Adh-Dhaariyat 51:49

Adh-Dhaariyat · from ayah 49

51:49

وَمِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۟وَمِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ

اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of all things We created two mates; perhaps you will remember.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:49

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ہر چیز سے دو جوڑے پیدا فرمائے تاکہ تم دھیان کرو اور سمجھو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کردیئے شاید تم (ان سے) سبق حاصل کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہر چیز سے ہم نے پیدا کئے جوڑے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم لوگ (اس سے) سبق لو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کی بنایا تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ہر شے کے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم نصیحت اخذ کرو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of everything We have created pairs; perhaps you will take heed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And from every thing We have created pairs of twos, so that you may heed.

— Muhammad Taqi Usmani

And from every thing We have created pairs of twos, so that you may heed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And of everything We have created pairs, that you may remember.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And all things We have created by pairs, that haply ye may reflect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of all things We created two mates; perhaps you will remember.

— Saheeh International

We have created everything in pairs so that perhaps you may take heed.

— Muhammad Sarwar

And of everything We have created pairs that you may be mindful.

— Muhammad Habib Shakir

And of every thing We have created pairs, that haply ye may remember.

— Abdul Majid Daryabadi

And of every thing We have created pairs: That ye may receive instruction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–51

تخلیق کائنات زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنادیا ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ ثوری اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کردیا ہے اور قائم رکھا ہے زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لئے بچھونا بنادیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الذّٰرِیٰت 46 یعنی دنیا کی تمام اشیاء تزویج کے اصول پر بنائی گئی ہیں۔ یہ سارا کارخانہ عالم اس قاعدے پر چل رہا ہے کہ بعض چیزوں کا بعض چیزوں سے جوڑ لگتا ہے اور پھر ان کا جوڑ لگنے ہی سے طرح طرح کی ترکیبات وجود میں آتی ہیں۔ یہاں کوئی شے بھی ایسی منفرد نہیں ہے کہ دوسری کوئی شے اس کا جوڑ نہ ہو، بلکہ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 31۔ الزخرف، حاشیہ 12)۔ سورة الذّٰرِیٰت 47 مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات کا تزویج کے اصول پر بنایا جانا، اور دنیا کی تمام اشیاء کا زوج زوج ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو آخرت کے وجوب پر صریح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–49

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آسمان کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں اور ہم نے زمین کو فرش (کے طور پر) بنایا سو ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں (یعنی اس میں کیسے کیسے منافع رکھے ہیں) اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا (اس قسم سے مراد مقابل ہے، سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے، جیسے آسمان و زمین، جوہر و عرض، گرمی و سردی، شیریں و تلخ، چھوٹی و بڑی، خوش نما و بدنما، سفیدی و سیاہی، روشنی و تاریکی، وعلیٰ ہذا) تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو (اور اے پیغمبر ﷺ ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ومن کل شیٔ خلقنازوجین لعلکم تذکرون (49) یہ اس کائنات کے ایک اور خاص پہلو کی طرف توجہ دلائی اور یہ پہلو بھی اپنے اندر قیامت اور جزاء وسزا کی دلیل رکھتا ہے۔ اس کائنات کا ایک خاص پہلو اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے۔ چناچہ اوپر آسمان و زمین کا ذکر ہوچکا ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر ہی اپنی غایت اور اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے اس سے ایک طرف تو توحید کی دلیل ملتی ہے کہ ایک مدبر و حکیم ہستی نے یہ دنیا پیدا کی ہے جو اس تمام کائنات سے بالاتر اور سب پر حاوی ہے اور اپنی قدرت حکمت کے تحت اس کے اجزائے مختلفہ میں ربط پیدا کرکے ان کو صالح نتائج کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔ 49۔ 2 یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

17: قرآن کریم نے یہ حقیقت کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں (نر اور مادہ) جوڑے پیدا فرمائے ہیں، یہ بات پہلے سائنس کو دریافت نہیں ہوئی تھی، لیکن اب سائنس نے بھی اس قرآنی حقیقت کا اعتراف کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

ومن ........ تذکرون (15 : 94) ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ یہ ایک عجیب حقیقت ہے جو اس زمین کی تخلیق کا بنیادی اصول بتاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہی اصول پوری کائنات میں بھی کار فرما ہو کیونکہ انداز تعبیر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ صرف زمین اندر ہی یہ اصول کار فرما ہے۔ یہ اصول تخلیق میں زوجیت اور جوڑے کا اصول ، زندہ چیزوں میں زوجیت کا اصول تو بالکل ظاہر و باہر ہے لیکن ” شئی “ کے لفظ کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ تمام اشیاء بھی زوجیت کے اصول پر تخلیق کردہ ہیں۔ جب ہم اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم چودہ سو سال سے اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی نر اور مادہ، جیسا کہ ابن زید نے کہا۔ اور آج جدید حکماء اس کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ہر ایک نوع میں نر اور مادہ کی تقسیم پائی جاتی ہے اور یا " زوجین " سے متقابل و متضاد چیزیں مراد ہیں۔ مثلاً رات دن، زمین آسمان، اندھیرا اجالا، سیاہی سفیدی، صحت و مرض، کفر و ایمان، وغیرہ ذالک۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49{ وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ } ”اور ہم نے ہر شے کے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم نصیحت اخذ کرو۔“ ”جوڑوں“ کی تخلیق میں ہمارے لیے کس کس پہلو سے نصیحت کا سامان ہے ؟ یہ جاننے کے لیے تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے۔ یہاں پر اس حوالے سے صرف یہ نکتہ سمجھ لیجیے کہ اس مفہوم کی آیات آخرت سے متعلق عقلی دلیل فراہم کرتی ہیں۔ یعنی جب ہر شے کا جوڑا ہے تو دنیا کا بھی تو جوڑا ہونا چاہیے اور ظاہر ہے دنیاکا جوڑا آخرت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

43 ہر چیز کے جوڑے اور زوج کے مختلف مفہوم :۔ زوج کا لفظ عربی میں تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) متضاد اشیاء جیسے دن اور رات، دھوپ اور سایہ، روشنی اور تاریکی، سیاہی اور سفیدی، خوشی اور رنج، خوشحالی اور تنگدستی وغیرہ۔ (2) ہم مثل اشیاء کے لیے جیسے پاؤں کے دونوں جوتے ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے مجرم ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ (3) نر و مادہ کے لیے مثلاً خاوند بیوی کا زوج ہے، بیوی خاوند کی زوج ہے۔ ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے۔ اور اس آیت میں غالباً اسی قسم کے زوج مراد ہیں۔ جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ نباتات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (اور غور وفکر سے کام لے کر اس حکمت وصناعی سے استدلال توحید پر کرو) ۔ (آیت) ” زوجین “۔ سے یہاں مراد مقابل کی چیزیں ہیں۔ مثلا گرمی سردی، جو ہر عرض، آسمان زمین، پستی بلندی، بڑی چھوٹی، الٹی سیدھی، وحد کثرت، نور ظلمت وقس علی ہذا ” کائنات بھری پڑی ہے ایسی ہی اضداد یا متقابلات سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 47–49

ترجمہ : اور آسمان کو ہم نے اپنی قرت قوت سے بنایا اور بلاشبہ ہم وسیع القدرت ہیں (یعنی) ہم اس پر قادر ہیں بولا جاتا ہے ادا الرجل یئید آدمی قوی ہوگیا ( اور بولا جاتا ہے) اوسع الرجل آدمی وسعت وقدرت والا ہوگیا اور ہم نے زمین کو بچھایا سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا مثلاً نر اور مادہ، آسمان اور زمین، شمس اور قمر، میدان اور پہاڑ، گرمی اور سردی، شیریں اور ترش، نور اور ظلمت تاکہ تم سبق لو (تذکرون) میں اصل سے دو تائوں میں سے ایک کو حذف کر کے تاکہ تم جان لو کہ ازواج کا خالق، فرد ہے (جوڑے کا پیدا کرنے والا اجوڑ ہے) لہٰذا اس کی بندگی کروصاے محمد ﷺ آپ ان سے کہئے) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون . اور ہم نے ہر چیز کو دو ‘ دو قسم بنایا تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید) کو سمجھو۔ زَوْجَیْن : یعنی دو صنفیں (نر و مادہ ‘ اچھا برا ‘ اونچانیچا ‘ روشن تاریک ‘ رات دن ‘ متحرک ساکن ‘ جامدنامی ‘ عقلمند بیوقوف ‘ عالم جاہل ‘ وغیرہ۔ مترجم) میں کہتا ہوں دو صنفوں سے مراد ہیں متعدد (دو عدد مراد نہیں ہیں) اللہ نے ہر مخلوق کی ایک سے زیادہ قسمیں پیدا کیں بلکہ ہر اکائی میں بھی دو رخ رکھے ہیں۔ اچھا ‘ برا ‘ معدوم بالذات ‘ واجب بالغیر ‘ عاجز بالذات ‘ قادر بالغیر (ہر ممکن اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم ہے لیکن واجب بالغیر بھی ہے) الشی ءُ متٰی یجب لَم یوجَد : مسلّمہ مسئلہ ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 47–49

(47۔ 49) اور ہم نے آسمان کو اپنی قدرت و طاقت سے بنایا اور ہم جو چاہیں اس کی قدرت رکھتے ہیں یا یہ کہ زمین کو رزق کے ساتھ وسیع کرنے والے ہیں اور ہم نے زمین کو پانی پر فرش کے طور پر بنایا سو ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں اور ہم نے زمین میں ہر ایک چیز کو دو قسم کا بنایا تاکہ تم ان مصنوعات خداوندی سے توحید کو سمجھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ومن کل شیء خلقنا زوجین : آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد تمام موجودات کو پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جس طرح آسمان کے مقابلے میں زمین ہے اسی طرح ہم نے ہر چیز کی دو دو قسمیں بنائی ہیں۔ ہر ایک کے قمبالے میں دوسری چیز موجود ہے۔ چناچہ آسمان و زمین، دن رات، خشکی و تری، اندھیرا و اجالا، موت و حیات، نیکی و بدی، جنت و دوزخ یہاں تک کہ نباتات و حیوانات کے بھی جوڑے ہیں۔ (2) لعلکم تذکرون : تاکہ تم نصیحت حاصل کرو، توحید کو سمجھو اور جان لو کہ مخلوق جو بھی ہے اس کے مقابلے میں دوسری موجود ہے، مگر ان سب کا خلاق ایک اللہ ہے، اس کا کوئی جوڑے ہے نہ ہمسر، نہ شریک اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی ہستی ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–49

۔ والسماء بنینھابا ـــ” اور ہم نے آسمان کو (قدرت) ہاتھوں سے بنایا اور ہم نے ہی اس کو وسیع کردیا اور زمین کا ہم نے فرش بچھادیا پس ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بناے تاکہ تم غوروفکر کروــــو “۔ والسماء بینھا بایید جب ان آیات کو بیان کیا تو فرمایا : آسمان میں آیات اور عبرتیں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صانع کمال پر قادر ہے۔ سماء کے امر کو قوم نوح کے قصہ پر عطف کیا کیونکہ یہ دونوں آیات ہیں۔ بایید کا معنی ہے قوت اور قدرت کے ساتھ ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ وانالمومعون ،۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ہم قادر ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–53

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ [ اور ہر چیز میں سے ] خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ [ ہم نے پیدا کیے جوڑے جوڑے ] لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ [شاید تم لوگ یاددہانی حاصل کرو ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 49 ۔ آخرت کی بدیہی دلیل ہے ۔ تذکرون کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا جوڑے جوڑے ہونا اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب اس دنیا کی ہر چیز جوڑا جوڑا ہے اور ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی غایب کو پہنچتی ہے تو ضروری ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہو ، تاکہ اس میں جو خلا نظر آتا ہے وہ اس جوڑے کے ساتھ مل کر بھر جائے ، یہ جوڑا آخرت ہے ۔ آخرت کو مان لینے کے بعد یہ دنیا ایک بامقصد اور باحکمت چیز بن جاتی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–49

آسمان و زمین کی تخلیق کا ذكر، اور اللہ کی طرف دوڑنے کا حكم ان آیات میں آسمان و زمین اور دوسری مخلوقات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور موحد بننے اور توحید پر قائم رہنے کا حکم فرمایا، اولًا آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ ﴾ (اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا فرمایا) یعنی ہماری قوت اور قدرت بہت زیادہ ہے اپنے ارادہ کے مطابق جو چاہیں کرسکتے ہیں اتنے بڑے آسمان کا پیدا فرمانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے یہ وہی بات ہے جو سورة ٴ ق ٓ کی آیت ﴿ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ 0038﴾ میں مذکور ہے۔ حضرت حسن (رح) سے لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

16:۔ ” والسماء۔ تا تذکرون “ تخویف دنیوی کے پانچ نمونے ذکر کرنے کے بعد دعوی سورت پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” اید “ طاقت و قوت۔ موسعون، قادرون۔ (مدارک) ۔ ہم نے آسمان کو اپنی قدرت وقوت سے پیدا کیا ہے اور ہماری قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ زمین کو ہم نے بچھونے کی طرح ہموار بنایا۔ کون ہے جو اس کام کو ہم سے بہتر سر انجام دے سکے ؟ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا۔ حیوانات میں نر و مادہ اور باقی اشیاء میں مختلف انواع و اقسام مثلاً رنگ، ذائقہ اور بو کی قسمیں، میووں، پھلوں اور غلوں، ترکاریوں کی مختلف اجناس۔ لیس المراد تعین تعدد التثنیۃ بل المراد اصناف المخلوقات یعنی خلقنا من کل شیء اصناف ذات عدد فوق الواحد (مظہری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۝ 49 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 49) (اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اس سے سبق لو۔ ) قانونِ تزویج سے توحید اور آخرت پر استدلال اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے مزید اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو قانونِ تزویج کے مطابق پیدا کیا۔ سارا کارخانہ ٔ عالم اسی قاعدے پر چل رہا ہے کہ دو چیزوں کے جوڑ سے تیسری چیز وجود میں آتی ہے۔ اور یہ ترکیب اور تزویج کا اصول صرف حیوان اور انسان میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق میں کارفرما ہے۔ اس نے کوئی چیز منفرد پیدا نہیں کی۔ ہر چیز کا جوڑا پیدا فرمایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کہیں اس جوڑے کو نر اور مادہ کہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مخلوق کے بارے میں ایک اور ارشاد۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم غور کرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔ جوڑے کے لیے زوجین کا لفظ استعمال کیا ہے جو زوج کا تثنیہ ہے۔ لغت کے اعتبار سے جوڑے کا معنٰی صرف نر اور مادہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں باہم متضاد چیزیں بھی شامل ہیں۔ انسان، حیوانات، درند، پرند آپس میں زوجین ہیں۔ جہاں تک متضاد جنس کے اعتبار سے زوجین کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ آسمان کے مقابلے میں زمین، رات کے مقابلے میں دن، روشنی کے مقابل اندھیرا، دھوپ کے مدمقابل چھاؤں، گرمی کے مقابل میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہر چیز میں متقبل چیزیں ہیں : آیت 49 : وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ اور ہم نے ہر چیز کو حیوانات میں سے خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ (دو دو قسم کا بنایا) مذکر و مؤنث۔ قولِ حسن (رح) : آسمان و زمین ٗ لیل ٗ نہار ٗ سورج ٗ چاند ٗ خشکی ٗ تری ٗ موت ٗ زندگی پس انہوں نے بہت سی اشیاء کو شمار کیا۔ اور فرمایا ان میں سے ہر دو جوڑا (متضاد) اور ذات باری تعالیٰ وہ فرد بےمثل ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (تاکہ تم سمجھو) ہم نے یہ سب کیا یعنی آسمان کا بنانا ٗ زمین کا بچھانا ٗ ازواج کا پیدا کرنا ٗ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور خالق کو پہچان کر اس کی عبادت کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48 ۔” والارض فرشنا ھا “ ہم نے اس کو بچھایا اور تمہارے لئے اس کو بچھونا بنایا۔ ” فنعم الماھدون “ بچھانے والے ہم۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بہت خوب ہے جو میں نے اپنے بندوں کے لئے بچھایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–51

47۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ ) یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں۔ (لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ) ۔ شاید کہ تم ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے جوڑے بنا کر تم پر کیں غور و فکر کرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 47] قانون تزویج کا حوالہ و ذکر : سو کائنات کی ہر چیز کے جوڑے بنانا قدرت کی عظمت شان کا ایک اور عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ اس لئے یہاں پر قانون تزویج کا حوالہ و ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے "۔ یعنی ہم نے اپنی مخلوق میں سے ہر چیز کا ایک ایسا مخالف اور جوڑا بنادیا جو اپنی طبعیت وغایت اور مقصود و مراد کے اعتبار سے دوسرے کے مقابل، اور اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسے زمین و آسمان، سردی و گرمی، دن و رات، سیاہ وسفید، بحر وبر، سعادت و شقاوت، نیک و بد، پاک و ناپاک اور نر و مادہ وغیرہ وغیرہ [ ابن جریر، ابن کثیر، مدارک، محاسن، خازن، قرطبی اور مراغی وغیرہ ] مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–49

اللہ کی قدرتوں کو دیکھو اور ہوش سے کام لو تشریح : ان آیات میں کائنات کے دوبڑے اہم راز بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ کائنات پھیل رہی ہے اور دوسرے ہر چیز کے جوڑوں کی صورت میں تخلیق۔ پہلے ہم ہاتھ کی وضاحت کرتے ہیں یہ ہماری طرح کے ہاتھ نہیں بلکہ جس طرح انسانی صلاحیت کو سامنے لانے کیلئے انسان کے ہاتھ ایک خاص حصہ رکھتے ہیں یعنی جو بھی بنانا ہو اس کیلئے ہاتھوں کی طاقت اور اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں اللہ کی قدرت اور طاقت کو ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح موسعون کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ وُسْعٌ سے فاعل بنا ہے اور وُسْعٌ کا مطلب ہے طاقت بس اور زور۔ موسعون کا مطلب ہے وسیع طاقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2 جیسے نر اور مادہ خشکی اور تری، سورج اور چاند، آسمان اور زمین رات اور دن روشنی اور تاریکی، خیر و شر وغیرہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:49) زوجین : وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض یا نظیر ہو، جوڑا۔ زوج کا تثنیہ بحالت وجر ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔ زوجین ای نوعین ذکرا و انثی۔ یعنی دو صنف مذکر و مؤنث۔ مجاہد نے کہا ہے کہ :۔ یہ متضادات و متقابلات کی طرف اشارہ ہے۔ مثلاً رات اور دن ، آسمان و زمین، سیاہ و سفید ۔ ہدایت و ضلالت، بلندی و پستی وغیرہ۔ لعلکم تذکرون : لعل حرف مشبہ بالفعل کم اس کا اسم۔ شاید تم۔ تذکرون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم نصیحت پکڑو، تم سمجھ جاؤ۔ تم جان لو (کہ تعدد ممکنات کی خصوصیت ہے۔ واجب بالذات ہر تعدد اور انقسام سے پاک ہے۔ اس کا وجود ناقابل عدم ہے اور اس کی قدرت ہر کمزوری اور عجز…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپر پچھلی قوموں کی ہلاکت ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کے تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لیے سمجھدار کو کافی ہیں کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا تو عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں اگر کافر لوگ اتنی بات سمجھ کر اللہ کا حق پورا ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حق پورا ادا کرتا، اس نصیحت کے بعد فرمایا، اے محبوب تم مشرکین کو جتلادو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[22] اصل میں لفظ '' زوجین '' استعمال ہوا ہے جس سے یہاں مراد مقابلے کی چیزیں ہیں، مثلاً گرمی سردی، آسمان زمین، پستی بلندی، نور ظلم وغیرہ۔ کائنات ایسی ہی اضداد یا متقابلات سے بھری پڑی ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہوتا کہ اس میں جو خلا نظر آتا ہے اس جوڑے کے ساتھ مل کر بھر جائے۔ یہ جوڑا آخرت ہے۔ آخرت کو مان لینے کے بعد یہ دنیا ایک بامقصد اور باحکمت چیز بن جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–50

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اور ہم نے ہرچیز کو جوڑ جوڑا یعنی ایک کو ایک کا جواب اور مقابل بنایا تاکہ تم نصیحت پکڑو اور سمجھ سے کام لو۔ یعنی ہر چیز ایک دوسرے کے مقابل اور جواب ہے مثلاً روشنی اور تاریکی ، نر اور مادہ آسمان اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن ، ایمان اور کفر سعادت اور شقاوت، کھڑا اور بیٹھا، حق اور باطل کائنات میں دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ ہر شئے کی نظیر اور مثل اور جواب موجود ہے۔ یہی حالت نباتات کی ہے اور یہی جمادات کی ہے جس شعبے کو دیکھئے اس میں یہ اتارچڑھائو موجود ہیں اس سب پر غور کیجئے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ خلق ہر شئی کی نظیر اور جواب ہے لیکن خالق وحدہ لاشریک ہے جس کی نہ نظیر ہے نہ ضد ہے نہ اس کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ دو قسم سے مراد مقابل ہے سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے جیسے آسمان و زمین، جو ہر و عرض، گرمی سردی، شیریں تلخ، چھوٹی بڑی، خوشنما بد نما، سفیدی سیاہی، روشنی تاریکی، وعلی ہذا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے ہرچیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم غور و فکر کرو 49 ؎ دنیا میں جتنی چیزیں موجود ہیں اگر آپ ایک ایک کا تجزیہ کر کے دیکھتے جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ترویج کا اصول ہر جگہ موجود ہے پیچھے ابھی ابھی آپ نے آسمان اور زمین کا ذکر پڑھا ہے اور ان دونوں کی ترویج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت کردی ہے جس کا ذکر سورة الطارق میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا یہ ایک بہت بڑا نشان ہے کہ اس نے ہر ایک چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے اور یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دارالعمل ‘ داراخرت کا جوڑا ہے اور کسی ایک جوڑے میں سے ایک کا ذکر آجائے تو دوسرے کا ثبوت خود بخود مہیا ہوجاتا ہے جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–49

Proofs of Allah's Oneness abound in the Creation of the Heavens and Earth The preceding verses mentioned the reality of the Hereafter and the Judgment Day, and the punishment of those who denied the reality. The present set of verses reaffirm the perfect power of Allah, reminding us about the reality of the Day of Resurrection and allaying the doubt and suspicion of those who deny the reality. It proves the oneness of Allah and reiterates emphatically to believe in the Messenger ﷺ . بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (And the sky was built by Us with might, and indeed, We are the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46 That is, "Everything in the world has been created on the principle of the pairs. The whole system of the Universe is functioning on the principle that certain things arc complementary and matching to certain others, and their combination brings into being countless new forms and combinations. Nothing here is so unique as may have no match, for the fact is that a thing becomes productive only after it has combined with its matching partner. " (For further explanation, sec E.N. 31 of Surah Ya Sin, and' E.N. 12 of Az-Zukhruf). 47 That is, "The erection of the whole Universe on the principle…

Read the full tafseer →