Adh-Dhaariyat 51:26

Adh-Dhaariyat · from ayah 26

51:26

فَرَاغَ اِلٰۤی اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ ۟ۙفَرَاغَ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍۙ

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:26

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جلدی سے اپنے گھر کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے کی سجّی لے آئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا، پس (بھنا ہوا) موٹاتازہ بچھڑا لے آیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ نظر بچا کر اپنے گھروالوں کے پاس گیا اور ان کے لئے فربہ بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر آپ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ آپ ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) پورا بچھڑا لے آئے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا لے آئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک (بھنا ہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اپنے گھر جا کر ایک بھنا ہوا بچھڑا لائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he went back to his family and brought a fat roasted calf

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then he slipped off to his home and fetched a fattened calf.

— Muhammad Taqi Usmani

Then he slipped off to his home and fetched a fattened calf.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he turned to his household, and brought out a roasted calf.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he went apart unto his housefolk so that they brought a fatted calf;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf

— Saheeh International

He went quietly to his wife and returned to his guests with a fat, roasted calf.

— Muhammad Sarwar

Then he turned aside to his family secretly and brought a fat (roasted) calf,

— Muhammad Habib Shakir

Then he turned away privately Unto his household, and brought a calf fatted.

— Abdul Majid Daryabadi

Then he turned quickly to his household, brought out a fatted calf,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–30

مہمان اور میزبان ؟ یہ واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی گذر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بہ شکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے حضرت امام احمد بن حنبل اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ نے بڑھا کردیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے (وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا 86؀) 4۔ النسآء :86)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–27

سورة الذّٰرِیٰت 24 یعنی اپنے مہمانوں سے یہ نہیں کہا کہ میں آپ کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہوں بلکہ انہیں بٹھا کر خاموشی سے ضیافت کا انتظام کرنے چلے گئے، تاکہ مہمان تکلفاً یہ نہ کہیں کہ اس تکلیف کی کیا حاجت ہے۔ سورة الذّٰرِیٰت 25 سورة ہود میں عِجْلٍ حَنِیْذٍ (بھنے ہوئے بچھڑے) کے الفاظ ہیں۔ یہاں بتایا گیا کہ آپ نے خوب چھانٹ کر موٹا تازہ بچھڑا بھنوایا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–27

فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ ، راغ، روغ سے مشتق ہے، جس کے معنی کسی جگہ سے کھسک جانے اور خفیہ طور پر چلے جانے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے گھر میں اس طرح گئے کہ مہمانوں کو ان کے اٹھ جانے کی خبر نہ ہو، ورنہ وہ کھانا اور مہمانی لانے سے انکار کرتے۔ آداب مہمانی ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں مہمان کے لئے چند آداب میزبانی کی تعلیم ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے مہمانوں سے پوچھا نہیں کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں، بلکہ چپکے سے کھسک گئے اور ان کی مہمانی کے لئے اپنے پاس جو سب سے اچھی چیز کھانے کی تھی یعنی بچھڑا ذبح کیا، اس کو بھونا اور لے آئے اور دوسرے یہ کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فراغ الی اھلہ فجآء بعجل سمین (26) لفظ ’ روغ ‘ کسی کام کو نظر بچا کر اور کا والگاکر کرنے کے لئے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ مہمانوں کو دیکھتے ہی، ان کی نظر بچا کر، اپنے گھر کی طرف گئے کہ ان کی ضیافت کا سامان کریں۔ مہمانوں کی نظر بچا کر اس لئے کہ انہوں نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ ان کا یہ اہتمام مہمانوں کی طبیعت پر بار ہو۔ کریم النفس۔ شریف اور فیاض میزبان کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مہمان کی ضیافت کا اہتمام اس طرح کرتا ہے کہ اس کو تکلف کا احساس نہ ہو۔ فجآء بعجل سمین، یعنی ان مہمانوں کی ضیافت کے لئے انہوں نے گلے کا ایک فربہ بچھڑا ذبح کرادیا اور اس کا بھنا ہوا گوشت ان کے آگے پیش کیا۔ عجل سمین، کے الفاظ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–27

11: یہ مہمان درحقیقت فرشتے تھے جو ایک طرف تو حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کی خوشخبری دینے آئے تھے، اور دوسری طرف حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 69 تا 83 اور سورة حجر : 51 تا 77 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فراغ الی ........ الیھم (15 : 72) ” پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا مہمانوں کے آگے پیش کیا۔ “ حالانکہ روایات کے مطابق ان کی تعداد تین تھی۔ ان کے لئے تو ایک بازہ ہی کافی تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 26–27

11 یعنی نہایت اہتمام سے مہمانی شروع کردی اور نہایت مہذب و شائستہ پیرایہ میں کہا کہ کیوں حضرات ! تم کھانا نہیں کھاتے ؟ وہ فرشتے تھے، کھاتے کس طرح۔ آخر ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ یہ آدمی نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ فَرَاغَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ۔ } ”پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔“ سورة ہود آیت 69 میں ”عِجْلٍ حَنِیْذٍ“ بھنا ہوا بچھڑا کے الفاظ آئے ہیں۔ پرانے زمانے کی دعوتیں اسی انداز سے ہوا کرتی تھیں کہ جانور ذبح کیا اور گھی میں تل کر یا بھون کر پورے کا پورا مہمانوں کے سامنے حاضر کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

21 یعنی فرشتوں سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کھانا کھائیں گے ؟ کیونکہ مہمان عموماً اس کے جواب میں یہی کہہ دیتے ہیں کہ تکلیف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چپکے سے اندر آگئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے اسے گھی میں تل کر یا بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 26–27

15۔ فرشتے جو انسانی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان تھے۔ انہوں نے آپ کے اصرار کے بعد بھی آپ کے پیش کیے ہوئے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، (آیت) ” فجآء بعجل سمین “۔ آپ (علیہ السلام) نے ان تازہ وارد مہمانوں کو دیکھتے ہی ایک خوب تیار تلے ہوئے یا پکے ہوئے بچھڑے سے ان کی میزبانی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–28

فراغ الی اھلہ چپکے سے خاموشی کے ساتھ مہمانوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے گھر میں تشریف لے کر گئے تاکہ مہمان تکلفاً یہ نہ کہیں کہ اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ آداب مہمانی : ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں مہمان کے لئے چند آداب میزبانی کی تعلیم ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے مہمانوں سے پوچھا نہیں کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں اور مہمان نوازی کے لئے ان کے پاس جو سب سے اچھی چیز موجود تھی کھانے کے لئے پیش کی، بچھڑا ذبح کیا اس کو بھونا اور لے آئے دوسری بات یہ کہ مہمانوں کو اس بات کی تکلیف نہیں دی کہ ان کو کھانے کی طرف بلاتے بلکہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہیں لا کر انکے سامنے پیش کردیا، مگر کھانا سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فراغ الی اھلہ فجاء بعجل سمین پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا) لائے فَرَاغَ : یعنی فوری مہمانی کے لیے حضرت ابراہیم گھر والی کے پاس گئے اور ایک بچھڑا بھون کر لائے۔ حضرت ابراہیم کا بڑا مال یہی مویشی (گائے ‘ بیل) تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–26

(25۔ 26) جبکہ وہ یعنی جبریل امین اور فرشتے یا یہ کہ بارہ فرشتے اور ان کے پاس آئے اور آکر ابراہیم کو سلام کیا ابراہیم نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور کیونکہ ان کو پہچانا نہیں اور اس سرزمین میں یہ طریقہ سلام رائج تھا تو کہنے لگے انجان لوگ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور اپنے مہمانوں کے پاس ایک فربہ بچھڑا پکا ہوا لے کر آئے اور اس بچھڑے کو اپنے مہمانوں کے سامنے لاکر رکھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فراغ الی اھلہ :”راع بروع روعا“ (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلے کے ساتھ تیزی سے نکل جانا ہے۔ یہ ”روعان الثعلب“ سے ہے، لومڑی کا خفیہ طریقے سے آنا جانا۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے خاموشی سے گئے، تاکہ انہیں خبر نہ ہو سکے اور وہ جاتے ہوئے دیکھ کر مہمانی لانے سے منع نہ کردیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمانوں سے پوچھنا کہ کیا آپ کھانا کھائیں گے تو ایک طرف، انہیں تو مہمانی کے اہتمام کا حتی الوسع پتا بھی نہیں لگنے دینا چاہیے۔ (2) فجآء بعجل سمین : سورة ہود میں ”بعجل حنیذ“ (بھنا ہوا بچھڑا) آیا ہے۔ معلوم ہوا موٹا تازہ بچھڑا بھون کر لائے تھے۔ بعض مفسرین نے ”سمین“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–28

ھل اتک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر کی وضاحت کرے کہ وہ آیات کو جھٹلانے والے کو ہلاک کردے گا جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ھل اتک یہ الم یا تک کے معنی میں ہے یعنی کیا تیرے پاس یہ خبر نہیں آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ھل۔ قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ ھل اتی علی الانسان حین من الذھر ( الانسان :1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں گفتگوسورئہ ہود اور سورة حجر میں گزر چکی ہے۔ المکر میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکر مون،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی : 14:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فراغ الی اھلہ فجآبعجل سمین '' (پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک موٹا بچھڑا (تلاہوا) لائے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا عام مال گائے تھی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ [ پھر وہ آئے اپنے گھر والوں کی طرف ] فَجَاۗءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ [ تو وہ لائے ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کا آنا اور صاحبزادہ کی خوشخبری دینا، اور آپ کی بیوی کا تعجب کرنا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آبائی وطن سے (جو بابل کے آس پاس تھا) ہجرت فرما کر فلسطین میں قیام فرمایا تھا آپ کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہجرت کر کے ملک شام میں آ کر بس گئے تھے۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نوازا تھا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی وہ شام کے علاقہ میں نہر اردن کے آس پاس تھیں۔ یہ لوگ بڑے نافرمان تھے برے کام میں لگے رہتے تھے۔ مردوں سے قضاء شہوت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–28

8:۔ ” ھل اتاک۔ تا۔ العذاب الالیم “ یہ تخویف دنیوی کے پان نمونوں میں سے پہلا نمونہ ہے اصل نمونہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت ہے اور اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ آپ تک نہیں پہنچا ؟ یہ معزز مہمان فرشتے تھے جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے۔ ” اذ دخلوا۔ الایۃ “ جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل کہا یہ اجنبی ہیں معلوم نہیں کون ہیں۔ خیال آیا پہلے ان کے کھانے پینے کا انتظام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–37

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَرَاغَ اِلٰٓى اَہْلِہٖ فَجَاۗءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ۝ 26 ۙ فرغ الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء «1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–30

ترکیب : مثل یقرء بالرفع علی انہ لغت لحق او خبرثان او علی انھما خبر واحد وما زائدۃ و یقرء بالفتح انہ حال من النکرۃ ومن الضمیر فیھا اوعلی اضماراعنی وما زائدۃ و قیل معرب و قیل مبنی علی انہ رکب مع ما کخمسۃ عشر۔ انکم موضعھاجر بالاضافۃ اذا جعلت ما زائدۃ اور فع علی تقدیر ھو۔ اذ ظرف الحدیث او لضیف والضیف مصدر یطلق علی الواحد والکثیر۔ سلام مبتدء علیکم خبرہ محذوف۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا یعنی اہل جنت کی عبادت کا تو یہ حال ہے اور ان کے افکار و خیالات ایسے پاکیزہ ہیں کہ زمین میں ہر شے ان کے نزدیک اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور خود انہی کے اندر سینکڑوں نمونے ہیں یا کہو یہ بیان سابق کا بقیہ ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَرَاغَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ ۔ (الذریٰت : 26) (پھر وہ چپکے سے نظر بچا کر گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے کر آئے۔ ) حقِ ضیافت کا ایک ادب روغ… کسی کام کو نظر بچا کر چپکے سے کرنے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی مہمانوں کو عزت سے بٹھایا اور پھر وہاں خاموشی سے گھر کی طرف چلے گئے تاکہ مہمانوں کے لیے ضیافت کا اہتمام کریں۔ لیکن مہمانوں سے کچھ کہنا یا اس طرح جانا کہ انھیں شبہ ہوجائے آدابِ مہمانی کیخلاف سمجھا، تاکہ وہ تکلف میں آکر روکنے کی کوشش نہ کریں۔ کریم النفس اور فیاض میزبان کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ پھر شکل و شباہت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–30

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 26 : فَرَاغَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ (پھر اپنے گھر کی طرف چلے) اپنے مہمانوں سے خفیہ طور پر گھر کی طرف گئے۔ اور میزبانی کا ادب یہ ہے کہ اس کا معاملہ مخفی ہو۔ اور مہمانی شروع کر دے بغیر اس کے کہ مہمان کو معلوم ہو۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ انکار نہ کر دے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گائیں کثرت سے تھیں۔ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ (اور ایک موٹا بچھڑا لائے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25 ۔” اذدخلوا علیہ فقالوا سلاما قال “ ابراہیم (علیہ السلام) نے ” سلام قوم منکرون “ یعنی اجنبی ہم تمہیں نہیں پہچانتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے دل میں کہا یہ قوم ہم تو ان کو نہیں پہچانتے۔ اور کہا گیا ہے کہ ان کے امر کو اجنبی سمجھا اس لئے کہ وہ بغیراجازت طلب کیے داخل ہوئے تھے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں اس زمانے اور اس علاقہ میں ان کے سلام کو اجنبی سمجھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–30

24۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–30

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (ھل اتک) کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی (حدیث ضیعف ابراہیم المکرمین) ” ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ “ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں چناچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (اذ دخلو علیہ فقالوا سلما قال) ” جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انہوں نے کہا :“ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا : (سلم) یعنی تم پر بھی سلام ہو (قوم منکرون) تم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

[ 24] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیاضی اور بےمثال مہمان نوازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے جو کہ ایک منفرد اور امتیازی نمونہ و مظہر ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں سے کھانے کے بارے میں کچھ پوچھا نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگ اس طرح کے موقع پر مہمان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے کھانا کھایا ہوا ہے ؟ یا آپ کھانا کھائیں گے ؟ یا آپ کیلئے کھانا تیار تیار کیا جائے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح کا کوئی سوال کئے بغیر ان کیلئے کھانا تیار کرنے میں لگ گئے، اور کھانا بھی عمدہ اور اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 24–30

اللہ کی قدرت اور طاقت کی مثال تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اسی 80 یا نوے 90 برس کے ہوئے تو ان کی دعا کے مطابق اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے۔ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر آئے تو انسانی شکل میں تھے اسی لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے فرشتوں نے آتے ہی سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور ان کی مہمان نوازی کے لیے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے بھون کر مہمانوں کی ضیافت کے لیے لے آئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے ڈر محسوس ہوا اس لیے کہ وہ کھا نہیں رہے تھے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی ان کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 24–30

آیات 24 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ اس کے عجائبات قدرت کا ظہور دنیا میں بھی تو ہوتا ہے جو گواہی دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی بات پہنچی اور آپ کو سنائی گئی کہ چند مہمان ان کے پاس پہنچے جن کی انہوں نے بہت عزت کی جب انہوں نے ان پر سلام کہا تو ابراہم (علیہ السلام) نے بڑے تپاک سے انہیں سلام کا جواب دیا اور فرمایا پہچانا نہیں آپ لوگوں سے پہلے تعارف نہیں اور انہیں بٹھا کر چپکے سے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے اور ایک بچھڑا تل کرلے آئے جو اس وقت ان کے پاس بہترین خوراک تھی پیش کردی یعنی جہاں انہیں بٹھایا تھا وہاں لاکر رکھ دی اور فرمایا حسب خواہش کچھ تولیجئے مگر جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–28

ف 13 کہ کہیں دشمن کے لوگ نہ ہوں جو برے ارادہ سے اس علاقہ میں آئے ہوں۔ عربوں میں قاعدہ تھا اگر کسی کے ہاں برے ارادے سے جاتے تو اس کا کھانا کھاتے۔ یا ان کے کھانا نہ کھانے سے مجھ گئے ہو یہ فرشتے ہیں اور کسی علاقہ میں عذاب نازل کرنے کا حکم لے کر نہ آئے ہوں۔ 14 یعنی حضرت اسحاق

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:26) فراغ الی اھلہ :عطف اور ترتیب کے لئے ہے۔ راغ ماضی واحد مذکر غائب۔ روغ (باب نصر) مصدر بمعنی چپکے سے کسی چیز کی طرف ہونا۔ خفیہ دائو گھات لگانا۔ یعنی وہ چپکے سے اپنے اہل خانہ کی طرف گیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فراغ الی الہتہم (37:91) وہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ) چپکے سے گھات لگا کر ان کے بتوں کی طرف گئے۔ فجاء بعجل سمین :ترتیب کی ہے۔ عجل بچھڑا۔ گائے کا بچہ، موصوف سمین : فربہ، موٹا تازہ، سمین (باب سمع ) مصدر سے بروزن فعلین صفت مشبہ ہے اس کی جمع سمان ہے۔ صفت اپنے موصوف کی، موٹا تازہ بچھڑا لایا (بھنا ہوا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–30

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوش خبری۔ (ف 1) یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمادیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–29

[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–27

مساوات اور مقام احسان 1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) ابراہیم خاموشی کے ساتھ اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک خوب فربہ اور موٹا بچھڑا گھی میں تلا ہوا لے آیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–27

ف 4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 16–34

یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے : 16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی Missing in book

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

رَ‌اغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ (Then he slipped off to his home - 51:26). Ragha is derived from rawgh which means to slip out quietly. In other words, Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) discreetly went in the house in haste to arrange for meal for his guests, so that they do not sense it. Otherwise they would have stopped him. Rules of Entertaining Guests Ibn Kathir says that this verse indicates proper manners for entertaining guests: Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) ، the host, did not first mention that he would make food for them. He slipped out quietly, and brought the food to his guests…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 That is, "He did not tell his guests that he was going to arrange food for them, but after they were seated he went quietly into the house to arrange a feast for them, so that the guests should not rofuse it out of formality. " 25 In Surah Hud, the words are ijlin h_ anidh, a roasted calf; here bi-'ijlin samin: a fatted calf that he got roasted.

Read the full tafseer →