Explained with ayahs 31–37
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 35
اس نشانی سے مراد بحیرۂ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی ایک عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرۂ مردار کا پانی پھیل گیا تھا، کیونکہ اس بحیرے کا وہ حصہ جو " للِّسان " نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے، صاف طور پر بعد کی پیداوار معلوم ہوتا ہے اور قدیم بحیرۂ مردار کے جو آثار اس جزیرہ نما کے شمال تک نظر آتے ہیں وہ جنوب میں پائے جانے والے آثار سے بہت مختلف ہیں۔ اس سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جنوب کا حصہ پہلے اس بحیرے کی سطح سے بلند تھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(آیت) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ، یعنی کنکریاں اللہ کی طرف سے خاص علامت لگی ہوئی ہوں گی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھیجی گئی تھی اور وہ جس طرف بھاگا اس کنکری نے اس کا تعاقب کیا اور دوسری آیات میں جو اس قوم کا عذاب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرائیل امین نے اس پورے شہر کو اٹھا کر پلٹ دیا تو یہ اس کے منافی نہیں کہ پہلے یہ پتھراؤ کیا گیا ہو اس کے بعد پوری زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(35۔ 37)
قوم لوط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
فرشتوں کی بات اوپر کی آیت پر ختم ہوئی۔ اب یہ آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے بعد اس نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ فرمایا کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے اس بستی کے اندر سے ان لوگوں کو نکال لیا جو اہل ایمان تھے۔ فیھا۔ میں ضمیر کا مرجع قوم لوط کی بستی ہے۔ چونکہ یہ مثالیں وفی الارض ایت للمومنین، کے تحت بیان ہورہی ہیں اس وجہ سے ضمیر بغیر مرجع کے آگئی۔ قرینہ کی موجودگی میں اس طرح ضمیر کا آنا عربی زبان میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں گزرچکی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لئے ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے ہیں اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
13: اس سے مرد خود حضرت لوط ؑ کا گھرانہ ہے۔
Read the full tafseer →وترکنا ........ الالیم (15 : 73) ” اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے تھے “ جو لوگ عذاب سے ڈرتے ہیں وہی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ان کو سمجھ سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اندھے ہوتے ہیں۔ ان کو اس پوری کائنات میں اللہ کی نشانیاں نہیں آتیں نہ زمین میں نہ ان کے نفوس میں اور نہ تاریخ میں۔
اب دوسری نشانی قصہ حضرت موسیٰ میں۔ اس قصے کی طرف بھی ایک سر سری اشارہ ہے کیونکہ یہاں انبیاء کی تاریخ سے نشانات راہ گنوا کر بتاتے ہیں۔
Read the full tafseer →5 یعنی اب تک وہاں تباہی کے نشان موجود ہیں اور ان کی غیر معمولی ہلاکت کے قصہ میں ڈرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے،
Read the full tafseer →آیت 37{ وَتَرَکْنَا فِیْہَآ اٰیَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ۔ } ”اور ہم نے اس میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہوں دردناک عذاب سے۔“
قومِ لوط کی بستیاں سدوم اور عامورہ سمندر کے کنارے پر آباد تھیں ‘ جو اب بحیرئہ مردار Dead Sea کہلاتا ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں یہی اندازہ تھا کہ جب زلزلے سے یہ علاقہ تلپٹ ہوا ہوگا تو یہ بستیاں سمندر میں غرق ہوگئی ہوں گی۔ اب اس کی تصدیق بھی ہوگئی ہے اور بحیرئہ مردار کی تہہ میں ان شہروں کے کھنڈرات کو دریافت بھی کرلیا گیا ہے۔ یہاں نشانی سے مراد یہی کھنڈرات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک لوگوں کی عبرت کے لیے ظاہر فرما دیا ہے۔
Read the full tafseer →31 لوگوں کے لئے نشانی بحیرہ مردار :۔ وہ نشانی یہ تھی کہ جب فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اٹھا کر اور بلندی پر لے جاکر پھر اس کو الٹا کر زمین پردے مارا تو یہ پورا خطہ زمین کے اندر دھنس گیا اور سطح سمندر سے چار سو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اس کے اوپر کالا پانی چڑھ آیا۔ جو ایک سمندر کی شکل اختیار کرگیا۔ پانی کے اس ذخیرہ کو بحر میت یا بحیرہ مردار یا غرقاب لوطی کہا جاتا ہے۔ اس بحیرہ مردار (Dead Sea) کا جنوبی علاقہ آج بھی عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →21۔ (چنانچہ عذاب الہی سے خوف سے خوف کھانے والے آج تک اس قوم کی داستان ہلاکت سے عبرت ونصیحت حاصل کرتے رہتے ہیں) بحر مردہ یا بحر لوط، اور آس پاس شہر یعنی سدوم کے کھنڈر آج تک ہر صاحب دل کو داستان عبرت سنا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وہ نشانی کیا تھی ؟
بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…
Read the full tafseer →وترکنا فیھا ایۃ للذین یخافون العذاب الالیم . اور ہم نے اس واقعہ میں (ہمیشہ کے لیے) ایسے لوگوں کے لیے ایک عبرت رہنے دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ آیتہ۔ یعنی وہ پتھر جو ان بستیوں پر گرائے گئے تھے یا وہاں جو پتھر تہ بر تہ ہو کر ڈھیر ہوگئے تھے یا بدبودار سڑا ہوا پانی۔
اَلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ : سے مراد ہیں عبرت حاصل کرنے والے۔
Read the full tafseer →اور وہ گھر لوط اور ان کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور زنتا کا تھا اور ہم نے قوم لوط کی بستیوں کی ہلاکت میں ایسے لوگوں کے لیے ایک عبرت رہنے دی جو آخرت میں دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں اور ان کے افعال کی پیروی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(وترکنا فیھا ایۃ للذین یخافون العذاب الالیم : اس بستی کو عذاب الیم سے ڈرنے والوں کے لئے نشانی اس لئے قرار دیا کہ وہی اس سے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتے اور خواہش نفس کے پیچھے چلت یہیں ان کے لئے ہر نشانی کفر اور سرکشی میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (75 تا 77) اور سورة عنکبوت (35)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟
قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
19:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' (سو بجز مسلمان کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمان کا) ہم نے نہیں پایا) میں مسلمین سے مراد لوط (علیہ السلام) آپ کی دو بیٹیاں۔
20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ تیرہ افراد تھے۔
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اس سے زیادہ (گھر) ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور نجات عطا فرماتے تاکہ وہ جان لیتے کہ ایمان اللہ کے نزدیک محفوظ ہے اور اس کا اپنے اہل پر کوئی نقصان…
Read the full tafseer →وَتَرَكْنَا فِيْهَآ اٰيَةً [ اور ہم نے چھوڑی اس میں ایک نشانی ] لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ [ ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں ] الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ [ دردناک عذاب سے ]
Read the full tafseer →بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس علاقہ میں موجود تھے ان کو چیخ نے بھی پکڑا اور زمین کا تختہ بھی الٹ دیا گیا اور جو لوگ ادھر ادھر باہر نکلے ہوئے تھے وہ انہیں پتھروں کی بارش سے ہلاک ہوگئے۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ تَرَكْنَا فِيْهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَؕ0037﴾ (اور ہم نے اس واقعہ میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت رہنے دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں) واقعہ کا تذکرہ عبرت دلانے کے لیے ہے لیکن لوگوں نے ان کی ہلاک شدہ بستیوں کو سیر و سیاحت کی جگہ بنا رکھا ہے۔ ان بستیوں کی جگہ بحرمیت کھڑا ہے، لوگ تفریح کے طور پر سفر کرتے ہیں عبرت حاصل نہیں کرتے۔ سارے انسانوں پر لازم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:۔ ” فاخرجنا۔ الایۃ “ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے قوم لوط کی بستیوں سے مومنوں کو باہر نکال لیا۔ ” فما وجدنا فیھا۔ الایۃ “ ان بستیوں میں مسلمان تھے کتنے ؟ سو ایک گھر والوں کے ہم نے کوئی مسلمان وہاں نہیں پایا اور وہ بھی لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا۔ ” وترکنا فیھا ایۃ۔ الایۃ “ میں عذاب کی بعض نشانیاں باقی رہنے دیں، تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے ہیں یا ساہ رنگ کا بدبو دار پانی مراد ہے جو ان بستیوں میں پھیل گیا۔ (ابن کثیر، مظہری) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس دردناک عذاب ہی کو ڈرنے والوں کے لیے عبرت و نصیحت کی علامت بنا دیا۔ (خازن و معالم) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →وَتَرَكْنَا فِيْہَآ اٰيَۃً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 37 ۭ
ترك
تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله :
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25]
( ت ر ک) ترک
الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْن۔ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَتَرَکْنَا فِیْھَـآ اٰیَـۃً لِّـلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (الذریٰت : 35 تا 37)
(پس اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال دیا۔ اور وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا۔ اور اس میں ہم نے ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض حقائق کا اظہار
اوپر کی آیت پر فرشتوں کی بات ختم ہوگئی۔ اگرچہ وہ ارشادات پروردگار ہی کے ہیں لیکن ان کی نسبت فرشتوں کی طرف ہے۔ اس کے بعد کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
فہم القرآن
ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟
بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…
Read the full tafseer →آیت 37 : وَتَرَکْنَا فِیْہَآ (اور ہم نے اس واقعہ میں) ان بستیوں میں ٰایَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (ایسے لوگوں کے لئے عبرت رہنے دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں) ایسی علامت جس سے عبرت حاصل کی جاتی ہے اور وہ اس سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ وہ نہیں کہ جن کے دل سخت ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
بدبودار سیاہ پانی۔
Read the full tafseer →36 ۔” فما وجدنا فیھا غیربیت “ ایک گھر والوں کے علاوہ ” من المسلمین “ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان اور اسلام دونوں کے ساتھ موصوف قرار دیا ہے اس لئے کہ جو مومن ہو وہ مسلم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…
Read the full tafseer →وَتَرَكْنَا فِيْهَآ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) اور ہم نے ان کے بارے میں لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد۔
1۔ اللہ تبارک وتعالی کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے احوال نے انہیں کہاں پہنچا دیا۔
2۔ اس قصے میں ابراہیم کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے قصے کی ابتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 34] قوم لوط کی بستی میں ایک عظیم الشان عبرت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس میں چھوڑ دی ایک بڑی بھاری نشانی ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں عذاب الیم سے۔ سو وہ نشانی تھی اس بات کی کہ حق و ہدایت کے منکروں اور حضرات انبیاء و رسل (علیہ السلام) اور ان کی دعوت و پیغام کے جھٹلانے والوں کا آخری انجام کیا اور کس قدر ہولناک ہوتا ہے۔ قوم لوط کی ان ہری بھری گنجان بستیوں کو اور ان کے باشندوں کو کس طرح نیست و نابود کرکے ہمیشہ کے لئے نشان عبرت اور قصہ پارینہ بنادیا گیا اور ان کی جگہ بحیرہ طبریہ کا وہ سمندر اپنی زبان حال سے ان بدبختوں کی داستان عبرت سنا رہا ہے، جس کو بحر میت [ Dead Sea ] بحیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →ف 6 نشانی سے مراد عذاب کے آثار میں یعنی سیاہ اینٹیں گھروں کے کھنڈر اور وہ ” بحر مردار “ جو اس علاقہ میں ہے اور جس کے اردگرد زمین اس قدر دھسنی ہوئی ہے کہ اس کی سطح سطح سمندر سے تیرہ سو فٹ نیچی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کا مرزی شہر سدوم اسی بحر مردار کے جنوبی حصہ میں ڈوبا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(51:37) وترکنا فیہا ایۃ : واؤ عاطفہ، ترکنا ماضی جمع متکلم۔ ترک (بابا نصر) مصدر، ہم نے چھوڑا۔ فیہا ای فی القری (ان) بستیوں میں ۔ ایۃ : منصوب بوجہ مفعول فعل ترکنا کے (نشانی)
ترجمہ : پھر ہم نے ان (بستیوں) میں ایک نشانی چھوڑی (جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں) نشانی سے مراد بحیرۃ مردار ہے جس کا کنوبی علاقہ آج بھی ایک تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔
العذاب الالیم۔ موصوف و صفت مل کر مفعول یخافون کا۔ دردناک عذاب ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…
Read the full tafseer →[18] یعنی قوم لوط کی بستی کے کھنڈرات۔
[19] لوط (علیہ السلام) کا قصہ تفصیل سے سورة ہود آیت 77 تا 83 صفحہ 508 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
سدومیوں کی بداخلاقی
1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…
Read the full tafseer →(37) اور ہم نے ان تباہ شدہ بستیوں میں ایسے لوگوں کے لئے ایک سبق آموز نشان باقی رکھا جو درد ناک عذاب سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں۔ یعنی عذاب الیم سے جو لوگ ڈرتے ہیں ان کے لئے اب تک وہ الٹی ہوئی بستیاں پڑی ہیں اور مکان الٹے پڑے ہیں اور وہاں سڑا ہوا بدبودار پانی بہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔
Read the full tafseer →ہم نے اس واقعہ کو ان لوگوں کے لئے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں ایک نشانی بنا دیا
37 ؎ یہ بات قریش مکہ کو بتائی جا رہی ہے کہ تم لوگ شام کی تجارت کو جاتے ہو اور اس بستی کے کنارے سے تم کو گزارنا پڑتا ہے اور اس بستی کی جگہ اب بحر محیط ہے اس کو تم دیکھتے ہو اور ان آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو لیکن اس کے باوجود ذرا ٹس سے مس نہیں ہوتے حالانکہ اگر تم لوگوں کے اندر اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا ذرا خوف بھی موجود ہوتا تو تم لوگ وہاں سے گزرتے ہی اور اس بستی کو دیکھتے ہی گھبرا جاتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی دعائیں کرتے لیکن تم لوگ ایسے قی القلب ہو کہ تم وہاں سے گزرتے ہو اور تمہارے دلوں پر ذرا اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
Small pebbles of baked clay would be sent down upon them: مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ "marked, with your Lord, for the transgressors."... 51:34), that is, pebbles conspicuously marked by Allah. Some scholars say that each stone bore the name of the person with which he was to be destroyed, and if he ran in any particular direction, he was pursued by the same stone. Other verses say that these people were destroyed by Jibra'il's (علیہ السلام) turning their territory upside down. The two descriptions of the punishment are not mutually contradictory: Probably, the stoning incident took place…
Read the full tafseer →35 One sign": the Dead Sea, southern part of which still presents the signs of a great disaster. The archaeologists have expressed the opinion that the principal cities of the people of Lot were probably sunk underground and the waters of the Dead Sea spread over them. For that part of this sea which is situated to the south of the small peninsula called "AI-Lisan" clearly seems to be a later development, and the signs of the ruins of the Dead Sea found to the north of this peninsula are very different from those found in the south. From this it is concluded that the southern part was once…
Read the full tafseer →