Adh-Dhaariyat 51:34

Adh-Dhaariyat · from ayah 34

51:34

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ۟مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Marked in the presence of your Lord for the transgressors."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:34

جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو تیرے رب کی طرف سے نشان زده ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن پر حد سے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے تمہارے پروردگار کے پاس سے خاص نشان بھی لگا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ پتھر جن پر) حد سے گزر جانے والوں کے لئے آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جن پر تیرے رب کے ہاں حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو حد سے بڑھنے والوں (کی ہلاکت) کے لئے آپ کے پروردگار کے ہاں سے نشان زدہ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو نشان لگائے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس ان لوگوں کے لئے جو حدود سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن پر نشان لگے ہوئے ہوں گے آپ کے رب کے یہاں سے حد سے بڑھنے والوں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

جن پر آپ کے پروردگار کے پاس نشان خاص بھی پڑے ہوئے ہیں حد سے نکل جانے والوں کے لئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان پر حد سے بڑھ جانے والوں کے نشان لگا دئیے گئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

marked by your Lord upon those who go beyond the limits.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

marked by your Lord for the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

marked by your Lord for the transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Marked by your Lord for transgressors."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Marked by thy Lord for (the destruction of) the wanton.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Marked in the presence of your Lord for the transgressors."

— Saheeh International

They are transgressors in the presence of your Lord".

— Muhammad Sarwar

Sent forth from your Lord for the extravagant.

— Muhammad Habib Shakir

Marked, from before thy Lord, for extravagant.

— Abdul Majid Daryabadi

"Marked as from thy Lord for those who trespass beyond bounds."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الذّٰرِیٰت 32 یعنی ایک ایک پتھر پر آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اسے کس مجرم کی سرکوبی کرنی ہے۔ سورة ہود اور الحجر میں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ شدید زلزلے کے اثر سے پورا علاقہ الٹ دیا گیا، اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے ان کو آتش فشاں مادے کے پتھروں کی بارش نے ختم کردیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–37

(آیت) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ، یعنی کنکریاں اللہ کی طرف سے خاص علامت لگی ہوئی ہوں گی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھیجی گئی تھی اور وہ جس طرف بھاگا اس کنکری نے اس کا تعاقب کیا اور دوسری آیات میں جو اس قوم کا عذاب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرائیل امین نے اس پورے شہر کو اٹھا کر پلٹ دیا تو یہ اس کے منافی نہیں کہ پہلے یہ پتھراؤ کیا گیا ہو اس کے بعد پوری زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

لنرسل علیھم حجارۃ من طین، مومۃ عند ربک للمسرفین (33۔ 34) یہ فرشتوں نے اپنے بھیجے جانے کا مقصد واضح فرمایا کہ ہم بھیجے گئے ہیں کہ اس مجرم قوم پر کنکروں کی بارش کردیں، یہاں علی، کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان پر ایسی بارش کریں کہ بالکل پامال کرکے رکھ دیں۔ حجارۃ من طین، سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے پتھر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے لئے قرآن میں لفظ، سجیل بھی آیا ہے۔ مثلا سورة ہود میں وامطرنا علیھا حجارۃً من سجیل (ھود : 82) (اور ہم نے اس پر سنگ گل کی بارش کردی) سجیل، دراصل فارسی کے سنگ گل سے معرب ہے۔ یہاں حجارۃً من طین، کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرمادی ہے۔ مسومۃً ، کے معنی نشان زدہ کے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 مسومۃ (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا یا وہ عذاب کے لیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے موت جس کی موت واقع ہوئی تھی اس پر اسی کا نام لکھا ہوا تھا، مسرفین جو شرک و ضلالت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور فسق و فجور میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

لنرسل ........ للمسرفین (15 : 43) ” تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ “ یہ مٹیالے پتھر ، تیار شدہ اور نشان زدہ تھے اور اللہ نے ان کو مسرفین کے لئے تیار کیا تھا اور یہ مسرف قوم لوط کے لوگ تھے جنہوں نے حدود سے تجاوز کرلیا تھا۔ وہ فطرت کی راہ سے تجاوز کرکے غیر فطری عمل کرتے تھے۔ جو حق اور دین کے خلاف راستہ تھا۔ ان پتھروں کے بارے میں کوئی بات اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ آتش فشانی کے عمل کے نتیجے میں برسنے والوے پتھر ہوں کیونکہ گرم لاوا جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے اور یہ رب تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے اور اس کے قوانین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پتھروں پر نشان کردیئے گئے ہیں۔ یہ عذاب کے پتھر خاص ان ہی کو لگیں گے جو عقل، دین اور فطرت کی حد سے نکل چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34{ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ۔ } ”جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہر کنکری کو ان کے ایک خاص فرد کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے لیے گولی bullet کا کام کرے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–35

28 یہ لوگ طبعی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورت کو پیدا کیا تھا۔ مگر انہوں نے عورت کو چھوڑ کر مردوں سے ہی یہ خواہش پوری کرنا شروع کردی تھی۔ علاوہ ازیں سب اخلاقی اور قانونی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کا مجرم قوم کے طور پر تعارف کرایا گیا۔ 29 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پتھر صرف مجرم قوم کے افراد ہی کو ہلاک کریں گے۔ اگر کسی دوسرے کو لگ بھی جائیں تو اسے ہلاک نہیں کریں گے۔ اور دوسرے یہ کہ ہر پتھر پر نشان کردیا گیا تھا کہ وہ فلاں شخص کو ہلاک کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–36

20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

مسومۃ عند ربک وہ کنکریاں تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں کہ اس کے ذریعہ کس مجرم کی سرکوبی ہونی ہے، سورة ہود اور الحجر میں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ان کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیئے گئے، کنکریوں پر کیا علامت لگی ہوئی تھی ؟ بعض مفسرین نے کہا کہ ان کنکریوں پر سیاہ وسفید دھاریاں تھیں اور یہ بھی کہا گیا ہے سیاہ سرخ دھاریاں تھیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر کنکری پر اس مجرم کا نام لکھا ہوا تھا جس کی اس کے ذریعہ سرکوبی کرنی تھی۔ (فتح القدیر شوکانی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مسومۃ عند ربک للمسرفین . جن پر آپ کے رب کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشانیاں ہیں ‘ حد سے گزرنے والوں کے لیے۔ مُسَوَّمَۃً : نشاندار ‘ جس پتھر سے جس شخص کو ہلاک کرنے کا حکم تھا ‘ اس شخص کا نام اس پتھر پر مقرر تھا۔ لِلْمُسْرِفِیْنَ : بدکاری میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی مشرکوں کے لیے کیونکہ شرک سب سے بڑا اور حد سے زیادہ گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–36

(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–34

(قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین …: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (83) ، حجر (58، 74) اور سورة عنکبوت (31 تا 35)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–37

قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟ قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–35

16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مُّسَوَّمَةً [ نشان لگے ہوئے ] عِنْدَ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے پاس ] لِلْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے بڑھنے والوں کے لیے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 34 اور 35 کے درمیان یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس یہ فرشتے کس طرح حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں پہنچے اور وہ ان ان کے اور قوم لوط کے درمیان کیا کچھ پیش آیا ۔ یہ تفصیلات سورة ہود، الحجر ، اور العنکبوت میں گزر چکی ہیں، یہاں صرف آخری وقت کا ذکر ہے جب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا ۔ (تفہیم القرآن ) فرشتوں کی بات آیت ۔ 34 پر ختم ہوگئی ہے۔ اب آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ ان کے بعد اس نے انکے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ (تدبر قرآن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–36

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

10:۔ ” قال فما خطبکم “ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اے اللہ کے فرستادو ! تم کس مہم پر جا رہے ہو ؟ ” قالوا انا ارسلنا الخ “ کہا ہمیں ایک مجرم قوم (قرم لو ط) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں پر مٹی کی پختہ اینٹوں کی بارش برسائی جن پر ان کے نام لکھے ہوں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مسومۃ معلمۃ علی کل واحد منہا اسم من یھلک بہ (مظہری ج 9 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ۝ 34 سام السَّوْمُ أصله : الذّهاب في ابتغاء الشیء، فهو لفظ لمعنی مركّب من الذّهاب والابتغاء، وأجري مجری الذّهاب في قولهم : سَامَتِ الإبل، فهي سَائِمَةٌ ، ومجری الابتغاء في قولهم : سُمْتُ كذا، قال : يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذابِ [إبراهيم/ 6] ، ومنه قيل : سِيمَ فلان الخسف، فهو يُسَامُ الخسف، ومنه : السَّوْمُ في البیع، فقیل : ( صاحب السّلعة أحقّ بالسّوم) ويقال : سُمْتُ الإبل في المرعی، وأَسَمْتُهَا، وسَوَّمْتُهَا، قال : وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ [ النحل/ 10] ، والسِّيمَاءُ والسِّيمِيَاءُ : العلامة، قال الشاعر : له سيمياء لا تشق علی البصر وقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الذریٰت : 33، 34) (تاکہ ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں۔ جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس، حد سے گزر جانے والوں کے لیے۔ ) فرشتوں نے اپنی منزل کی بھی خبر دے دی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں فرشتوں نے اپنی منزل کا بھی ذکر کیا اور اس مقصد کا بھی جس کے لیے وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکل کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس جانے تک اور پھر اس کے بعد جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر پروردگار نے نہیں فرمایا، کیونکہ یہ واقعات سورة ہود، الحجر اور العنکبوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–37

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 34 : مُّسَوَّمَۃً (جن پر نشان بھی ہے) یہ السومۃ سے لیا گیا ہے۔ اور وہ علامت و نشان کو کہتے ہیں۔ ہر ایک پتھر پر اس کا نام تھا جس نے اس سے ہلاک ہونا تھا۔ عِنْدَ رَبِّکَ (آپ کے رب کے پاس سے) اس کی ملکیت و سلطنت میں۔ لِلْمُسْرِفِیْنَ (حد سے گزرنے والوں کے لئے) ان کو مسرفین فرمایا۔ جیسا کہ ان کو عادین کا لقب دیا۔ کیونکہ وہ اپنے عمل میں حد سے بڑھنے والے اور زیادتی کی انتہاء تک پہنچنے والے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے مباحات پر قناعت نہ کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–34

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ ) تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں نشان زدہ ہیں۔ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود پھلانگ گئے تھے چناچہ حضرت ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگھڑنے لگے۔ شاید اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے چناچہ ان سے کہا گیا (یا ابراہیم اعرض عن ھذا انہ قد جاء امر ربک وانھم اٰتیھم عذاب غیرمردود۔ ھود 76) ۔ اے ابراہیم اس بات کو جانے دو ، تیرے رب کا حکم آگیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

[ 32] قوم لوط کے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان : سو اس قوم لوط کے عذاب کے لئے خاص پتھروں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے اور جن کو اس بدبخت قوم کے لئے بطور خاص تیار کیا گیا تھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ ہمیں ایک مجرم قوم ہی کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس پر بارش برسائیں نشان زرہ خاص پتھروں کی۔ مسومہ سَوُم سے ماخوذ و مشتق ہے، جس کے معنی علامت اور نشانی کے آتے ہیں، روایات کے مطابق ان میں سے ہر پتھر پر قدرت کی طرف سے اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس نے اس سے ہلاک ہونا تھا [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مظہری، اور مدارک وغیرہ ] سو قدرت کی طرف سے اس بدبخت قوم کے اشرار کیلئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 3 یعنی جن میں سے ہر پتھر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اس سے فلاں مجرم کا سر کچلنا ہے۔ سورة عنکبوت میں ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے فرمایا : ان فیھا لوطا جس بستی کی طرف تم جا رہے ہو اس میں لوط رہتا ہے۔ “ وہ بولے ” نحن اعلم بمن فیھا النجیتہ و اھلہ الا امرانہ، ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم بجز ان کی بیوی کے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:34) مسومۃ : اسم مفعول واحد مؤنث تسویم (تفعیل) مصدر۔ مسومۃ صفت ہے حجارۃ کی۔ سوم کا معنی ہے کسی چیز کی طلب میں جانا۔ اور طلب۔ کبھی صرف دوسرا جزء ملحوظ ہوتا ہے۔ جیسے یسومونکم سوء العذاب (2:49) تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، دینی چاہتے تھے۔ یا وہ تمہارے لئے سخت تکلیفیں تلاش کرتے تھے، کبھی جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے سخت الابل فی المرعی۔ میں نے چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹوں کو بھیج دیا۔ یا جیسے قرآن مجید میں ہے ومنہ شجر فیہ تسیمون (16:10) اور اس سے درخت بھی شاداب ہوتے ہیں جن میں تم جانوروں کو چراتے ہو۔ یا چرنے کے لئے بھیجتے ہو۔ اس مادہ سے سومۃ ، سیمۃ، سیما علامت یا نشان ہے۔ قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–37

نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) ان پتھروں پر آپ کے پروردگار کی طرف سے حد سے نکل جانے والوں کے لئے خاص نشان بھی پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں اور مسرف ہیں ان پر جو پتھر برسیں گے ان پتھروں پر آپ کے پروردگار کی جانب سے خاص علامت اور نشان ہوں گے یعنی ان کے نام لکھے ہوئے ہوں گے تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–37

Small pebbles of baked clay would be sent down upon them: مُّسَوَّمَةً عِندَ رَ‌بِّكَ "marked, with your Lord, for the transgressors."... 51:34), that is, pebbles conspicuously marked by Allah. Some scholars say that each stone bore the name of the person with which he was to be destroyed, and if he ran in any particular direction, he was pursued by the same stone. Other verses say that these people were destroyed by Jibra'il's (علیہ السلام) turning their territory upside down. The two descriptions of the punishment are not mutually contradictory: Probably, the stoning incident took place…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

32 That is, "Each stone has been marked by your Lord's command to show 'for which culprit it is meant." According to the details given in the Qur'an, in Surahs Hud and Al-Hijr, their towns were turned upside down, and then showered with stones of baked clay. From this one can understand that the entireland was overturned by a severe earthquake and the people who tried to escape were showered with brimstone and destroyed.

Read the full tafseer →