Adh-Dhaariyat 51:32

Adh-Dhaariyat · from ayah 32

51:32

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۟ۙقَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَۙ

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Indeed, we have been sent to a people of criminals

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:32

انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناه گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: ہم مجرِم قوم (یعنی قومِ لُوط) کی طرف بھیجے گئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا بیشک ہم کچھ گناہ گار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو انہوں نے بتایا کہ ہم کو تو دراصل بھیجا گیا ہے ایک ایسی قوم کی طرف جو کہ سخت مجرم ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرشتوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: “Behold, we have been sent to a wicked people

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We are sent to a guilty people, (i.e. the people of Sodom)

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We are sent to a guilty people, (i.e. the people of Sodom)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "We have been sent to a people who are criminals."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Lo! we are sent unto a guilty folk,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Indeed, we have been sent to a people of criminals

— Saheeh International

They replied, "We have been sent to a sinful people

— Muhammad Sarwar

They said: Surely we are sent to a guilty people,

— Muhammad Habib Shakir

They said: verily we are sent Unto a people, guilty.

— Abdul Majid Daryabadi

They said, "We have been sent to a people (deep) in sin;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة الذّٰرِیٰت 31 مراد ہے قوم لوط۔ اس کے جرائم اس قدر بڑھ چکے تھے کہ صرف " مجرم قوم " کا لفظ ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اس سے مراد کون سی قوم ہے۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 51 تا 53۔ 355 تا 359۔ 510 تا 515۔ جلد سوم، ص، 170۔ 526 تا 530۔ 586۔ 587۔ 594 تا 598۔ جلد چہارم، الصافات، ص 306۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

اس گفتگو میں جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، انہوں نے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا تذکرہ کیا کہ ان کی قوم پر پتھراؤ کیا جائے گا اور پتھراؤ بھی کچھ بڑے بڑے پتھروں سے نہیں، بلکہ مٹی سے بنی ہوئی کنکریوں سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین (32) فرشتوں کا جواب فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہاں معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے قوم لوط کا ذکر نام کی تصریح کے ساتھ نہیں کیا لیکن سورة ہود میں ہے : قالوالا تخف انا ارسلنا الی قوم لوطّ (ھود : 70) (انہوں نے کہا تم نہ ڈرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں) ان دونوں مواقع کو ملانے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں نے قوم لوط کا ذکر ان کے کردار اور نام دونوں کے ساتھ کیا تاکہ حضرت ابراہیم ؑ پر اس قوم کے مستحق عذاب ہونے کا پہلو واضح ہوجائے لیکن قرآن نے یہ تقاضائے بلاغت اس سورة میں ان کے نام کا ذکر حذف کرکے صرف ان کے قوم مجرم ہونے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین (15 : 23) ” ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یہ قوم لوط کے لوگ تھے جیسا کہ دوسری سورتوں میں تصریح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 32–33

2 یعنی قوم لوط کی سزا دہی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تاکہ کنکر کے پتھر برسا کر ان کو ہلاک کریں۔ " من طینٍ " کی قید سے معلوم ہوگیا کہ یہ اولوں کی بارش نہ تھی جس کو تو سعاً پتھر کہہ دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ۔ } ”انہوں نے کہا : ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 ذکر قوم لوط :۔ یہ مجرم قوم، قوم لوط تھی جس کے تعارف کے لیے مجرم قوم ہی کہہ دینا کافی ہے۔ کیونکہ وہ مجسم مجرم تھی۔ اللہ کے ساتھ شرک کرتی تھی۔ لواطت کی بانی اور موجد تھی۔ مسافروں سے لواطت کرکے ان کا مال اسباب چھین کر اپنی بستی سے چلتا کردیتی تھی۔ آخرت کی اور رسولوں کی منکر تھی اور اپنے نبی کو اپنی بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتی تھی۔ غرضیکہ وہ ہر طرح کے کفر و شرک اور فسق و فجور میں مبتلا قوم تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–36

20۔ (اور وہ ایک گھر حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر ہی کا تھا) (آیت) ” قوما مجرمین “۔ ذکر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےدین و بدعمل قوم کا ہے ..... مفصل حاشیے کئی بار گزر چکے۔ (آیت) ” فاخرجنا ..... المسلمین “۔ اس بستی بھر میں کوئی دوسرا شریف و مومن بجز حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر کے گھرانے کے اور تھا ہی نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، اور شرق اردن میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (آیت) ” لنرسل .... للمسرفین “۔ اس شامت زدہ قوم کے ہلاکت آسمانی پتھراؤ سے ہوئی تھی۔ (آیت) ” المسلمین “۔ ابھی ابھی ان کے لئے لفظ المومنین کا آچکا تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے استدلال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–33

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین فرشتوں نے کہا : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ : یعنی قوم لوط ( علیہ السلام) جو ایسے گندے افعال میں مبتلا تھی کہ اس سے پہلے کسی نے بھی ویسے گندے عمل نہیں کیے تھے۔ یہ لوگ لواطت کے بانی تھے۔ رہزن تھے ‘ لٹیرے تھے اور عام جلسوں میں سب کے سامنے بےحیائی کے کام کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے ان ہی کے ایک برادر وطن حضرت لوط کو بھیجا لیکن قوم نے لوط کی نبوت ماننے سے انکار کردیا اور بولے : اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔ لوط ( علیہ السلام) نے دعا کی : اے میرے ربّ ! مجھے اس ظالم قوم سے محفوظ رکھ اور ان مفسدوں کے مقابلہ میں میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–36

(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–34

(قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین …: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (83) ، حجر (58، 74) اور سورة عنکبوت (31 تا 35)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–37

قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟ قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–35

16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ [ ان لوگوں نے کہا بیشک ہم بھیجے گئے ہیں ] اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ [ ایک مجرم قوم کی طرف ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–36

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

10:۔ ” قال فما خطبکم “ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اے اللہ کے فرستادو ! تم کس مہم پر جا رہے ہو ؟ ” قالوا انا ارسلنا الخ “ کہا ہمیں ایک مجرم قوم (قرم لو ط) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں پر مٹی کی پختہ اینٹوں کی بارش برسائی جن پر ان کے نام لکھے ہوں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مسومۃ معلمۃ علی کل واحد منہا اسم من یھلک بہ (مظہری ج 9 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ۝ 32 ۙ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْٓا اِنَّـآ اُرْسِلْنَـآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الذریٰت : 32) (فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ) فرشتوں کا جواب مجرموں کی قوم سے مراد قوم لوط تھی۔ لیکن یہاں اس کا نام تصریح کے ساتھ نہیں آیا۔ لیکن سورة ہود میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ ارشاد ہواقالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّا اُرْسِلْنَا اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ (ہود : 70) انھوں نے کہا : تم نہ ڈرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ لیکن یہاں نام لینے کی بجائے ان کے کردار کا حوالہ دیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ ان پر ہم جو اللہ تعالیٰ کا عذاب لے کر جارہے ہیں تو اس لیے نہیں کہ قوم لوط ہونے کی حیثیت سے قدرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–37

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 32 : قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ (وہ کہنے لگے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں) یعنی قوم لوط ( علیہ السلام) کی طرف۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ ) انہوں نے کہا ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اور اس سے مراد قوم لوط ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–33

[ 30] خرق عادت نوازش کے ظہور کا ذکر وبیان : سوا اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرق عادت نوازش کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا اور کہا کہ تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے اور وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس آپ کی حالت اس سے کوئی مخفی اور پوشیدہ نہیں، مگر اس کے باوجود اس نے یوں ہی فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے اس لئے یہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا اور اس کی حکمتیں اسی کے علم اور احاطہ میں ہیں، جل جلالہ، لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ جب اس زبّ حکیم وعلیم نے ایسے فرمایا ہے تو یہ اسی طرح ہو کر رہے گا، نہ آپ کا بڑھیا اور بانجھ ہونا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:32) ارسلنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ارسال (افعال) مصدر۔ ہم بھیجے گئے ہیں ۔ قوم مجرمین۔ موصوف وصفت۔ مجرمین اسم فاعل جمع مذکر، مجرم ، گنہگار، جرائم پیشہ لوگ، مراد حضرت لوط کی قوم ہے، جو ایسے گندے افعال میں مبتلا تھے کہ اس سے پہلے کسی نے بھی ایسے گندے عمل نہیں کئے تھے۔ یہ لوگ لواطت کے بانی تھے۔ راہزن اور لٹیرے تھے اور مجمع عام کے روبرو بےحیائی کے کام کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–37

نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں کہا بلاشبہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–33

When, in the course of the conversation, Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) discovered that the guests were angels, he asked them what was their mission and they replied that they had been sent to the people of Lut (علیہ السلام) to destroy them as a punishment for their unspeakable crime. They would be stoned to death, but not with large stones.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 That is, to the people of the Prophet Lot. The epithet of "a guilty people" was enough to. tell which people were meant in view of the gravity of their crimes. They have already been mentioned in the Qur'an in Al-A'raf: 80-84, Hud:74-83, Al-Hijir : 58-79, AI-Anbiya`: 74-75, Ash-Shu'ara: 160-175, AnNaml: 54-58, As-Saaffat : 133-137.

Read the full tafseer →