، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرو، حضرت جنید بغدادی اور ابوبکر وراق نے فرمایا کہ نفس اور شیطان معاصی کی طرف دعوت دیتے ہیں تم ان سے بھاگ کر اللہ کی پناہ لو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ففروا الی اللہ انی لکم منہ نذیر مبین . سو تم اللہ کی (توحید کی) ہی طرف دوڑو میں تمہارے (سمجھانے کے) لیے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا (ہو کر آیا) ہوں۔ یعنی ممکنات کے احوال اور واجب کی خصوصیت کو سمجھنے اور جاننے کا تقاضا ہے کہ تم ہر چیز سے منہ موڑ لو اور بھاگو اور اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کرلو۔ اسی کی محبت میں ڈوب جاؤ ‘ اسی کے احکام کی تعمیل میں غرق ہوجاؤ تاکہ ہر نقص اور شر سے آزاد ہوجاؤ اور ہر خیر وسعادت کے حامل بن کر قرب و کمال کے زینہ پر چڑھتے چلے جاؤ۔ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہّ نَذِیْرٌ : یعنی میں اللہ کے عذاب سے تم کو ڈرا رہا ہوں ‘ اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سرکشی سے اللہ سے دوری ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) سو اللہ کے حکم سے اللہ ہی کی طرف دوڑو یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف دوڑو یا یہ کہ شیطان کی اطاعت سے اللہ کی اطاعت کی طرف دوڑو میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے ڈرانے والا رسول ہو کر آیا ہوں، یا یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور نہ اس کے لیے اولاد تجویز کرو میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے صاف طور پر ڈرانے والا ہو کر آیا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فقروا الی اللہ : یعنی جب آسمان و زمین اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت پر دلالت کر رہی ہے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی طرف دوڑو، کفر کو ترک کر کے توحید کی طرف آؤ اور گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت کی پناہ میں آجاؤ۔ (2) انی لکم منہ نذیر مبین : ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مثلی و مثل ما یعثنی اللہ کمثل رجل اتی قوما فقال رایت الجیش بعینی وانی انا النذیر العریان فالنجاء النجاء فاطعتہ طائفۃ فاذ لجوا علی مھلھم فنجوا، وکذبتہ طائفۃ فصبحھم الجیش فاجناجھم) (بخاری، الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصی : 6382)”میری مثال اور اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–55

ففر وا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین ،۔ امتوں نے انبیاء کی جو تکذیب کی اور ان امتوں کو ہلاک کیا گیا اس کا ذکر ہوچکا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : اے محمد ! انہیں کہو یعنی قوم سے کہو اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یعنی اس کے معاصی سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے : اس سے اس کی طرف بھاگو اور اس کی اطاعت کرو۔ محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے کہا : ففر وا الی اللہ سے مراد ہے مکہ مکرمہ کی طرف نکلو۔ حسین بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–53

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَفِرُّوْٓا [تو تم لوگ لپکو ] اِلَى اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی طرف ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف) سے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رابعاً : فرمایا ﴿فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ 1ؕ﴾ (سو تم اللہ کی طرف دوڑو) اس کی عبادت کرو اور نافرمانی سے بھی باز رہو۔ خامساً : فرمایا ﴿اِنِّيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۚ0050﴾ (کہ اے رسول آپ ان سے فرما دیں کہ میں اللہ کی طرف سے تمہیں کھلا ڈرانے والا ہوں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–51

17:۔ ” ففروا الی اللہ “ یہ بیان توحید ہے علی سبیل الترقی۔ دلائل بالا میں غور و فکر کرو اور اللہ کی طرف دوڑو یعنی شرک کو چھوڑ کر اللہ کی توحید کو مانو، کفر و انکار سے باز آؤ۔ شیطان کی اطاعت ترک کرو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے احکام کی تعمیل کرو۔ ای من الشرک الی الایمان باللہ او من طاعۃ الشیطان الی طاعۃ الرحمن (مدارک ج 4 ص 143) ۔ میں اللہ کی طرف سے کھول کر بیان کرنے والا اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ ” ولا تجعلوا مع اللہ۔ الایۃ “ اللہ کے ساتھ ساتھ خود ساختہ معبودوں کو شریک نہ بناؤ اور حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو میں اللہ کی طرف کھلا ڈرانے والا ہوں اور ہر بات کو واضح اور روشن کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَفِرُّوْٓا اِلَى اللہِ۝ 0 ۭ اِنِّىْ لَكُمْ مِّنْہُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 50 ۚ فر أصل الفَرِّ : الکشف عن سنّ الدّابّة . يقال : فَرَرْتُ فِرَاراً ، ومنه : فَرَّ الدّهرُ جذعا «1» ، ومنه : الِافْتِرَارُ ، وهو ظهور السّنّ من الضّحك، وفَرَّ عن الحرب فِرَاراً. قال تعالی: فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ [ الشعراء/ 21] ، وقال : فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ [ المدثر/ 51] ، فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعائِي إِلَّا فِراراً [ نوح/ 6] ، لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرارُ إِنْ فَرَرْتُمْ [ الأحزاب/ 16] ، فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ [ الذاریات/ 50] ، وأَفْرَرْتُهُ : جعلته فَارّاً ، ورجل (ر ر ) الفروالفرار ۔ اس کے اصل معنی ہیں جانور کی عمر معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اِنِّیْ لَـکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الذریٰت : 50) (پس دوڑو اللہ کی طرف میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ ) آخرت کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع یعنی جب اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے اور بالخصوص اس کی قدرت اور اس کے مظاہر پر تدبر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کو مانے بغیر اس دنیا کو بامقصد اور باحکمت نہیں مانا جاسکتا اور اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں رہتی۔ اور اسی طرح یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا خالق ومالک اور مدبر و حکیم اور کوئی نہیں۔ وہی ایک ذات انسان کی پرستش، پرسش اور اطاعت کی مستحق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–53

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے زمین و آسمان بنائے اور ہر چیز کو جوڑا، جوڑا پیدا کیا ہے اس کا کوئی جوڑا نہیں یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ادھر ادھر ٹکریں مارنے کی بجائے ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جبر کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اور ہر چیز کو صرف میں نے پیدا کیا ہے۔ تیری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تو اس کی بندگی اختیار کرے۔ اس نے اس سبق کی یاددہانی کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جن میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی دعوت تھی اور ہے کہ لوگو ! معبودان باطل کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کی طرف آجاؤ اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 50 : فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ (تو تم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دوڑو) نمبر 1۔ یعنی شرک سے ایمان باللہ کی طرف آئو۔ یا اطاعت شیطان کو چھوڑ کر۔ نمبر 2۔ طاعت رحمان اختیار کرو۔ نمبر 3۔ یا وہ چیز جو اس کی طرف لے جانے والی ہے۔ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میں تمہارے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49 ۔” ومن کل شیء خلقنا زوجین “ دو مختلف قسمیں جیسے آسمان اور زمین۔ سورج اور چاند، رات اور دن اور خشکی و سمندر اور نرمی اور پہاڑ اور سردی و گرمی اور جن وانس اور مذکر ومونث اور نوروظلمت، ایمان وکفر، سعادت وشقاوت، جنت وجہنم ، حق و باطل ، میٹھا وکڑوا۔ ” لعلکم تذکرون “ پس تم جان لو کہ جوڑوں کا پیدا کرنے والا ایک ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–51

47۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۭ ) لہذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ کو ناپسند ہے اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا۔ کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکرالٰہی کی طرف آنا۔ پس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 49] اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس دوڑو تم سب اللہ کی طرف اے لوگو ! " ایمان و اطاعت کے ذریعے۔ پس کفر و شرک اور بغاوت و معصیت سے بھاگ کر ایمان و اطاعت کے دامن کی پناہ میں آجاؤ، تاکہ اس طرح تم اس کے عذاب و عقاب سے بچ کر سعادت و نجات سے ہم کنار ہونے کے لئے کس قدر صاف ستھرا اور کتنا واضح و پاکیزہ درس دیا گیا ہے، مگر دنیا ہے کہ اس سے غافل و لاپروہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یہاں پر یہ امر واضح رہے کہ عذاب سے بچنے اور اپنی آخرت کو بنانے کیلئے تو بھاگنے اور دوڑنے کا حکم دیا گیا ہے { ففروآ الی اللّٰہ }۔ مگر دنیاوی کمائی کے لئے صرف چلنے پھرنے کا۔ { فامشوا فی مناکبھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

اللہ کا پیغام رسول کیلئے اور بندوں کیلئے تشریح : جب اللہ کی تمام نشانیاں کھول کھول کر بتا دی گئیں تو پھر رسول اللہ ﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ عقل سے کام لو اور اسی ایمان کے راستے پر چلو جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں۔ اب تو یقین کرلو کہ اللہ واقعی ایک ہی ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے بھیجا جانے والا رسول ﷺ ہوں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ گھبرائیں نہیں کیونکہ شروع دن سے ہی انسان کی یہی فطرت رہی ہے کہ وہ توحید کے پیغام سے اسی طرح بھاگتے چلے آئے ہیں جیسے یہ کفار مکہ بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پیغمبر آئے تو شیطان فطرت لوگوں نے ان کی خوب مخالفت کی سوائے ان چند لوگوں کے جن کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں سے توبہ کرو اور اس کے فرمانبردار بندے بن جائو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:50) ففروا الی اللہ۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ اے محمد ﷺ لوگوں سے کہو ففروا ۔۔ الخ۔ ففروا میںسببیت کی ہے یعنی ممکنات کے احوال اور واجب کی خصوصیت کو سمجھنے اور جاننے کا تقاضا ہے کہ تم ہر چیز سے منہ موڑ لو اور بھاگو اور اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کرلو۔ فروا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ فرار (باب ضرب) مصدر ہم بھاگو علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ ففروا من کل شی الی اللہ بالتوحیہ والمحیۃ والاستغراق وامتثال الاوامر ہر چیز سے منہ موڑ لو اور اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو۔ اسی کی محبت میں ذوب جاؤ اور اسی کے احکام کی تعمیل میں غرق ہوجاؤ۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ ففروا من الشرک الی الایمان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپر پچھلی قوموں کی ہلاکت ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کے تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لیے سمجھدار کو کافی ہیں کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا تو عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں اگر کافر لوگ اتنی بات سمجھ کر اللہ کا حق پورا ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حق پورا ادا کرتا، اس نصیحت کے بعد فرمایا، اے محبوب تم مشرکین کو جتلادو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–52

[23] مطلب یہ ہے کہ گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب تو ماسو کو چھوڑ کر اللہ کے ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–50

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) پس بھاگو اللہ تعالیٰ کی طرف بیشک میں اس کی جانب تم سب کے لئے صاف اور آشکارا طور پر ڈرانے والا ہوں۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف بھاگو۔ یا عذاب سے ثواب کی طرف بھاگو یا ماسوی اللہ سے اللہ کی طرف بھاگو، باطل سے حق کی طرف اور اللہ کے غضب سے اللہ کی رحمت کی طرف بھاگو عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ اللھم انی اعوذبک منک۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–52

ف 5۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ واقع میں بلا شبہ نذیر مبین ہیں، جیسا ابھی مذکور ہوا، لیکن یہ آپ کے مخالفین ایسے جاہل ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کبھی ساحر کبھی مجنون بتاتے ہیں سو آپ صبر کیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دوڑو بلاشبہ میں تمہارے پاس ڈرانے والا بن کر آیا ہوں 50 ؎ لوگو ! اگر عذاب الٰہی سے محفوظ رہنا چاہتے ہو ‘ اگر آخرت کو سنوارنا چاہتے ہو ‘ اگر تم رضائے الٰہی کے طالب ہو ‘ اگر تم حق کے متلاشی ہو تو تم اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف بھاگو اور جتنا بھاگ سکتے ہو اتنا بھاگو ‘ جتنا دوڑ سکتے ہو اتنا دوڑو اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اگر تم نے جلدی نہ کی تو نہ معلوم کہ وہ تم کو کسی وقت دبوچ لے اس لئے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اللہ رب کریم کی طرف دوڑو اور اس دنیا کی ہرچیز سے پیچھا چھڑائو اور بھاگو فغروامن کل شی الی اللہ بالتوجہ والمحبۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–55

فَفِرُّ‌وا إِلَى اللَّـهِ (So flee to Allah....51:50). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: "It means: Flee from your sins and take shelter in Allah for repentance." Abu Bakr Warraq and Junaid Baghdadi رحمۃ اللہ علیہما said that the base self of man and the devil invite him to commit sins, and they deceive him. He needs to take refuge in Allah who will protect him against their evil. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

48 Though these sentences are the Word of Allah, the speaker here is not AIIah but the Holy Messenger of Allah. In fact, Allah has made his Messenger say: "Flee unto Allah: I am warning you from Him." An instance of this style is found in the very first Surah of the Qur'an, Surah AI-Fatihah, where the Word is of Allah, but the speakers are the servants, who say: Iyyaka na `budu wa lyyaka nasta 'in; ihdi-nas sirat al-mustaqim: "Thee alone we worship and to Thee alone we pray for help. Show us the Straight Way." Just as there it has not been said: "O believers, pray to your Lord thus," but the…

Read the full tafseer →