Adh-Dhaariyat 51:47

Adh-Dhaariyat · from ayah 47

51:47

وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۟وَ السَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا بِاَيۡٮدٍ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ

اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the heaven We constructed with strength, and indeed, We are [its] expander.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:47

آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقینا وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمان، ہم نے اسے قوت کے ساتھ بنایا اور بلاشبہ ہم یقینا وسعت والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان کو ہم نے اپنے دستِ (قدرت) سے بنایا اور ہم اسے وسیع کرتے جارہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آسمان (کے اس عظیم الشان گنبد) کو بھی ہم ہی نے بنایا (اپنی قوت و) زور سے اور بیشک ہم بڑی ہی قدرت والے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم (اس کو) توسیع دینے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمانوں کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسیع کرنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And heaven – We made it with Our Own Power and We have the Power to do so.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the sky was built by Us with might; and indeed We are the expanders.

— Muhammad Taqi Usmani

And the sky was built by Us with might; and indeed We are the expanders.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to expand the vastness of space thereof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We have built the heaven with might, and We it is Who make the vast extent (thereof).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the heaven We constructed with strength, and indeed, We are [its] expander.

— Saheeh International

We have made the heavens with Our own hands and We expanded it.

— Muhammad Sarwar

And the heaven, We raised it high with power, and most surely We are the makers of things ample.

— Muhammad Habib Shakir

And the heaven! We have built it with might, and verily We are powerful.

— Abdul Majid Daryabadi

With power and skill did We construct the Firmament: for it is We Who create the vastness of pace.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–51

تخلیق کائنات زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنادیا ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ ثوری اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کردیا ہے اور قائم رکھا ہے زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لئے بچھونا بنادیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 43 آخرت کے حق میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر اسی کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ سورة الذّٰرِیٰت 44 اصل الفاظ ہیں وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں اور وسیع کرنے والے کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ہم نے کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے زور سے بنایا ہے اور اس کی تخلیق ہماری مقدرت سے باہر نہ تھی۔ پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آ گیا کہ ہم تمہیں دو بارہ پیدا نہ کر سیکیں گے ؟ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–49

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آسمان کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں اور ہم نے زمین کو فرش (کے طور پر) بنایا سو ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں (یعنی اس میں کیسے کیسے منافع رکھے ہیں) اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا (اس قسم سے مراد مقابل ہے، سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے، جیسے آسمان و زمین، جوہر و عرض، گرمی و سردی، شیریں و تلخ، چھوٹی و بڑی، خوش نما و بدنما، سفیدی و سیاہی، روشنی و تاریکی، وعلیٰ ہذا) تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو (اور اے پیغمبر ﷺ ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

10۔ آگے آیات 47۔ 60 کا مضمون آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قیامت اور جزا وسزاق سے ڈرایا ہے اور اسی ضمن میں توحید کی بھی یاددہانی فرمائی ہے تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ سب کو ایک ہی خدا سے سابقہ پیش آنا ہے، کوئی دوسرا خاد کی پکڑ سے بچانے والا نہیں بنے گا۔ آخر میں نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو سلوک تمہاری قوم تمہارے ساتھ کررہی ہی یہی سلوک ہر قوم نے اپنے رسول کے ساتھ کیا ہے تو تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ شریروں سے اعراض کرو۔ بس ان کو بات سنائو جو سنتے ہیں۔ اللہ ہر قدم پر تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مدد فرمائے گا۔ تم اللہ کے سوا کسی کی مدد کے محتاج…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 السماء منصوب ہے بنینا محذوف کی وجہ سے بنینا السماء بنیناھا 47۔ 2 یعنی پہلے ہی بہت وسیع ہے لیکن ہم نے اس کو اور بھی زیادہ وسیع کرنے کی طاقت رکھتے ہین۔ یا آسمان سے بارش برسا کر روزی کشادہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وُسْع (طاقت وقدرت رکھنے والے) تو مطلب ہوگا ہمارے اندر اس جیسے اور آسمان بنانے کی بھی طاقت وقدرت موجود ہے۔ ہم آسمان و زمین بنا کر تھک نہیں گئے ہیں بلکہ ہماری قدرت طاقت کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–48

16: اس کا مطلب کچھ مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسا کر لوگوں کے رزق میں وسعت پیدا فرماتے ہیں۔ کچھ مفسرین نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ : ہماری قدرت بہت وسیع ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ہم خود آسمان میں وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب روئے سخن پر اس کائنات کی نمائش گاہ کی طرف لوٹ جاتا ہے جس کے ساتھ اس سورة کا افتتاح ہوا تھا۔ اس کائنات میں قلب ونظر کے جلا کے لئے کئی تصاویر ہیں تو اب اس کائنات کے البم سے ایک نئی تصویر آپ کے سامنے لائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اس نمائش گاہ کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو تلاش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یوں حضرت نوح کے قصے کی نشانی اب زمین و آسمان کی تصویری کہانیوں کے ساتھ مل جاتی ہے اور اس کے بعد پھر انسانوں کو بلند آواز سے پکارا جاتا ہے کہ دوڑو اللہ کی طرف ! خالص نظریہ توحید کے ساتھ۔ والسمائ ........ لموسعون (15 : 74) ” آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم بہت ہی وسعت رکھتے ہیں۔ “ الاید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

52 یعنی آسمان جیسی وسیع چیز اپنی قدرت سے پیدا کی اور اس سے بھی بڑی چیزیں پیدا کرے تو کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47{ وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ } ”اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے اور ہم اس کو توسیع دینے والے ہیں۔“ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ عام طور پر ”ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں“ یا ”ہم بڑی قدرت والے ہیں“ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن لغوی اعتبار سے اس کا یہ ترجمہ زیادہ مناسب اور زیادہ جامع ہے جو اوپر متن میں اختیار کیا گیا ہے۔ اَوْسَع یُوسِعُ باب افعال ہے ‘ جس کا مطلب ہے کشادہ کرنا ‘ وسعت دینا۔ وَسِعَ ثلاثی مجرد ہے ‘ جس سے اسم الفاعل وَاسِعٌ آتا ہے۔ چناچہ { وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} کا مطلب ہے : اللہ بڑی وسعت سمائی والا ہے ‘ اس کے خزانے لامحدود ہیں۔ جبکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 کائنات کی وسعت :۔ کائنات میں بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن میں آج تک تخلیق اور توسیع کا عمل جاری ہے۔ اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ سب سے پہلے انسان ہی کو لیجئے۔ اس کی نسل بڑھ رہی ہے۔ تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی کائنات کا شاہکار ہے۔ پھر زمین کی پیداوار بھی اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ اس آیت میں بالخصوص آسمان کا ذکر ہے۔ آسمان کی پیدائش کا بھی یہی حال ہے یہاں آسمان سے مراد پہلا آسمان یا کوئی خاص آسمان نہیں بلکہ یہاں سماء سے مراد فضائے بسیط ہے جب کہ اس آیت (ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ 29؀ ) 2 ۔ البقرة :29) میں بھی سماء سے مراد فضائے بسیط ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–47

26۔ (سو کسی مذہب والے کا حق تعالیٰ کی صفت قدرت کو محدود جاننا حد درجہ نادانی وجہل ہے) (آیت) ” باید “۔ ید۔ کے معنی قوت کے ہیں۔ قرآن مجید ہی میں متعدد بار اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلااولی الایدی والابصار۔ واذکر عبدنا داود ذا الاید۔ چناچہ یہاں بھی یہی معنی بلاتکلف ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ بقوۃ (روح) والاید القوۃ ھذا ھو المشھور (کبیر) اے بقوۃ قالہ ابن عباس ؓ ومجاہد وقتادۃ والثوری وغیر واحد (ابن کثیر) آیت سے سے مسائل ذیل بھی روشنی میں آگئے۔ اور ہر ہر مسئلہ کے اثبات کے ساتھ ساتھ اس کے مقابل جاہلی مشرکانہ خیال کی تردید بھی ہوگئی :۔ (1) آسمان ساری دوسری مخلوقات کی طرح حادث و مخلوق ہی ہے، قدیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 47–49

ترجمہ : اور آسمان کو ہم نے اپنی قرت قوت سے بنایا اور بلاشبہ ہم وسیع القدرت ہیں (یعنی) ہم اس پر قادر ہیں بولا جاتا ہے ادا الرجل یئید آدمی قوی ہوگیا ( اور بولا جاتا ہے) اوسع الرجل آدمی وسعت وقدرت والا ہوگیا اور ہم نے زمین کو بچھایا سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا مثلاً نر اور مادہ، آسمان اور زمین، شمس اور قمر، میدان اور پہاڑ، گرمی اور سردی، شیریں اور ترش، نور اور ظلمت تاکہ تم سبق لو (تذکرون) میں اصل سے دو تائوں میں سے ایک کو حذف کر کے تاکہ تم جان لو کہ ازواج کا خالق، فرد ہے (جوڑے کا پیدا کرنے والا اجوڑ ہے) لہٰذا اس کی بندگی کروصاے محمد ﷺ آپ ان سے کہئے) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والسمآ نبی نھا باید وانا لموسعون اور ہم نے آسمانوں کو اپنی قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم قدرت اور طاقت والے ہیں ‘ یہ لفظ وسع سے ماخوذ ہے اور وسع کے معنی ہے طاقت۔ اللہ نے فرمایا ہے : لاَ یُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا الاَّ وُسْعَھَا۔ ضحاک نے ترجمہ کیا : ہم غنی ہیں ‘ بےاحتیاج ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم اپنی مخلوق کے لیے رزق کو وسیع کرنے والے ہیں۔ بعض علماء نے اس طرح ترجمہ کیا : ہم آسمان و زمین کے درمیان وسعت کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 47–49

(47۔ 49) اور ہم نے آسمان کو اپنی قدرت و طاقت سے بنایا اور ہم جو چاہیں اس کی قدرت رکھتے ہیں یا یہ کہ زمین کو رزق کے ساتھ وسیع کرنے والے ہیں اور ہم نے زمین کو پانی پر فرش کے طور پر بنایا سو ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں اور ہم نے زمین میں ہر ایک چیز کو دو قسم کا بنایا تاکہ تم ان مصنوعات خداوندی سے توحید کو سمجھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) والسمآء بنینھا باید : سورت کی ابتدا سے قیامت اور جزا و سزا کے حق ہونے کا بیان چلا آرہا ہے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی قسمیں کھائیں اور دوبارہ زندہ کرنے پر اپنے قادر ہونے کے بہت سے دلائل پیش فرمائے، جن میں آسمان و زمین کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ درمیان میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی اور کفار کو تنبیہ کیلئے قیامت اور پیغمبروں کو جھٹلانے والی اقوام کے انجام بدکا ذکر فرمایا۔ منکرین قیامت کا سب سے بڑا شبہ یہ ہے کہ مرنے اور بوسیدہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی کیسے ممکن ہے ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ اس شبہے کے رد کے لئے آسمان و زمین کا خاص طور پر ذکر فرماتے ہیں، کیونکہ انس ان کو نظر آنے والی مخلوقات میں یہ سب سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–49

۔ والسماء بنینھابا ـــ” اور ہم نے آسمان کو (قدرت) ہاتھوں سے بنایا اور ہم نے ہی اس کو وسیع کردیا اور زمین کا ہم نے فرش بچھادیا پس ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بناے تاکہ تم غوروفکر کروــــو “۔ والسماء بینھا بایید جب ان آیات کو بیان کیا تو فرمایا : آسمان میں آیات اور عبرتیں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صانع کمال پر قادر ہے۔ سماء کے امر کو قوم نوح کے قصہ پر عطف کیا کیونکہ یہ دونوں آیات ہیں۔ بایید کا معنی ہے قوت اور قدرت کے ساتھ ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ وانالمومعون ،۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ہم قادر ہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسمآء بنینھا باید '' (اور ہم نے آسمانوں کو اپنی قدرت سے بنایا) یعنی قوت سے۔ 16:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسمآء بنینھا باید '' یعنی ہم نے آسمانوں کو قوت کے ساتھ بنایا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالسَّمَاۗءَ [ اور (بغور دیکھ) آسمان کو ] بَنَيْنٰهَا [ ہم نے بنایا اس کو ] بِاَيْىدٍ [ قوت سے ] وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ [اور بیشک ہم یقینا کشادہ کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت ۔ 47) ۔ والسماء حالت نصب میں ہے ۔ اس کو مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے ، کیونکہ فعل بنینا کے ساتھ ضمیر مفعولی ھا لگی ہوئی ہے ۔ اس لیے اس سے پہلے کسی فعل کو محذوف ماننا بہتر ہے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ تنظر (بتکلف غور سے دیکھ ) کو محذوف مانا جائے ید (ہاتھ) کی جمع بھی اید آتی ہے۔ (دیکھیں آیت ۔ 2:66، مادہ ” ی دی “ ) جبکہ اید (مضبوطی ، قوت ) بھی حالت جر میں اید ہوجاتا ہے ۔ (دیکھیں آیت ۔ 2 : 87، مادہ ” ء دی “ ) اس فرق کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–49

آسمان و زمین کی تخلیق کا ذكر، اور اللہ کی طرف دوڑنے کا حكم ان آیات میں آسمان و زمین اور دوسری مخلوقات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور موحد بننے اور توحید پر قائم رہنے کا حکم فرمایا، اولًا آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ﴿ وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ ﴾ (اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا فرمایا) یعنی ہماری قوت اور قدرت بہت زیادہ ہے اپنے ارادہ کے مطابق جو چاہیں کرسکتے ہیں اتنے بڑے آسمان کا پیدا فرمانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے یہ وہی بات ہے جو سورة ٴ ق ٓ کی آیت ﴿ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ 0038﴾ میں مذکور ہے۔ حضرت حسن (رح) سے لَمُوْسِعُوْنَ کا ترجمہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–60

اثبات توحید و رسالت مع دلائل وبراہین و تسلی سید الانبیاء والمرسلین ﷺ :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والسمآء بنینھا باید ...... الی ..... الذی یوعدون “۔ (ربط) سلسلہ بیان مکذبین ومنکرین کے انکار وتکذیب کے عبرتناک انجام کا چل رہا تھا اب ان مکذبین ومنکرین پر حجت قائم کرنے کے لئے توحید و رسالت کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اور آسمان کو ہم نے بنایا ہے اپنی قدرت سے اور ہم بہت ہی وسیع القدرت ہیں اور زمین کو ہم نے فرش بنایا سو ہم کیسے اچھے اس کو بچھانے والے ہیں کہ اس میں کس قدر منافع رکھے اور کتنی انواع و اقسام کی چیزیں پیدا کیں غلے، پھل سبزے اور پھول سب کچھ انسانوں کے نفع اور راحت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

16:۔ ” والسماء۔ تا تذکرون “ تخویف دنیوی کے پانچ نمونے ذکر کرنے کے بعد دعوی سورت پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” اید “ طاقت و قوت۔ موسعون، قادرون۔ (مدارک) ۔ ہم نے آسمان کو اپنی قدرت وقوت سے پیدا کیا ہے اور ہماری قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ زمین کو ہم نے بچھونے کی طرح ہموار بنایا۔ کون ہے جو اس کام کو ہم سے بہتر سر انجام دے سکے ؟ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا۔ حیوانات میں نر و مادہ اور باقی اشیاء میں مختلف انواع و اقسام مثلاً رنگ، ذائقہ اور بو کی قسمیں، میووں، پھلوں اور غلوں، ترکاریوں کی مختلف اجناس۔ لیس المراد تعین تعدد التثنیۃ بل المراد اصناف المخلوقات یعنی خلقنا من کل شیء اصناف ذات عدد فوق الواحد (مظہری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–55

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰہَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝ 47 بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–58

ترکیب : والسماء منصوب علی شریطۃ التفسیر باید متعلق بالفعل و قیل حال من الفاعل و من کل شیء متعلق بخلقنا کذلک ای الامر کذلک المتین بالرفع علی النعت وقیل ھو خبر مبتداء محذوف ای ھو المتین (ابو البقاء) ۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی خدائی کا ثبوت اور توحید اور مسئلہ رسالت اور گناہوں کا برا نتیجہ پیش آنا ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات پر تین دلیلیں لایا۔ اول والسماء بنینہا کہ آسمان کو ہم نے قدرت کاملہ سے بنایا اور ہم بڑے وسعت والے ہیں، یعنی قدرت والے۔ دوم والارض فرشناھا زمین کو ہم نے فرش کردیا۔ یعنی بندوں کی سکونت کے قابل کیا۔ آسمان چھت اور زمین اس دار دنیا کا فرش ہے۔ سوم ومن کل شیء ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰـھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ (الذریٰت : 47) (اور آسمان کو ہم نے بنایا اپنی قدرت سے، اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔ ) قدرت کی نشانیوں کے ضمن میں آسمان سے استدلال آخرت کے حق میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اپنی قدرت و ربوبیت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ انھیں آفاقی دلائل بھی کہا جاسکتا ہے اور اسی ضمن میں توحید کی یاددہانی بھی کرائی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مشاہدات کے سلسلے میں سب سے پہلا مشاہدہ انسان کو اپنے سر پر تنے ہوئے آسمان کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور وہ جیسے جیسے غور کرتا ہے آسمان کے عجائب اس کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیرت میں ڈوب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–48

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے قوم نوح کو تباہ کیا اس کے جلال اور قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے آسمان کو بنایا اور زمین کو فرش کے طور پر بچھایا جس کی قدرت اور جلال کا تقاضا ہے کہ اس کی نافرمانی اور سرکشی کرنے کی بجائے اس کے سامنے جھکا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں اور ہم نے زمین کو فرش بنایا اور ہم بہت اچھا بچھانے والے ہیں۔” اَیْدِیَ “ ” ید “ کی جمع ہے جس کے بارے میں اہل علم کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بارے میں ید کا لفظ بولتا ہے تو اس کا مطلب اس کا ہاتھ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں قیاس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 47 : وَالسَّمَآئَ ۔ نحو : یہ بنینٰہا باید جس فعل کی تفسیر کر رہا ہے اسکی وجہ سے منصوب ہے۔ ای بنینا السماء بنینٰھا۔ بَنَیْنٰـہَا بِاَیْدٍ (اور آسمان کو ہم نے قدرت سے بنایا) اَیْد : قوت وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ (اور ہم وسیع القدرت ہیں) ضرور قدرت والے ہیں۔ یہ الوسع سے لیا گیا جس کا معنی طاقت ہے۔ الموسع۔ القوی علی الانفاق (جو خرچ کرنے میں قوی ہو) یا الموسعون ہم آسمان و زمین کے درمیان وسعت کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46 ۔” وقوم نوح “ ابو عمرو، حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” وقوم “ میم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وفی قوم نوح اور دیگر حضرات نے قوم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی پر حمل کرتے ہوئے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” فاخذناہ و جنودہ فنبذناھم فی الیم “ کا معنی ہے ” اغرقناھم “ گویا کہ کہا ہے ” اغرقناھم واغرقنا قوم نوح “ ہم نے ان کو غرق کیا اور ہم نے قوم نوح کو غرق کیا۔ ” من قبل “ ان لوگوں سے پہلے اور وہ عاد وثمود اور قوم فرعون ہیں۔ ” انھم کانوا قوما فاسقین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–51

47۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی اپنی عظیم قدرت کو بیان فرماتے ہیں (والسماء بنینھا) یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ (باید) قوت سے۔ یعنی عظیم قدرت وقوت کے ساتھ۔ (وانا لموسعون) اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشتوں تک وسعت دیتے ہیں۔ نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں، سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہوا جو اسے بےنیاز کرتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

[ 43] قوم نوح کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح کا بھی ہم نے اس سے پہلے ہلاک کیا کہ وہ بھی بڑے سرکش و بدکار لوگ تھے۔ سو اس سے قوم نوح کے آخری اور ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی کہ قوم نوح بھی آخر کار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہی کہ وہ بھی بڑے فاسق لوگ تھے اور وہ اپنے کفر و عصیان کی وجہ سے اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکلے ہوئے لوگ تھے، اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی صدیوں بھر کی تبلیغ و نصیحت کے باوجود لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے، تو آخر کار ہمیشہ کی تباہی کے اس ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہے، جو کہ ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا، "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–49

اللہ کی قدرتوں کو دیکھو اور ہوش سے کام لو تشریح : ان آیات میں کائنات کے دوبڑے اہم راز بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ کائنات پھیل رہی ہے اور دوسرے ہر چیز کے جوڑوں کی صورت میں تخلیق۔ پہلے ہم ہاتھ کی وضاحت کرتے ہیں یہ ہماری طرح کے ہاتھ نہیں بلکہ جس طرح انسانی صلاحیت کو سامنے لانے کیلئے انسان کے ہاتھ ایک خاص حصہ رکھتے ہیں یعنی جو بھی بنانا ہو اس کیلئے ہاتھوں کی طاقت اور اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں اللہ کی قدرت اور طاقت کو ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح موسعون کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ وُسْعٌ سے فاعل بنا ہے اور وُسْعٌ کا مطلب ہے طاقت بس اور زور۔ موسعون کا مطلب ہے وسیع طاقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 46–47

ف 1 یعنی اگر چاہیں تو ایسے بیشمار اور آسمان بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب موسع کا ترجمہ وسع یعنی طاقت والا کئے جائیں اور اگر اس کا ترجمہ وسیع کرنے والا کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم آسمان سے بارش برسا کر روزی کشادہ کرنے والے ہیں۔ (کذافی قرطبی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:47) والسماء بنینھا۔ ای بنینا السماء مفعول کو فعل سے پہلے لایا گیا ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب السامء کی طرف راجع ہے۔ بنینا ماضٰ جمع متکلم ۔ بنی یبنی بناء (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے بنایا۔ باید : قوت سے، طاقت سے، یہاں باید ید کی جمع نہیں ہے بلکہ اویئید (باب ضرب) کا مصدر ہے اس بھی اس کا مصدر ہے بمعنی مضبوط ہونا ۔ سخت ہونا۔ اسی مادہ ای و سے باب تفعیل اید یؤید تایید بمعنی قوت دینا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ایدتک بروح القدس (5:110) میں نے تمہیں روح القدس سے تقویت دی۔ اور فرمایا :۔ واللہ یؤید بنصرہ من یشاء (3:23) اللہ جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے بہت زیادہ تقویت بخشتا ہے۔ صاحب اضواء البیان لکھتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–55

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 55 الماھدون بچھانے والے۔ فروآ دوڑو۔ بھاگو۔ اتواصوا کیا انہوں نے آپس میں وصیت کی ہے۔ طاغون سرکش اور ضدی لوگ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 55 انبیاء کرام کی عظمت اور ان کی دعوت توحید کو مان کر ایمان لانے والوں کی نجات اور کفر و شرک، ظلم و زیادتی کرنے والوں کی تباہی و بربادی کے بعد زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و طاقت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم ہی اس سکڑی ہوئی زمین کو آہستہ آہستہ پھیلاتے چلا جا رہے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا خاکہ ہے جس میں ہم ہر آن نئے سے نیارنگ بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ زمین میں بھی ہماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپر پچھلی قوموں کی ہلاکت ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کے تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لیے سمجھدار کو کافی ہیں کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضروریات کی چیزوں کو پیدا کیا تو عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں اگر کافر لوگ اتنی بات سمجھ کر اللہ کا حق پورا ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حق پورا ادا کرتا، اس نصیحت کے بعد فرمایا، اے محبوب تم مشرکین کو جتلادو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–48

[21] اس آیت کا ایک ترجمہ تو وہ ہوسکتا ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی اس عظیم الشان کائنات کو وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے انسان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔ آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم اس میں توسیع کر رہے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال پہلے جب عربوں کے پاس فلک بینی کا کوئی آلہ موجود نہ تھا قرآن نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کی تصدیق 1948 ء میں تمام ستارہ شناسوں نے متفقہ طور پر کردی اور اعلان کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی کائنات میں مسلسل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–50

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) اور ہم نے آسمان کو اپنی طاقت اور اپنی قدرت اور ہاتھ کے بل سے بنایا اور بلاشبہ ہم بڑی قدرت اور بڑی قوت والے ہیں موسع روزی کے فراغ کرنے والے غنی اور بھی کئی معنی ہیں مگر ہم نے تیسیر میں راجح معنی اختیار کرلئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم ہی صاحب قدرت ہیں 47 ؎ (والمساء بینھا باید) ” اور آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے “ (ید) کی اصل ی د ی ہے اور (ید) کے معنی ہاتھ کے ہیں اور (ید) یعنی ہاتھ کے معنی میں بہت وسعت ہے لغت عرب میں (ید) کے معنی مختلف کئے گئے ہیں جیسے ہاتھ ‘ اقتدار ‘ قابو ‘ غلبہ ‘ ملک ‘ قبضہ ‘ تصرف ‘ روکنا ‘ برکت ‘ سخاوت ‘ احسان ‘ ذلت ‘ بھلائی اور ندامت وغیرہ اور اول الذکر معنی حقیقی و صنعی ہیں اور باقی معانی کسی قرینہ ‘ مقام ‘ سیاق یا اختلاف صلابت کی وجہ سے مراد لئے جاسکتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ یدیت الیہ میں نے اس کے ساتھ احسان کیا مالی بہ ید مجھ میں اس کی طاقت نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–49

Proofs of Allah's Oneness abound in the Creation of the Heavens and Earth The preceding verses mentioned the reality of the Hereafter and the Judgment Day, and the punishment of those who denied the reality. The present set of verses reaffirm the perfect power of Allah, reminding us about the reality of the Day of Resurrection and allaying the doubt and suspicion of those who deny the reality. It proves the oneness of Allah and reiterates emphatically to believe in the Messenger ﷺ . بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (And the sky was built by Us with might, and indeed, We are the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

43 After presenting historical arguments 'for the Hereafter, now arguments from the universe arc being presented in proof of the same. 44 The word must' (pl. musi'un) may mean the one who possesses power and means, and also the one who can extend and expand something. According to the first meaning, the verse would mean: "We have built this heaven by Our own might and not with somebody else's help, and its erection was in no way beyond Us. Then how can you ever conceive that We shall not be able to recreate it ?" According to the second meaning, it would mean: "This huge universe that We have…

Read the full tafseer →