Explained with ayahs 31–37
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سورة الذّٰرِیٰت 32
یعنی ایک ایک پتھر پر آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اسے کس مجرم کی سرکوبی کرنی ہے۔ سورة ہود اور الحجر میں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شدید زلزلے کے اثر سے پورا علاقہ الٹ دیا گیا، اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے ان کو آتش فشاں مادے کے پتھروں کی بارش نے ختم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(آیت) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ، یعنی کنکریاں اللہ کی طرف سے خاص علامت لگی ہوئی ہوں گی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھیجی گئی تھی اور وہ جس طرف بھاگا اس کنکری نے اس کا تعاقب کیا اور دوسری آیات میں جو اس قوم کا عذاب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرائیل امین نے اس پورے شہر کو اٹھا کر پلٹ دیا تو یہ اس کے منافی نہیں کہ پہلے یہ پتھراؤ کیا گیا ہو اس کے بعد پوری زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(35۔ 37)
قوم لوط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
فرشتوں کی بات اوپر کی آیت پر ختم ہوئی۔ اب یہ آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے بعد اس نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ فرمایا کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے اس بستی کے اندر سے ان لوگوں کو نکال لیا جو اہل ایمان تھے۔ فیھا۔ میں ضمیر کا مرجع قوم لوط کی بستی ہے۔ چونکہ یہ مثالیں وفی الارض ایت للمومنین، کے تحت بیان ہورہی ہیں اس وجہ سے ضمیر بغیر مرجع کے آگئی۔ قرینہ کی موجودگی میں اس طرح ضمیر کا آنا عربی زبان میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں گزرچکی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی عذاب آنے سے پہلے ہم ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔
Read the full tafseer →فاخرجنا ........ المومنین (15 : 53) ” پھر ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے “ تاکہ وہ نجات پالیں ، ان کے لئے یہ اللہ کی حمایت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
4 یعنی اس بستی میں صرف ایک حضرت لوط کا گھرانا مسلمانی کا گھرانا تھا۔ اس کو ہم نے عذاب سے محفوظ رکھا اور صاف بچا نکالا۔ باقی سب تباہ کردیئے گئے۔
Read the full tafseer →آیت 35{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”پھر ہم نے نکال لیا جو بھی اس بستی میں تھے اہل ایمان۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
28 یہ لوگ طبعی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورت کو پیدا کیا تھا۔ مگر انہوں نے عورت کو چھوڑ کر مردوں سے ہی یہ خواہش پوری کرنا شروع کردی تھی۔ علاوہ ازیں سب اخلاقی اور قانونی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کا مجرم قوم کے طور پر تعارف کرایا گیا۔
29 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پتھر صرف مجرم قوم کے افراد ہی کو ہلاک کریں گے۔ اگر کسی دوسرے کو لگ بھی جائیں تو اسے ہلاک نہیں کریں گے۔ اور دوسرے یہ کہ ہر پتھر پر نشان کردیا گیا تھا کہ وہ فلاں شخص کو ہلاک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فاخرجنا من کان فیھا من المومنین (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے ان کو آگاہ کردیا گیا تھا اور اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں اور یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی شامل نہیں تھی، بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں تھی۔ (ایسر التفاسیر)
Read the full tafseer →فاخرجنا من کان فیھا من المؤمنین
فِیْھَا : قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ بستیوں کا ذکر اگرچہ پہلے نہیں کیا گیا لیکن رفتار کلام سے معلوم ہوتا ہے۔
اَلْمُؤْمِنِیْنَ : یعنی لوط ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں سے۔ یعنی ملائکہ نے کہا : لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ان کی دسترس تم تک نہ ہو سکے گی۔ تم کچھ رات رہے ‘ اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل جاؤ۔ تم میں سے کوئی منہ پھیر کر نہ دیکھے۔ ہاں ! تمہاری بیوی منہ پھیر کر دیکھے گی اس لیے جو پتھر اوروں پر گریں گے ‘ اس پر بھی ویسا ہی پتھر آپڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔
Read the full tafseer →(فاخرجنا من کان فیھا من المومنین : عذاب آنے سے پہلے لوط ؑ کے گھر والوں کو اس بستی سے نکالنے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (81) اور سورة حجر (65)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟
قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔
17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔
18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…
Read the full tafseer →فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] مَنْ كَانَ فِيْهَا [ اس کو جو تھا اس (بستی ) میں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:۔ ” فاخرجنا۔ الایۃ “ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے قوم لوط کی بستیوں سے مومنوں کو باہر نکال لیا۔ ” فما وجدنا فیھا۔ الایۃ “ ان بستیوں میں مسلمان تھے کتنے ؟ سو ایک گھر والوں کے ہم نے کوئی مسلمان وہاں نہیں پایا اور وہ بھی لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا۔ ” وترکنا فیھا ایۃ۔ الایۃ “ میں عذاب کی بعض نشانیاں باقی رہنے دیں، تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے ہیں یا ساہ رنگ کا بدبو دار پانی مراد ہے جو ان بستیوں میں پھیل گیا۔ (ابن کثیر، مظہری) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس دردناک عذاب ہی کو ڈرنے والوں کے لیے عبرت و نصیحت کی علامت بنا دیا۔ (خازن و معالم) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْہَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 35 ۚ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْن۔ فَمَا وَجَدْنَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَتَرَکْنَا فِیْھَـآ اٰیَـۃً لِّـلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (الذریٰت : 35 تا 37)
(پس اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال دیا۔ اور وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا۔ اور اس میں ہم نے ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لیے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض حقائق کا اظہار
اوپر کی آیت پر فرشتوں کی بات ختم ہوگئی۔ اگرچہ وہ ارشادات پروردگار ہی کے ہیں لیکن ان کی نسبت فرشتوں کی طرف ہے۔ اس کے بعد کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
فہم القرآن
ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟
بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…
Read the full tafseer →آیت 35 : فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْہَا (ہم نے سب کو وہاں سے علیحدہ کردیا) یعنی بستی میں۔ اس کے معروف ہونے کی وجہ سے بستی کا ذکر نہیں کیا۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (جتنے ایماندار تھے) یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے۔
Read the full tafseer →34 ۔” مسومۃ “ نشان زدہ ہوں گے۔ ” عندربک للمسرفین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مشرکین کے لئے اور شرک گناہوں میں سے حد سے بڑھا ہوا اور بڑا گناہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ ) پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انہیں نکال لیا اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ یہ حضرت لوط کے گھرانے کے لوگ تھے سوائے ان کی بیوی کے وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[ 32] قوم لوط کے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان :
سو اس قوم لوط کے عذاب کے لئے خاص پتھروں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے اور جن کو اس بدبخت قوم کے لئے بطور خاص تیار کیا گیا تھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ ہمیں ایک مجرم قوم ہی کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس پر بارش برسائیں نشان زرہ خاص پتھروں کی۔ مسومہ سَوُم سے ماخوذ و مشتق ہے، جس کے معنی علامت اور نشانی کے آتے ہیں، روایات کے مطابق ان میں سے ہر پتھر پر قدرت کی طرف سے اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس نے اس سے ہلاک ہونا تھا [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مظہری، اور مدارک وغیرہ ] سو قدرت کی طرف سے اس بدبخت قوم کے اشرار کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →ف 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشراد ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ہود : 77 تا 83 سورة حجر : 61 تا 74 سورة عنکبوت : 33 تا 34
Read the full tafseer →(51:35) فاخرجنا۔ پھر ہم نے نکال دیا۔فصیحۃ کا ہے ۔ اخرجنا ماضی جمع متکلم اخراج (افعال) مصدر۔ ضمیر جمع متکلم، اللہ کے لئے ہے اس جملہ سے قبل کچھ عبارت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔
کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتوں کی گفتگو ختم ہوئی اور وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ سورة ہود (11) آیات 77 تا 84 ، سورة الحجر (15) آیات 61 تا 77 ۔ اور سورة عنکبوت (29) آیات 33 تا 35 میں ملاحظہ فرما دیں۔ یہاں سورة ہذا میں صرف اس آخری وقت کا ذکر کیا جا رہا ہے جب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا۔
ارشاد ہوتا ہے :۔ پھر ہم نے (یعنی عذاب کے نازل ہونے سے قبل) ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–37
نافرمانی کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[17] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 45 صفحہ 522۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
اپنے اندر جھانک کر دیکھو
1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(35) آخر کار اس بستی میں جتنے ایمان والے تھے ہم نے ان کو وہاں سے بچا کر نکال لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →ہم نے اس علاقہ سے جس پر عذاب آنے والا تھا سارے مومنوں کو نکال دیا
35 ؎ لوط (علیہ السلام) کو عذاب آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے بتا دیا تھا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور آج کی رات گزرے گی اور صبح کے قریب تمہاری قوم کا عذاب شروع ہوجائے گا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے گا اس لئے آپ رات کے پہلے حصہ میں یہاں سے نکل جائیں اور اپنے ساتھ دوسرے ایمان لانے والوں کو بھی لے کر نکلیں اور انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ آپ کی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی اور ظاہر ہے کہ جب وہ پیچھے رہ گئی تو وہ ہلاک بھی ہوگئی اور یہی ہوا کہ لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اطلاع کردی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
Small pebbles of baked clay would be sent down upon them: مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ "marked, with your Lord, for the transgressors."... 51:34), that is, pebbles conspicuously marked by Allah. Some scholars say that each stone bore the name of the person with which he was to be destroyed, and if he ran in any particular direction, he was pursued by the same stone. Other verses say that these people were destroyed by Jibra'il's (علیہ السلام) turning their territory upside down. The two descriptions of the punishment are not mutually contradictory: Probably, the stoning incident took place…
Read the full tafseer →33 As to what happened between them and the people of the Prophet Lot when the angels reached his house after their meeting with the Prophet Abraham, has been left out. The details have been given in the Surahs Hud, AI-Hijr and AI'Ankabut above. Here mention is being made only of the time when they were going to be visited by the scourge.
Read the full tafseer →