Adh-Dhaariyat 51:28

Adh-Dhaariyat · from ayah 28

51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً ؕ— قَالُوْا لَا تَخَفْ ؕ— وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۟فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً ‌ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ‌ ؕ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he felt from them apprehension. They said, "Fear not," and gave him good tidings of a learned boy.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:28

پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا انہوں نے کہا ڈریے نہیں، اور اُسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : ڈرییے نہیں، اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اُن (کے نہ کھانے) سے دل میں ہلکی سے گھبراہٹ محسوس کی۔ وہ (فرشتے) کہنے لگے: آپ گھبرائیے نہیں، اور اُن کو علم و دانش والے بیٹے (اسحاق علیہ السلام) کی خوشخبری سنا دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا مت ڈر ! اور انھوں نے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوشخبری دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اپنے دل میں ان سے خوف محسوس کیا۔ وہ کہنے لگے : ڈرو نہیں پھر انہوں نے ابراہیم کو ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس نے ان سے ایک قسم کا اندیشہ محسوس کیا انہوں نے اس سے کہا، تم اندیشہ ناک نہ ہو اور اس کو ایک ذی علم فرزند کی خوش خبری دی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (بھی ان کے نہ کھانے پر) آپ نے اپنے دل میں ایک خوف سا محسوس کیا انہوں نے کہا ڈرو نہیں اور (مذید یہ کہ) انہوں نے آپ کو خوشخبری بھی دی ایک بڑے (ہونہار اور) عالم فرزند کی

— مولانا اسحاق مدنی

پھر آپ ان سے دل میں خائف ہوئے وہ بولے آپ ڈرئیے نہیں اور ان کو ایک بڑے عالم لڑکے کی بشارت دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے ان کی طرف سے دل میں اندیشہ محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : آپ ڈریں نہیں۔ اور انہوں نے اسے بشارت دی ایک صاحب علم بیٹے کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور دل میں ان سے خوف کھانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ”خوف نہ کیجئے“ اور ان کو ایک دانش مند بیٹے کی بشارت دی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he became afraid of them. They said: “Fear not,” and announced to him the good news of (the birth of) a boy endowed with knowledge.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So he felt some fear in his heart. They said, :Be not scared. And they gave him the good news of (the birth of) a knowledgeable boy.

— Muhammad Taqi Usmani

So he felt some fear in his heart. They said, :Be not scared. And they gave him the good news of (the birth of) a knowledgeable boy.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he conceived fear of them (when they ate not). They said: "Fear not." And they gave him glad tidings of a son having knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he conceived a fear of them. They said: Fear not! and gave him tidings of (the birth of) a wise son.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he felt from them apprehension. They said, "Fear not," and gave him good tidings of a learned boy.

— Saheeh International

He began to feel afraid. They said, "Do not be afraid," and then gave him the glad news of the birth of a knowledgeable son.

— Muhammad Sarwar

So he conceived in his mind a fear on account of them. They said: Fear not. And they gave him the good news of a boy possessing knowledge.

— Muhammad Habib Shakir

Then he conceived a fear of them. They said: fear not. And they gave him the tidings of a youth knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

(When they did not eat), He conceived a fear of them. They said, "Fear not," and they gave him glad tidings of a son endowed with knowledge.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–30

مہمان اور میزبان ؟ یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86؀) 4۔ النسآء :86)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الذّٰرِیٰت 26 یعنی جب ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھے تو حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں خوف پیدا ہوا۔ اس خوف کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اجنبی مسافروں کا کسی کے گھر جا کر کھانے سے پرہیز کرنا، قبائلی زندگی میں اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ لیکن اغلب یہ ہے کہ ان کے اس اجتناب ہی سے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں، اور چونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا بڑے غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے اس لیے آپ کو خوف لاحق ہوا کہ کوئی خوفناک معاملہ در پیش ہے جس کے لیے یہ حضرات اس شان سے تشریف لائے ہیں۔ سورة الذّٰرِیٰت 27 سورة ہود میں تصریح ہے کہ یہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ ، یعنی ابراہیم ؑ ان کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ان سے خطرہ محسوس کرنے لگے جس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت شرفاء کا تعامل تھا کہ مہمان کچھ نہ کچھ مہمانی قبول کرتا اور کھاتا تھا جو مہمانی اتنی بھی قبول نہ کرے اس سے خطرہ ہوتا تھا کہ یہ شاید کوئی دشمن نہ ہو جو تکلیف پہنچانے آیا ہو، اس وقت کے چوروں ظالموں میں بھی شرافت تھی کہ جس کا کچھ کھالیا پھر اس کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے، اس لئے نہ کھانا سبب خطرہ کا بنتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاو حبس منھم خیفۃ قالو الا تخف، وبشروہ بغلم علیم (28) یعنی جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو قدرتی طور پر وہ اجنبیت کچھ اور بڑھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے باول دہلہ محسوس فرمائی تھی اور انہوں نی اپنے دل کے اندر ایک اندیشہ محسوس کیا۔ سورة ہود میں اشارہ موجود ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے اندر اندیشہ ضیافت قبول نہ کرنے کے سب سے پیدا ہوا۔ فلما را ایدیھم لا تصل الیہ مکرھم واوجس منھم خیفۃ، (ھود : 70) (جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اس نے ان کو بیگانہ محسوس کیا اور ان سے دل ہی دل میں ڈرا۔) معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے سے حضرت ابراہیم ؑ کے دل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 ڈر اس لئے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم ؑ سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔ 28۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–35

12: فرشتے چونکہ کچھ کھاتے نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس علاقے کی عادت کے مطابق یہ سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس لیے آیت نمبر 30 میں انہوں نے اسی حیثیت سے ان سے خطاب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاوجس منھم خیفة (15 : 82) ” پھر وہ دل میں ان سے ڈرا “ یا تو اس لئے کہ آنے والا اجنبی اگر کھانا نہیں کھاتا تو اس کی نیت خراب ہے۔ وہ کوئی شریا خیانت کرنے کی نیت سے آیا ہے یا یہ کہ حضرت ابراہیم نے ان فرشتوں کے اندر کوئی عجیب علامات دیکھ لیں۔ جب انہوں نے ان کے چہرے خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کو اطمینان دلایا اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دی۔ قالوا ........ علیم (15 : 82) ؟ ؟ انہوں نے کہا ڈرو نہیں اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا “ یہ بشارت حضرت اسحاق کے بارے میں تھی جو ان کی بانجھ بیوی سے پیدا ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃًط } ”تو اس نے ان کی طرف سے دل میں اندیشہ محسوس کیا۔“ مہمانوں کے کھانا تناول نہ کرنے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ لاحق ہوا کہ شاید یہ لوگ میرے دشمن ہیں ‘ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے میرا نمک کھانے سے احتراز کر رہے ہیں۔ پرانے زمانے کے لوگ دشمنی میں بھی شرافت دکھاتے تھے۔ اگر کسی کا نمک کھالیا جاتا تو اس کے بعد اسے نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا جاتا تھا۔ { قَالُوْا لَا تَخَفْ ط } ”انہوں نے کہا : آپ ڈریں نہیں۔“ { وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ۔ } ”اور انہوں نے اسے بشارت دی ایک صاحب علم بیٹے کی۔“ صاحب علم بیٹے سے مراد حضرت اسحاق علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے خوف کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں قبائلی دستور یہ تھا کہ اگر مہمان کھانا نہ کھائے تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی بری نیت سے آیا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا ہو کہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ اس صورت سے ڈرنے کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے غیر معمولی حالات کے سوا انسانی شکل میں نہیں آیا کرتے لہذا آپ کو خوف لاحق ہوا کہ غالباً کوئی خوفناک معاملہ در پیش ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی اسحاق نبی کی۔ فرشتوں نے پہلے تو آپ کو تشفی دی کہ آپ ہم سے بدگمان وخائف نہ ہوں، ہم انسان نہیں، فرشتے انسانی قالب میں ہیں، پھر اس کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی۔ (آیت) ” بغلم علیم “۔ مخلوق میں سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو ہوتا ہے، عجب نہیں، جو یہاں صفت علم کا انتساب نبی کی جانب اسی لحاظ سے کیا ہو۔ (آیت) ” فاوجس منھم خیفۃ “۔ آپ (علیہ السلام) کو یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ لوگ قزاق ورہزن تو نہیں۔ اس دور تمدن میں ایک دستور یہ تھا کہ قزاق یارہزن جس کی پر غارتگری کرنا چاہتے تھے، اس کا نمک کھانے سے احتراز رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–28

فراغ الی اھلہ چپکے سے خاموشی کے ساتھ مہمانوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے گھر میں تشریف لے کر گئے تاکہ مہمان تکلفاً یہ نہ کہیں کہ اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ آداب مہمانی : ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں مہمان کے لئے چند آداب میزبانی کی تعلیم ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے مہمانوں سے پوچھا نہیں کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں اور مہمان نوازی کے لئے ان کے پاس جو سب سے اچھی چیز موجود تھی کھانے کے لئے پیش کی، بچھڑا ذبح کیا اس کو بھونا اور لے آئے دوسری بات یہ کہ مہمانوں کو اس بات کی تکلیف نہیں دی کہ ان کو کھانے کی طرف بلاتے بلکہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہیں لا کر انکے سامنے پیش کردیا، مگر کھانا سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاوجس منھم خیفۃ قالوا لا تخفف و بشروہ بغلم علیم . (جب انہوں نے نہ کھایا) تو دل میں ان سے خوفزدہ ہوئے۔ مہمان نے کہا : آپ اندیشہ نہ کریں اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا۔ فَاَوْجَسَ : دل میں محسوس کیا۔ خِیْفَۃً : خوف۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمان کھانے کی طرف مائل نہیں ہیں اور اعراض کر رہے ہیں تو دل میں اندیشہ پیدا ہوا (کہ شاید یہ لوگ دشمن ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ ملائکہ ہیں ‘ ان کو عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ قَالُوْا لَا تَخَفْ : مہما نوں نے کہا : آپ کچھ اندیشہ نہ کریں۔ ہم اللہ کے فرستادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جب پھر بھی انہوں نے نہ کھایا تو ان سے ابراہیم دل میں خوف زدہ ہوئے اور سمجھے کہ کہیں یہ دشمن نہ ہوں کیونکہ اس زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے ساتھی کا کھانا کھا لیتا تھا وہ اس سے مطمئن ہوجاتا تھا غرض کہ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم کے خوف کو محسوس کیا تو وہ بولے ابراہیم آپ ہم سے ڈریے مت ہم آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرزند کی بشارت دی جو بچپن ہی سے بڑا عالم اور بڑھاپے میں بڑا حلیم اور عظیم المرتبت ہوگا یعنی اسحاق علیہ السلام۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاوجس منھم خیفۃ …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (70) کی تفسیر۔ (2) وبشروہ بغلم علیم : سورة ہود میں اس لڑکے کا نام اسحاق آیا ہے، وہ ”غلام علیم“ تھے اور اسماعیل ؑ ”غلام حلیم۔“ ان کا ذکر سورة صافات (101) میں ہے۔ اسحاق ؑ کو ”بغلم علیم“ فرمایا، حالانکہ ”علیم“ تو انہوں نے جوانی میں بننا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو بچے حفظ شروع کردیں انہیں آئندہ کا لحاظ کرتے ہوئے حافظ کہا جاسکتا ہے۔ (واللہ اعلم)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–28

ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر کی وضاحت کرے کہ وہ آیات کو جھٹلانے والے کو ہلاک کردے گا جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ھل اتک یہ الم یا تک کے معنی میں ہے یعنی کیا تیرے پاس یہ خبر نہیں آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ھل۔ قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ ھل اتی علی الانسان حین من الذھر ( الانسان :1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں گفتگوسورئہ ہود اور سورة حجر میں گزر چکی ہے۔ المکر میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکر مون،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15:۔ عبد بن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وبشروہ بغلم علیم '' (اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا اور وہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَوْجَسَ [تو انہوں نے محسوس کیا ] مِنْهُمْ [ ان لوگوں سے ] خِيْفَةً ۭ [ ایک خوف ] قَالُوْا لَا تَخَـفْ ۭ [ ان لوگوں نے کہا آپ مت ڈریں ] وَبَشَّرُوْهُ [ اور ان لوگوں نے بشارت دی ان کو ] بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ [ ایک علم والے لڑکے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–28

8:۔ ” ھل اتاک۔ تا۔ العذاب الالیم “ یہ تخویف دنیوی کے پان نمونوں میں سے پہلا نمونہ ہے اصل نمونہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت ہے اور اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ آپ تک نہیں پہنچا ؟ یہ معزز مہمان فرشتے تھے جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے۔ ” اذ دخلوا۔ الایۃ “ جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل کہا یہ اجنبی ہیں معلوم نہیں کون ہیں۔ خیال آیا پہلے ان کے کھانے پینے کا انتظام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِيْفَۃً۝ 0 ۭ قَالُوْا لَا تَخَـفْ۝ 0 ۭ وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ۝ 28 وجس الوَجْس : الصّوت الخفيّ ، والتَّوَجُّس : التّسمّع، والإيج اس : وجود ذلک في النّفس . قال تعالی: فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً [ الذاریات/ 28] فالوَجْس قالوا : هو حالة تحصل من النّفس بعد الهاجس، لأنّ الهاجس مبتدأ التّفكير ، ثم يكون الواجس الخاطر . ( و ج س ) الوجس کے معنی صوت خفی کے ہیں اور توجس ( تفعل ) خفی آواز سننے کی کوشش کرنے کو کہتے ہیں اور ایجاس کے معنی دل میں کوئی بات محسوس کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً [ الذاریات/ 28] اس وقت موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–30

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً ط قَالُوْا لاَ تَخَفْ ط وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۔ (الذریٰت : 28) (تو حضرت ابراہیم نے ان سے خوف محسوس کیا، ان مہمانوں نے کہا، آپ مت ڈریں، اور انھوں نے آپ کو ایک ذی علم فرزند کی خوشخبری دی۔ ) اندیشے کا سبب اور مہمانوں کی وضاحت جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے انتہائی محبت سے انھیں ہاتھ بڑھانے کی دعوت دینے کے باوجود بھی وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو آپ نے ایک خوف اور خدشہ محسوس کیا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قبائلی زندگی میں کوئی اجنبی مسافر کسی گھر میں جاتا تھا اور اہل خانہ کی طرف سے اس کی خدمت میں اگر کھانا پیش کیا جاتا اور وہ کھانے سے احتراز کرتا تو یہ گویا اس بات کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–30

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً (ان سے دل میں خوف محسوس کیا) کیونکہ جو تیرا کھانا نہیں کھاتا وہ تیری ذمہ داری کا لحاظ بھی نہ کرے گا۔ قول ابن عباس ؓ : ان کے دل میں آیا کہ یہ فرشتے ہیں جن کو عذاب کیلئے بھیجا گیا ہے۔ قَالُوْا لَا تَخَفْ (انہوں نے کہا تم ڈرومت) ہم تو اللہ تعالیٰ کے قاصد ہیں۔ ایک قول یہ ہے : جبرائیل (علیہ السلام) نے بچھڑے پر ہاتھ پھیرا تو اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی ماں کے ساتھ جا ملا۔ وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ (اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا) یعنی تبلیغ کرے گا اور تعلیم دے گا۔ قولِ جمہور : یہ ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–30

24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–30

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

[ 24] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور بےمثال مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے جو کہ ایک منفرد اور امتیازی نمونہ و مظہر ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں سے کھانے کے بارے میں کچھ پوچھا نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگ اس طرح کے موقع پر مہمان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے کھانا کھایا ہوا ہے ؟ یا آپ کھانا کھائیں گے ؟ یا آپ کیلئے کھانا تیار تیار کیا جائے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح کا کوئی سوال کئے بغیر ان کیلئے کھانا تیار کرنے میں لگ گئے، اور کھانا بھی عمدہ اور اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 24–30

اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 24–30

آیات 24 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–28

ف 13 کہ کہیں دشمن کے لوگ نہ ہوں جو برے ارادہ سے اس علاقہ میں آئے ہوں۔ عربوں میں قاعدہ تھا اگر کسی کے ہاں برے ارادے سے جاتے تو اس کا کھانا کھاتے۔ یا ان کے کھانا نہ کھانے سے مجھ گئے ہو یہ فرشتے ہیں اور کسی علاقہ میں عذاب نازل کرنے کا حکم لے کر نہ آئے ہوں۔ 14 یعنی حضرت اسحاق

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:28) فاوجس :عاطفہ ۔ سببیہ ہے اوجس ماضی واحد مذکر غائب، ایجاس (افعال) مصدر بمعنی دل میں محسوس کرنا۔ قلب میں پوشیدہ آواز پانا۔ اس نے محسوس کیا۔ خیفۃ : خوف، ڈر، خاف یخاف کا مصدر ہے ۔ (باب فتح) بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے ۔ قالوا ۔ یعنی مہمانوں نے کہا۔ لا تخف فعل نہی واحد مذکر حاضر خوف باب فتح مصدر۔ تو نہ ڈر۔ خوف مت کہا۔ بشروہ۔ ماضی جمع مذکر غائب تبشیر (تفعیل) مصدر۔ خوش خبری دینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب، جس کا مرجع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دی۔ بغلام علیم : غلام علیم : موصوف وصفت۔ صاحب علم بیٹے کی۔ فائدہ : قبائلی زندگی میں ایک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔ (ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–29

[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–35

اپنے اندر جھانک کر دیکھو 1: غرض یہ ہے ۔ کہ جن حقائق کو بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی واقفیت اور سچائی میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ دلائل اور شواہد کا انبار موجود ہے احتیاج اس نظر کی ہے ۔ جو تغحص اور غور سے کام لے ۔ زمین کو دیکھو ۔ اس کے فوائد ۔ وسعت اور ساخت پر غور کرو ۔ خود اندر جھانکو ۔ اس عالم صغیر میں کیا نہیں ہے ؟ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھاؤ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف آسمان اور زمین میں اللہ کی ربوبیتوں کی ذرا تفصیل کے ساتھ دیکھ جاؤ۔ تو تمہیں ہوجائے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے قصص انبیاء کا مذکور ہے ۔ تاکہ بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) پھر ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اپنے دل ہی دل میں خوف کرنے لگا ان مہمانوں نے کہا آپ ڈرئیے نہیں اور انہوں نے ابراہیم کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا۔ جب انہوں نے کچھ نہ کھایا تو ان کو اندیشہ ہواکیون کہ مہمان کا کھانا نہ کھانا خطرناک سمجھا جاتا تھا کہ یہ کھانا نہیں کھاتے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نیت تکلیف پہنچانے کی ہے وہ فرشتے تھے ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے اور اندیشہ نہ کیجئے اور ایک لڑکے کی جو دانا اور علیم ہوگا یعنی نبی ہوگا اس کی بشارت دی یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ہونے کی تھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً (So he felt some fear in his heart...51:28). When the guests did not eat the food, the Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) conceived fear of them. In those days it was the custom of the noble people to entertain the guests who were expected to accept the hospitality of the host. If they did not, the host would become apprehensive that there is some danger afoot - probably they are enemies who came to cause some kind of trouble for them. In those days, even the rogues and wrongdoers had the noble quality that they would not cause any harm to anyone whose food they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

26 That is, "When they did not stretch out their hands for food, the Prophet Abraham became afraid in his heart. The reason for this fear could be that in tribal life the strangers' going to a house and avoiding food used to be an indication that they had come with an evil design. But most probably when they. refrained from food the Prophet Abraham realized that they were angels, who had come in human guise; and since the angels came in human guise only on extraordinary occasions, he became afraid that they must have come in that guise on some dreadful mission. 27 According to Surah Hud: 71,…

Read the full tafseer →