Explained with ayahs 38–46
انجام تکبر
ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 39
اس ہوا کے لیے لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جو بانجھ عورت کے لیے بولا جاتا ہے، اور لغت میں اس کے اصل معنی یابس (خشک) کے ہیں۔ اگر اسے لغوی معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایسی سخت گرم و خشک ہوا تھی کہ جس چیز پر سے وہ گزر گئی اسے سکھا کر رکھ دیا۔ اور اگر اسے محاورے کے مفہوم میں لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ بانجھ عورت کی طرح وہ ایسی ہوا تھی جو اپنے اندر کوئی نفع نہ رکھتی تھی۔ نہ خوشگوار تھی، نہ بارش لانے والی، نہ درختوں کو بار آور کرنے والی، اور نہ ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ اس میں تھا جن کے لیے ہوا کا چلنا مطلوب ہوتا ہے۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔
اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →ماتذرمن شیء انت علیہ الا جعلتہ کالرمیم (42)
یہ اس ہوا کی ہلاکت انگیزی کی تصویر ہے کہ جس چیز پر بھی اس کا گزر ہوا اس کو اس نے ریزہ ریزہ کرچھوڑا۔ رمیم، لکڑی، رسی اور ہڈی وغیرہ کے بوسیدہ ٹکڑوں اور ریزوں کو کہتے ہیں۔ سردہوا کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنی ٹھنڈک اور خشکی کے سبب سے اشیاء کی قوت اور ان کی تازگی وزندگی ختم کردیتی ہے اور وہ غیرمعمولی طور پر تند بھی ہو تو فصلوں، نباتات اور تمام زندہ چیزوں کو توڑ پھوڑ کر بالکل خس و خاشاک کے مانند بنادیتی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہی بات یوں بیان ہوئی ہے۔ انا ارسلنا علیھم ریحاً صرصرافی یوم نحس مستمرہ تنزع الناس، کا نھم اعجازنحل منقعر (القمر : 19۔ 20) (ہم نے ان…
Read the full tafseer →42۔ 1 یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی (الحاقہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
14: یعنی وہ عذاب کی آندھی تھی، اس لیے ہواؤں میں عام طور سے جو فائدے ہوا کرتے ہیں، وہ اس میں نہیں تھے۔ قوم عاد کا تعارف سورة اعراف : 65 میں اور قوم ثمود کا تعارف سورة اعراف : 73 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
اور پھر ایک دوسری تاریخی نشانی قوم عاد پر ایک نظر :
وفی عاد ........ العقیم (14) ما تذر ........ کالرمیم (15 : 24) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں ، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ “
اور قوم عاد پر جو ہوا بھیجی گئی اسے یہاں عقیم (بانجھ) کہا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس ہوا میں نہ پانی تھا نہ خیر کی کوئی چیز جو سبب حیات ہو جیسا کہ اس ہوا سے قوم عاد توقع کرتی تھی۔ اس کے برعکس اس میں تباہی اور ہلاکت ہی تھی۔ یہ ہوا جس چیز کو بھی لگتی اسے مردہ کردیتی تھی۔ اس طرح جس طرح کوئی مردہ بوسیدہ ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ ہوا ان کائناتی قوتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
9 یعنی عذاب کی آندھی آئی جو خیر و برکت سے یکسر خالی تھی۔ اس نے مجرموں کی جڑ کاٹ ڈالی اور جس چیز پر گزری اس کا چورا کر کے رکھ دیا۔
Read the full tafseer →آیت 42{ مَا تَذَرُ مِنْ شَیْئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلَّا جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ۔ } ”وہ نہیں چھوڑتی تھی کسی شے کو جس پر وہ آجاتی تھی مگر اس کو چوراچورا کر کے رکھ دیتی تھی۔“
Read the full tafseer →36 یہ بانجھ ہوا باد صرصر تھی اولوں کی طرح ٹھنڈی یخ اور آندھی سے بھی زیادہ تیز۔ جو بےقابو ہوئی جارہی تھی۔ یہ طوفانی ہوا ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلی۔ ان کے مکانوں کے اندر داخل ہو کر ہر چیز کو فنا کر رہی تھی۔ اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر پہلے بھی گزر چکا ہے اور بعد میں بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
24۔ (اور یہی اس آندھی کانامبارک ہونا تھا) طوفان باد قوم عاد پر اس غضب کا آیا تھا کہ اس سے وہاں کی ہر قابل اہلاک چیز کی ہلاکت کامل واقع ہوگئی تھی۔ قوم عاد اور حضرت ہود (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وہ نشانی کیا تھی ؟
بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…
Read the full tafseer →کَالرَّمِیْمِ : رمیم کا لفظ رمٌّ سے مشتق ہے۔ رمٌّ کے معنی بوسیدہ ‘ فرسودہ اور ریزہ ریزہ ہوجانا۔ یعنی پچھوا ہوا جس چیز پر لگی ‘ اس کو راکھ بنا دیا (سب کو جلا ڈالا ‘ تباہ کردیا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور قوم ہود کے واقعہ بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر سخت ترین نامراد آندھی بھیجی کہ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہی نہ تھی جس چیز پر وہ گزرتی تھی اس کو ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز مٹی کی طرح ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →ماتذرمن شیء اتت علیہ …:”الرمیم“ بوسیدہ، پرانی، گلی ہوئی ہڈی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
و فی عاد اذا ارسلنا علیھم الریح العقیم، ماتذر من شیء اتت علیہ الا جعلتہ کالر میم ،۔ اور (قصہ) عاد میں نشان عبرت ہے جب ہم ان پر آندھی بھیجی جو خیرو برکت سے خالی تھی نہیں چھوڑتی تھی کسی چیز کو جس پر گزرتی مگر اس کو ریزہ ریزہ کردیتی۔ وفی عاد ہم نے عاد میں ان لوگوں کے لئے نشانی چھوڑی جو غور فکر کریں۔ اذارسلنا علیھم الریح العقیم، اریح العقیم سے مراد وہ ہوا ہے جو نہ بادلوں کے بننے کا باعث بنتی ہے نہ درختوں میں ملاقحہ کا عمل کرتی ہے نہ اس میں رحمت، برکت، اور منفعت ہوتی ہے اسی سے امراۃ عقیم ہے جو نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے۔ پھر یہ کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ ہوا ہے جسے جنوب کہتے ہیں۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
1:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الریح العقیم '' (نامبارک آندھی) یعنی سخت ہوا آندھی جو کسی قسم کا نفع نہیں دیتی۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وفی عاد اذارسلنا علیہم الریح العقیم '' (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی) یعنی (آیت ) '' الریح العقیم '' سے وہ ہوا مراد ہے جو درخت کا گابھن نہیں کرتی اور بادل کو نہیں چلاتی اور فرمایا (آیت ) '' الا جعلتہ کالرمیم '' (مگر اس کو ریزہ ریزہ خاک کی طرف کرکے چھوڑ دیتی ہے) یعنی ہوا نے اسے ہلاک ہونے والی چیز کی…
Read the full tafseer →مَا تَذَرُ [ وہ نہیں چھوڑتی ] مِنْ شَيْءٍ [ کسی بھی چیز کو ] اَتَتْ عَلَيْهِ [ وہ پہنچی جس پر ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] جَعَلَتْهُ [ وہ کردیتی اس کو ] كَالرَّمِيْمِ [ بوسیدہ چیز کی طرح ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
13:۔ ” وفی عاد “ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے اور معطوف علیہ سابق پر معطوف ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت کو بھی ہم نے عبرت کا نشان بنادیا جب کہ ہم نے ان پر ایک ہوا مسلط کی جو ہر قسم کی خیر و برکت اور ہر نوع نفع سے خالی تھی اور تند وتیز اس غضب کی کہ جس چیز پر اس کا گذر ہوگیا اسے چورہ کر کے رکھ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…
Read the full tafseer →مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْہِ اِلَّا جَعَلَتْہُ كَالرَّمِيْمِ 42 ۭ
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →مَا تَذَرُ مِنْ شَیْ ئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلاَّ جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ ۔ (الذریٰت : 42)
(وہ جس چیز پر بھی گزرتی اس کو بوسیدہ کردیتی۔ )
ہَوا کی ہلاکت انگیزی
قومِ عاد پر جو ہوا بھیجی گئی یہ اس کی ہلاکت انگیزی کی تصویر ہے کہ وہ ایسی خشک اور ٹھنڈی تھی اور اس قدر تند تھی کہ جس چیز پر بھی اس کا گزر ہوا اس نے اس کو بوسیدہ اور ریزہ ریزہ کردیا۔ رَمِیْمِ لکڑی، رسی اور ہڈی وغیرہ کے بوسیدہ ٹکڑوں اور ریزوں کو کہتے ہیں۔
قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر یہ وضاحت کی ہے کہ یہ ہوا صرف بےخیر اور خشک ہی نہ تھی بلکہ نہایت شدید آندھی کی شکل میں آئی تھی جس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا۔ گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے انجام کے بعد قوم عاد کا حشر۔
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جس کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلند وبالا پہاڑ تھے۔
اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل لوگ تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو…
Read the full tafseer →تکذیب کے نتیجہ میں ہر چیز ریزہ ہوگئی :
آیت 42 : مَا تَذَرُ مِنْ شَیْئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلاَّ جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ (جس چیز پر گزرتی اس کو ایسا کردیتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے) الرمیم : ہر وہ چیز جو ریزہ ریزہ ہو یعنی پرانی ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔ نمبر 2۔ خواہ وہ ہڈی ہو یا نبات یا اور
کوئی چیز مطلب یہ ہوا۔ کہ اس ہوا کا گزر ان کی جس چیز چوپائے ٗ کھیتیاں ٗ اموال پر ہوتا اس کو وہ تہس نہس کردیتی۔
Read the full tafseer →41 ۔” وفی عاد “ یعنی اور عاد کے ہلاک کرنے میں بھی نشانی ہے۔ ” اذارسلنا علیھم الریح العقیم “ اور وہ ایسی ہوا جس میں کوئی خیر اور برکت اور بارش نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…
Read the full tafseer →(مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيْمِ ) وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیر نہیں چھوڑتی یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کرڈالا، کامل قوت واقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[ 40] قوم عاد میں پائے جانے والے درس عبرت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور عاد میں بھی جبکہ ہم نے ان پر بھیجی و انتہائی سخت آندھی۔ عقیم دراصل بانجھ عورت کو کہا جاتا ہے۔ سو اس میں اس ہوا کو بانجھ عورت سے تشبیہہ دی گئی ہے، کہ جس طرح وہ نہ حاملہ ہوتی ہے نہ بچہ جنتی ہے، اسی طرح اس ہوا میں بھی کوئی خیر نہ تھی۔ بلکہ یہ سراسر تباہی کے لئے چھوڑ دی گئی تھی، جس نے اس بدبخت قوم کو ہمیشہ ہمیش کے لئے خاتمہ کردیا گیا، والعیاذ باللّٰہ، سو عاد کی اس بدبخت قوم پر عذاب لانے والی وہ ہولناک ہوا ایسی بےفیض ہوا تھی جو نہ بارش لائے، اور نہ کسی طرح کا کوئی اور نفع پہنچائے، واضح رہے کہ عربی زبان میں بارش لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 11 عقیم دراصل ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی خیر و برکت سے خالی ہو۔ اس سے بانجھ عورت کو عظیم کہا جاتا ہے اور قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی تھی وہ بھی بےخیر و برکت تھی اور تباہی و بربادی کے سوا اس سے کچھ حاصل نہ تھا، اس لئے اسے عظیم فرمایا۔ چناچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : یعنی وہ ہوا جس میں نہ خیر و برکت ہوا اور نہ کسی قسم کی منفعت (روح) سورة حاقہ میں ہے کہ قوم عاد پر آندھی آٹھ دن اور سات رات مسلسل چلتی رہی اور یہ پچھمی ہوا تھی۔ حدیث میں ہے نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور کہ میری مدد پوریی ہوا سے کی گئی اور قوم عاد پچھمی ہوا سے ہلاک کی گئی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(51:42) ما تذر من شیٔ اتت علیہ۔ ما نافیہ ہے۔ تذر مضارع واحد مؤنث غائب (ضمیر فاعل الریح العقیم کی طرف راجع ہے) وہ نہیں چھوڑتی ہے۔ وذر (باب فتح) مصدر۔ اس کا صرف مضارع اور امر استعمال ہوتا ہے۔ اتت مضارع واحد مؤنث غائب اتیان (باب ضرب) مصدر وہ آتی۔ وہ پڑی۔ علیہ میں ہ ضمیر مذکر غائب کا مرجع شی۔ وہ جس شے پر پڑتی اسے نہ چھوڑتی۔
الا حرف استثناء ۔ مگر
جعلتہ : جعلت : ماضی واحد مؤنث : ضمیر فاعل کا مرجع الریح ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب شی کے لئے ہے۔
کالرمیم۔ ک تشبیہ کا ہے۔ رمیم استخوان بوسیدہ، گلی ہوئی ہڈی۔ رمۃ (جس کے معنی ہڈیوں کے بوسیدہ ہوجانے کے ہیں) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع ارماء ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
سدومیوں کی بداخلاقی
1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…
Read the full tafseer →(42) وہ آندھی اور تیز ہوا کسی چیز پر نہیں گزرتی تھی مگر یہ کہ وہ ہوا اس کو ایسا کردیا کرتی تھی جیسے چورایا بوسیدہ اور گلی ہوئی ہڈی۔ قوم عاد وہی ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا تفصیل ذکر سورة ہود اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ سورة شعراء اور سو رہ احقاف میں بھی ذکر آیا ہے ۔
ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا کہا نہ مانا اور ان کی مخالفت کی آخر ان پر پچھوا ہوا کا عذاب بھیجا وہ ہوا ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی۔
ہوا کو قرآن میں عقیم فرمایا یعنی عقیم سے مشتق ہے عقیم اصل میں تو اس عورت کو کہتے ہیں جس کی بچہ دانی کسی خرابی کی وجہ سے اولاد نہ پیدا کرسکے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔
Read the full tafseer →وہ آندھی جس پر بھی گزری اس نے ہر ایک چیز کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا
42 ؎ ان کا انجام بھی بڑا ہی عبرت ناک ہوا ان کی سرکشی جب حد سے تجاوز کرگئی تو ان کو راہ راست پر لانے کی ساری تدبیریں ان پر آزما لی گئی تھیں اور ہود (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ صلاحیتوں کو انہوں نے نہایت سختی سے دبانے کی کوشش کی یہاں تک کہ انہوں نے برملا ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس ڈھونگ میں آنے والے نہیں کہ تجھ کو اللہ کا رسول مان لیں اور اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑ کر یہ یقین کرلیں کہ وہ رب کریم کے سامنے ہمارے سفارشی نہیں ہوں گے۔ ہود (علیہ السلام) نے بھی ان سے کہا کہ نہ تو میں بیوقوف ہوں اور نہ پاگل بلکہ بلاشبہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
39 The word used for this wind is aqim, which is used for a barren woman, though literally it means dry. If the literal meaning is taken it would mean that it was such an intensely hot and dry wind that on whatever it blew it caused it to become absolutely dry; and if it is taken in the idiomatic sense it would mean that like a barren woman it was a wind without any benefit: neither it was pleasant, nor it brought rain, nor fertilized the trees, nor contained any other benefit for which the wind blows. At other places it has been stated that this wind was not only useless and dry but it blew…
Read the full tafseer →