Adh-Dhaariyat 51:39

Adh-Dhaariyat · from ayah 39

51:39

فَتَوَلّٰی بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ ۟فَتَوَلّٰى بِرُكۡنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ

تو اس نے اپنی جماعت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

— Fateh Muhammad Jalandhari

But he turned away with his supporters and said," A magician or a madman."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:39

تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس نے اپنی جماعت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس نےاپنے بل بوتے پر منھ موڑا اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو اُس نے اپنے اراکینِ سلطنت سمیت رُوگردانی کی اور کہنے لگا: (یہ) جادوگر یا دیوانہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس نے اپنی قوت کے سبب منہ پھیرلیا اور اس نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر سرتابی کی اور کہنے لگا کہ : یہ ساحر یا دیوانہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس نے گھمنڈ کے ساتھ منہ موڑا اور بولا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے یا خبطی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس نے سرتابی ہی کی اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ اور اس نے (پوری رعونت کے ساتھ) کہا کہ یہ شخص یا تو کوئی جادوگر ہے یا دیوانہ

— مولانا اسحاق مدنی

لیکن اس نے اپنی قوت (کے زعم) میں سرتابی کی اور کہنے لگا یہ ساحر یا مجنون ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے منہ موڑ لیا اپنی شان و شوکت کے گھمنڈ میں اور کہا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس نے اپنی طاقت کے غرور میں منہ موڑ لیا اور کہنے لگا کہ یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But Pharaoh turned away, showing arrogance on account of his power, and said (about Moses): “He is either a sorcerer or a madman.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So he turned away along with his chiefs and said, : (Musa is) a magician or a madman!

— Muhammad Taqi Usmani

So he turned away along with his chiefs and said, : (Musa is) a magician or a madman!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But (he) turned away along with his hosts, and said: "A sorcerer or a madman."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But he withdrew (confiding) in his might, and said: A wizard or a madman.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But he turned away with his supporters and said," A magician or a madman."

— Saheeh International

The Pharaoh and his forces turned away from him, saying, "He is either a magician or an insane person".

— Muhammad Sarwar

But he turned away with his forces and said: A magician or a mad man.

— Muhammad Habib Shakir

Then he turned away with his court, and said: a magician or a madman.

— Abdul Majid Daryabadi

But (Pharaoh) turned back with his Chiefs, and said, "A sorcerer, or one possessed!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–46

انجام تکبر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 37 یعنی کبھی اس نے آپ ﷺ کو ساحر قرار دیا، اور کبھی کہا کہ یہ شخص مجنون ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–46

قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فتولی برکنہ وقال سحراومجنون (39) ”رن، کے معنی مونڈھے کے ہیں اور ’ ب ‘ سے یہاں تعدی کا مفہوم پیدا ہورہا ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز سے تکبر کے ساتھ اعراض کرتا ہے تو شانے اور مونڈھے جھٹک کر منہ پھیرتا ہے، اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ اس نے غرور کے ساتھ منہ پھیرا۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونابجانبہ (بنی اسرائیل : 83) اور جب ہم انسان پر اپنا فضل کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور گھمنڈ سے منہ موڑتا ہے۔ سورة حج آیت 9 میں اسی مستکبرانہ اعراض کی تعبیر ثانی عطفہ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ وقال سحرائومجنون۔ یعنی کبھی ان کو ساحر کہہ کر ان کی تکذیب کی اور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–39

وہ صریح دلیل اور سند جس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا ، وہ صریح اور قاطع دلیل تھی اور وہ عظیم الشان رعب تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں تھا اور موسیٰ اور ہارون کے ساتھ ذات باری تھی جو سنتی تھی اور دیکھتی تھی لیکن فرعون غرور کرکے منہ پھیر گیا اور اس نے واضح سچائی دیکھتے ہوئے بھی اور قاطع دلیل دیکھتے ہوئے بھی پہلو تہی سے کام لیا۔ اس نے حضرت موسیٰ خدا کے نبی کو کہا کہ وہ ساحر اور مجنون ہے حالانکہ انہوں نے اس کو ایسے معجزات دکھا دیئے تھے جن کے سامنے وہ لوگ لاجواب ہوگئے تھے۔ اس طرز عمل سے معلوم ہوگیا کہ جب کوئی ہدایت کے لئے تیار نہ ہو تو اسے بڑے سے بڑا معجزہ ہدایت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی زور و قوت پر مغرور ہو کر حق کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ اور اپنی قوم اور ارکان سلطنت کو بھی ساتھ لے ڈوبا۔ کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو چالاک جادوگر ہے اور یا دیوانہ ہے۔ دو حال سے خالی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ } ”تو اس نے منہ موڑ لیا اپنی شان و شوکت کے گھمنڈ میں“ { وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اور کہا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“ یعنی فرعون نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہی القابات دیے تھے جو اہل مکہ حضور ﷺ کو دے رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 فرعون سیدنا موسیٰ کو جادوگر یا دیوانہ کیوں کہتا تھا ؟ یعنی اپنی حکومت سے تعلق رکھنے والے تمام افراد اور ملازموں کو ساتھ ملا کر مشترکہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی مخالفت اور اللہ کے حکم سے سرتابی کی پھر اپنے تمام ذرائع ابلاغ کو کام میں لاکر ملک بھر میں مشہور کردیا کہ موسیٰ یا تو جادو گر ہے یادیوانہ ہے۔ وہ جادوگر اس لیے کہتا تھا کہ اپنی قوم کو وہ یقین دلانا چاہتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے بس جادو کے کرشمے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں اور دیوانہ اس لیے کہتا تھا کہ آپ نے فرعون جیسے جابر اور قاہر فرمانروا سے کھلے الفاظ میں یہ مطالبہ کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرکے میرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 39–40

23۔ (اور مستحق عذاب) (آیت) ” برکنہ “۔ اپنی قوت یا اپنے سازوسامان زعم وپندار میں۔ رکن کے معنی قوت یا سازوسامان کے بھی آتے ہیں۔ اور اس ترکیب کو مان کر ب، باء تعدیہ ہوگی۔ یستعار للقوۃ (راغب) قیل بقوتہ و سلطانہ (بحر) والرکن مایرکن الیہ الانسان من مال وجند (مدارک) ” اپنے زور پر “ (شاہ عبدالقادر (رح) دہلوی) ۔ والباء للتعدیۃ حینئذ بمعنی فقوی بجندہ (کبیر) رکن کے معنی قوم کے بھی لیے گئے ہیں۔ اس صورت میں ب باء مصاحبۃ ہوگی، اور ترجمہ ہوگا، ” مع اپنی قوم کے “۔ الباء للمصابحۃ والرکن اشارۃ للقوم (کبیر) (آیت) ” وھو ملیم “۔ یعنی یہ سزائے غرقابی اس کے حق میں ظلم ذرا سی بھی نہ تھی۔ (آیت) ” ملیم “۔ اسم فاعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–46

وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ نشانی کیا تھی ؟ بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فتولی برکنہ و قال سحر او مجنون . سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ موسیٰ ساحر ہے یا مجنون ہے۔ فَتَوَلّٰی : یعنی فرعون نے ایمان لانے سے اعراض کیا۔ بِرُکْنِہٖ : یعنی اپنے جتھے اور لشکر کے ساتھ۔ وَقَالَ : اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ۔ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ : جادوگر ہے یا پاگل۔ ابوعبیدہ نے کہا : اس جگہ او بمعنی واؤ ہے یعنی موسیٰ جادوگر اور پاگل ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے معجزات صادر ہوتے ہوئے دیکھ کر آپ کو جادوگر کہا اور چونکہ اس کی بیمار ‘ کور بصیرت والی عقل میں موسیٰ کی دعوت توحید نہیں آتی تھی ‘ اسلئے آپ کو پاگل کہنے لگا (حالانکہ محروم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 38–39

(38۔ 39) اور موسیٰ کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس واضح دلیل یعنی عصا اور ید بیضا دے کر بھیجا تو فرعون نے مع اپنے تمام لشکر کے اس معجزہ اور موسیٰ پر ایمان لانے سے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ جادوگر یا مجنوں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فتولی برکنہ وقال سحر او مجنون :”برکنہ“ میں ”بائ“ سیبیہ ہے۔ ”رکن“ کسی چیز کا سہارا اور آسرا قوت۔ یعنی اس نے اپنی سلطنت اور فوجوں کی قوت کی وجہ سے ان واضح دلائل سے منہ پھیرلیا اور حق پہچانل ینے کے باوجود ایمان لانے سے اناکر کردی اور لوگوں کو موسیٰ ؑ سے برگشتہ کرنے کیلئے کہنے لگا کہ یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔ موسیٰ ؑ کا واقعہ اور ان کی فرعون کے ساتھ تفصیلی گفتگو، جس میں فرعون نے انہیں دیوانہ اور پھر جادو گر قرار دیا سورة شعراء (10 تا 35) میں ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–40

و فی موسیٰ یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی نشانی چھوڑی ہے۔ فراء نے کہا اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ اذارسلنہ انی فرعون بسلطن مبین، سلطان مبین سے مراد واضح حجت وہ عصا کا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد معجزات ہیں جو عصا اور دوسرے معجزات ہیں۔ فتوتی بر کنہ ضمیر فاعل سے مراد فرعون ہے اس نے ایمان سے اعراض کیا۔ بر کنہ یعنی اپنی جمعیت اور لشکروں کے ساتھ، یہ ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد کے قول کا بھی معنی ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : او اوی الی رکن شدید، (ہود) یہاں رکن سے مراد قوت اور قبیلہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : اپنی قوت کے بل بوتے پر اس معی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

23:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' (سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی) یعنی اس نے اپنی قوم کے ساتھ سرتابی کی۔ 24:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فتولی برکنہ '' سے مراد ہے (یعنی اس نے سرتابی کی) اپنی قوت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔ 25:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وھوملیم '' اور وہ ملامت کیا ہوا تھا) یعنی وہ ملامت کیا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے بندوں میں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَتَوَلّٰى [ تو اس (فرعون ) نے منہ موڑا ] بِرُكْنِهٖ [ اپنے سہاروں (لشکر) کے ساتھ ] وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ [ اور اس نے کہا ( یہ ) جادوگر ہے یا مجنون ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–45

فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–40

12:۔ ” وفی موسیٰ “۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ اور فیھا پر معطوف ہے ای وترکنا فی موسیٰ ایۃ (روح، مدارک) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو ہم نے عبرت و نصیحت کا سامان بنا دیا۔ جب ہم نے ان کو فرعون کے پاس دلائل واضحہ اور معجزات قاہرہ دے کر بھیجا تو اس نے اپنے اراکین سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت انکار و اعراض کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور مجنون کہنے لگا۔ معجزات و خوارق دیکھ کر کہنے لگا یہ تو جاوگر ہے اور جب توحید اور حشر و نشر کی باتیں سنیں جو اس کی عقل ناقص سے بالا تر تھیں تو انہیں مجنون قرار دے دیا۔ (مظہری) ۔ ” فاخذناہ۔ الایۃ “ چنانچہم نے اس کو، اس کے ارکانِ دولت کو اور اس کے لاؤ لشکر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–46

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِہٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۝ 39 ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ۔ (الذریٰت : 39) (اور اس نے غرور سے منہ پھیرا اور بولا یہ تو ایک جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ ) فَتَوَلّٰی بِرُکْنِہٖ کا مفہوم رُکن کا معنی کندھا ہے اور ” ب “ سے اس کے اندر تعدی کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز سے تکبر کے ساتھ منہ پھیرتا ہے تو وہ شانے اور کندھے جھٹکتا ہے۔ تو اس کے کندھے جھٹکنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے غرور کے ساتھ اعراض کیا اور منہ پھیرا۔ یہاں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات نے آپ کی نبوت اور رسالت کو بالکل واضح کردیا تھا اور فرعون پر یہ بات کھل گئی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام۔ ” ہم نے اپنی نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ موسیٰ نے کہا اے فرعون ! بیشک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس لیے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک اژدہا تھا اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 39 : فَتَوَلّٰی (پس اس نے سرتابی کی اور ایمان سے اعراض کیا) بِرُکْنِہٖ (بمع اپنے ارکان سلطنت کے) جن کے ساتھ وہ قوت حاصل کرتا تھا مثلاً لشکر وملک۔ الرکن : جس کی طرف جھکائو ہو خواہ وہ مال و لشکر ہو۔ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ (اور کہنے لگا یہ ساحر یا مجنون ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” وفی موسیٰ “ یعنی اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجنے میں نشانی اور عبرت کو چھوڑا اور کہا ہے کہ یہ اس کے قول ” وفی الارض آیات للموقنین “ پر معطوف ہے۔ ” وفی موسیٰ اذا ارسلناہ الی فرعون بسلطان مبین “ ظاہر حجت کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–46

38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–39

(وَفِيْ مُوْسٰٓى) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ چناچہ جب حضڑت موسیٰ واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا۔ (برکنہ) اپنے لشکر کے ساتھ۔ یعنی انہوں نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰ کی طف التفات نہ کیا بلکہ انہوں نے حضرت موسیٰ میں جرح وقدح کی اور کہنے لگے (سٰحر او مجنون) ۔ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے جو چیز موسیٰ پیش کررہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اسے اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے اخذ نہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 37] فرعون کی سرکشی و سرتابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے باوجود فرعون نے سرتابی ہی کی اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ۔ یعنی اپنی سرکشی کی بنا پر اس نے خود بھی ہلاکت و تباہی کے راستے کو اختیار کیا اور اپنے لاؤ لشکر کو بھی اپنے ساتھ تباہی کے گھاٹ اتار دیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یقدم قومہٗ یوم اکقیمۃاور دھم النار ط وبئس الورد المورود۔ } [ ھود : 98 پ 12] اس صورت میں یہ باء تعدیہ کی ہوگی۔ جیسا کہ بجانبہٖ میں ہے اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے لاؤ لشکر کے بل بوتے پر، اور ان کے گھمنڈ میں راہ حق سے پھر گیا۔ اس صورت میں یہ باسییہ ہوگی [ جامع البیان،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اصل میں لفظ رکن کے لفظی معنی گوشہ کے ہیں اور اس سے مراد ہر وہ چیز ہوتی ہے جس کا آدمی سہارا لے کر اس موقع پر مفسرین نے اس کے معنی لائو لشکر بھی کئے ہیں اور قوت اور بل بوتا بھی۔ 9 یعنی کبھی جادوگر قرار دیا اور کبھی بائولا بتایا تاکہ قوم کو ان کی دعوت قبول کرنے سے باز رکھے سکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:39) فتولی : میںعبارت مقدرہ پر دال ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ فرعون کے پاس تشریف لے گئے۔ اور اسے حق کی دعوت دی۔ مگر اس نے دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اور سننے سے منہ پھیرلیا۔ تولی ماضی مذکر غائب۔ تولیٰ (تفعیل) مصدر۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اس نے (ایمان لانے) اعراض کیا۔ برکنہ۔ رکن بمعنی آسرا۔ قوت، زور، کسی شے کی وہ جانب جس کا آسرا لیا جائے : مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ فرعون کی طرف راجع ہے اور قوت سے مراد اس کی ذاتی قوت ہے اس کا لشکر، اس کی فرمانبرداری رعایا ہوسکتی ہے۔ برکنہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ب۔ تعدیہ کی ہوسکتی ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے کہ اس نے اپنے لشکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–46

(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–43

سدومیوں کی بداخلاقی 1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) پھر فرعون نے اپنی فوجی طاقت کے بل پر روگردانی اور سرتابی کی اور کہنے لگا تو یہ جادو گر ہے یا یہ دیوانہ ہے۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) آیا اور اس کا معجزہ دیکھا تو اس کو شعبدہ باز جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہنے لگے۔ برکنہ کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ اس نے سرتابی کی…… اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رو گردانی اس طرح کی کہ بازوہ اور کھوئے تک پھیر لئے یعنی اعضاء بھی پھیر لئے لیکن ہم نے فوجی قوت کا بل کیا ہے اور ہم اسی کو اس موقع پر مناسب سمجھتے ہیں فرعون کے وقت سے لے کر آج کے دم تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ فوجی طاقت کو حکمرانوں میں بڑا دخل ہے۔ (واللہ اعلم)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–42

ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 39–40

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو ایسا پکڑا کہ دریا میں ڈبو کر چھوڑا 40 ؎ سنت اللہ شروع سے آرہی ہے کہ انبیاء و رسل کی مخالفت کرنے والے جب مخالفت پر ڈٹ جاتے ہیں اور دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے طاقت ‘ دھونس اور دھاندلی سے دینے لگتے ہیں تو جو مہلت ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے دی جاتی ہے جب وہ پوری ہوجاتی ہے تو ان کا کام بھی تمام کردیا جاتا ہے گویا ان کے اقتدار ‘ ان کی قوت و سطوت اور ان کی طاقت کی صف لپیٹ دی جاتی ہے اور جب ان کے ظلم کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو کوئی آنکھ بھی ان پر نم نہیں ہوتی بلکہ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ صورت حال اس جگہ بھی وارد ہوئی جب فرعون اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–46

After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…

Read the full tafseer →