Explained with ayahs 24–30
مہمان اور میزبان ؟
یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86) 4۔ النسآء :86)…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 29
اس قصے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس بندے نے اپنے رب کی بندگی کا حق دنیا میں ٹھیک ٹھیک ادا کیا تھا، اس کے ساتھ عقبیٰ میں تو جو معاملہ ہوگا سو ہوگا، اسی دنیا میں اس کے یہ انعام دیا گیا کہ عام قوانین طبیعت کی رو سے جس عمر میں اس کے ہاں اولاد پیدا نہ ہو سکتی تھی، اور اس کی سن رسیدہ بیوی تمام عمر بےاولاد رہ کر اس طرف سے قطعی مایوس ہوچکی تھی، اس وقت اللہ نے اسے نہ صرف اولاد دی بلکہ ایسی بےنظیر اولاد دی جو آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا انسان ایسا نہیں ہے جس کی نسل میں مسلسل چار انبیاء پیدا ہوئے ہوں۔ وہ صرف حضرت ابراہیم ہی تھے جن کے ہاں تین پشت تک نبوت چلتی رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
اس گفتگو میں جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، انہوں نے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا تذکرہ کیا کہ ان کی قوم پر پتھراؤ کیا جائے گا اور پتھراؤ بھی کچھ بڑے بڑے پتھروں سے نہیں، بلکہ مٹی سے بنی ہوئی کنکریوں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →قالو کذلک قال ربک، انہ ھوالحکیم العلیم (30)
فرشتوں کی اطمینان دہانی
فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ مطمئن رہیں۔ آپ کے رب نے ایسا ہی حکم دیا ہے اور جب اس نے حکم دیا ہے تو یہ بات پوری ہو کے رہے گی۔ نہ آپ کا بڑھیا بانجھ ہونا اس میں مانع ہوگا اور نہ آپ کے شوھر کا بڑھاپا۔ اللہ تعالیٰ حکیم وعلیم ہے۔ اس کی حکمت اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اسباب اسی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ جب چاہے گا ان کو آپ کے لئے سازگار کردے گا۔
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ کہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔
Read the full tafseer →قالوا ........ العلیم (15 : 03) ” انہوں نے کہا ” یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ “ یعنی اللہ جس چیز کو کہہ دے کہ ہوجا تو ہوجاتی ہے اور اللہ نے ایسا کہہ دیا ہے تو اس کے بعد اب شک کی گنجائش کیا ہے۔ کسی کام کا عادی ہونا اور اس کام کا آنکھوں کے سامنے ہوتے رہنا ایسی باتیں ہیں جو انسانی اور اک کو بیڑیاں پہنا دیتا ہے اور اشیاء کے بارے میں انسان کا تصور محدود ہوجاتا ہے۔ پھر جب انسان اس عادی اور روٹین کے طریق کار سے کوئی مختلف بات دیکھتا ہے تو وہ ششدر رہ جاتا ہے اور وہ تعجب کرتا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا۔ بعض اوقات پھر وہ کبر کرتے ہوئے اس کا انکار کردیتا ہے لیکن اللہ کی مشیت تو…
Read the full tafseer →14 یعنی ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ وہ ہی جانتا ہے کہ کس کو کس وقت کیا چیز دینا چاہیے۔ (پھر تم بیت نبوت سے ہو کر اس بشارت پر تعجب کیا کرتی ہو) (تنبیہ) مجموعہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں جن کی بشارت ماں اور باپ دونوں کو دی گئی۔
Read the full tafseer →آیت 30{ قَالُوْا کَذٰلِکِ لا قَالَ رَبُّکِ ط } ”انہوں نے کہا : ایسا ہی فرمایا ہے آپ کے رب نے۔“
فرشتے جو انسانی شکل میں تھے انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی ہوگا۔ ہم اپنی طرف سے یہ خبر نہیں دے رہے ‘ بلکہ یہ آپ کے رب کا فیصلہ ہے۔
{ اِنَّہٗ ہُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ۔ } ’ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور بہت حکمت والا بھی۔“
Read the full tafseer →24 فرشتوں نے کہا ہم یہ نہیں جانتے کہ کیسے ہوگا ؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چونکہ تیرے پروردگار نے ایسا کہا ہے لہذا ایسا ضرور ہوگا اور وہ اپنے کام کی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم پر کیسی کیسی نوازشات کرنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →18۔ فرشتوں نے جب دیکھا کہ حضرت سارہ پر عالم اسباب ہی کی رعایت غالب ہے، تو جھٹ یہ یاد دلا دیا کہ یہ فرعون تو حضرت حق کے ہاں سے جاری ہوچکا ہے۔ وہی حضرت حق، جن کی حکمت اور جن کا علم ہر مخلوق کی حکمت اور علم پر غالب ہے۔ خاندان نبوت کے ایک رکن کے لیے یہ استحضار کافی سے زائد اور ہر دلیل سے قوی تر تھا۔
الحمد للہ کہ اس چھبیسویں پارہ کے ترجمہ و تفسیر کی نظر ثانی سے یوم شنبہ 26 محرم الحرام 1367 ھ مطابق 9 دسمبر 1947 ء کو قبل عصر فراغت پائی اور نظر ثالث سے آج یکشنبہ 24 شعبان المعظم 1329 ھ مطابق 11 جون 1950 ء کو بعد نماز چاشت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →قالوا کذلک قال ربک انہ ھو الحکیم العلیم .‘ فرشتے کہنے
لگے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ بلاشبہ وہ بڑی حکمت (اور) بڑے علم والا ہے۔
قَالُوْا کَذٰلِکَ قَالَ رَبُّکِ : یعنی جو بات ہم نے کہی تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا۔ ہم اللہ کی جانب سے تجھے خبر دے رہے ہیں۔ اَلْحَکِیْمُ : یعنی صفت میں حکیم ہے (اس کی صفت پر حکمت ہے) ۔
اَلْعَلِیْمُ : یعنی وہ ماضی کو بھی جانتا ہے اور مستقبل سے بھی واقف ہے ‘ اس لیے اس کا قول سچا اور فعل محکم (ناقابل شکست) ہے (اس کے خلاف نہیں ہوسکتا) ۔ الحمد اللہ چھبیسواں پارہ ختم ہوا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29۔ 30) اتنے میں یہ گفتگو کہیں سے سن کر ان کی بیوی حضرت سارہ پکارتی آئیں اور تعجب سے اپنے ماتھے اور چہرے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں اول تو بڑھیا پھر بانچھ اس وقت بچہ پیدا ہونا بھی عجیب ہے، حضرت جبریل اور ان کے ساتھ والے کہنے لگے اے سارہ جیسا ہم نے تم سے بیان کیا ہے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے وہ بانجھ اور غیر بانجھ کے لیے لڑکے کا حکم دیتا ہے اور جو تم سے پیدا ہونے والا ہے وہ اس سے واقف ہے۔
Read the full tafseer →(قالوا کذلک قال ربک …: فرشتوں نے کہا بیشک آپ ایسی ہی ہیں، مگر ہم بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ آپ کے رب کی با ت بتا رہے ہیں، اس نے ایسے فرمایا ہے، یقینا وہ کمال حکمت اور علم والا ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ اس کے کسیک ام میں کوئی خامی یا غلطی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فا قبلت امراتہ فی صرۃ۔ صرۃ کا معنی چیخ اور شور ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے اسی سے صریر الباب ہے، جس سے مراد دروازے کی آواز ہے عکرمہ۔ اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد اوہ کا کلمہ کہنا ہے۔ یہاں اقبال سے مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا نہیں۔ فراء نے کہا ؛ یہ تیرے اس کا قول کی طرح ہے اقبل یشتمنی وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عورتوں کی ایک جماعت میں آئیں تاکہ فرشتوں کی گفتگو سنیں۔ جوہری نے کہا : صرہ کا معنی شوروغل کرنا اور چیخنا ہے اور صرہ کا معنی جماعت اور صرہ کا معنی سخت مصیبت ہے۔ امراء القیس نے کہا : فالحقہ بالھادیات ودونہ جو احرھا فی صراۃ لم تذیل (1) یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔
17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔
18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…
Read the full tafseer →قَالُوْا كَذٰلِكِ ۙ [ ان لوگوں نے کہا اسی طرح ] قَالَ رَبُّكِ ۭ [ کہا آپ کے رب نے ] اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ [ بیشک وہ ہی حکمت والا علم والا ہے ]
نوٹ۔ 1: اس سورة میں اب تک جو دعوے مذکور ہیں، اب (آیات 24 تا 46) ان کے حق میں تاریخی شہادت پیش کی جارہی ہے۔
قرآن کا یہ عام اصول ہے کہ وہ عقلی وانفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی شواہد بھی پیش کرتا ہے تاکہ مخاطب کے سامنے بات اچھی طرح مبرہن بھی ہوجائے اور اگر دلوں کے اندر اثر پذیری کی کچھ رمق ہو تو ان سے لوگ عبرت بھی حاصل کریں ۔ ان شہادتوں میں تین پہلو ملحوظ ہیں ایک یہ کہ جن قوموں کی ہلاکت بیان ہوئی ہے ان کی تباہی میں بادل اور ہوا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
9:۔ ” فاقبلت امراتہ “۔ صرۃ، چیخ، اونچی آواز۔ جب یہ خوشخبری حضرت سارہ (علیہا السلام) نے سنی تو چیخ کر بولیں اور تعجب سے ہاتھ کی انگلیاں منہ پر رکھیں کہ میں مرگئی ! ! ! میں بڑھیا اور بانجھ ہو کر بچہ جنوں گی ؟ ” یویلتیء الد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا “ ضرب باطراف اصابعہا جبھ تھا فعل التعجب (مدارک ج 4 ص 141) ۔ جہلائے شیعہ اس سے ماتم ثابت کرتے ہیں جو سراسر جہالت و حماقت ہے۔ ماتم شیعہ سے حضرت سارہ کے اس فعل کو ادنی تعلق بھی نہیں۔ ماتم اظہار غم واندوہ کے لیے میت پر کیا جاتا ہے لیکن حضرت سارہ کا فعل بیٹے کی خوشخبری سن کر اظہار تعجب کے لیے تھا۔ نیز ماتم میں منہ اور سینہ پیٹا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →قَالُوْا كَذٰلِكِ 0 ۙ قَالَ رَبُّكِ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ 30
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُـہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْھَھَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ۔ قَالُوْا کَذٰلِکِ لا قَالَ رَبُّکِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ۔ (الذریٰت : 29، 30)
(پھر آپ کی بیوی حیران ہو کر آگے بڑھی، پھر اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ۔ فرشتوں نے کہا کہ ایسا ہی فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکمت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
فرزند کی بشارت پر حضرت سارہ ( رض) کے تأثرات
فرشتوں نے چونکہ یہ بشارت اونچی آواز سے دی تھی، اس لیے پس دیوار آپ کی بیوی سارہ نے اسے سن لیا جو دیوار کے بالکل قریب کھڑی تھی۔ ان پر بیک وقت مسرت اور حیرت کی کیفیت طاری ہوئی۔ وہ سنتے ہی آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…
Read the full tafseer →آیت 30 : قَالُوْا کَذٰلِکِ (فرشتوں نے کہا ایسا ہی) اسی کی مثل جو ہم نے کہا اور جس کی ہم نے اطلاع دی۔ قَالَ رَبُّکِ (تمہارے رب نے فرمایا ہے) ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتے ہیں جس کو تم بعید قرار دیتی ہو۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْحَکِیْمُ (بیشک وہ حکمت والا ہے) اپنے فعل میں۔ الْعَلِیْمُ (وہ علم والا ہے) اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ روایت میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے فرمایا۔ جب اس نے تعجب کا اظہار کیا۔ تو چھت کی طرف دیکھ جونہی اس نے دیکھا تو کھجور کا تنا پتے دار ہوگیا۔ اور پھل لے آیا۔
جب ان کو معلوم ہوگیا۔ کہ یہ فرشتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے قاصد…
Read the full tafseer →29 ۔” فاقبلت امراتہ فی صرۃ “ یعنی چیختے ہوئے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے اقبال استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ تو قائل کے قول ” اقبل لشتمنی “ کی طرح ہے یعنی وہ مجھے برا بھلا کہنا شروع ہوگیا، یعنی واویلا کرتی آئیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قالت یا ویلتی “ …” فصکت وجھھا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے چہرے پر تھپڑ مارا اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی انگلیاں جمع کرکے اپنی پیشانی پر ماریں تعجب کی وجہ سے ۔ جیسے عورتوں کی عادت ہے جب وہ کسی چیز کو عجیب سمجھیں اور ” صک “ کی اصل کسی شے کو چوڑی چیز سے مارنا۔ ” وقالت عجوز عقیم “ اس کا مجاز ہے ” اتلد عجوز عقیم “ یعنی کیا بوڑھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
[ 30] خرق عادت نوازش کے ظہور کا ذکر وبیان :
سوا اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرق عادت نوازش کے ایک عظیم الشان نمونے اور مظہر کا ذکر فرمایا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا اور کہا کہ تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے اور وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس آپ کی حالت اس سے کوئی مخفی اور پوشیدہ نہیں، مگر اس کے باوجود اس نے یوں ہی فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا ہے اس لئے یہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا اور اس کی حکمتیں اسی کے علم اور احاطہ میں ہیں، جل جلالہ، لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ جب اس زبّ حکیم وعلیم نے ایسے فرمایا ہے تو یہ اسی طرح ہو کر رہے گا، نہ آپ کا بڑھیا اور بانجھ ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
آیات 24 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…
Read the full tafseer →ف 16 یعنی یہ خوش خبری ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پردے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(51:30) قالوا ۔ یعنی مہمانوں نے کہا۔
کذلک ۔ ک تشبیہ کا ذلک اسم اشارہ، مشاہ الیہ : کہ تیرے ایک بیٹا ہوگا۔ کذلک قال ربک۔ تیرے پروردگار نے ایسے ہی فرمایا تھا۔ ہم اللہ کی جانب سے تجھے خبر دے رہے ہیں ۔
الحکیم العلیم : یعنی صفت میں حکیم ہے (اس کی صنعت پر حکمت ہے )
العلیم : یعنی وہ ماضی کو بھی جانتا ہے اور مستقبل سے بھی واقف ہے۔ اس لئے اس کا قول سچا اور فعل محکم (ناقابل شکست ) ہے اس کے خلاف نہیں ہوسکتا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔
(ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[15] یہ قصہ سورة ہود صفحہ 492 اور سورة حجر صفحہ 586 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حواشی دیکھ لئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
اپنے اندر جھانک کر دیکھو
1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(30) ان مہمان فرشتوں نے کہا تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے بیشک وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی تعجب کی کوئی بات نہیں یہ تو اللہ کا فرمودہ ہے وہ جانتا ہے کہ کس کو اولاد دینی ہے اور کیونکر دینی ہے اور وہ بڑی حکمت والا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کے ماتحت ہی نبوت تقسیم ہوتی ہے وہ جس خاندان میں چاہتا ہے علم ونبوت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور جب تک چاہتا ہے اس کو قائم رکھتا ہے ۔
بہرحال اس بات کو سن کر حضرت سرا کا تعجب دور ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
ف 6۔ یعنی فی نفسہ گو یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
When, in the course of the conversation, Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) discovered that the guests were angels, he asked them what was their mission and they replied that they had been sent to the people of Lut (علیہ السلام) to destroy them as a punishment for their unspeakable crime. They would be stoned to death, but not with large stones.
Read the full tafseer →29 The object of this story is to tell that Allah will certainly reward His servant, who did full justice to the rights of His worship in the world, in the Hereafter handsomely, but even In this world he rewarded him well by giving him children at an age when according to the common physical laws he could not beget children and his aged wife having remained childless throughout life had completely despaired of ever bearing children; and then He granted him such extraordinary children as have not been granted to any one else in the world. There has been no other man in history in whose line…
Read the full tafseer →