Adh-Dhaariyat 51:41

Adh-Dhaariyat · from ayah 41

51:41

وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ ۟ۚوَفِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ

اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And in 'Aad [was a sign], when We sent against them the barren wind.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:41

اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی طرح عادیوں میں بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے خالی آندھی بھیجی

— مولانا محمد جوناگڑہی

نیز قوم عاد میں (بھی ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے ان پر ایک ایسی آندھی بھیجی جو ہر بہتری سے بانجھ دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور عاد میں جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (قومِ) عاد (کی ہلاکت) میں بھی (نشانی) ہے جبکہ ہم نے اُن پر بے خیر و برکت ہوا بھیجی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عاد میں، جب ہم نے ان پر بانجھ (خیرو برکت سے خالی) آندھی بھیجی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور عاد کے قصہ میں بھی (ایک نشانی چھوڑی ہے) جبکہ ہم نے ان پر تباہ کن آندھی چھوڑ دی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور عاد کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب کہ ہم نے ان پر بادخشک چلادی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور عاد (کے قصہ) میں بھی (ہم نے بڑی بھاری نشانی رکھ دی) جب کہ ہم نے ان پر وہ انتہائی سخت آندھی بھیجی وہ (ایسی ہولناک ہوا تھی کہ) جس چیز پر سے بھی وہ گزرتی اس کو بوسیدہ کر کے رکھ دیتی

— مولانا اسحاق مدنی

اور عاد (کے قصہ میں بھی عبرت ہے) جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قوم عاد میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر ایک ایسی ہوا چھوڑ دی تھی جوہر خیر سے خالی تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور عاد کی قوم کے حالات میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر تباہ کن آندھی چلائی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is also a Sign for you in (the story of) Ad, when We let loose upon them an ominous wind

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (a similar sign was left) in (the story of) 'Aad, when We sent upon them the wind that was barren (from any benefit);

— Muhammad Taqi Usmani

And (a similar sign was left) in (the story of) Aad, when We sent upon them the wind that was barren (from any benefit);

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in `Ad when We sent against them the barren wind;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in (the tribe of) A'ad (there is a portent) when we sent the fatal wind against them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And in 'Aad [was a sign], when We sent against them the barren wind.

— Saheeh International

There is also evidence of the Truth in the story of Ad whom We struck with a violent wind

— Muhammad Sarwar

And in Ad: When We sent upon them the destructive wind.

— Muhammad Habib Shakir

And in `A-ad also was a lesson, when We sent against them the barren wind.

— Abdul Majid Daryabadi

And in the 'Ad (people) (was another Sign): Behold, We sent against them the devastating Wind:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–46

انجام تکبر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة الذّٰرِیٰت 38 اس چھوٹے سے فقرے میں تاریخ کی ایک پوری داستان سمیٹ دی گئی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ذرا چشم تصور کے سامنے یہ نقشہ لے آئیے کہ فرعون اس وقت دنیا کے سب سے بڑے مرکز تہذیب و تمدن کا عظیم فرمانروا تھا جس کی شوکت و سطوت سے گرد و پیش کی ساری قومیں خوف زدہ تھیں۔ ظاہر بات ہے کہ وہ جب اپنے لشکروں سمیت اچانک ایک روز غرقاب ہوا ہوگا تو صرف مصر ہی میں نہیں، آس پاس کی تمام قوموں میں اس واقعہ کی دھوم مچ گئی ہوگی۔ مگر اس پر بجز ان لوگوں کے جن کے اپنے قریبی رشتہ دار غرق ہوئے تھے، باقی کوئی نہ تھا جو ان کے اپنے ملک میں، یا دنیا کی دوسری قوموں میں ماتم کرتا یا ان کا مرثیہ کہتا، یا کم از کم یہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–46

قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وفی عاداذارسلناعلیھم الریح العقیم (41) قوم عاد کے انجام کی طرف اشارہ یہ قوم عاد کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کی سرگزشت میں بھی عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے بڑاسامان موجود ہے جب کہ ہم نے ان کے اوپر ایک بادخشک مسلط کردی۔ الریحالعقیم، وہ ہوا جو بالکل بےفیض ہو، جو نہ بارش لائے نہ کوئی اور نفع پہنجائے۔ عربی میں بارش لانے والی ہوائوں کو الواقح (بادآور) کہتے ہیں اور بےفیض ومضر ہوائوں کے لئے عقیم (بانجھ) کی صفت آتی ہے۔ مراد اس سے سرما کی ٹھنڈی اور خشک ہوا ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا فارسلناعلیھم ریحاً صرصرافی ایام نحسات (حم السجدۃ : 16) (پس ہم نے ان کے اوپر ہوائے تند مسلط کردی نحوست (سرما) کے دنوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 ای ترکنا فی قصۃ عاد آیۃ عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔ 41۔ 2 الریح العقیم (بانجھ ہوا) جس میں خیر و برکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–45

14: یعنی وہ عذاب کی آندھی تھی، اس لیے ہواؤں میں عام طور سے جو فائدے ہوا کرتے ہیں، وہ اس میں نہیں تھے۔ قوم عاد کا تعارف سورة اعراف : 65 میں اور قوم ثمود کا تعارف سورة اعراف : 73 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–42

اور پھر ایک دوسری تاریخی نشانی قوم عاد پر ایک نظر : وفی عاد ........ العقیم (14) ما تذر ........ کالرمیم (15 : 24) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ “ اور قوم عاد پر جو ہوا بھیجی گئی اسے یہاں عقیم (بانجھ) کہا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس ہوا میں نہ پانی تھا نہ خیر کی کوئی چیز جو سبب حیات ہو جیسا کہ اس ہوا سے قوم عاد توقع کرتی تھی۔ اس کے برعکس اس میں تباہی اور ہلاکت ہی تھی۔ یہ ہوا جس چیز کو بھی لگتی اسے مردہ کردیتی تھی۔ اس طرح جس طرح کوئی مردہ بوسیدہ ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ہوا ان کائناتی قوتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 41–42

9 یعنی عذاب کی آندھی آئی جو خیر و برکت سے یکسر خالی تھی۔ اس نے مجرموں کی جڑ کاٹ ڈالی اور جس چیز پر گزری اس کا چورا کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41{ وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ۔ } ”اور قوم عاد میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر ایک ایسی ہوا چھوڑ دی تھی جوہر خیر سے خالی تھی۔“ عَقِیْم کے معنی بانجھ کے ہیں ‘ یعنی ایسا مرد یا ایسی عورت جس کے اولاد پیدا نہ ہوتی ہو۔ قبل ازیں آیت 29 میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ اس مفہوم میں اَلرِّیْحَ الْعَقِیْمَ سے مراد ایسی ہوا ہے جو ہر قسم کی خیر سے خالی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 قوم عاد پر تباہ کُن ہوا :۔ (رِیْحَ الْعَقِیْمِ ) لفظی معنی بانجھ ہوا۔ یعنی ایسی ہوا جو ہر طرح کی خیرو برکت سے خالی ہو۔ اور اس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہو۔ بعض ہوائیں راحت پہنچانے والی، بعض خوشبو سے دماغ کو معطر کردینے والی، بعض بارش کی خوشخبری لانے والی، بعض بادل اٹھانے والی اور بعض نر درختوں کا تخم اٹھانے والی ہوتی ہیں۔ ان سب میں کوئی نہ کوئی خیر و برکت کا پہلو ہوتا ہے مگر جو ہوا قوم عام پر چھوڑی گئی وہ ہر طرح کی خیر وبرکت سے خالی اور بانجھ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

24۔ (اور یہی اس آندھی کانامبارک ہونا تھا) طوفان باد قوم عاد پر اس غضب کا آیا تھا کہ اس سے وہاں کی ہر قابل اہلاک چیز کی ہلاکت کامل واقع ہوگئی تھی۔ قوم عاد اور حضرت ہود (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–46

وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ نشانی کیا تھی ؟ بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَفِیْ عَادٍ : یعنی قوم عاد کو ہلاک کردینے میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی چھوڑدی۔ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ : ایسی ہوا جس میں کوئی خیر و برکت نہ ہو۔ نہ بارش کو لے کر آئے ‘ نہ درختوں کو فائدہ پہنچائے۔ یہ ہوا پچھوا تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پروا ہوا بھیج کر میری مدد کی گئی اور پچھوا ہوا سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) اور قوم ہود کے واقعہ بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر سخت ترین نامراد آندھی بھیجی کہ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہی نہ تھی جس چیز پر وہ گزرتی تھی اس کو ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز مٹی کی طرح ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وفی عاد اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم : یعنی قوم عاد میں بھی ہم نے ایک نشانی اور بڑی عبرت چھوڑی۔ ”العقیم“ وہ رحم یا عورت جس سے بچہ پیدا نہ ہو، ایسے مرد کو بھی ”عقیم“ کہتے ہیں، پھر ہر اس چیز کو بھی جو خیرو برکت سے خالی ہو۔ قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی وہ بھی ہر خیر و برکت سے خالی اور سراسر بربادی اور تباہی تھی، اس لئے اسے ”العقیم“ فرمایا۔ اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة حاقہ (6 تا 8) ، قمر (19، 20) اور سورة احقاف (24، 25)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

و فی عاد اذا ارسلنا علیھم الریح العقیم، ماتذر من شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالر میم ،۔ اور (قصہ) عاد میں نشان عبرت ہے جب ہم ان پر آندھی بھیجی جو خیرو برکت سے خالی تھی نہیں چھوڑتی تھی کسی چیز کو جس پر گزرتی مگر اس کو ریزہ ریزہ کردیتی۔ وفی عاد ہم نے عاد میں ان لوگوں کے لئے نشانی چھوڑی جو غور فکر کریں۔ اذارسلنا علیھم الریح العقیم، اریح العقیم سے مراد وہ ہوا ہے جو نہ بادلوں کے بننے کا باعث بنتی ہے نہ درختوں میں ملاقحہ کا عمل کرتی ہے نہ اس میں رحمت، برکت، اور منفعت ہوتی ہے اسی سے امراۃ عقیم ہے جو نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے۔ پھر یہ کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ ہوا ہے جسے جنوب کہتے ہیں۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

1:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' (نامبارک آندھی) یعنی سخت ہوا آندھی جو کسی قسم کا نفع نہیں دیتی۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی عاد اذارسلنا علیہم الریح العقیم '' (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی) یعنی (آیت ) '' الریح العقیم '' سے وہ ہوا مراد ہے جو درخت کا گابھن نہیں کرتی اور بادل کو نہیں چلاتی اور فرمایا (آیت ) '' الا جعلتہ کالرمیم '' (مگر اس کو ریزہ ریزہ خاک کی طرف کرکے چھوڑ دیتی ہے) یعنی ہوا نے اسے ہلاک ہونے والی چیز کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَفِيْ عَادٍ [ اور (ایک نشانی ) عاد میں ] اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ [ جب ہم نے بھیجا ان پر ] الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ [ بےبرکت سخت ہوا (آندھی ) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–45

فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

13:۔ ” وفی عاد “ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے اور معطوف علیہ سابق پر معطوف ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت کو بھی ہم نے عبرت کا نشان بنادیا جب کہ ہم نے ان پر ایک ہوا مسلط کی جو ہر قسم کی خیر و برکت اور ہر نوع نفع سے خالی تھی اور تند وتیز اس غضب کی کہ جس چیز پر اس کا گذر ہوگیا اسے چورہ کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–46

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَفِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ۝ 41 ۚ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ ۔ (الذریٰت : 41) (اور عاد کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب ہم نے ان پر ایک بادخشک بھیجی۔ ) قومِ عاد کے انجام سے استدلال عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے قوم عاد میں بھی نشانیاں موجود ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کے رسول تشریف لائے۔ ان کی ہدایت کے لیے انھوں نے نہ جانے کب تک خون جگر پی پی کر ان کو سمجھایا۔ لیکن جب یہ لوگ راہ راست پر آنے کی بجائے ان کی جان کے درپے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بادخشک مسلط کردی۔ عَقِیْمَعربی زبان میں بانجھ عورت کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور ہر ایسی چیز کے لیے بھی جو بےفیض ہو، جس کے اندر نہ کوئی نفع رسانی کی طاقت ہو،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے انجام کے بعد قوم عاد کا حشر۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جس کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلند وبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل لوگ تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خیر سے خالی ہوا : آیت 41 : وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے۔ جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی) عقیم وہ جس میں کوئی خیر بارش وغیرہ میں سے نہ تھی یا درختوں کو ثمر بار کرنے سے خالی تھی وہ ہلاکت کی ہوا تھی۔ اس کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔ قول اظہر : سب سے ظاہر قول یہ ہے۔ کہ وہ دبور۔ پچھم کی ہوا تھی اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ نصرت بالصباو اہلکت عاد بالدّبور۔ (رواہ احمد 324۔ مسلم /900)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40 ۔” فاخذناہ و جنودہ فنبذنا ھم فی الیم “ ہم نے ان کو اس میں غرق کردیا۔ ” وجوملیم “ یعنی وہ کام کرنے والا تھا جس پر اس کو ملامت کی جائے ربوبیت کے دعویٰ اور رسولوں کی تکذیب وغیرہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–46

38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَفِيْ عَادٍ ۔ اور عاد میں بھی ) ۔ نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا ( اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ ) جب انہوں نے اپنے نبی ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–44

[ 40] قوم عاد میں پائے جانے والے درس عبرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور عاد میں بھی جبکہ ہم نے ان پر بھیجی و انتہائی سخت آندھی۔ عقیم دراصل بانجھ عورت کو کہا جاتا ہے۔ سو اس میں اس ہوا کو بانجھ عورت سے تشبیہہ دی گئی ہے، کہ جس طرح وہ نہ حاملہ ہوتی ہے نہ بچہ جنتی ہے، اسی طرح اس ہوا میں بھی کوئی خیر نہ تھی۔ بلکہ یہ سراسر تباہی کے لئے چھوڑ دی گئی تھی، جس نے اس بدبخت قوم کو ہمیشہ ہمیش کے لئے خاتمہ کردیا گیا، والعیاذ باللّٰہ، سو عاد کی اس بدبخت قوم پر عذاب لانے والی وہ ہولناک ہوا ایسی بےفیض ہوا تھی جو نہ بارش لائے، اور نہ کسی طرح کا کوئی اور نفع پہنچائے، واضح رہے کہ عربی زبان میں بارش لانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 11 عقیم دراصل ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی خیر و برکت سے خالی ہو۔ اس سے بانجھ عورت کو عظیم کہا جاتا ہے اور قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی تھی وہ بھی بےخیر و برکت تھی اور تباہی و بربادی کے سوا اس سے کچھ حاصل نہ تھا، اس لئے اسے عظیم فرمایا۔ چناچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : یعنی وہ ہوا جس میں نہ خیر و برکت ہوا اور نہ کسی قسم کی منفعت (روح) سورة حاقہ میں ہے کہ قوم عاد پر آندھی آٹھ دن اور سات رات مسلسل چلتی رہی اور یہ پچھمی ہوا تھی۔ حدیث میں ہے نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور کہ میری مدد پوریی ہوا سے کی گئی اور قوم عاد پچھمی ہوا سے ہلاک کی گئی۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:41) وفی عاد : اس کا عطف بھی وترکنا فیہا پر ہے ای و ترکنا فی ہلکۃ قوم عاد ایۃ : یعنی قوم عاد کی ہلاکت و تباہی میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی چھوڑی۔ الریح العقیم : موصوف وصفت مل کر ارسلنا کا مفعول ۔ وہ آندھی جو خیر و برکت سے خالی ہو نہ تو بادلوں کو اڑا کر لائے اور نہ درختوں کو بار آور کرے : نہ اس میں رحمت کا کوئی شائبہ ہو۔ وہی التی لاتلقح سحابا ولا شجراً ولارحمۃ فیہا ولابرکۃ ولا منفعۃ۔ (قرطبی) نیز ملاحظہ ہو 51:29 ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–46

(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–43

سدومیوں کی بداخلاقی 1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) اور عاد کے واقعہ میں بھی عبرت اور سبق آموز نشانی ہے جب ہم نے ایک نامبارک اور بےمنفعت ہوا بھیجی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–42

ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عاد قوم میں بھی عبرت کے نشانات ہیں جن پر ایک سخت آندھی بھیجی گئی 41 ؎ عاد قوم کی طرف ہود (علیہ السلام) کی نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ عاد کے متعلق ہم پیچھے تفصیلی بحث عرض کرچکے ہیں اور اس کا ذکر ہود (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بھی کیا گیا ہے اور ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی جلد چہارم سورة ہود میں ہی میل کی۔ اگر اس واقعہ کی تفصیلات دیکھنا ہوں تو جلد سوم سورة الاعراف آیت 65 ‘ جلد چہارم سورة ہود آیات 50 ‘ 53 ‘ 58 ‘ 60 ‘ 89 ‘ جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 124 ‘ کی تفسیر دیکھیں۔ وہاں بتایا گیا ہے کہ عاد عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار ‘ صاحب جماعت کا نام ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–46

After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

39 The word used for this wind is aqim, which is used for a barren woman, though literally it means dry. If the literal meaning is taken it would mean that it was such an intensely hot and dry wind that on whatever it blew it caused it to become absolutely dry; and if it is taken in the idiomatic sense it would mean that like a barren woman it was a wind without any benefit: neither it was pleasant, nor it brought rain, nor fertilized the trees, nor contained any other benefit for which the wind blows. At other places it has been stated that this wind was not only useless and dry but it blew…

Read the full tafseer →