Adh-Dhaariyat 51:29

Adh-Dhaariyat · from ayah 29

51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ ۟فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُهٗ فِىۡ صَرَّةٍ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ

تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

— Fateh Muhammad Jalandhari

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:29

یہ سن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی، "بوڑھی، بانجھ!"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر ان کی بیوی زور سے بولتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگیں (کیا) ایک بانجھ بڑھیا (بچہ جنے گی ؟)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اُن کی بیوی (سارہ) حیرت و حسرت کی آواز نکالتے ہوئے متوجہ ہوئیں اور تعجّب سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی: (کیا) بوڑھیا بانجھ عورت (بچہ جنے گی؟)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی، پس اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور اس نے کہا بوڑھی بانجھ !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کی بیوی بھی چلاتی ہوئی آگے بڑھی اس نے اپنا منہ پیٹا اور کہنے لگی : ایک تو بڑھیا اور دوسرے بانجھ ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس کی بیوی حیران ہو کر بڑھی۔ اس نے اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کہ کیا ایک بڑھیا، بانجھ اب جنے گی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر آپ کی اہلیہ بولتی پکارتی نکل آئیں چناچہ انہوں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہا میں تو ایک بڑھیا ہوں بانجھ

— مولانا اسحاق مدنی

اتنے میں ان کی بیوی بولتی پکارتی ہوئی آئیں پھر ماتھے ہاتھ مار کر بولیں کہ بڑھیا بانجھ (کے اولاد) ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس پر اس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی : بڑھیا بانجھ (بچہ جنے گی کیا) ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو (ابراہیم ؑ کی بیوی) چلاتی ہوئی آئیں اور اپنے چپرے پر تھپکی ماری۔”کہ اوہو ایک تو بڑھیا اور دوسرے بانجھ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So hearing his wife went forth shouting. She struck her face and exclaimed: “A barren old woman am I.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So his wife came forward with a clamor, and slapped her own face and said, :(How can I have a child when I am) a barren old woman?

— Muhammad Taqi Usmani

So his wife came forward with a clamor, and slapped her own face and said, :(How can I have a child when I am) a barren old woman?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then his wife came forward with a loud voice; she smote her face, and said: "A barren old woman!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then his wife came forward, making moan, and smote her face, and cried: A barren old woman!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

— Saheeh International

His wife came forward, crying and beating her face, saying, "I am an old barren woman!"

— Muhammad Sarwar

Then his wife came up in great grief, and she struck her face and said: An old barren woman!

— Muhammad Habib Shakir

Then his wife drew near vociferating, and smote her face, and said: an old barren woman!

— Abdul Majid Daryabadi

But his wife came forward (laughing) aloud: she smote her forehead and said: "A barren old woman!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–30

مہمان اور میزبان ؟ یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86؀) 4۔ النسآء :86)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 28 یعنی ایک تو میں بوڑھی، اوپر سے بانجھ۔ اب میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ بائیبل کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر سو سال، اور حضرت سارہ کی عمر 90 سال تھی (پیدائش، 1817)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ۔ صرة کے معنی غیر معمولی آواز کے ہیں صریر قلم سے نکلنے والی آواز کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ حضرت سارہ نے جب سنا کہ فرشتے ابراہیم ؑ کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں اور یہ ظاہر تھا کہ بچہ بیوی سے پیدا ہوتا ہے، بیوی حضرت سارہ ہی تھیں تو سمجھیں کہ یہ خوشخبری ہم دونوں ہی کے لئے ہے، تو غیر اختیاری طور پر ان کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت و تعجب کے نکلے اور کہا عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ کہ اول تو میں بڑھیا، پھر بانجھ یعنی جوانی میں بھی اولاد کے قابل نہیں تھی، اب بڑھاپے میں یہ کیسے ہوگا جس کے جواب میں فرشتوں نے فرمایا کذلک، یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے، یہ کام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاتبلت امراتہ فی صوۃ فصلت وجھھاوقالت عجوزعقیم (29) فرزند کی خوشخبری پر حضرت سارہ کے تاثرات یہ بشارت حضرت ابراہیم ؑ کو بلند آواز سے دی گئی تھی اس وجہ سے ان کی بیوی سارہنے، جو پاس ہی کھڑی تھیں، سن لی، اس سے ان کو جو حیرت اور ساتھ ہی جو خوشی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے، چناچہ وہ یہ سنتے ہی اپنے تعجب کے اظہار کے لئے لپکیں اور خاص نسوانی انداز میں اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولیں کہ میں تو ایک بڑھیا بانجھ ہوں، کیا اب اس عمر اور اس حالت میں جنوں گی، حضرت سارہ کے اس فقرے کے ایک ایک لفظ کے اندر جو حیرت، جو خوشی اور اس کی بشارت کی تصدیق مزید کی جو خواہش جھلک رہی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ فی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاقبلت ........ عقیم (15 : 92) ” یہ سن کر ان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ “ اس نے یہ خوشخبری سن لی تھی۔ اچان کہ یہ خوشخبری اس کی تو چیخ نکل گئی اور عورتوں کی عادت کے مطابق اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور یہ کہہ دیا میں بوڑھی ہوں بانجھ ہوں تو یہ سب امور اس کے لئے خوشگوار حیرت کے باعث ہوئے اور در حقیقت وہ بانجھ تھی اور یہ خبر اس کے لئے اچانک خوشی کی خبر تھی جس کی وہ کسی طرح توقع نہ کرتی تھی لیکن وہ یہ بات بھول گئی کہ یہ خوشخبری تو فرشتے دے رہے ہیں تو فرشتوں نے اسے متوجہ کیا کہ یہ تو قدرت الٰہیہ ہے اور جہاں میں تمام امور علم الٰہی کے مطابق رونما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 حضرت سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ایک طرف گوشہ میں کھڑی سن رہی تھیں۔ لڑکے کی بشارت سن کر چلاتی ہوئی دوسری طرف متوجہ ہوئیں اور تعجب سے پیشانی پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں کہ (کیا خوب) ایک بڑھیا بانجھ جس کی جوانی میں اولاد نہ ہوئی۔ اب بڑھاپے میں بچہ جنے گی ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29{ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ۔ } ”اس پر اس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی : بڑھیا بانجھ بچہ جنے گی کیا ؟“ کہ میں تو ساری عمر بانجھ رہی ہوں اور اب تو میری عمر بھی ماں بننے کی نہیں رہی ‘ تو کیا اب میرے ہاں بیٹا پیداہو گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 سیدنا ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری :۔ جب فرشتوں نے سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دی تو ان کا خوف جاتا رہا۔ البتہ ان کی بیوی آگے بڑھی اور تعجب سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے کہا یہ کیسے ہوگا ؟ میں تو بانجھ ہوں، جوانی میں بھی اولاد نہ ہوئی اور اب تو بوڑھی بھی ہوچکی ہوں۔ اب یہ کیسے ہوگی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یہ آپ نے کمال تعجب سے فرمایا کہ ایک تو میں بوڑھی اور پھر عقیم، میرے اولاد ہونے کی کیا صورت ہے ؟ (آیت) ” فاقبلت ...... صرۃ۔ حضرت سارہ جواب تک پردہ کی آڑ میں تھیں۔ یہ سن کر یک بیک سامنے آگئی تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–33

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصحکت وجھھا (الخ) صرۃ غیر معمولی آواز کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ حضرت سارہ جو کہ قریب ہی کہیں کھڑی تھیں جب یہ سنا کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں تو غیر اختیاری طور پر حضرت سارہ کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت اور تعجب کے نکلے تو کہا ” عجوز عقیم “ اول میں بڑھیا پھر بانجھ جس کے جوانی میں کچھ نہیں ہوا، اب بڑھاپے میں کیا امید کی جاسکتی ہے، اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا ” کذلک “ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے یہ کام یوں ہی ہوگا، چناچہ بشارت کے مطابق جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصلت وجھھا و قالت عجوز عقیم اتنے میں ان کی بی بی بولتی آئیں ‘ پھر ماتھے پر ہاتھ مرا اور کہنے لگیں : (اوّل تو) بوڑھیا (پھر) بانجھ فاقبلت : اس کی بیوی آئی۔ فِیْ صَرَّۃٍ : چیختی ہوئی ‘ بعض اہل علم کا قول ہے کہ آنے سے مراد انتقال مکانی یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا مراد نہیں ہے بلکہ (اقبلت کی حیثیت معاون فعل کی ہے) اس کا ترجمہ ہے : لگی چیخنے۔ چیخنا شروع کیا ‘ جیسے کہا جاتا ہے : اَقْبَلَ یَشْتِمُنِیْ : وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ بہرحال فِیْ صَرَّۃٍ : محل نصب میں ہے ‘ خواہ حال ہونے کی وجہ سے یا مفعولیت کی بناء پر۔ فَصَلَّتْ : حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا : اس نے اپنے ہاتھ سے اپنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–30

(29۔ 30) اتنے میں یہ گفتگو کہیں سے سن کر ان کی بیوی حضرت سارہ پکارتی آئیں اور تعجب سے اپنے ماتھے اور چہرے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں اول تو بڑھیا پھر بانچھ اس وقت بچہ پیدا ہونا بھی عجیب ہے، حضرت جبریل اور ان کے ساتھ والے کہنے لگے اے سارہ جیسا ہم نے تم سے بیان کیا ہے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے وہ بانجھ اور غیر بانجھ کے لیے لڑکے کا حکم دیتا ہے اور جو تم سے پیدا ہونے والا ہے وہ اس سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاقبلت امراتہ فی صرۃ …:”صرۃ“ صیحہ، چیخ ”صر“ یصر“ (ن) ”صریر“ القلم“ (قلم کی آواز) اور ”صربر الباب“ (دروازے کی آواز) بھی اسی سے مشتق ہے۔ ”صرۃ“ میں تنوین تعظیم کی ہے :”ای صبحہ عظیمۃ ورنہ“ ابن کثیر نے فرمایا :”صرۃ“ سے مراد اس کا ”یویلتی“ کہنا ہے جو سورة ہود (72) میں مذکور ہے، یہاں اس کا قول مختصر ذکر فرمایا ہے۔”عجوز عقیم“”ای انا عجوز مقیم“ یعنی یہ بشارت سن کر اپنی عمر دیکھتے ہوئے حیرت و مسرت کے جذبات سے بےاختیار چیختی ہوئی فرشتوں کی طرف آئی۔ (2) فصکت وجھا :”صک یصک صکا“ (ن) چہرے پر زور سے ہاتھ مارنا، جیسا کہ عورتیں تعجب کے وقت کرتی ہیں یعنی تعجب سے چہرے کو پ یٹ کر کہنے لگی کہ میں تو بڑھی ہوں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–30

فا قبلت امراتہ فی صرۃ۔ صرۃ کا معنی چیخ اور شور ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے اسی سے صریر الباب ہے، جس سے مراد دروازے کی آواز ہے عکرمہ۔ اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد اوہ کا کلمہ کہنا ہے۔ یہاں اقبال سے مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا نہیں۔ فراء نے کہا ؛ یہ تیرے اس کا قول کی طرح ہے اقبل یشتمنی وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عورتوں کی ایک جماعت میں آئیں تاکہ فرشتوں کی گفتگو سنیں۔ جوہری نے کہا : صرہ کا معنی شوروغل کرنا اور چیخنا ہے اور صرہ کا معنی جماعت اور صرہ کا معنی سخت مصیبت ہے۔ امراء القیس نے کہا : فالحقہ بالھادیات ودونہ جو احرھا فی صراۃ لم تذیل (1) یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–35

16:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاقبلت امراتہ فی صرۃ '' (بی بی بولتی آئی پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) سے مراد ہے کہ آپ کی بیوی چیختی چلاتی آئی '' فصکت '' یعنی اپنے چہرے پر تھپڑدے مارا۔ 17:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فی صرۃ '' یعنی چیختی ہوئی (آیت ) '' فی صرۃ فصکت وجھھا '' (پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا) یعنی اپنے ماتھے پر اپنے ہاتھ کو مارا اور کہا ہائے افسوس ہائے ہلاکت۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے (آیت ) '' وعجوز عقیم '' سے مراد وہ عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ [ تو سامنے آئیں ان کی بیوی ] فِيْ صَرَّةٍ [ اونچی آواز میں (بولتی ہوئی ) ] فَصَكَّتْ وَجْهَهَا [ پھر انہوں نے پیٹا اپنے چہرے کو ] وَقَالَتْ [اور کہا ] عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ [ (کیا جنے گی ) بڑھیا بانجھ ] ص ک ک : (ن) صکا ۔ اپنا سر پیٹنا ۔ کسی کو تھپڑ مارنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

9:۔ ” فاقبلت امراتہ “۔ صرۃ، چیخ، اونچی آواز۔ جب یہ خوشخبری حضرت سارہ (علیہا السلام) نے سنی تو چیخ کر بولیں اور تعجب سے ہاتھ کی انگلیاں منہ پر رکھیں کہ میں مرگئی ! ! ! میں بڑھیا اور بانجھ ہو کر بچہ جنوں گی ؟ ” یویلتیء الد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا “ ضرب باطراف اصابعہا جبھ تھا فعل التعجب (مدارک ج 4 ص 141) ۔ جہلائے شیعہ اس سے ماتم ثابت کرتے ہیں جو سراسر جہالت و حماقت ہے۔ ماتم شیعہ سے حضرت سارہ کے اس فعل کو ادنی تعلق بھی نہیں۔ ماتم اظہار غم واندوہ کے لیے میت پر کیا جاتا ہے لیکن حضرت سارہ کا فعل بیٹے کی خوشخبری سن کر اظہار تعجب کے لیے تھا۔ نیز ماتم میں منہ اور سینہ پیٹا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِيْ صَرَّۃٍ فَصَكَّتْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ۝ 29 إِقْبَالُ التّوجّه نحو الْقُبُلِ ، كَالاسْتِقْبَالِ. قال تعالی: فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] ، وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ [ الذاریات/ 29] اقبال اور استقبال کی طرح اقبال کے معنی بھی کسی کے رو برو اور اس کی طرف متوجہ ہو نیکے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] پھر لگے ایک دوسرے کو رو ور ود ملا مت کرنے ۔ وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، اور وہ ان کی طرف متوجہ ہوکر صَرَّةٍ والصَّرَّةُ : الجماعة المنضمّ بعضهم إلى بعض كأنّهم صُرُّوا، أي :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–30

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–30

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُـہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْھَھَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ۔ قَالُوْا کَذٰلِکِ لا قَالَ رَبُّکِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ۔ (الذریٰت : 29، 30) (پھر آپ کی بیوی حیران ہو کر آگے بڑھی، پھر اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ۔ فرشتوں نے کہا کہ ایسا ہی فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکمت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) فرزند کی بشارت پر حضرت سارہ ( رض) کے تأثرات فرشتوں نے چونکہ یہ بشارت اونچی آواز سے دی تھی، اس لیے پس دیوار آپ کی بیوی سارہ نے اسے سن لیا جو دیوار کے بالکل قریب کھڑی تھی۔ ان پر بیک وقت مسرت اور حیرت کی کیفیت طاری ہوئی۔ وہ سنتے ہی آگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–30

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 29 : فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗٗ فِیْ صَرَّۃٍ (اتنے میں ان کی بی بی بولتی پکارتی آئیں) صرّۃ : زور سے بولنا۔ یہ صرالقلم والباب سے ہے۔ قول الزجاج : یہاں زور سے چیخنا مراد ہے۔ حال کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای جاءت صارۃً فاخذت فی صیاح : لگی زور سے بولنے چیخنے۔ اور اس کی آواز اس کا یہ قول تھا۔ یا ویلتا۔ فَصَکَّتْ وَجْہَہَا (پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) پس اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر چہرے پر مارے۔ ایک قول یہ ہے : اپنی انگلیوں کے اطراف اپنی پیشانی پر مارے جیسے کوئی تعجب والا کرتا ہے۔ وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ (اور کہنے لگیں بڑھیا بانجھ) یعنی انا عجوز میں بانجھ ہوں پس کیسے میں جنوں گی ؟ جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–30

24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–30

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 27] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کے اظہار حیرت و مسرت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کا اس خوشخبری پر اظہار حیرت و مسرت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا کیا میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو واقعی بڑی ہی عجیب بات ہے۔ یعنی حضرت سارہ سلام اللہ علیہا جو کہ قریب ہی ایک کونے میں کھڑی تھیں، سو انہوں نے خوشی اور تعجب کے ملے جلے جذبات کے اظہار کے طور پر کہا کہ کیا میں بچہ جنوں گی ؟ جب کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں ؟ اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہوچکے ہیں ؟ یہ تو ایک بڑی ہی عجیب بات ہے {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 24–30

اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 24–30

آیات 24 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 بائیبل (باب پیدائش) میں ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:29) اقبلت ۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اقبال (افعال) مصدر۔ وہ سامنے آئی وہ متوجہ ہوئی۔ اس کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں : اول یہ کہ حضرت سارہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ) قریب کسی جگہ ایسے زادیہ میں بیٹھی تھیں جہاں سے وہ مہمانوں کی نظر سے تو اوجھل تھیں لیکن ان کی گفتگو سن رہی تھیں بیٹے کی بشارت پر وہ سامنے آئیں یا ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔ دوم یہ کہ وہ وہیں پاس ہی تھیں بیٹے کی بشارت پر مہمانوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سورة ہود (11:69 تا 76) میں یہ واقعہ تفصیل سے آیا ہے آیت (11:71) میں ہے وامراتہ قائمۃ فضحکت۔۔ اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی۔ اس صورت میں اقبلت فی صرۃ کے معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔ (ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–29

[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) اتنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بولتی ہوئی سامنے آئی اور اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی۔ یہ بیوی حضرت سارا ہیں یہ گھر میں سن رہی ہوں گی انہوں نے لڑکے کی بشارت سنی تو ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں جیسے عورتوں کی عادت ہے کہ تعجب کے وقت ایسا کرتی ہیں وہ آگے آئیں اور ہاتھ مار کر کہنے لگیں میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی ایسی حالت میں بچہ ہونا بڑے تعجب کی بات ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ بہرحال جب حضرت سارانے ہاتھ مار کر ماتھے تر تعجب کا اظہار کیا تو ان فرشتوں نے عورت کا یہ تعجب دیکھ کر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَأَقْبَلَتِ امْرَ‌أَتُهُ فِي صَرَّ‌ةٍ (So his wife came forward with a clamour,...51:29). The word sarrah means vociferation or clamour or most vehement clamour of crying. Sarir is the sound of a pen when it is writing. When Sayyidah Sarah ؓ heard that the angels were giving good news to her husband Ibrahim (علیہ السلام) of the birth of a son, she thought that this news was as good to her as it was to her husband, for the son would be theirs, and therefore, they both were getting some good news. As a result, she involuntarily screamed loudly, she struck herself upon her forehead as women do…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 That is, "I am not only old but barren too. How shall a child be born to me?" According to the Bible, the Prophet Abraham at that time was a hundred years old and Sarah was ninety. (Gen., 17: 17).

Read the full tafseer →