Adh-Dhaariyat 51:31

Adh-Dhaariyat · from ayah 31

51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ ۟قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ

ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:31

ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تم کس مہم پر ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: اے بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) تمہارا (آنے کا) بنیادی مقصد کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو !) تمہارا معاملہ کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابراہیم نے ان (فرشتوں) سے پوچھا : اے فرستادگان الٰہی ! تمہارا کیا مقصد ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے پوچھا، اسے فرستادو، اس وقت آپ کے سامنے مہم کیا ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ اچھا تو آپ حضرات کی اصل مہم کیا ہے اے فرستادو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(ابراہیم ؑ نے) کہا (اچھا) تمہیں کیا بڑی مہم درپیش ہے (اے آسمانی) قاصدو۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ابراہیم نے پوچھا کہ اے ایلچیو ! پھر آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ابراہیم ؑ نے) کہا کہ اے فرشتو ! تمہارا کیا مطلب ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Abraham said: “Envoys (of Allah), what is your errand?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Ibrahim) said (to the angels), :Then, what is your mission O messengers?

— Muhammad Taqi Usmani

He (Ibrahim) said (to the angels), :Then, what is your mission O messengers?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Ibrahim) said: "Then for what purpose you have come, O messengers"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Abraham) said: And (afterward) what is your errand, O ye sent (from Allah)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"

— Saheeh International

Abraham asked, "Messengers, what is your task?"

— Muhammad Sarwar

He said: What is your affair then, O apostles!

— Muhammad Habib Shakir

He said: what then is your errand! O ye sent ones!

— Abdul Majid Daryabadi

(Abraham) said: "And what, O ye Messengers, is your errand (now)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–37

پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب ان نووارد مہمانوں سے حضرت ابراہیم کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی۔ بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کرچکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ نہ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 30 چونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا کسی بڑے اہم کام کے لیے ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آمد کا مقصد پوچھنے کے لیے خطب کا لفظ استعمال فرمایا۔ خَطْب عربی زبان میں کسی معمولی کام کے لیے نہیں بلکہ کسی امر عظیم کے لیے بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

اس گفتگو میں جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، انہوں نے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا تذکرہ کیا کہ ان کی قوم پر پتھراؤ کیا جائے گا اور پتھراؤ بھی کچھ بڑے بڑے پتھروں سے نہیں، بلکہ مٹی سے بنی ہوئی کنکریوں سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال فما خطبکم ایھا المرسلون (31) حضرت ابراہیم ؑ کا سوال اور اس کی نوعیت حضرت ابراہیم ؑ کو جب اپنے باب میں اطمینان ہوگیا اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہ لوگ فرشتے ہیں تو انہوں نے ان سے سوال کیا کہ اے فرستادو ! اس وقت آپ لوگوں کے سامنے مہم کیا ہے ؟ یہ سوال انہوں نے اس وجہ سے کیا کہ ان پر یہ حقیقت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، واضح تھی کہ فرشتے جب اس طرح آتے ہیں تو کسی بڑی مہم ہی پر آتے ہیں، مجرد فرزند کی خوشخبری مقصود ہوتیتو اس کے لئے اس اہتمام کی ضرورت نہیں تھی۔ لفظ خطبہ عربی میں کسی بڑے اور اہم کام ہی کے لئے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں چونکہ قوم لوط سے متعلق اندیشہ موجود تھا اس وجہ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31۔ 1 یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لئے تمہیں بھیجا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب حضرت ابراہیم نے اپنے مہمانوں کی حقیقت معلوم کرلی تو وہ پوچھنے لگے کہ ان کا مشن کیا ہے۔ قال انا ارسلنا الی قوم مجرمین (15 : 13) ” انہوں نے کہا اے فرستادگان الٰہی آپ کو کیا مہم درپیش ہے۔ “ تو انہوں نے جواب دیا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ابراہیم نے فرشتوں سے پوچھا کہ آخر تم کس مہم کے لیے آئے ہو۔ انداز سے سمجھے ہوں گے کہ ضرور کسی اور اہم مقصد کے لیے ان کا نزول ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31{ قَالَ فَمَا خَطْبُـکُمْ اَیُّـہَا الْمُرْسَلُوْنَ۔ } ”ابراہیم نے پوچھا کہ اے ایلچیو ! پھر آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے ؟“ آپ کا قصد اور ارادہ کیا ہے ؟ کیا خصوصی مہم آپ کو درپیش ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 خَطْب کا لغوی مفہوم :۔ خَطْب بمعنی حال، معاملہ، مقصد خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور یہ لفظ عام طور پر کسی ناپسندیدہ معاملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوچکا تھا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے انسانی شکل میں غیر معمولی حالات میں ہی آیا کرتے ہیں۔ بیٹے کی بشارت سے ان کا اپنا ڈر تو دور ہوگیا تاہم ابھی اصل حیرت کا معاملہ باقی تھا۔ لہذا آپ نے فرشتوں سے پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں اور کیا مقصد ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ آپ (علیہ السلام) نے فراست نبوت سے سمجھ لیا تھا کہ یقیناً کسی اور اہم مقصد کیلئے یہ ملائکہ کی سفارت روانہ ہوئی ہے۔ سورة ہود میں فرشتوں کا یہ قول مکالمۂ حضرت سارہ کے قبل مذکور ہے۔ ؛ اور یہاں بعد مکالمہ کے مذکور ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ قول مکالمہ سارہ سے قبل ہی ادا ہوا ہے۔ اور چونکہ یہاں کوئی حرف ترتیب کا نہیں۔ اس لئے ترتیب ذکری سے ترتیب وقوعی پر استدلال نہ کیا جائے گا۔ اور دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہ رہا۔ (تھانوی (رح)) خطب۔ اس اہم مقصد کو کہتے ہیں جس میں تخاطب کی ضروت کثرت سے ہوتی ہے۔ الخطب الامر العظیم الذی یکثر فیہ التخاطب (راغب) اور یہاں تو فرشتے ہی اس مشن کے حامل خصوصی بنا کر بھیجے گئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–33

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فما خطبکم ایھا المرسلون ابراہیم ( علیہ السلام) کہنے لگے : اے فرشتو ! (یہ تو بتاؤ) کہ تمہیں کیا بڑی مہم درپیش ہے ؟ فَمَا خَطْبُکُمْ : یعنی تمہارے آنے کی کیا وجہ ہے ‘ کس کام سے تم کو بھیجا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–36

(31۔ 36) پھر حضرت ابراہیم فرشتوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں بڑی مہم کیا درپیش ہے اور کس مقصد کے تحت تم آئے ہو وہ کہنے لگے ہم ایک مشرک قوم یعنی قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں جنہوں نے ناپاک کاموں کا ارتکاب کر کے خود اپنی ہلاکت کو لازم کرلیا۔ تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص نشان بھی ہے کہ سرخی پر سیاہ لکیر بنی ہوئی ہے اور یہ پتھر اللہ کی طرف سے مشرکین کے لیے ہیں تو ہم نے جتنے موحد تھے سب کو لوط کی بستیوں سے علیحدہ کرلیا سو ان بستیوں میں سوائے مقربین کے ایک گھر کے مسلمانوں کا اور کوئی گھر ہم نے وہاں نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قال فما خطبکم ایھا المرسلون : جب ابراہیم ؑ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے پر خوف زدہ ہوئے اور صاف اظہار بھی کردیا :(انا منکم وجلون) (الحجر : 52)”ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔“ کیونکہ انہیں ان کے فرشتہ ہونے کا اندازہ ہوگیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے ہ فرشتوں کا اس طرح آنا معمولی بات نہیں ہوتی، جیسا کہ فرمایا :(ما نزل المئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین) (الحجر : 8)”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے۔“ اس لئے وہ شدید ڈر گئے، تو فرشتوں نے ان کا خوف دور کرنے کے لئے ان سے دو باتیں کہیں، ایک یہ :(لاتخف انا ارسلنا الی قوم لوط) ھود : 80) ”ڈرو نہیں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–37

قال فما خطبکم ایھا المر سلون، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ فرشتے ہیں کیونکہ انہوں نے بچھڑے کو زندہ کردیا تھا اور بچے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : فما خطبکم تمہارا کیا معاملہ اور کیا قصہ ہے اسے بھیجے گئے فرشتو ! ؟ قالوا انا ارسلنا انی قوم مجرمین، قوم سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ للرسل علیھم حجارۃ من طین، یعنی ان پر مٹی کے بنے پتھر بر سائیں۔ مسومۃ جن پر نشان لگے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر سیاہ اور سرخ خط لگے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ اس میں معروف تھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–35

16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ انھوں (ابراہیم ) نے کہا ] فَمَا خَطْبُكُمْ [ پھر تمہارا کیا مدعا ہے ] اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ [ اے بھیجے ہوئے لوگو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–36

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ یقین کرلیا کہ یہ فرشتے ہیں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو سوال فرمایا کہ آپ حضرات کیا مہم لے کر آئیں ہیں تشریف لانے کا کیا باعث ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہ مجرم لوگ ہیں ہمیں ان کو ہلاک کرنا ہے ان کی ہلاکت کا یہ طریقہ ہوگا کہ ہم ان پر اسمان سے پتھر برسا دیں گے یہ پتھر مٹی سے بنائے ہوئے ہوں گے (جن کا ترجمہ (کھنکھر) کیا گیا ہے) ان پر نشان لگے ہوئے ہوں گے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ پتھروں پر نام لکھے ہوئے تھے جس پتھر پر جس کا نام لکھا ہوا تھا وہ اسی پر گرتا تھا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

10:۔ ” قال فما خطبکم “ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اے اللہ کے فرستادو ! تم کس مہم پر جا رہے ہو ؟ ” قالوا انا ارسلنا الخ “ کہا ہمیں ایک مجرم قوم (قرم لو ط) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں پر مٹی کی پختہ اینٹوں کی بارش برسائی جن پر ان کے نام لکھے ہوں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مسومۃ معلمۃ علی کل واحد منہا اسم من یھلک بہ (مظہری ج 9 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فَمَاخَطْبُكُمْ اَيُّہَا الْمُرْسَلُوْنَ۝ 31 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (الذریٰت : 31) (حضرت ابراہیم نے کہا اے فرستادگانِ الٰہی، اس وقت آپ کے سامنے مہم کیا ہے ؟ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کا انداز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بہت بڑی بشارت دی گئی، انسانی نفسیات کے لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو اس مسرت میں ڈوب جانا چاہیے تھا کہ کسی اور بات کا ہوش ہی نہ رہتا۔ لیکن آپ جس عظیم منصب پر فائز تھے اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ منصبی اہمیت کو ذاتی جذبات پر غالب رکھیں۔ چناچہ بشارت کی خوشی اپنی جگہ، لیکن یہ خوشی انھیں اس احساس سے بیگانہ نہ کرسکی کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے جب انسانی شکل میں آتے ہیں تو وہ صرف اس طرح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–37

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 31 : قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ (ابراہیم کہنے لگے اچھا تو تم کو بڑی مہم کیا در پیش ہے) یعنی تمہارا کیا مطلوب اور کیا معاملہ ہے۔ کس مقصد کی خاطر تمہیں بھیجا گیا ہے۔ اَیُّہَا الْمُرْسَلُوْنَ (اے فرشتو ! ) تم صرف بشارت کیلئے بھیجے گئے ہو یا کسی دوسرے کام یا دونوں کیلئے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30 ۔” قالوا کذلک قال ربک “ یعنی جیسے ہم نے آپ کو کہا ہے آپ کے رب نے اس طرح کہا ہے کہ آپ عنقریب بچہ جنیں گی۔ ” انہ ھوالحکیم العلیم “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–37

31۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قال) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا (فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ ) اے رسولو۔ تمہارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو ؟ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے کے لیے بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–33

[ 30] خرق عادت نوازش کے ظہور کا ذکر وبیان : سوا اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرق عادت نوازش کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا اور کہا کہ تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے اور وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس آپ کی حالت اس سے کوئی مخفی اور پوشیدہ نہیں، مگر اس کے باوجود اس نے یوں ہی فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے اس لئے یہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا اور اس کی حکمتیں اسی کے علم اور احاطہ میں ہیں، جل جلالہ، لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ جب اس زبّ حکیم وعلیم نے ایسے فرمایا ہے تو یہ اسی طرح ہو کر رہے گا، نہ آپ کا بڑھیا اور بانجھ ہونا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اس بشارت کے علاوہ دوسرا اہم کام کیا ہے جسے انجام دینے کے لئے تمہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ؟ خطب کے معنی اہم کام یا مہم کے ہیں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:31) قال۔ ای قال ابراہیم لما ذھب عنہ الروع وجاء رہ البشری ولما علم انھم ملئ کہ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کا ڈر جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی اور ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ مہمان فرشتے ہیں تو کہنے لگے (نیز ملاحظہ کو 11:74) فما خطبکم۔ ما استفہامیہ ہے خبکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ خطب مصدر۔ خطب یخطب (باب نصر) کا اسی باب سے خطبۃ وخطابۃ بھی مصدر آئے ہیں۔ بمعنی وعظ کہنا۔ تقریر کرنا۔ حاضرین کے روبرو خطبہ پڑھنا۔ کہتے ہیں خطب القوم اس نے قوم سے خطاب کیا۔ الخطب۔ مصدر۔ حالت کو کہتے ہیں۔ ما خطبک تمہاری کیا حالت ہے ، تمہارا کیا حال ہے۔ تمہارا کیا مدعا ہے۔ تم کو اس پر کس نے اکسایا۔ ویسے تو الخطب ہر کام کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–37

نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کس کام کے لیے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے خاص کر مطلب کیا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لیے بھیجا ہے یہ قوم سرکش فاسق فاجر، مشرک گناہ گار ہے انہوں نے اعمال خبیثہ کرکے اپنے اوپر ہلاک و عذاب واجب کرلیا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کیے ہئے کنکر تھے یہاں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–31

[15] یہ قصہ سورة ہود صفحہ 492 اور سورة حجر صفحہ 586 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حواشی دیکھ لئے جائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے خدا کے فرستادواب تمہارا کیا مقصد ہے اور تم کو کیا مہم درپیش ہے۔ یعنی جب بات کھل گئی تو ان سے دریافت کیا کہ اے خدا کے بھیجے گئے فرشتو ! اب تمہارا کیا کام ہے انہوں نے بتادیا کہ حضرت لوط کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں اب وہیں جارہے ہیں تفصیل سورة ہود اور سورة حجر دیکھ لی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–35

ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–33

When, in the course of the conversation, Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) discovered that the guests were angels, he asked them what was their mission and they replied that they had been sent to the people of Lut (علیہ السلام) to destroy them as a punishment for their unspeakable crime. They would be stoned to death, but not with large stones.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 As the angels come in human guise only on highly important occasions the Prophet Abraham used the word khatb to find out the purpose of their visit; the word khatb in Arabic is used for an errand of same extraordinary nature.

Read the full tafseer →