Adh-Dhaariyat 51:48

Adh-Dhaariyat · from ayah 48

51:48

وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ ۟وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ

اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the earth We have spread out, and excellent is the preparer.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:48

زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور زمین کو ہم نے فرش بنایا، چنانچہ ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (سطحِ) زمین کو ہم ہی نے (قابلِ رہائش) فرش بنایا سو ہم کیا خوب سنوارنے اور سیدھا کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو (ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور ہم بڑے اچھے بچھانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو بھی ہم ہی نے بچھایا سو ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور زمین کو ہم نے فرش بنایا۔ سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور زمین کو ہم نے (فرش کی مانند) بچھا دیا پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو دیکھو ہم خوب بچھانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

And the earth – We spread it out, and how well have We smoothed it!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the earth was spread out by Us as a floor; so how well have We spread it out!

— Muhammad Taqi Usmani

And the earth was spread out by Us as a floor; so how well have We spread it out!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have made the earth a Firash; how excellent spreader (thereof) are We!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the earth have We laid out, how gracious is the Spreader (thereof)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the earth We have spread out, and excellent is the preparer.

— Saheeh International

We have spread out the earth and how brilliantly it is spread!

— Muhammad Sarwar

And the earth, We have made it a wide extent; how well have We then spread (it) out.

— Muhammad Habib Shakir

And the earth! We have stretched it forth beneath; an excellent Spreader are We!

— Abdul Majid Daryabadi

And We have spread out the (spacious) earth: How excellently We do spread out!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–51

تخلیق کائنات زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنادیا ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ ثوری اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کردیا ہے اور قائم رکھا ہے زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لئے بچھونا بنادیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 45 اس کی تشریح حاشیہ 18 میں گزر چکی ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حاشیہ 74۔ جلد چہارم، تفسیر سورة یٰس، حاشیہ 29۔ الزخْرف، حواشی 7 تا 10۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–49

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آسمان کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں اور ہم نے زمین کو فرش (کے طور پر) بنایا سو ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں (یعنی اس میں کیسے کیسے منافع رکھے ہیں) اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا (اس قسم سے مراد مقابل ہے، سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے، جیسے آسمان و زمین، جوہر و عرض، گرمی و سردی، شیریں و تلخ، چھوٹی و بڑی، خوش نما و بدنما، سفیدی و سیاہی، روشنی و تاریکی، وعلیٰ ہذا) تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو (اور اے پیغمبر ﷺ ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والارض فرشنھا فنعم المھدون (48) آسمان کے بعد زمین کی طرف اشارہ آسمان کے بعد زمین کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو ہم نے کس خوبی سے بچھایا ہے اور ہم کتنے اچھے بچھانے والے ہیں، یعنی زمین پر غور کروتو اس سے ہماری قوت و عظمت بھی واضح ہوگئی اور ہماری ربوبیت بھی۔ جس سے ہر معقول آدمی اس نتیجہ تک پہنجتا ہے کہ جس خدا نے یہ زمین بنائی ہے اور اس کے اندر انسان کی پرورش کے لئے گونا گوں وسائل پیدا کئے ہیں اس نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بات اس کی حکمت و ربوبیت کے منافی ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔ حکمت و ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ہر شخص اس دنیا کی زندگی سے متعلق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–48

16: اس کا مطلب کچھ مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسا کر لوگوں کے رزق میں وسعت پیدا فرماتے ہیں۔ کچھ مفسرین نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ : ہماری قدرت بہت وسیع ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ہم خود آسمان میں وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ایک اشارہ یہاں بچھائی ہوئی زمین کی طرف بھی آتا ہے۔ والارض ........ المھدون (15 : 84) ” اور زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بہت اچھے ہموار کرنے والے ہیں “ اللہ نے اس زمین کو تیار کیا کہ یہ زندگی کے لئے ایک گہوارہ ثابت ہو جس طرح اس سے قبل ہم نے تفصیل دے دی ہے۔ فرش انسان کے لئے آرام اور راحت کا سبب ہوتا ہے۔ زمین کو اس طرح تیار کردہ ، ہموار کردہ اور سہولتوں کا اور زندگی کا گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے فرش سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی ہر چیز کو نہایت ہی گہرائی سے زندگی کی کفالت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ فنعم المھدون (15 : 84) ” ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی زمین و آسمان سب خدا کے پیدا کیے ہوئے اور اسی کے قبضہ میں ہیں۔ پھر اس کا مجرم بھاگ کر کہاں پناہ لے سکتا ہے۔ نیز خالق کائنات کی عجیب و غریب کاریگری میں آدمی غور کرے تو اسی کا ہو رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48{ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ۔ } ”اور زمین کو ہم نے فرش کی مانند بچھا دیا ‘ پس ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ یعنی سطح زمین کو ہموار بنادیا تاکہ لوگ اور دوسرے جانور آسانی سے اس پر چل پھر سکیں۔ پھر سطح زمین پر ایک زرخیز چھلکا چڑھا دیا جس میں روئیدگی کی قوت رکھ دی تاکہ زمین پر رہنے والوں کو غذا مہیا ہوسکے۔ زمین کو سورج سے اتنی دور رکھا کہ زمین پر بسنے والے جاندار اس کی گرمی سے جل کر تباہ نہ ہوجائیں۔ اور نہ ہی اتنا زیادہ دور کردیا کہ وہ سردی سے ٹھٹھر کر مرجائیں۔ نیز انسان کی جملہ ضروریات خوردونوش، لباس، مسکن اور مدفن سب چیزوں کو زمین سے وابستہ کردیا۔ اس طرح انسان اس قابل ہوگیا کہ کائنات کی اکثر چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی منزلیں طے کرسکے اور قیامت تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ زمین کی اصل ہئیت، علماء ہیئت کی تحقیق میں کروی، بیضوی، جیسی کچھ بھی ہو، یہاں سے مطلق تعرض نہیں۔ انسان بہرحال وبہر صورت اس کی سطح پر چلنے پھرنے کا کام لیتا ہے اور اس کے اسی وصف کو یہاں بیان کیا، ملاحظہ ہو سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” جعل لکم الارض فراشا “۔ پر حاشیہ، زمین نہ خود کوئی دیوی دیوتا ہے نہ کسی دیوی دیوتا کی مخلوق جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے بلکہ ساری دوسری مخلوقات کی طرح اللہ ہی کی ایک مخلوق۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 47–49

ترجمہ : اور آسمان کو ہم نے اپنی قرت قوت سے بنایا اور بلاشبہ ہم وسیع القدرت ہیں (یعنی) ہم اس پر قادر ہیں بولا جاتا ہے ادا الرجل یئید آدمی قوی ہوگیا ( اور بولا جاتا ہے) اوسع الرجل آدمی وسعت وقدرت والا ہوگیا اور ہم نے زمین کو بچھایا سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا مثلاً نر اور مادہ، آسمان اور زمین، شمس اور قمر، میدان اور پہاڑ، گرمی اور سردی، شیریں اور ترش، نور اور ظلمت تاکہ تم سبق لو (تذکرون) میں اصل سے دو تائوں میں سے ایک کو حذف کر کے تاکہ تم جان لو کہ ازواج کا خالق، فرد ہے (جوڑے کا پیدا کرنے والا اجوڑ ہے) لہٰذا اس کی بندگی کروصاے محمد ﷺ آپ ان سے کہئے) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والارض فرشنھا فنعھم الماھدون . اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایاسو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں۔ بِاَیْدٍ : قوّت سے ‘ قدرت سے۔ فَرَشْنٰھَا : ہم نے زمین کو بچھایا تاکہ لوگ اس پر سکون سے رہ سکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 47–49

(47۔ 49) اور ہم نے آسمان کو اپنی قدرت و طاقت سے بنایا اور ہم جو چاہیں اس کی قدرت رکھتے ہیں یا یہ کہ زمین کو رزق کے ساتھ وسیع کرنے والے ہیں اور ہم نے زمین کو پانی پر فرش کے طور پر بنایا سو ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں اور ہم نے زمین میں ہر ایک چیز کو دو قسم کا بنایا تاکہ تم ان مصنوعات خداوندی سے توحید کو سمجھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) والارض فرش تھا : آسمان بنانے کی طرح زمین بچھانے کو بھی دوبارہ زنادہ کرنے پر قادر ہوکنے کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور ”وفرشنا الارض“ کے بجائے ”والارض فرنھا“ میں بھی وہی بات محلوظ ہے جو ”والسمآء بینھا“ میں ملحوظ ہے۔ زمین کی پیدائش میں اس کے گول ہونے کے ذکر کے بجائے، جو ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی، اس بات کا ذکر فرمایا جو ہر شخص کے مشاہدے اور استعمال میں ہے اور جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ناہموار اور اونچی نیچی ہوتی تو اس پر ان کا اور ان کے جانوروں کا رہنا ہی ممکن نہ ہوتا، نہ وہ اس پر بیٹھ سکتے، نہ لیٹ سکتے اور نہ چل پھر سکتے اور اس خوشگوار زندگی اور آسئاش کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–49

۔ والسماء بنینھابا ـــ” اور ہم نے آسمان کو (قدرت) ہاتھوں سے بنایا اور ہم نے ہی اس کو وسیع کردیا اور زمین کا ہم نے فرش بچھادیا پس ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بناے تاکہ تم غوروفکر کروــــو “۔ والسماء بینھا بایید جب ان آیات کو بیان کیا تو فرمایا : آسمان میں آیات اور عبرتیں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صانع کمال پر قادر ہے۔ سماء کے امر کو قوم نوح کے قصہ پر عطف کیا کیونکہ یہ دونوں آیات ہیں۔ بایید کا معنی ہے قوت اور قدرت کے ساتھ ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ وانالمومعون ،۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ہم قادر ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–53

17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' وانا لموسعون '' (اور ہم وسیع قدرت والے ہیں) کہ ہم اور آسمان اس طرح پیدا کردیے (آیت ) '' والارض فرشنھا فنعم المھدون '' (اور ہم نے زمین کو فرش کے طور پر بنایا سو ہم کسے اچھے بچھانے والے ہیں) یعنی بچھانے والے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن کل شیء خلقنازوجین '' (اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا) یعنی کفر اور ایمان بدبختی اور نیک بختی ہدایت اور گمراہی، رات اور دن، آسمان اور زمین، جن اور انسان، خشکی اور تری، سورج اور چاند صبح اور شام اور اسی طرح سب چیزیں ہیں۔ 19:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالْاَرْضَ [ اور (بغور دیکھ ) زمین کو ] فَرَشْنٰهَا [ ہم نے بچھایا اس کو ] فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ [ توہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–49

آسمان و زمین کی تخلیق کا ذكر، اور اللہ کی طرف دوڑنے کا حكم ان آیات میں آسمان و زمین اور دوسری مخلوقات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور موحد بننے اور توحید پر قائم رہنے کا حکم فرمایا، اولًا آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ ﴾ (اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا فرمایا) یعنی ہماری قوت اور قدرت بہت زیادہ ہے اپنے ارادہ کے مطابق جو چاہیں کرسکتے ہیں اتنے بڑے آسمان کا پیدا فرمانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے یہ وہی بات ہے جو سورة ٴ ق ٓ کی آیت ﴿ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ 0038﴾ میں مذکور ہے۔ حضرت حسن (رح) سے لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

16:۔ ” والسماء۔ تا تذکرون “ تخویف دنیوی کے پانچ نمونے ذکر کرنے کے بعد دعوی سورت پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” اید “ طاقت و قوت۔ موسعون، قادرون۔ (مدارک) ۔ ہم نے آسمان کو اپنی قدرت وقوت سے پیدا کیا ہے اور ہماری قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ زمین کو ہم نے بچھونے کی طرح ہموار بنایا۔ کون ہے جو اس کام کو ہم سے بہتر سر انجام دے سکے ؟ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا۔ حیوانات میں نر و مادہ اور باقی اشیاء میں مختلف انواع و اقسام مثلاً رنگ، ذائقہ اور بو کی قسمیں، میووں، پھلوں اور غلوں، ترکاریوں کی مختلف اجناس۔ لیس المراد تعین تعدد التثنیۃ بل المراد اصناف المخلوقات یعنی خلقنا من کل شیء اصناف ذات عدد فوق الواحد (مظہری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ۝ 48 أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ فرش الفَرْشُ : بسط الثّياب، ويقال لِلْمَفْرُوشِ : فَرْشٌ وفِرَاشٌ. قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِراشاً [ البقرة/ 22] ، أي : ذلّلها ولم يجعلها ناتئة لا يمكن الاستقرار عليها،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ ۔ (الذریٰت : 48) (اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں۔ ) آسمان کے بعد زمین کا ذکر اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اور دلائلِ آفاق کو بیان کرتے ہوئے آسمان کے بعد زمین کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذرا اس زمین کو دیکھو کہ ہم نے کس طرح اس کو بچھایا، کس طرح اس کو انسان کی سکونت کے قابل بنایا۔ یہ آگ کے گولے کی مانند تھی، ہم نے اس کو نہایت آرام دہ بنادیا۔ اس کو غیرمتوازن ہونے سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں، میدانی علاقوں میں دریا رواں کردیئے اور پہاڑوں میں چشمے اور آبشاریں رواں کردیں، سردیوں میں پہاڑوں پر برف جمائی، گرمیوں میں اسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–48

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے قوم نوح کو تباہ کیا اس کے جلال اور قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے آسمان کو بنایا اور زمین کو فرش کے طور پر بچھایا جس کی قدرت اور جلال کا تقاضا ہے کہ اس کی نافرمانی اور سرکشی کرنے کی بجائے اس کے سامنے جھکا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں اور ہم نے زمین کو فرش بنایا اور ہم بہت اچھا بچھانے والے ہیں۔” اَیْدِیَ “ ” ید “ کی جمع ہے جس کے بارے میں اہل علم کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بارے میں ید کا لفظ بولتا ہے تو اس کا مطلب اس کا ہاتھ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں قیاس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 48 : وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا (اور ہم نے زمین کو فرش بنایا) ہم نے زمین کو پھیلایا اور بچھایا۔ نحو : الارض۔ فعل مضمر سے منصوب ہے۔ ای فرشنا الارض فرشنا ہا۔ یہ جملہ اس کی تفسیر ہے۔ فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ (پس ہم اچھے بچھانے والے ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

47 ۔” والسماء بنیناھا باید “ قوت اور قدرت کے ساتھ۔ ” وانا لموسعون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں قادر ہیں اور ان سے یہ بھی ہے کہ ہم اپنی مخلوق پر رزق کی وسعت دینے والے ہیں اور کہا گیا ہے وسعت والے ہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں مال دار ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” وعلی الموسع قدرہ “ ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں طاقت رکھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–51

47۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا) ۔ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا گھربنانا۔ باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا (فنعم الماھدون) ۔ پس کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 45] فرش زمین میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور زمین کو بھی ہم ہی نے بچھایا سو ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں، اور اس عظیم الشان فرش کو بچھایا اس لئے گیا تاکہ اس میں انسان اور حیوان وغیرہ سب ہی رہ سکیں، اور نہایت حیر انگیز طریقے سے ہم نے زمین کے اندر ان تمام مخلوقات کی روزی اور دوسری جملہ ضروریات کا بھی بھرپور طریقے سے انتظام کردیا، اور اس پر حکمت طریقے سے کہ خود انسان کی اور دوسری ان تمام مختلف الانواع مخلوق کی جو کہ طرح طرح سے انسان کے کام آتی ہے، سب کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور یہ سب کچھ انسان کی طرف سے کسی طرح کے سوال اور مطالبے کے بغیر ہم نے ازخود کیا، سو اس سب کے باوجود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–49

اللہ کی قدرتوں کو دیکھو اور ہوش سے کام لو تشریح : ان آیات میں کائنات کے دوبڑے اہم راز بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ کائنات پھیل رہی ہے اور دوسرے ہر چیز کے جوڑوں کی صورت میں تخلیق۔ پہلے ہم ہاتھ کی وضاحت کرتے ہیں یہ ہماری طرح کے ہاتھ نہیں بلکہ جس طرح انسانی صلاحیت کو سامنے لانے کیلئے انسان کے ہاتھ ایک خاص حصہ رکھتے ہیں یعنی جو بھی بنانا ہو اس کیلئے ہاتھوں کی طاقت اور اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں اللہ کی قدرت اور طاقت کو ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح موسعون کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ وُسْعٌ سے فاعل بنا ہے اور وُسْعٌ کا مطلب ہے طاقت بس اور زور۔ موسعون کا مطلب ہے وسیع طاقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2 جیسے نر اور مادہ خشکی اور تری، سورج اور چاند، آسمان اور زمین رات اور دن روشنی اور تاریکی، خیر و شر وغیرہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:48) والارض ای وفرشنا الارض۔ اور ہم نے زمین کو بچھایا۔ فرشنا ماضی جمع متکلم فرش وفراش (باب ضرب) مصدر (قالین یا بستر) بچھانا (گھر کو) فرش لگانا ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ الارض کی طرف راجع ہے۔ نعم : کلمہ مدح ہے۔ اہل نحو کہتے ہیں کہ جس طرح بئس فعل ذم ہے اسی طرح نعم فعل مدح ہے لیکن نعم (ماضٰ واحد مذکر غائب) اور نعمت (ماضی صیغیہ واحد مؤنث غائب) کے علاوہ اس سے ماضی اور مضارع کا کوئی دوسرا صیغہ استعمال نہیں ہوتا۔ بہرحال نحویوں کی اصطلاح میں نعم فعل ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :۔” نعم کلمہ مدح ہے جو بئس فعل ذم کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے : قرآن مجید میں آیا ہے نعم المولی ونعم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپر پچھلی قوموں کی ہلاکت ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کے تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لیے سمجھدار کو کافی ہیں کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا تو عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں اگر کافر لوگ اتنی بات سمجھ کر اللہ کا حق پورا ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حق پورا ادا کرتا، اس نصیحت کے بعد فرمایا، اے محبوب تم مشرکین کو جتلادو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–48

[21] اس آیت کا ایک ترجمہ تو وہ ہوسکتا ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی اس عظیم الشان کائنات کو وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے انسان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔ آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم اس میں توسیع کر رہے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال پہلے جب عربوں کے پاس فلک بینی کا کوئی آلہ موجود نہ تھا قرآن نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کی تصدیق 1948 ء میں تمام ستارہ شناسوں نے متفقہ طور پر کردی اور اعلان کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی کائنات میں مسلسل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–50

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) اور ہم نے زمین کو بچھایا سو کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ اگرچہ زمین کو گول کہا جاتا ہے لیکن وہ اپنی پہنائی کی وجہ سے ہر جگہ بچھی ہوئی ہے فرش کا فرش ہے اور دستر خوان کا دستر خوان نعمت کی تمام اقسام اس فرش کے نیچے دبی ہوئی ہیں ۔ فسبحان من خلق السمآء والارض۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین کو ہم نے فرش بنایا ہے اور پھر خوب بچھا دیا ہے کیا ان کی آنکھیں بند ہیں ؟ 48 ؎ غور و فکر کرنے والوں کے لئے جس طرف بھی وہ نظر اٹھائیں ان کو قدرت کے نشانات دکھائی دیتے ہیں بشرطیکہ وہ عقل و فکر کے ساتھ دیکھنے کی سعی و کوشش بھی کریں صرف جانوروں کی طرح نہ دیکھنے کے عادی ہوں۔ فرمایا غور کرو اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یہ زمین جس پر تم آباد ہو اس کو کس نے بچھا دیا ہے اور کس نے اس کو ایک آرام دہ فرش دیا ہے اور صرف بچھا ہی نہیں دیا بلکہ تمہاری ضرورت کے کتنے دفینے اور خزانے ہیں جو اس کے اندر چھپا دیئے گئے ہیں بلکہ تمہارے لئے محفوظ کردیئے گئے ہیں کہ تم عقل و فکر سے کام لو اور ان دفینوں اور خزانوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–49

Proofs of Allah's Oneness abound in the Creation of the Heavens and Earth The preceding verses mentioned the reality of the Hereafter and the Judgment Day, and the punishment of those who denied the reality. The present set of verses reaffirm the perfect power of Allah, reminding us about the reality of the Day of Resurrection and allaying the doubt and suspicion of those who deny the reality. It proves the oneness of Allah and reiterates emphatically to believe in the Messenger ﷺ . بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (And the sky was built by Us with might, and indeed, We are the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

45 . For explanation, sec E.N. 18 above. For further explanation, sec E.N. 74 of Surah An-Naml, E.N. 29 of Surah Ya Sin and E.N.'s 7 to 10 of AzZukhruf

Read the full tafseer →