Explained with ayahs 31–37
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 34
یعنی پوری قوم میں، اور اس کے پورے علاقے میں صرف ایک گھر تھا جس میں ایمان و اسلام کی روشنی پائی جاتی تھی، اور وہ تنہا حضرت لوط ؑ کا گھر تھا۔ باقی پوری قوم فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی تھی، اور اس کا سارا ملک گندگی سے لبریز ہوچکا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ایک گھر کے لوگوں کو بچا کر نکال لیا اور اس کے بعد اس ملک پر وہ تباہی نازل کی جس سے اس بدکار قوم کا کوئی فرد بچ کر نہ جاسکا۔
اس آیت میں تین اہم مضامین بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا قانون مکافات اس وقت تک کسی قوم کی کامل تباہی کا فیصلہ نہیں کرتا جب تک اس میں کچھ قابل لحاظ بھلائی موجود رہے۔ برے لوگوں کی اکثریت کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(آیت) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ، یعنی کنکریاں اللہ کی طرف سے خاص علامت لگی ہوئی ہوں گی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھیجی گئی تھی اور وہ جس طرف بھاگا اس کنکری نے اس کا تعاقب کیا اور دوسری آیات میں جو اس قوم کا عذاب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرائیل امین نے اس پورے شہر کو اٹھا کر پلٹ دیا تو یہ اس کے منافی نہیں کہ پہلے یہ پتھراؤ کیا گیا ہو اس کے بعد پوری زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(35۔ 37)
قوم لوط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
فرشتوں کی بات اوپر کی آیت پر ختم ہوئی۔ اب یہ آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے بعد اس نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ فرمایا کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے اس بستی کے اندر سے ان لوگوں کو نکال لیا جو اہل ایمان تھے۔ فیھا۔ میں ضمیر کا مرجع قوم لوط کی بستی ہے۔ چونکہ یہ مثالیں وفی الارض ایت للمومنین، کے تحت بیان ہورہی ہیں اس وجہ سے ضمیر بغیر مرجع کے آگئی۔ قرینہ کی موجودگی میں اس طرح ضمیر کا آنا عربی زبان میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں گزرچکی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار…
Read the full tafseer →36۔ 1 اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط ؑ کا گھر تھا جس میں دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ کل تیرہ آدمی تھے۔ ان میں حضرت لوط ؑ کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے ان میں حضرت لوط ؑ کی بیوی شامل نہ تھی بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں اطاعت انقیاد اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کردینے والا مسلم ہے اس اعتبار سے ہر مومن مسلمان ہے اسی لیے پہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
13: اس سے مرد خود حضرت لوط ؑ کا گھرانہ ہے۔
Read the full tafseer →فما ........ المسلمین (15 : 63) ” اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا “ یہ نبی زمان حضرت لوط کا گھر تھا جیسا کہ دوسری جگہ تفصیلات آتی ہیں۔ ماسواء اہلیہ لوط (علیہ السلام) باقی لوگ نجات پاگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
4 یعنی اس بستی میں صرف ایک حضرت لوط کا گھرانا مسلمانی کا گھرانا تھا۔ اس کو ہم نے عذاب سے محفوظ رکھا اور صاف بچا نکالا۔ باقی سب تباہ کردیئے گئے۔
Read the full tafseer →آیت 36{ فَمَا وَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ } ”تو نہیں پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے کسی کو مسلمانوں میں سے۔“
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے ایک گھر کے سوا اس پوری قوم میں اور کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔
Read the full tafseer →30 قوم لوط میں مسلمانوں کا صرف ایک گھرانہ تھا :۔ یہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کا گھرانہ تھا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ افراد تھے جو اس تباہ کن عذاب سے بچے تھے۔ ان کی بیوی بھی تباہ ہوجانے والوں میں شامل تھی۔ ممکن ہے آپ پر ایمان لانے والوں نے بھی آپ کے ہی گھر میں پناہ لے رکھی ہو۔ واضح رہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمان ہی کے لقب سے نوازا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک دین حق صرف اسلام ہی ہے اور سب نبیوں پر ایمان لانے والے مسلمان ہی ہوتے تھے۔ اور ابتداء مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ بعد میں ہر نبی کی امت نے اپنے لیے علیحدہ علیحدہ نام رکھ لیے تھے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فاخرجنا من کان فیھا من المومنین (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے ان کو آگاہ کردیا گیا تھا اور اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں اور یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں تھی، بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں تھی۔ (ایسر التفاسیر)
Read the full tafseer →فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین . اور جتنے وہاں ایماندار تھے۔ ہم نے ان کو وہاں سے علیحدہ کردیا۔ سو بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمانوں کا) ہم نے نہیں پایا۔
غَیْرَ بَیْتٍ : یعنی ایک گھر والوں کے سوا ‘ اس سے مراد ہیں حضرت لوط اور آپ کی بیٹیاں۔ اللہ نے پہلے ان کو مؤمن فرمایا پھر مسلم کیونکہ ہر مؤمن مسلم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔
Read the full tafseer →(فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین :) یعنی اس بستی میں مسلمانوں کا صرف ایک گھر تھا اور وہ لوط ؑ کا گھر تھا، جنہیں بیوی کے سوا اس کے تمام افراد کو ساتھ لے کر نکل جانے کا حکم وہا۔
ان دونوں آیات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا ہو تو وہی ایمان بھی ہے، اس صورت میں اسلام و ایمان اور مسلم و مومن ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں جب اسلام حقیقی نہ ہو، بلکہ صرف ظاہری اعمال پر مشتمل ہو تو اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ امام بخاری ؒ اور محدثین یہی فرماتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حجرات (14، 15) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟
قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
19:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' (سو بجز مسلمان کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمان کا) ہم نے نہیں پایا) میں مسلمین سے مراد لوط (علیہ السلام) آپ کی دو بیٹیاں۔
20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ تیرہ افراد تھے۔
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ ر (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین '' کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اس سے زیادہ (گھر) ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور نجات عطا فرماتے تاکہ وہ جان لیتے کہ ایمان اللہ کے نزدیک محفوظ ہے اور اس کا اپنے اہل پر کوئی نقصان…
Read the full tafseer →فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا [ توہم نے نہیں پایا اس میں ] غَيْرَ بَيْتٍ [ سوائے ایک گھر کے ] مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:۔ ” فاخرجنا۔ الایۃ “ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے قوم لوط کی بستیوں سے مومنوں کو باہر نکال لیا۔ ” فما وجدنا فیھا۔ الایۃ “ ان بستیوں میں مسلمان تھے کتنے ؟ سو ایک گھر والوں کے ہم نے کوئی مسلمان وہاں نہیں پایا اور وہ بھی لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا۔ ” وترکنا فیھا ایۃ۔ الایۃ “ میں عذاب کی بعض نشانیاں باقی رہنے دیں، تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے ہیں یا ساہ رنگ کا بدبو دار پانی مراد ہے جو ان بستیوں میں پھیل گیا۔ (ابن کثیر، مظہری) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس دردناک عذاب ہی کو ڈرنے والوں کے لیے عبرت و نصیحت کی علامت بنا دیا۔ (خازن و معالم) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →فَمَا وَجَدْنَا فِيْہَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ 36 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْن۔ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَتَرَکْنَا فِیْھَـآ اٰیَـۃً لِّـلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (الذریٰت : 35 تا 37)
(پس اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال دیا۔ اور وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا۔ اور اس میں ہم نے ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض حقائق کا اظہار
اوپر کی آیت پر فرشتوں کی بات ختم ہوگئی۔ اگرچہ وہ ارشادات پروردگار ہی کے ہیں لیکن ان کی نسبت فرشتوں کی طرف ہے۔ اس کے بعد کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
فہم القرآن
ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟
بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…
Read the full tafseer →آیت 36 : فَمَا وَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ (پھر سوائے مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر ہم نے نہیں پایا) یعنی سوائے لوط (علیہ السلام) کے اہل بیت کے۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ ایمان اور اسلام ایک چیز ہے۔ کیونکہ یہاں ملائکہ نے انہی کو مؤمنین اور مسلمین دونوں القاب سے ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →35 ۔” فاخرجنا من کان فیھا “ قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں ” من المومنین “ اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاسر باھلک بقطع من اللیل “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ ) پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انہیں نکال لیا اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ یہ حضرت لوط کے گھرانے کے لوگ تھے سوائے ان کی بیوی کے وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 33] اہل ایمان کی حفاظت اور نجات کا ذکر وبیان :
سو اس سے اہل ایمان کی حفاظت و نجات اور معذب قوموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت اور قانون کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس بستی سے تمام اہل ایمان کو نکال لیا مگر ہم نے اس میں ایک کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) ہی کا گھر تھا، اس میں بھی ان کی بیوی شامل نہیں تھی، بلکہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں تھی، اس لئے حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے ہیں، سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جیسا کہ اہل بدعت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی حضرت لوط کا۔
Read the full tafseer →(51:36) فم :عاطفہ ، اور ما نافیہ ہے اور (ہم نے) نہ (پایا) ۔۔
فیہا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف راجع ہے۔
غیر بیت : ایک گھر کے سوا۔ فما وجدنا ۔۔ الایۃ اور ہم نے اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔
فائدہ : آیت 35 میں لفظ المؤمنین آیا ہے اور آیہ ہذا میں المسلمین آیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو دل سے نہیں بس صرف زبانی (ظاہری) طور پر اسلام قبول کرلے اور مومن اس کو کہیں گے جو سچے دل سے ماننے والا ہو۔
اگرچہ قرآن مجید میں مسلم اور مومن کے الفاظ اکثر انہی معانی میں آئے ہیں۔ لیکن کئی مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ الفاظ دونوں معانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[17] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 45 صفحہ 522۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
سدومیوں کی بداخلاقی
1: جب کوئی قوم خواہشات نفس سے مغلوب ہوجائے ۔ لوگوں کو روحانیت مذہبی اور دینی تربیت کیساتھ لگاؤ باقی نہ رہے ۔ زندگی کا مقصد ارزل ترین حیات وجذبات کی تکمیل کا سامان قرار پائے اور روح کی مقتضیات سے یک فلم آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اس وقت دلوں سے پاک بازی اور پرہیزگاری کے خیالات دور ہوجاتے ہیں ۔ اللہ کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ اور شیطان غالب ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ کہ حیوانیت چھا جاتی ہے ۔ شہوایت مسلط ہوجاتی ہے اور ایسے ایسے ناپاک اعمال کی جستجو رہتی ہے ۔ جن کے تخیل سے شرافت منہ چھپالے ۔ سدومیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ۔ تو ان…
Read the full tafseer →(36) اور ہم نے اس بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا اور کوئی گھر پایا بھی نہیں۔ یعنی وہاں ایک گھر کے سوا کوئی اور گھر ہی مسلمانوں کا نہ تھا ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کو بھی محیط ہوتا بہرحال ایمان والوں کو بچا نکالا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سورة حجر اور سو رہ ہود میں پڑھ لیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ف 1۔ یہ کنایہ ہے کہ وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ وجود کو وجدان بمعنی علم الہی لازم ہے اور انتفاء لازم دلیل ہے اور انتفاء ملزوم کی۔
Read the full tafseer →ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی گھر نہ پایا
36 ؎ آپ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی پڑھ چکے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) اس قوم سے حسب و نسب کے لحاظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے ساتھ ہجرت کر کے آئے تھے اور پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کے اشارہ سے سدوم کی بستیوں کی طرف منتقل ہوئے اور اس جگہ ان کی زبان سے واقفیت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس قوم کی ہدایت کے لئے نبی بنا دیئے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا پیغام رسالت ان بستی والوں کو پہنچانے لگے اس لحاظ سے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
Small pebbles of baked clay would be sent down upon them: مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ "marked, with your Lord, for the transgressors."... 51:34), that is, pebbles conspicuously marked by Allah. Some scholars say that each stone bore the name of the person with which he was to be destroyed, and if he ran in any particular direction, he was pursued by the same stone. Other verses say that these people were destroyed by Jibra'il's (علیہ السلام) turning their territory upside down. The two descriptions of the punishment are not mutually contradictory: Probably, the stoning incident took place…
Read the full tafseer →34 That is, "Among the whole nation and in the entire land there was only one house that shone with the light of the Faith and Islam, and it was no other but the house of the Prophet Lot himself. The rest of the entire nation was sunk , deep in sin and wickedness and its whole country was brimming over with filth and immorality. Therefore Allah rescued the people of that one house and then sent down the torment on the land, which did not spare any one of the wicked people. In this verse three important themes have been discussed:
(1) That Allah's law of retribution does not decree the total…
Read the full tafseer →