Adh-Dhaariyat 51:33

Adh-Dhaariyat · from ayah 33

51:33

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍ ۟ۙلِنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

To send down upon them stones of clay,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:33

تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ ہم ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ ہم اُن پر مٹی کے پتھریلے کنکر برسائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر (کھنگر) پھینکیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ ان کے اوپر سنگ گل کی بارش کردیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ ہم برسا دیں ان پر پکی ہوئی مٹی کے ایسے پتھر

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ ان پر مٹی کے پتھر برسائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that we may unleash a shower of clay-stones

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that we may send down upon them stones of clay,

— Muhammad Taqi Usmani

so that we may send down upon them stones of clay,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"To send down upon them stones of clay."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That we may send upon them stones of clay,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To send down upon them stones of clay,

— Saheeh International

to bring down upon them showers of marked lumps of clayy.

— Muhammad Sarwar

That we may send down upon them stone of clay,

— Muhammad Habib Shakir

That we may send down upon them stones of baked clay.

— Abdul Majid Daryabadi

"To bring on, on them, (a shower of) stones of clay (brimstone),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة الذّٰرِیٰت 31 مراد ہے قوم لوط۔ اس کے جرائم اس قدر بڑھ چکے تھے کہ صرف " مجرم قوم " کا لفظ ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اس سے مراد کون سی قوم ہے۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 51 تا 53۔ 355 تا 359۔ 510 تا 515۔ جلد سوم، ص، 170۔ 526 تا 530۔ 586۔ 587۔ 594 تا 598۔ جلد چہارم، الصافات، ص 306۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

اس گفتگو میں جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، انہوں نے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا تذکرہ کیا کہ ان کی قوم پر پتھراؤ کیا جائے گا اور پتھراؤ بھی کچھ بڑے بڑے پتھروں سے نہیں، بلکہ مٹی سے بنی ہوئی کنکریوں سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

لنرسل علیھم حجارۃ من طین، مومۃ عند ربک للمسرفین (33۔ 34) یہ فرشتوں نے اپنے بھیجے جانے کا مقصد واضح فرمایا کہ ہم بھیجے گئے ہیں کہ اس مجرم قوم پر کنکروں کی بارش کردیں، یہاں علی، کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان پر ایسی بارش کریں کہ بالکل پامال کرکے رکھ دیں۔ حجارۃ من طین، سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے پتھر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے لئے قرآن میں لفظ، سجیل بھی آیا ہے۔ مثلا سورة ہود میں وامطرنا علیھا حجارۃً من سجیل (ھود : 82) (اور ہم نے اس پر سنگ گل کی بارش کردی) سجیل، دراصل فارسی کے سنگ گل سے معرب ہے۔ یہاں حجارۃً من طین، کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرمادی ہے۔ مسومۃً ، کے معنی نشان زدہ کے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کردیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

لنرسل ........ للمسرفین (15 : 43) ” تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ “ یہ مٹیالے پتھر ، تیار شدہ اور نشان زدہ تھے اور اللہ نے ان کو مسرفین کے لئے تیار کیا تھا اور یہ مسرف قوم لوط کے لوگ تھے جنہوں نے حدود سے تجاوز کرلیا تھا۔ وہ فطرت کی راہ سے تجاوز کرکے غیر فطری عمل کرتے تھے۔ جو حق اور دین کے خلاف راستہ تھا۔ ان پتھروں کے بارے میں کوئی بات اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ آتش فشانی کے عمل کے نتیجے میں برسنے والوے پتھر ہوں کیونکہ گرم لاوا جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے اور یہ رب تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے اور اس کے قوانین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 32–33

2 یعنی قوم لوط کی سزا دہی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تاکہ کنکر کے پتھر برسا کر ان کو ہلاک کریں۔ " من طینٍ " کی قید سے معلوم ہوگیا کہ یہ اولوں کی بارش نہ تھی جس کو تو سعاً پتھر کہہ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33{ لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ۔ } ”تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 یعنی ایسے نوکیلے اور چبھ جانے والے کنکر جو ابھی پوری طرح پتھر نہ بنے ہوں اور ان کا کچھ حصہ مٹی سے پتھر بن رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–36

20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–33

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لنرسل علیھم حجارۃ من طین تاکہ ہم ان پر کنکر ‘ پتھر برسائیں حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ : یعنی کنکر ‘ وہ مٹی جو منجمد ہو کر پتھر بن جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–36

(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–34

(قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین …: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (83) ، حجر (58، 74) اور سورة عنکبوت (31 تا 35)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–37

قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟ قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–35

16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ [ تاکہ ہم چھوڑیں ان پر ] حِجَارَةً [ کچھ ایسے پتھر جو ] مِّنْ طِيْنٍ [ گارے سے ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–36

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

10:۔ ” قال فما خطبکم “ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اے اللہ کے فرستادو ! تم کس مہم پر جا رہے ہو ؟ ” قالوا انا ارسلنا الخ “ کہا ہمیں ایک مجرم قوم (قرم لو ط) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں پر مٹی کی پختہ اینٹوں کی بارش برسائی جن پر ان کے نام لکھے ہوں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مسومۃ معلمۃ علی کل واحد منہا اسم من یھلک بہ (مظہری ج 9 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِنُرْسِلَ عَلَيْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِيْنٍ۝ 33 ۙ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الذریٰت : 33، 34) (تاکہ ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں۔ جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس، حد سے گزر جانے والوں کے لیے۔ ) فرشتوں نے اپنی منزل کی بھی خبر دے دی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں فرشتوں نے اپنی منزل کا بھی ذکر کیا اور اس مقصد کا بھی جس کے لیے وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکل کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس جانے تک اور پھر اس کے بعد جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر پروردگار نے نہیں فرمایا، کیونکہ یہ واقعات سورة ہود، الحجر اور العنکبوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–37

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 33 : لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ (تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں) مراد کنکریاں ہیں۔ وہ مٹی ہے جس کو پکایا جاتا ہے جیسا کہ پکی اینٹ پک کر مضبوطی میں پتھر کی طرح ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–34

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ ) تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں نشان زدہ ہیں۔ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود پھلانگ گئے تھے چناچہ حضرت ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگھڑنے لگے۔ شاید اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے چناچہ ان سے کہا گیا (یا ابراہیم اعرض عن ھذا انہ قد جاء امر ربک وانھم اٰتیھم عذاب غیرمردود۔ ھود 76) ۔ اے ابراہیم اس بات کو جانے دو ، تیرے رب کا حکم آگیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–33

[ 30] خرق عادت نوازش کے ظہور کا ذکر وبیان : سوا اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرق عادت نوازش کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا اور کہا کہ تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے اور وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس آپ کی حالت اس سے کوئی مخفی اور پوشیدہ نہیں، مگر اس کے باوجود اس نے یوں ہی فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے اس لئے یہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا اور اس کی حکمتیں اسی کے علم اور احاطہ میں ہیں، جل جلالہ، لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ جب اس زبّ حکیم وعلیم نے ایسے فرمایا ہے تو یہ اسی طرح ہو کر رہے گا، نہ آپ کا بڑھیا اور بانجھ ہونا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 3 یعنی جن میں سے ہر پتھر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اس سے فلاں مجرم کا سر کچلنا ہے۔ سورة عنکبوت میں ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے فرمایا : ان فیھا لوطا جس بستی کی طرف تم جا رہے ہو اس میں لوط رہتا ہے۔ “ وہ بولے ” نحن اعلم بمن فیھا النجیتہ و اھلہ الا امرانہ، ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم بجز ان کی بیوی کے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:33) لنرسل۔ لام تعلیل کا ہے نرسل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع متکلم ۔ ارسال (افعال) مصڈر تاکہ ہم برسائیں۔ تاکہ ہم بھیجیں۔ علیہم ان پر، قوم مجرمین پر۔ حجارۃ من طین۔ مٹی سے بنے ہوئے پتھر، کنکر، وہ مٹی جو پتھر بن گئی ہو۔ مٹی کی قید اس وجہ سے لائی گئی کہ یہ تو ہم دور ہوجائے کیونکہ بعض لوگ اولے کو بھی پتھر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–37

نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–33

When, in the course of the conversation, Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) discovered that the guests were angels, he asked them what was their mission and they replied that they had been sent to the people of Lut (علیہ السلام) to destroy them as a punishment for their unspeakable crime. They would be stoned to death, but not with large stones.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

32 That is, "Each stone has been marked by your Lord's command to show 'for which culprit it is meant." According to the details given in the Qur'an, in Surahs Hud and Al-Hijr, their towns were turned upside down, and then showered with stones of baked clay. From this one can understand that the entireland was overturned by a severe earthquake and the people who tried to escape were showered with brimstone and destroyed.

Read the full tafseer →