Explained with ayahs 24–30
مہمان اور میزبان ؟
یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86) 4۔ النسآء :86)…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 23
سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے خود ان مہمانوں سے فرمایا کہ آپ حضرات سے کبھی پہلے شرف نیاز حاصل نہیں ہوا، آپ شاید اس علاقے میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کے سلام کا جواب دے کر حضرت ابراہیم نے اپنے دل میں کہا، یا گھر میں ضیافت کا انتظام کرنے کے لیے جاتے ہوئے اپنے خادموں سے فرمایا کہ یہ کچھ اجنبی سے لوگ ہیں، پہلے کبھی اس علاقے میں اس شان اور وضع قطع کے لوگ دیکھنے میں نہیں آئے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے گزری ہوئی امتوں میں سے چند انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں
(آیت) فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ، فرشتوں نے سلاماً کہا تھا، خلیل اللہ نے جواب میں سلام رفع کے ساتھ کہا کیونکہ مرفوع ہونے کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ بنا جس میں دوام و استمرار اور قوت زیادہ ہے، تو جیسا قرآن کریم میں حکم ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے والے کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں ہو اس کی تعمیل فرمائی
قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ ، منکر، بضم مم و فتح کاف، اوپرے اور اجنبی کو کہا جاتا ہے، چونکہ گناہ کے کام بھی اسلام میں اوپرے اور اجنبی ہوتے ہیں، اس لئے گناہ کو بھی منکر کہہ دیا جاتا ہے، مراد…
Read the full tafseer →اذدخلواعلیہ فقالو اسلماً ط قال سلم قوم منکرون (25)
حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے پاس آنے والے مہمان
یعنی ان مہمانوں نے شرفا اور صالحین کے طریقہ پر حضرت ابراہیم ؑ کو سلام کیا اور حضرت ابراہیم ؑ نے بھی ان کا جواب سلام سے دیا۔ ان کے اس سلام سے اجنبیت کا پردہ تو ایک حدتک اٹھ گیا اور حضرت ابراہیم ؑ کو یہ اطمینان ہوگیا کہ شریف اور صالح مہمان ہیں لیکن ان کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ یہ تو بالکل اجنبی لوگ ہیں۔
قوم منکرون، کے الفاظ انہوں نے زبان سے نہیں بلکہ اپنے دل میں کہے۔ دل میں سوال پیدا ہونے کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ اس علاقے میں اول تو شرفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 1 یہ اپنے جی میں کہا، ان سے خطاب کر کے نہیں کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
11: یہ مہمان درحقیقت فرشتے تھے جو ایک طرف تو حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کی خوشخبری دینے آئے تھے، اور دوسری طرف حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 69 تا 83 اور سورة حجر : 51 تا 77 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
اس دوسرے حصے میں بھی نبیوں کی تاریخ سے آیات الٰہیہ کا ذکر ہے جس طرح پہلے حصے میں آیات تکوینی اور آیات ونفس کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی اللہ کے سچے وعدے تھے اور انہوں نے حقیقت کا روپ اختیار کیا جس طرح پہلے حصے میں اللہ کے سچے وعدے کا ذکر تھا۔
بات کا آغاز حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں ایک سوال سے ہوتا ہے۔
ھل اتک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین (51 : 42) ” اے نبی کیا ابراہیم .... کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟ “ اس سوال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذہنوں کو اس حکایت کے لئے تیار اور متوجہ کرنا ہے اور مہمانوں کے لئے ” مکرمین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یا تو وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور…
Read the full tafseer →9 یعنی سلام کا جواب سلام سے دیا اور دل میں یا آپس میں کہا کہ یہ لوگ کچھ اوپرے سے معلوم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 25{ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًاط } ”جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کہا۔“
{ قَالَ سَلٰـمٌ ج قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ۔ } ”اس نے بھی جواب میں سلام کہا اور دل میں کہا کہ یہ تو کوئی اجنبی لوگ ہیں۔“
Read the full tafseer →20 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے فرشتوں سے کہا ہو کہ آپ غالباً اس علاقہ میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔ پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی اور دوسرا یہ کہ آپ نے اپنے دل میں ایسا کہا ہو یا ضیافت کے وقت اندر جاتے ہوئے گھر والوں سے کہا ہو۔
Read the full tafseer →14۔ (ابراہیم (علیہ السلام) کی نظر میں) یعنی آپ (علیہ السلام) نے انہیں پہچانا نہیں، محض اجنبی مہمان سمجھ کر ان سے صاحب سلامت کی، یہ فرشتے انسانی لباس میں تھے۔ ملاحظہ ہوں سورة ہود (پ 12) کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ترجمہ : اے محمد ﷺ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا واقعہ آپ تک پہنچا ؟ اور وہ بارہ یا دس یا تین فرشتے تھے، ان میں جبرائیل (علیہ السلام) بھی تھے جبکہ وہ (مہمان) ان کے پاس آئے (اذ) حدیث ضیف کا ظرف ہے، تو انہوں نے سلام کیا یعنی لفظ سلاما کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواب میں) لفظ سلام کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جی میں کہا یہ تو انجانے لوگ ہیں (قوم منکرون) مبتداء مقدر کی خبر ہے اور وہ ھولاء ہے پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک (بھنا ہوا) فربہ بچھڑا لائے اور سورة ہود میں ہے جاء بعجل حنیذ یعنی بھنا ہوا بچھڑا لائے، اور اسے ان کے سامنے رکھا اور کہا تم…
Read the full tafseer →اذ دخلوا علیہ فقالوا سلما قال سلم قوم منکرون . (اور یہ قصہ اس وقت کا تھا) جب وہ (مہمان) ابراہیم کے پاس آئے اور سلام کیا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے بھی جواب میں کہا : سلام (اور کہا :) تم لوگ انجان ہو۔
اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ : جب مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔
فَقَالُوْا سَلٰمًا : پھر انہوں نے کہا : ہم آپ کو سلام کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : تم پر بھی سلام ہو۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلامٌ یعنی بجائے جملہ فعلیہ کے جملہ اسمیہ بولا تاکہ دعاء سلامتی کسی خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہ ہو بلکہ دوامی ہو اور فرشتوں نے جو سلام کیا تھا اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب بہتر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) جبکہ وہ یعنی جبریل امین اور فرشتے یا یہ کہ بارہ فرشتے اور ان کے پاس آئے اور آکر ابراہیم کو سلام کیا ابراہیم نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور کیونکہ ان کو پہچانا نہیں اور اس سرزمین میں یہ طریقہ سلام رائج تھا تو کہنے لگے انجان لوگ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور اپنے مہمانوں کے پاس ایک فربہ بچھڑا پکا ہوا لے کر آئے اور اس بچھڑے کو اپنے مہمانوں کے سامنے لاکر رکھا۔
Read the full tafseer →(1) اذ دخلوا علیہ فقالوا :”سلماً“ اور ”سلم“ کے فرق کے لئے دیکھیے سورة ہود (69) کی تفسیر۔
(2) فیم منکرون : یہ بات دل میں کہی یا گھر والوں سے کہی اور ممکن ہے انسانی شکل میں آنے والے فرشتوں سے کہی ہو کہ آپ اس علاقے میں نئے تشریف لائے ہیں، پہلے کبھی آپ کو یہاں نہیں دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر کی وضاحت کرے کہ وہ آیات کو جھٹلانے والے کو ہلاک کردے گا جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ھل اتک یہ الم یا تک کے معنی میں ہے یعنی کیا تیرے پاس یہ خبر نہیں آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ھل۔ قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ ھل اتی علی الانسان حین من الذھر ( الانسان :1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں گفتگوسورئہ ہود اور سورة حجر میں گزر چکی ہے۔
المکر میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکر مون،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
12:۔ ابن ابی الدنیا وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' ھل اتک حدیث ضعیف ابرھیم '' (کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے) سے مراد ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے بذات خود اپنے معزز مہمانوں کی خدمت کی۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بچھڑے کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی۔
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ [ جب وہ داخل ہوئے ان پر ] فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ [ تو انہوں نے کہا سلامتی ہو ] قَالَ سَلٰمٌ ۚ [ انھوں (ابراہیم ) نے کہا سلامتی ہے ] قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ [(تم ) اجنبی لوگ ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
8:۔ ” ھل اتاک۔ تا۔ العذاب الالیم “ یہ تخویف دنیوی کے پان نمونوں میں سے پہلا نمونہ ہے اصل نمونہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت ہے اور اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ آپ تک نہیں پہنچا ؟ یہ معزز مہمان فرشتے تھے جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے۔ ” اذ دخلوا۔ الایۃ “ جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل کہا یہ اجنبی ہیں معلوم نہیں کون ہیں۔ خیال آیا پہلے ان کے کھانے پینے کا انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
ربط آیات
اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا 0 ۭ قَالَ سَلٰمٌ 0 ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ 25 ۚ
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…
Read the full tafseer →اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰـمًا ط قَالَ سَلٰـمٌ ج قَوْمٌ مُّنْـکَرُوْنَ ۔ (الذریٰت : 25)
(جب وہ مہمان حضرت ابراہیم کے پاس آئے تو انھوں نے آپ کو سلام کہا، تو آپ نے بھی سلام سے جواب دیا، یہ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مہمان
جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے السلام علیکم کہا۔ اور آپ نے بھی سلام کا جواب سلام سے دیا۔ اس سلام کے تبادلے سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ یہ کوئی ایسے ویسے لوگ نہیں بلکہ شریف اور صالح مہمان ہیں۔ البتہ یہ بات دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ ہیں کون لوگ ؟ اس سے پہلے کبھی یہ دیکھے نہیں گئے۔ جو جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…
Read the full tafseer →آیت 25 : اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ (جبکہ وہ ان کے پاس آئے) نحو : مکرمین کی وجہ سے منصوب ہے۔ جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اکرام سے تفسیر کی جائے۔ ورنہ اذکر فعل مضمر کا مفعول ہے۔ فَقَالُوْا سَلٰمًا (پھر ان کو سلام کیا) نحو : سلامًا مصدر ہے۔ اس کو فعل کے قائم مقام لائے اور فعل سے استغناء اختیار کیا۔ اصل کلام یہ ہے۔ نسلم علیکم سلامًا۔ قَالَ سَلٰمٌ (ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا سلام) یعنی تم پر سلام ہو۔ نحو : یہ مبتدأ کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور رفع کی طرف عدول تو اثبات سلام کیلئے ہے۔ گویا انہوں نے یہ قصد فرمایا کہ وہ ان کو اس سے بہتر انداز سے سلام کریں۔ جس طرح سے انہوں نے کیا۔…
Read the full tafseer →24 ۔” ھل اتاک حدیث ضیف ابراھیم “ ہم نے ان کی تعداد سورة ھود میں ذکر کردی ہے۔ ” المکرمین “
کہا گیا ہے کہ ان کا نام مکر مین رکھا ہے اس لئے کہ وہ فرشتے تھے عنداللہ معزز اور اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف میں فرمایا ” بل عباد مکرمون “ اور کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) مخلوق میں سے معزز ترین ہیں تو معززین کے مہمان بھی معزز ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے انکی جلد مہمانی کرکے اور خندہ پیشانی کے ساتھ بذات خود ان کی خدمت کرکے ان کا اکرام کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کی بذات خود خدمت کی۔ ابن عباس (رح) عنہما سے مروی ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →[ 22] پیغمبر (علیہ السلام) عالم غیب نہیں ہوتے :
سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کچھ کچھ اوپر سے لوگ ہیں۔ ممکن ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں کہی ہو یا اپنے گھر والوں سے کہی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتوں ہی سے کہی ہو، کہ صاحب ہم نے پہچانا نہیں نہیں، کچھ اوپر سے حضرات لگتے ہیں، کیا آپ ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے ؟ جیسا کہ آج کل بھی تعارف کی غرض سے اس طرح کے الفاظ کہہ دینے کا رواج موجود ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے، ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انہیں پہچاننے میں کوئی دقت و دشواری پیش نہ آتی، اور جب پیغمبر علم غیب نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
آیات 24 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی اپنی ہئیت کذائی کے اعتبار سے پردیسی معلوم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(51:25) اذ۔ اسم ظرف زمان ۔ جب۔ فقالوا : میںتعقیب کا ہے بمعنی تو۔
سلما : مفعول مطلق ہے ای فقالوا نسلم علیک سلما۔ ہم آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔
قال سلم : ای قال ابراہیم : وعلیکم سلام ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا اور آپ پر بھی سلام ہو۔
قوم منکرون ، موصوف وصفت منکرون اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ نکر (باب سمع) مصدر۔ نا آشنا۔ غیر معروف، انجان ، شناخت میں نہ آئے ہوئے۔ اس جملہ کی دو صورتیں ہیں۔
ایک یہ کہ یہ جملہ حضرت ابراہیم نے کہا دل میں کہ یہ لوگ اجنبی معلوم دیتے ہیں۔ (انہ (علیہ السلام) قالہ فی نفسہ) دوم یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمانوں سے دریافت کرنے کے لئے ان سے کہا ہو (قال لہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔
(ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(25) یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا سلام ، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا سلام یہ لوگ اجنبی ہیں۔ یعنی تحیہ جو دستور تھا کہ انہوں نے سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب وعلیکم السلام کہا ، پھر فرمایا دل میں یہ لوگ اوپری اور ناشناختہ ہیں۔
ابن عبات کا قول یہی ہے کہ دل میں فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ زبان سے کہا ہو کہ آپ نے لوگوں کو پہچانا نہیں مگر فرشتوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یا یہ کہ وہ دیار کفر تھا وہاں اسلامی تہذیب کو سن کر اوپری خیال کیا۔
بہرحال سلام و کلام کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–27
ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Comforting the Messenger of Allah
فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ ("We greet you with salam." He said, "Salam on you." 51:25). The angels greeted him with salaman in the accusative case, whereas Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) responded to the greeting in the -nominative case thus: salamun. The nominative case in Arabic is a nominal sentence which carries the sense of greater strength, continuity and persistence. The Qur'anic injunction is that 'when you are greeted with a salutation, greet one better than it...', so Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) the Friend of Allah chose a better…
Read the full tafseer →23 In view of the context in which this sentence has occurred, it can have two meanings: (1) That the Prophet Abraham himself said to the guests, "I have never had the chance to see you before: you are perhaps new-comers in this land. " (2) That after responding to their salutation, the Prophet Abraham said these words to himself, or to his servants, while going inside the house for arranging the feast, "They appear to be strangers: people of their noble nature and appearance have not been seen before in this land. "
Read the full tafseer →