Adh-Dhaariyat 51:40

Adh-Dhaariyat · from ayah 40

51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَهُوَ مُلِیْمٌ ۟ؕفَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌؕ

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We took him and his soldiers and cast them into the sea, and he was blameworthy.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:40

آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے اُسے اور اُس کے لشکر کو (عذاب کی) گرفت میں لے لیا اور اُن (سب) کو دریا میں غرق کر دیا اور وہ تھا ہی قابلِ ملامت کام کرنے والا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے اس کو اور اس کی فوج کو پکڑا اور ان کو پھینک دیا سمندر میں۔ اور اس کے لئے وہ خود سزاوار ملامت تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار ہم نے پکڑا اس کو بھی اور اس کے لشکروں کو بھی پھر ان سب کو ہم نے (کچرے کی طرح) پھینک دیا سمندر میں اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ تھا

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سو ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو اور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا کیونکہ وہ تھا ہی ملامت کے قابل۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So We seized him and his hosts, and cast them into the sea. He became an object of much blame.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So We seized him and his army, and cast them into the sea, as he was of culpable behaviour.

— Muhammad Taqi Usmani

So We seized him and his army, and cast them into the sea, as he was of culpable behaviour.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So We took him and his armies, and dumped them into the sea (Yamm), for he was blameworthy.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So We seized him and his hosts and flung them in the sea, for he was reprobate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We took him and his soldiers and cast them into the sea, and he was blameworthy.

— Saheeh International

We seized him and his army and threw them into the sea. He himself was to be blamed.

— Muhammad Sarwar

So We seized him and his hosts and hurled them into the sea and he was blamable.

— Muhammad Habib Shakir

Then We laid hold of him and his hosts and flung them into the sea, and he was reproachable.

— Abdul Majid Daryabadi

So We took him and his forces, and threw them into the sea; and his was the blame.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–46

انجام تکبر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة الذّٰرِیٰت 38 اس چھوٹے سے فقرے میں تاریخ کی ایک پوری داستان سمیٹ دی گئی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ذرا چشم تصور کے سامنے یہ نقشہ لے آئیے کہ فرعون اس وقت دنیا کے سب سے بڑے مرکز تہذیب و تمدن کا عظیم فرمانروا تھا جس کی شوکت و سطوت سے گرد و پیش کی ساری قومیں خوف زدہ تھیں۔ ظاہر بات ہے کہ وہ جب اپنے لشکروں سمیت اچانک ایک روز غرقاب ہوا ہوگا تو صرف مصر ہی میں نہیں، آس پاس کی تمام قوموں میں اس واقعہ کی دھوم مچ گئی ہوگی۔ مگر اس پر بجز ان لوگوں کے جن کے اپنے قریبی رشتہ دار غرق ہوئے تھے، باقی کوئی نہ تھا جو ان کے اپنے ملک میں، یا دنیا کی دوسری قوموں میں ماتم کرتا یا ان کا مرثیہ کہتا، یا کم از کم یہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–46

قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاخذنہ وچنودہ فنیذنھم فی الیم وھومسلیم (40) یعنی تب ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا۔ یہاں فوجوں کا ذکر اس کے سرمایہ غرور کی حیثیت سے ہوا ہے کہ اس لئے کہ انہی کا اعتماد اس کے اشکبارکا اصل سبب تھا۔ فرعون اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے کی جو شکل ہوئی اس کا ذکر پچھلی سورتوں میں ہوچکا ہے۔ وہی بات یہاں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ گویا ان کی حیثیت خاک اور راکھ کی ایک مٹھی سے زیادہ نہیں تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بےپناہی کی تعبیر ہے کہ بڑے سے بڑے متکبر کا سارا سرمایہ غرور اس کی قدرت کے آگے ایک مشت خس سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاخذنہ ........ ملیم (15 : 04) ” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہوکر رہ گیا “ یعنی اس نے جو سرکشی اور حق کو جھٹلایا اس کی وجہ سے وہ ملامت کا مستحق ہوکر رہ گیا۔ انداز تعبیر میں واضح طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کو اور اس کے لشکروں کو براہ راست اللہ نے پکڑا اور دریا میں پھینک دیا۔ یہ پہلو اس لئے اجاگر کیا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں نشانی کا پہلو ظاہر ہوجائے کیونکہ یہاں آفاق وانفس اور تاریخ سے اللہ کی نشانیوں کو گنوایا جارہا ہے۔ تاریخ سے رسولوں کے قصص دراصل نشانات راہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ہم نے زیادتی نہیں کی۔ الزام اسی پر ہے کہ اس نے کفر اور سرکشی اختیار کی، سمجھانے پر بھی باز نہ آیا۔ آخر جو بویا تھا وہ ہی کاٹا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْْیَمِّ وَہُوَ مُلِیْمٌ۔ } ”سو ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو اور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 یعنی جب یہ ظالم و جابر حکمران اپنے لشکروں سمیت غرق ہوگیا تو کسی نے ان کی تباہی پر آنسو نہ بہائے۔ ہر کوئی انہیں ملامت کرتا اور برے لفظوں سے یاد کرتا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس ملعون سے جان چھوٹی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 39–40

23۔ (اور مستحق عذاب) (آیت) ” برکنہ “۔ اپنی قوت یا اپنے سازوسامان زعم وپندار میں۔ رکن کے معنی قوت یا سازوسامان کے بھی آتے ہیں۔ اور اس ترکیب کو مان کر ب، باء تعدیہ ہوگی۔ یستعار للقوۃ (راغب) قیل بقوتہ و سلطانہ (بحر) والرکن مایرکن الیہ الانسان من مال وجند (مدارک) ” اپنے زور پر “ (شاہ عبدالقادر (رح) دہلوی) ۔ والباء للتعدیۃ حینئذ بمعنی فقوی بجندہ (کبیر) رکن کے معنی قوم کے بھی لیے گئے ہیں۔ اس صورت میں ب باء مصاحبۃ ہوگی، اور ترجمہ ہوگا، ” مع اپنی قوم کے “۔ الباء للمصابحۃ والرکن اشارۃ للقوم (کبیر) (آیت) ” وھو ملیم “۔ یعنی یہ سزائے غرقابی اس کے حق میں ظلم ذرا سی بھی نہ تھی۔ (آیت) ” ملیم “۔ اسم فاعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–46

وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ نشانی کیا تھی ؟ بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم و ھو ملیم . تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا اور اس نے کام ہی ملامت کا کیا تھا۔ فَنَبَذْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ : یعنی ہم نے ان کو دریا میں پھینک کر غرق کردیا۔ وَھُوَ مُلِیْمٌ : یعنی کفر ‘ تکبر اور حق سے عداوت جیسے قابل ملامت افعال کا مرتکب تھا اور مستحق ملامت تھا۔ وفی عاد اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم ما تذر من شی انت علیہ الا جعلتہ کالرمیم . اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی ‘ وہ جس چیز پر سے گزرتی تھی (اور اس چیز کو تباہ کرنے کا حکم ہوتا تھا) اس کو ریزہ ریزہ ‘ خاک کی طرح کر کے چھوڑتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو ہم نے اس کو اور اس کے تمام لشکر کو پکڑ کر دریا میں غرق کردیا اور وہ اللہ کی جانب سے مبغوض تھا خود اپنے آپ ہی کو ملامت کر رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم…:”الا یلیم“ (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔”ملیم“ مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمہ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لئے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فما بکت علیھم السمآء والارض) (الدخان : 29)”پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔“ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یونس 90 تا 92) ، طہ (77، 78) اور سورة شعراء (52 تا 67)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–40

و فی موسیٰ یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی نشانی چھوڑی ہے۔ فراء نے کہا اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ اذارسلنہ انی فرعون بسلطن مبین، سلطان مبین سے مراد واضح حجت وہ عصا کا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد معجزات ہیں جو عصا اور دوسرے معجزات ہیں۔ فتوتی بر کنہ ضمیر فاعل سے مراد فرعون ہے اس نے ایمان سے اعراض کیا۔ بر کنہ یعنی اپنی جمعیت اور لشکروں کے ساتھ، یہ ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد کے قول کا بھی معنی ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : او اوی الی رکن شدید، (ہود) یہاں رکن سے مراد قوت اور قبیلہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : اپنی قوت کے بل بوتے پر اس معی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

23:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' (سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی) یعنی اس نے اپنی قوم کے ساتھ سرتابی کی۔ 24:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' سے مراد ہے (یعنی اس نے سرتابی کی) اپنی قوت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔ 25:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وھوملیم '' اور وہ ملامت کیا ہوا تھا) یعنی وہ ملامت کیا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے بندوں میں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ [ پھر ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو ] فَنَبَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پھینک دیا ان سب کو ] فِي الْيَمِّ [ پانی میں ] وَهُوَ مُلِيْمٌ [ اس حال میں کہ وہ خود کو ملامت کرنے والا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–45

فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–40

12:۔ ” وفی موسیٰ “۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ اور فیھا پر معطوف ہے ای وترکنا فی موسیٰ ایۃ (روح، مدارک) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو ہم نے عبرت و نصیحت کا سامان بنا دیا۔ جب ہم نے ان کو فرعون کے پاس دلائل واضحہ اور معجزات قاہرہ دے کر بھیجا تو اس نے اپنے اراکین سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت انکار و اعراض کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور مجنون کہنے لگا۔ معجزات و خوارق دیکھ کر کہنے لگا یہ تو جاوگر ہے اور جب توحید اور حشر و نشر کی باتیں سنیں جو اس کی عقل ناقص سے بالا تر تھیں تو انہیں مجنون قرار دے دیا۔ (مظہری) ۔ ” فاخذناہ۔ الایۃ “ چنانچہم نے اس کو، اس کے ارکانِ دولت کو اور اس کے لاؤ لشکر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–46

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ وَہُوَمُلِيْمٌ۝ 40 ۭ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْیَمِّ وَھُوَمُلِیْمٌ۔ (الذریٰت : 40) (تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑا، اور انھیں سمندر میں پھینک دیا، اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا۔ ) فرعون کا انجام یعنی اس کے تکبر کا نتیجہ ایک طرف اگر یہ ہوا کہ وہ حق سے دور ہوگیا اور ہدایت سے محروم رہا۔ اور دوسری طرف یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر بھڑکا اور اس نے اسے اور اس کے لشکروں کو جن کے بل بوتے پر وہ غرور کا پیکر بنا ہوا تھا سمندر میں پھینک دیا۔ اس کے اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے کی تفصیل چونکہ گزشتہ سورتوں میں بیان ہوچکی ہے اس لیے یہاں اس کو دہرایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کا ہر طالب علم اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام۔ ” ہم نے اپنی نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ موسیٰ نے کہا اے فرعون ! بیشک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس لیے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک اژدہا تھا اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ملامت کا معنی : آیت 40: فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْیَمِّ وَہُو مُلِیْمٌ (پس ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ اور اس نے کام بھی ملامت کا کیا تھا) ملیم یعنی وہ کفر وعناد والا قابل مذمت فعل کرنے والا تھا۔ یہ ملیم ایک مقام پر سورة الصافات آیت 142 میں فالتقمہ الحوت وہو ملیم استعمال ہوا۔ مگر وہاں یہ معنی نہیں کیونکہ ملامت کے لوازم مختلف ہیں اور ان کے مختلف ہونے سے ملامت کی مقدار میں بھی فرق ہوگا۔ کفر کا ارتکاب کرنے والا اپنے فعل کفر کی مقدار کے مطابق قابل ملامت ہے اور کبیرہ کا مرتکب کبیرہ گناہ کے مطابق اور صغیرہ کا صغیرہ کے مطابق اور لغزش کرنے والا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” فتولی “ یعنی پس اس نے اعراض کیا اور ایمان سے پیٹھ پھیری ” برکنہ “ یعنی اپنی جماعت اور اپنے لشکرکے ساتھ جس کے ذریعے وہ قوت حاصل کرتا تھا، اس ستون کی طرح جس کے ذریعے عمارت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ اس کی نظیر اس کا قول ” اوآوی الی رکن شدید “…” وقال ساحر اور مجنون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” او “ بمعنی وائو ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–46

38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيْمٌ) ۔ پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ لشکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ قابل ملامت (کام کرنے والا) تھا۔ یعنی وہ گناہ گار حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 39] فرعون اور فرعونیوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے فرعون اور اس کے اعوان و انصار کے ہولناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ان کے اپنے کفر و طغیان کی بناء پر۔ سو اس میں اللہ پاک کی قدرت مطلقہ اور " بطشٍ شدید " کی ایک جھلکی موجود ہے، کہ جس قوت و لشکر پر فرعون کو بڑا ناز تھا اس سب کو قدرت کی طرف سے کس طرح کچرے کی طرح اٹھا کر گہرے سمندر میں پھینک دیا گیا، والعیاذ باللّٰہ سو جن فوجوں اور لشکروں پر فرعون کو اس قدر غرور تھا اور جن کی وجہ سے اور ان کے غرور میں وہ حق سے منہ موڑے ہوئے تھا، ان سب کو اس کے ساتھ غرقاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 کیونکہ خدائی کا دعویدار تھا اور بنی اسرائیل پر ظلم توڑتا تھا۔ سورة دخان میں فرمایا : فما بکت علیھم السمآء و والارض پھر نہ آسمان ان پر رویا اور نہ زمین نے دو آنسو بہائے۔ یعنی خس کم جہاں پاک ۔ انکے فرق ہونے کی تفصیل سورة یونس کے رکوع 9 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:40) فاخذنہ۔ترتیب کا ہے۔ اخذنا ماضی جمع متکلم۔ اخذ (باب نصر) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ و جنودہ۔ واؤ عاطفہ جنود جمع جند کی، بمعنی فوج ، لشکر : اس کا عطف ہ ضمیر مفعول پر ہے۔ ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑا فنبذنھم :عاطفہ، بنذنا ماضی جمع متکلم نبذ (باب ضرب ) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع فرو ون اور اس کا لشکر ہے۔ اور ہم نے ان کو پھینک دیا۔ یا ڈال دیا ۔ فی الیم : جار مجرور۔ ای فی البحر، دریا میں، یعنی ہم نے ان کو پکڑ کر دریا میں پھینک کر غرق کردیا۔ وھو ملیم : جملہ حالیہ ہے ملیم اسم فاعل واحد مذکر الامۃ (افعال) مصدر۔ ملامت یا لوم کا مستحق ، ایسا کام…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–46

(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–43

سدومیوں کی بداخلاقی 1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) پھر ہم نے اس فرعون کو اور اس کے لشکر کو پکڑ لیا اور ان سب کو دریا میں جاپھینکا اور اس کی حالت یہ تھی کہ وہ ملامت زدہ تھا اور اس نے کام ہی ایسا ہی کیا تھا جو اولاہنے اور ملامت کا موجب تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–42

ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 39–40

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو ایسا پکڑا کہ دریا میں ڈبو کر چھوڑا 40 ؎ سنت اللہ شروع سے آرہی ہے کہ انبیاء و رسل کی مخالفت کرنے والے جب مخالفت پر ڈٹ جاتے ہیں اور دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے طاقت ‘ دھونس اور دھاندلی سے دینے لگتے ہیں تو جو مہلت ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے دی جاتی ہے جب وہ پوری ہوجاتی ہے تو ان کا کام بھی تمام کردیا جاتا ہے گویا ان کے اقتدار ‘ ان کی قوت و سطوت اور ان کی طاقت کی صف لپیٹ دی جاتی ہے اور جب ان کے ظلم کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو کوئی آنکھ بھی ان پر نم نہیں ہوتی بلکہ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ صورت حال اس جگہ بھی وارد ہوئی جب فرعون اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–46

After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 A whole history has been compressed into this brief sentence. To understand it well one should know that Pharaoh was the absolute ruler of the greatest centre of civilization and culture of the world in those days and the people of the adjoining lands were overawed by his power and might. Obviously, when he might have sunk suddenly one day in the sea along with his armies, the event must have become well known not only in Egypt but among aII the neighboring nations as well. At this, except for those whose kith and kin had sunk, there was no one else among their own people, or in the other…

Read the full tafseer →