Explained with ayahs 38–46
انجام تکبر
ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 36
یعنی ایسے صریح معجزات اور ایسی کھلی کھلی علامات کے ساتھ بھیجا جن سے یہ امر مشتبہ نہ رہا تھا کہ آپ خالق ارض و سما کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔
اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →وفی موسیٰ اذارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین (38)
حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف اشارہ
اس کا عطف حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشتہ پر ہے۔ یعنی جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے عدل وانتقام کی نشانیاں ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت میں بھی اس کی نشانیاں موجود ہیں۔
لفظ سلطان، کی تحقیق اس کے محل میں گزرچکی ہے۔ یہ لفظ واضح سند کے معنی میں بھی قرآن میں آیا ہے اور رعب ودبدبہ کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ ان دونوں معنوں پر حاوی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو جو نشانیاں عطا فرمائیں ان کے خدائی سند ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی۔ فرعون نے محض اشکبار کے سبب سے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لئے ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے ہیں اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
13: اس سے مرد خود حضرت لوط ؑ کا گھرانہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وہ صریح دلیل اور سند جس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا ، وہ صریح اور قاطع دلیل تھی اور وہ عظیم الشان رعب تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں تھا اور موسیٰ اور ہارون کے ساتھ ذات باری تھی جو سنتی تھی اور دیکھتی تھی لیکن فرعون غرور کرکے منہ پھیر گیا اور اس نے واضح سچائی دیکھتے ہوئے بھی اور قاطع دلیل دیکھتے ہوئے بھی پہلو تہی سے کام لیا۔ اس نے حضرت موسیٰ خدا کے نبی کو کہا کہ وہ ساحر اور مجنون ہے حالانکہ انہوں نے اس کو ایسے معجزات دکھا دیئے تھے جن کے سامنے وہ لوگ لاجواب ہوگئے تھے۔ اس طرز عمل سے معلوم ہوگیا کہ جب کوئی ہدایت کے لئے تیار نہ ہو تو اسے بڑے سے بڑا معجزہ ہدایت پر…
Read the full tafseer →6 یعنی معجزات وبراہین۔
Read the full tafseer →آیت 38{ وَفِیْ مُوْسٰٓی اِذْ اَرْسَلْنٰــہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”اور موسیٰ کے معاملے میں بھی نشانی ہے جب ہم نے اسے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند دے کر۔“
Read the full tafseer →32 یعنی ایسے معجزات جن سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ اور یہ معجزے عصائے موسیٰ اور یدبیضا تھے۔
Read the full tafseer →22۔ یعنی معجزات صریح وواضح دے کر، سلطان کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر آتا ہے۔ ھو ما ظھر علی یدیہ من المعجزات الباھرۃ والسلطان یطلق علی ذلک مع شمولہ للواحد والمتعدد لانہ فی الاصل مصدر (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وہ نشانی کیا تھی ؟
بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…
Read the full tafseer →وفی موسیٰ اذ ارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین . اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر بھیجا۔
وَفِیْ مُوْسٰٓی : اس کا عطف ترکنا پر ہے یعنی موسیٰ کو بھیجنے میں بھی ہم نے ایک نشان عبرت قائم کیا تھا۔ جیسے محاورہ میں کہا جاتا ہے : و علفتھا تبنًا وماءً باردًا یعنی بھوسہ میں نے اس جانور کو کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ بعض نے کہا اس کا عطف فی الارض پر ہے مگر یہ غیر مناسب ہے۔ اوّل تو فی الارض ‘ فی موسیٰ سے دور ہے دوسرے اس سے اس کی مناسبت نہیں ہے۔
بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ : کھلی ہوئی دلیل۔ یعنی معجزات جیسے عصا ‘ ید بیضاء ‘ قحط ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38۔ 39) اور موسیٰ کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس واضح دلیل یعنی عصا اور ید بیضا دے کر بھیجا تو فرعون نے مع اپنے تمام لشکر کے اس معجزہ اور موسیٰ پر ایمان لانے سے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ جادوگر یا مجنوں ہیں۔
Read the full tafseer →(وفی موسیٰ اذا ارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین : یعنی لوط ؑ کی بستی کے علاوہ موسیٰ ؑ کے واقعہ میں بھی ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں، جب ہم نے انہیں صریح معجزات دے کر بھیجا ، جو ان کے اللہ کا پیغمبر ہونے کی واضح دلیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
و فی موسیٰ یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی نشانی چھوڑی ہے۔ فراء نے کہا اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ اذارسلنہ انی فرعون بسلطن مبین، سلطان مبین سے مراد واضح حجت وہ عصا کا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد معجزات ہیں جو عصا اور دوسرے معجزات ہیں۔ فتوتی بر کنہ ضمیر فاعل سے مراد فرعون ہے اس نے ایمان سے اعراض کیا۔ بر کنہ یعنی اپنی جمعیت اور لشکروں کے ساتھ، یہ ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد کے قول کا بھی معنی ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : او اوی الی رکن شدید، (ہود) یہاں رکن سے مراد قوت اور قبیلہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : اپنی قوت کے بل بوتے پر اس معی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
19:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' (سو بجز مسلمان کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمان کا) ہم نے نہیں پایا) میں مسلمین سے مراد لوط (علیہ السلام) آپ کی دو بیٹیاں۔
20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ تیرہ افراد تھے۔
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اس سے زیادہ (گھر) ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور نجات عطا فرماتے تاکہ وہ جان لیتے کہ ایمان اللہ کے نزدیک محفوظ ہے اور اس کا اپنے اہل پر کوئی نقصان…
Read the full tafseer →وَفِيْ مُوْسٰٓى [ اور (ہم نے چھوڑی ایک نشانی ) موسیٰ میں ] اِذْ اَرْسَلْنٰهُ [ جب ہم نے بھیجا ان کو ] اِلٰى فِرْعَوْنَ [ فرعون کی طرف ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح دلیل کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
12:۔ ” وفی موسیٰ “۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ اور فیھا پر معطوف ہے ای وترکنا فی موسیٰ ایۃ (روح، مدارک) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو ہم نے عبرت و نصیحت کا سامان بنا دیا۔ جب ہم نے ان کو فرعون کے پاس دلائل واضحہ اور معجزات قاہرہ دے کر بھیجا تو اس نے اپنے اراکین سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت انکار و اعراض کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور مجنون کہنے لگا۔ معجزات و خوارق دیکھ کر کہنے لگا یہ تو جاوگر ہے اور جب توحید اور حشر و نشر کی باتیں سنیں جو اس کی عقل ناقص سے بالا تر تھیں تو انہیں مجنون قرار دے دیا۔ (مظہری) ۔ ” فاخذناہ۔ الایۃ “ چنانچہم نے اس کو، اس کے ارکانِ دولت کو اور اس کے لاؤ لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…
Read the full tafseer →وَفِيْ مُوْسٰٓى اِذْ اَرْسَلْنٰہُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 38
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →وَفِیْ مُوْسٰٓی اِذْ اَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الذریٰت : 38)
(اور موسیٰ کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جبکہ ہم نے اس کو فرعون کی طرف ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت میں نشانی
اس کا عطف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت پر ہے۔ ہم نے ترجمے میں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت میں نشانی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہدایت کے لیے ایک واضح سلطان کے ساتھ بھیجا۔ سلطان سے دو چیزیں مراد ہیں ایک تو یہ کہ آپ کو اتنے واضح معجزات دیئے گئے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام۔
” ہم نے اپنی نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ موسیٰ نے کہا اے فرعون ! بیشک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس لیے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک اژدہا تھا اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو وہ…
Read the full tafseer →نمونہ عبرت :
آیت 38 : وَفِیْ مُوْسٰٓی (اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں عبرت ہے) اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ یا وترکنا فیہا ایۃ پر ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا وجعلنا فی موسٰی ٰایۃ (کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) میں نشانی بنائی) یہ اس مثال کے مطابق ہوگا۔ علفتہا تبنا ومائً باردًا۔ اِذْ اَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا) سلطان مبین سے واضح حجت یعنی یدبیضاء اور عصا مراد ہیں۔
Read the full tafseer →37 ۔” وترکنا فیھا “ قوم لوط (علیہ السلام) کے شہر میں۔ ” آیۃ “ عبرت۔ ” للذین یخافون العذاب الالیم “ یعنی ڈرنے والوں کے لئے علامت جوا ن کی رہنمائی کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ پس ان کے عذاب کی مثل سے ڈریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(وَفِيْ مُوْسٰٓى) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ چناچہ جب حضڑت موسیٰ واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا۔ (برکنہ) اپنے لشکر کے ساتھ۔ یعنی انہوں نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰ کی طف التفات نہ کیا بلکہ انہوں نے حضرت موسیٰ میں جرح وقدح کی اور کہنے لگے (سٰحر او مجنون) ۔ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے جو چیز موسیٰ پیش کررہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اسے اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے اخذ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 36] قصہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تذکیر و یاددہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ سو یاد کرو تم لوگ اس وقت کو کہ جب ہم نے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند کے ساتھ، سو عصا اور یدبیضاء وغیرہ کے کھلے معجزات کے علاوہ آنجناب کی پاکیزہ شخصیت اور پروقار ہستی، جس نے فرعون اور اس کے اعیان و انصار کے دل و دماغ پر ایسا رعب اور دبدبہ قائم کردیا تھا کہ وہ لوگ آنجناب کے خلاف انتہائی غیظ و غضب اور جوش انتقام رکھنے کے باوجود آخر وقت تک آپ (علیہ السلام) پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرسکے، مگر وہ لوگ آ کی نشانیوں اور معجزات کو دیکھنے اور جاننے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی عصا ید بیضا اور دوسرے معجزات جو اس بات کیصریح دلیل تھے کہ حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →(51:38) وفی موسیٰ : ای وجعلنا فی موسیٰ ایۃ : جملہ ہذا کا عطف جملہ وترکنا فیہا ایۃ پر ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کے واقعہ میں بھی ایک نشانی یا عبرت رکھی ہے۔
اذ۔ اسم ظرف زمان ہے (گو اسم ظرف مکان بھی مستعمل ہے) بطور حرف مفاجات بھی مستعمل ہے بمعنی جب۔
سلطن مبین : موصوف وصفت، سلطان کے معنی حجت، دلیل، برہان کے ہیں جو یہاں مراد ہے۔ گو اس کا استعمال، رور، قوت اور سند کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔
مبین : بمعنی ظاہر۔ کھلی، کھلی دلیل یا برہان بمعنی معجزہ بھی ہے۔ یہاں ارشاد ہے ان معجزات کی طرف جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا وندتعالیٰ نے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ مثلاً عصائ، یدبیضا، قحط، سمندر میں راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
سدومیوں کی بداخلاقی
1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…
Read the full tafseer →(38) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی عبرت آموز نشانی ہے جب کہ ہم نے فرعون کی طرف واضح اور کھلی دلیل دے کر بھیجا یعنی معجزہ دے کر بھیجا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو دیکھو کہ جب ہم نے اس کو قوم فرعون کی طرف روانہ کیا
38 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق بنی اسائیل سے تھا اور بنی اسرائیل سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے دور حکومت میں مصر آئے تھے اور اس جگہ آ کر آباد ہوگئے تھے پھر یہ لوگ بڑھتے بڑھتے بہت ہی بڑھ گئے۔ انجام کار فرعون مصر نے جب حکومت نے بنی اسرائیل سے واپس لی تو اس قوم پر ظلم و ستم کی ساری حدود ختم کردیں جب یہ لوگ فرعون اور اس کی قوم کے ظلم میں پسنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیج دیا۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…
Read the full tafseer →36 "A clear authority': such miracles and clear evidences which made it absolutely manifest that he had been appointed as a Messenger by the Creator of the earth and heavens.
Read the full tafseer →